30/08/2026
دل بھاری ہے، آنکھیں نم ہیں، قدم رکتے جاتے ہیں،
یہ سبز کھیت، یہ میری مٹی، یاد بنتے جاتے ہیں۔
جہاں بچپن گزارا میں نے، اس آسمان کے سائے میں،
وہ لمحے اب بھی زندہ ہیں، دل کے کسی کونے میں۔
پنجاب کی یہ ہریالی، یہ کھیتوں کی خوشبو،
چھوڑ کے جانا آسان نہیں، دل کہتا ہے رک جاؤ تو۔
ہوا بھی جیسے روک رہی ہے، بادل بھی اداس سے ہیں،
یہ زمین، یہ آسمان، سب مجھ سے ناراض سے ہیں۔
مگر زندگی چلنے کا نام ہے، رکنا نہیں مقدر،
دل میں بسا کے یہ منظر، چلا میں نئے سفر پر۔
الوداع اے پیاری دھرتی، تیری یاد رہے گی ساتھ،
جہاں بھی جاؤں، بستا رہے گا میرا یہ ماضی، میرے ساتھ۔