Azadari Mazlom E Karbala a.s

Azadari Mazlom E Karbala a.s kareem_e_ karbala a.s

🍁امیر الدولہ راجہ امیر حسن خاں حبیبؔ🍁آج ریاست محمودآباد کے والی امیر الدولہ امیر حسن خاں حبیبؔ کا یوم وفات ہے۔ آپ محس...
31/05/2026

🍁امیر الدولہ راجہ امیر حسن خاں حبیبؔ🍁

آج ریاست محمودآباد کے والی امیر الدولہ امیر حسن خاں حبیبؔ کا یوم وفات ہے۔ آپ محسن پاکستان راجہ صاحب محمودآباد کے دادا تھے. امیر الدولہ کی ولادت 16 جون 1849 بروز شنبہ کو ہوئی جب برطانوی حکومت پوری طرح ہندوستان پر مسلط تھی . آپ کا جدی سلسلہ براہ راست حضرت محمدؓ بن ابی بکر تک پہنچتا ہے۔ حبیب کے والد مقیم الدولہ راجہ نواب علی خاں وہبؔ ( مرثیے میں شاگرد مرزا اُنس) تھے۔ غزل میں سحرؔ (صبح) تخلص تھا اور ایک طرف استاد ناسخ اور دوسری طرف بادشاہ اودھ واجد علی شاہ اختر سے تلمذ کا شرف رہا۔ امیر حسن نے بھی اپنے والد کی تاسّی کرتے ہوئے انصار امام حسینؑ میں سے ایک نہایت برگزیدہ ہستی کا نام چن کر اپنا تخلص حبیبؔ اختیار کیا۔ غزل میں آپ کا تخلص سحرؔ (جادو) تھا۔

ہے بیشہِ قدرت کا غضنفر حیدرؑ
دستِ حق و بازوئے پیمبرؐ حیدرؑ
ہے دل میں تمنا کہ قیامت کے دن
کہتا میں اٹھوں قبر سے حیدرؑ حیدرؑ

احمدؐ کے جو بستر پہ بسر رات کرے
یوں کون ادا حقِ مواخات کرے
اللہ رے مواسات کہ جس کے اوپر
اللہ ملائک سے مباہات کرے

صرف 9 سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور باپ کے انتقال کے تیسرے روز ہی مسند نشیں ہوئے۔ امیر امام حر اس حوالے سے لکھتے ہیں

"راجہ محمد نواب علی خاں مرحوم جنگ آزادی 1857 میں آزادی خواہوں کی طرف سے جنگ کرتے ہوئے لکھنو کے ایک مورچے پر شدید زخمی ہوئے اور اپنی ریاست کے ایک دیہات میں جا کر انتقال کیا. ان کے انتقال کے وقت ان کے بیٹے محمد امیر حسن خاں صرف 9 سال کے تھے"

امیر حسن غزلیات میں تجمل سیتاپوری اور سلام ، نوحہ و مرثیہ میں میر مونس و میر نفیس کے شاگرد ہوئے سو ایک مرثیے میں میر مونس کی شاگردی پر اس طرح فخر کیا ہے

مجھ کو سودا نہیں ہے سر میں ہوائے مونس
عہدِ طفلی سے دل و جاں ہیں فدائے مونس
نہیں چھپتی کسی پردے میں صدائے مونس
مجھ سے پوچھے کوئی آہنگ نوائے مونس
لحن ِ داودؑ کا مجلس کو پتا دیتا ہوں
ہو کسی دھن میں ، میں اس لے کو بتا دیتا ہوں

ایک اور مرثیے میں میر نفیس کی شاگردی پر فخر کیا ہے

ہے مری نظم میں ہر بیت کی بنیاد نفیس
رکن ہر شعر کے دلچسپ ہیں اوتاد نفیس
رزم کا ڈھنگ نیا بزم کی ایجاد نفیس
کیوں نہ شاگرد ہو اچھا کہ ہے استاد نفیس
فیض استاد سے کیا نام ہمارا چمکا
مہر خورشید سے ذرے کا ستارہ چمکا

امیر الدولہ کا کلام کثیر ذخیرے پر مشتمل ہے . کچھ کل

01/05/2025

علامہ ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی کی مجلس سے

اودھ کی عزاداری کی بانی امہ الزہرا ایران کے امیر کبیر رئیس کی بیٹی جسے محمد علی شاہ بادشاہ دہلی نے اپنی بیٹی بنایا تھا اور سولہ برس کی عمر میں شجاع الدولہ سے ان کی شادی ہوئی
تو ایک سو چھپن بیل گاڑیوں پر جو اہرات لاد کر ان کا جہیز چڑھا تھا اور وہ ساری دولت اُس عورت نے امام باڑے بنوائے روضے بنوائے عزاداری پر لگا دی اور آج جو یہ عزاداری دیکھ رہے ہیں کراچی میں یہ عکس ہے
اس عزاداری کا اس لئے کہ جب بیاہ کر آئیں اور محمد علی بادشاہ نے رخصت کر دیا ان کو اور بادشاہ کے یہاں آگئیں تو فیض آباد میں انہوں نے ایک آفس (Office) کھولا جس میں جتنے شعراء اس دور کے تھے سب ملازم تھے
میر انیس کے والد میر خلیق دادا میر حسن اور پردادا میر ضاحک سب کا کام یہ تھا کہ محل میں جس دن کوئی نیا لفظ بولا جائے وہ رجسٹر (Register) میں لکھ دیا جائے
تو یہ زبان بنی اور اس کے بعد عزاداری کی ترتیب میں بڑے بڑے ایران کے علماء و ذاکرین کو بلا کر مشورہ ہوتا تھا کہ علم کا نقشہ
کیسا ہو ، تابوت کا نقشہ کیسا ہو، جھولا کیسا ہو، مہندی کیسے نکلے، چہلم کیا ہے، سوئم کیا ہے
پھول کیا ہے، ماتم کیا ہے نوحہ کیا ہے ، سواری کیا ہے، جھولا کیا ہے، مہندی کیا ہے، بین کیا ہے ، مرثیہ کیا ہے، مرثیے کی قسمیں کیا ہیں یہ سب کچھ ترتیب دیا جاتا تھا
ایسے ہی نہیں بن گئی عزاداری کہ دو چار سیٹھوں نے امام باڑے بنواد یئے اور انجمنیں بن گئیں تو آپ سمجھے ہو گئی عزاداری آپ تک یہ عزاداری ایسے ہی نہیں پہنچ گئی
پھر دور آتا ہے نصیر الدین کی بیگمات کا اس میں ملکہ زمانی ہیں جن کا امام باڑہ لکھنو میں اور مجلس آج بھی قائم ہے
بہت بڑا ان کا ٹرسٹ (Trust) تھا لاکھوں روپے انہوں نے وقف کر دیئے تھے آج بھی انڈیا گورنمنٹ (India Government) کو وہ خرچ دینا پڑتا ہے اس لئے حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی ( East India Company) نے ان سے قرضہ لیا تھا اتنی امیر خاتون تھیں ملکہ زمانی اور بہترین شاعرہ تھیں اور مرزا دبیر کی شاگرد تھیں
مرثیے کہتی تھیں بہترین سلام کہتی تھیں ان کا پورا غیر مطبوعہ کلام ہمارے کتب خانے میں موجود ہے
اس کے بعد امجد علی شاہ کی زوجہ کشور محل ہیں امجد علی شاہ وہ پہلا بادشاہ ہے جس نے اسلامی حکومت شرع اور فقہ کے ساتھ رائج کی
یہ اب تک کہیں نہ ہو سکا شاید آپ کہیں گے ایران میں ہو گیا ہم مانتے ہیں کہ ایران میں اسلامی حکومت رائج ہو گئی لیکن امجد علی شاہ نے جتنی منسٹریاں (Ministries) بنائیں تھیں ایک منسٹری کا منسٹر مجتہد تھا۔
پردے کا چادریں بانٹی جاتی ہیں، پردے کا ذکر ہوتا ہے، کاش تمہیں تاریخ معلوم ہوتی تو جو کچھ تم تبلیغ کر رہے وہ عکس اب دکھا دوں تو یہاں سے لے کر یورپ تک ہل کر رہ جائے صرف ایک واقعہ ہے جو مثال میں آ گیا ہے
ورنہ ابھی میں یہی بتا رہا ہوں کہ میں ابھی کیا کیا نہیں پڑھ سکا اب کیوں کہ موضوع میں آ گیا ہے اس لئے میں سنا دوں دیکھیں اسلامی حکومت رائج ہو چکی ہے
بادشاہ کی بیوی ہیں کشور محل ایسٹ انڈیا کمپنی نے واجد علی شاہ کو معزول کر کے کشور محل کے بیٹے کی حکومت پر قبضہ کیا کشور محل نے یہ کہا کہ جب تک میں ملکہ وکٹوریہ سے بات نہ کرلوں اس وقت تک کمپنی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہماری حکومت پر قابض ہو سکے اور لکھنو میں فوجیں داخل ہو سکیں اپنے بڑے بیٹے کو لے کر ہندوستان سے یورپ کا سفر کیا
اور جب سمندری جہاز سے اتریں تو سینکڑوں غلام و کنیزیں ساتھ تھے ساحل پر جب جہاز کا تو جہاز کے چاروں طرف قناتیں لگائی گئیں پردے ڈالے گئے پھر کشور محل اتریں اور جب ملکہ وکٹوریہ کے پاس جانا تھا اور اسٹیشن پر ٹرین کے پاس آئیں تو پورے اسٹیشن پر مردوں کو روک دیا گیا کہ کشور محل پردے میں گاڑی میں بیٹھنے جارہی ہیں۔
یورپ میں آج سے ڈیڑھ سو برس پہلے پردے کا اہتمام سیرت فاطمہ ع کا مظاہرہ کشور محل نے کیا آج یورپ میں کوئی پردے کی تبلیغ کر کے دکھائے تو ہم جانیں اور آپ ماضی کی تاریخ کو بھلا دینا چاہتے ہیں اس کو آپ پھینک دینا چاہتے ہیں
کچھ نہیں پائیں گے آپ اگر یہ سب کچھ بھول گئے ۔ ملکہ وکٹوریہ نے کشور محل کا استقبال کیا
پرنس ایڈورڈ ہفتم نے کہا کہ ہم ہندوستان کی ملکہ کو دیکھنا چاہتے ہیں اس وقت وہ آٹھ یا نو برس کا تھا، دوسری خواہش ملکہ وکٹوریہ کے شوہر پرنس البرٹ (Prince Albert) بادشاہ کنگ (King) کی آئی کہ کیا ملکہ سے ہم مل سکتے ہیں جواب ملا نہیں آپ نامحرم ہیں آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی
لیکن ملکہ کا بیٹا میرا بیٹا ہے بیٹا بن کر آئے وہ میرے بیٹے کی طرح ہے
انہوں نے یہ بھی خواہش کی تھی کہ کشور محل کے ساتھ ہم ایک تصویر کھنچوانا چاہتے ہیں اور ہم ملازموں کی طرح آپ کی پشت پر کھڑے ہو جائیں گے ملکہ نے اجازت نہیں دی وہاں لندن کے میوزیم (Museum) میں سارا ریکارڈ موجود ہے
ملکہ وکٹوریہ کے بیٹے ایڈورڈ ہفتم پرنس کو ایک ہفتہ تک پریکٹس (Practice) کرائی گئی کہ ملکہ کشور محل کو سلام کیسے کرنا ہے جب سیکھ لیا تو سلام کرتا ہوا آیا تو نو لاکھ کا نولکھا بار ملکہ کشور نے سلامی میں دے دیا۔
تاریخ برطانیہ کی آپ نے دیکھی حسینی فضاؤں میں یہ تہذیب کہاں تک پہنچائی ملکہ کشور نے یہی تہذیب ہے جسے ہم چاہتے ہیں کہ مٹنے نہ پائے لیکن تہذیب کو برقرار رکھنے والو! یہ تاریخ جب تک سناؤ گے نہیں یہ تہذیب واپس لاؤ گے کیسے....................

19/04/2025

Matmi Sangat Dheedwal Chakwal Matmi Sangat Dheedwal Chakwal

مولا ع کے عظیم ماتمی عزادار چوہدری غلام علی مولا ع کی بارگاہ میں چلے گئے ہیں دعا ہے مالک امام زمانہ عج اپنے انصار میں شا...
03/12/2024

مولا ع کے عظیم ماتمی عزادار چوہدری غلام علی مولا ع کی بارگاہ میں چلے گئے ہیں دعا ہے مالک امام زمانہ عج اپنے انصار میں شامل فرمائیں آمین
نماز جنازہ 4 دسمبر دن 11 بجے دھیدوال میں ادا کی جائے گی

17/11/2024
14/08/2024

محسوس یہ ہورہا ہے کہ کچھ گھر کی مجالس فیملی گیدرنگ میں تبدیل ہوگئی ہے ، کچھ جگہ یہ سلسلہ اسٹیٹس سیمبل بن گیا ہے ،کچھ جگہ سماجی تعلقات بڑھانے کا ذریعہ ، کچھ جگہ فقط دکھاوا بن گئی ہے۔

مجلسیں ہورہی ہیں ، بڑی بڑی ہورہی ہیں ، بہترین ڈیکوریش ہے ، لائٹنگ ہے ، کیمرے ہیں ، بہترین نذر ہے ، بڑے مولوی ہیں ، بڑی انجمن ہے ، مشہور سنگت ہے ، سب کچھ ہے مگر روحانیت نہیں محسوس ہورہی۔ آخر کیا وجہ ہے ؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے ؟

کیا صاحب مجلس میں خلوص کی کمی ہے ، کیا کچھ ملاوٹ ہے ، کیا ہونے والی مجلس کہ ہر معاملات سے بری ہے ، ہر معاملات ، مطلب جو پیسے لگ رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام ؟ مطلب یہ ہی نہیں بلکہ بہت ساری چیزیں اس معاملے میں شامل ہوجائیں گی۔

خلوص ، وہ دل ، وہ جذبہ ، وہ پروٹوکول ختم ہوگیا ہے۔ مجلس عزا یعنی ایک پاک و طاہر سلسلہ ۔ خشوع و خضوع ہوگا تو پورا سلسلہ روحانیت میں محسوس ہوگا ۔ حلال پیسے ، پاک فرش ، صاف نیت ، دل مضطرب گویا وہ بے چینی ہونی چاہیے جو بڑے مہمان کے آنے پر ہوتی ہے۔

بڑے مہمان ؟ جی ہاں سب سے بڑے مہمان ، ان سے بڑا تو کوئی نہیں۔ اب دیکھیں مہمان کو کیا پسند ہے ، مہمان کو ذکر پسند ہے ، وہ ذکر کس کا آپ کو معلوم ہے ۔ مگر کیا وجہ ہے ۔بڑے مہمان کو آپ کی سب خبر ہے ، وہ جس جگہ تشریف رکھیں گے وہ کس طرح کا ہے ، یہ نہیں کہ کتنا آرام دہ ہے بلکہ یہ کہ کس ایمانداری سے تعمیر ہوا ہے۔

اس پورے سلسلے میں سچا لگاؤ ہو، تعلق ہو ، صداقت ہو ، پاکیزگی ہو ، بے لوث ہو ، بے غرض ہو ، کیونکہ جب بڑی ہستیوں کا زکر ہوتا ہے تو بڑے دل اور بڑے جذبے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یاد رکھیں سب سے اہم چیز سادگی ہے ، غم کا ذکر ہے سادگی کے ساتھ ہونا چاہیے بالکل ایسے جیسے اپنے گھر کا کوئی بچھڑا ہو اور دل پر بوجھ ہو۔ میرا دل کہتا ہے کہ اس سلسلہ عزا میں سب سے مرکزی چیز سادگی ہے اور اگر کسی حرکت کی وجہ سے سادگی کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر بہت سختی کے ساتھ اس چیز کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیں ، بڑوں نے بولنا چھوڑا ، ماؤں کی تربیت کمزور ہوئی ، بچے بدتمیز ہوگئے ، سسٹم کمزور ہوگیا۔ ٹوکیں ، ضرور ٹوکیں ، اچھے الفاظوں کے ساتھ ٹوکیں ، ریکوسٹ کیجئے ، درخواست کیجئے ، اپنے گھر سے شروع کریں بس لڑائی نہیں کرنی ، درخواست کرنی ہے ،اپنا حصہ ڈالنا ہے ۔

میرا دل بہت کڑُھتا ہے جب تبرک ضائع ہوتے دیکھتا ہوں, میرا دل بہت دُکھتا ہے جب تبرک کو پھینکتے ہوئے دیکھتا ہوں ، میرا دل تڑپتا ہے جب جلوس عزا کا مزاج غم سے تبدیل ہوکر کسی اور رنگ میں ہوتا ہے ، ہر سال دل بے چین ہوتا جارہا ہے۔وقت آگیا کہ اپنے آپ سے سوال کریں کہ جو وراثت منتقل ہوئی تھی کیا اس کی حفاظت ہوسکی ؟ اور اگر جواب میں نہ ہو تو پھر اس کی حفاظت شروع کردیجیۓ ۔

۔۔۔تحریر : شیعہ کہانی ۔۔۔

16/07/2024

Matmi sangat Sipah Ali Akbar A.S

انشاء اللہ ربیع الاول میں
23/06/2024

انشاء اللہ ربیع الاول میں

Address

Chakwal

Telephone

+923023121472

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azadari Mazlom E Karbala a.s posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Azadari Mazlom E Karbala a.s:

Share