31/05/2026
🍁امیر الدولہ راجہ امیر حسن خاں حبیبؔ🍁
آج ریاست محمودآباد کے والی امیر الدولہ امیر حسن خاں حبیبؔ کا یوم وفات ہے۔ آپ محسن پاکستان راجہ صاحب محمودآباد کے دادا تھے. امیر الدولہ کی ولادت 16 جون 1849 بروز شنبہ کو ہوئی جب برطانوی حکومت پوری طرح ہندوستان پر مسلط تھی . آپ کا جدی سلسلہ براہ راست حضرت محمدؓ بن ابی بکر تک پہنچتا ہے۔ حبیب کے والد مقیم الدولہ راجہ نواب علی خاں وہبؔ ( مرثیے میں شاگرد مرزا اُنس) تھے۔ غزل میں سحرؔ (صبح) تخلص تھا اور ایک طرف استاد ناسخ اور دوسری طرف بادشاہ اودھ واجد علی شاہ اختر سے تلمذ کا شرف رہا۔ امیر حسن نے بھی اپنے والد کی تاسّی کرتے ہوئے انصار امام حسینؑ میں سے ایک نہایت برگزیدہ ہستی کا نام چن کر اپنا تخلص حبیبؔ اختیار کیا۔ غزل میں آپ کا تخلص سحرؔ (جادو) تھا۔
ہے بیشہِ قدرت کا غضنفر حیدرؑ
دستِ حق و بازوئے پیمبرؐ حیدرؑ
ہے دل میں تمنا کہ قیامت کے دن
کہتا میں اٹھوں قبر سے حیدرؑ حیدرؑ
احمدؐ کے جو بستر پہ بسر رات کرے
یوں کون ادا حقِ مواخات کرے
اللہ رے مواسات کہ جس کے اوپر
اللہ ملائک سے مباہات کرے
صرف 9 سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور باپ کے انتقال کے تیسرے روز ہی مسند نشیں ہوئے۔ امیر امام حر اس حوالے سے لکھتے ہیں
"راجہ محمد نواب علی خاں مرحوم جنگ آزادی 1857 میں آزادی خواہوں کی طرف سے جنگ کرتے ہوئے لکھنو کے ایک مورچے پر شدید زخمی ہوئے اور اپنی ریاست کے ایک دیہات میں جا کر انتقال کیا. ان کے انتقال کے وقت ان کے بیٹے محمد امیر حسن خاں صرف 9 سال کے تھے"
امیر حسن غزلیات میں تجمل سیتاپوری اور سلام ، نوحہ و مرثیہ میں میر مونس و میر نفیس کے شاگرد ہوئے سو ایک مرثیے میں میر مونس کی شاگردی پر اس طرح فخر کیا ہے
مجھ کو سودا نہیں ہے سر میں ہوائے مونس
عہدِ طفلی سے دل و جاں ہیں فدائے مونس
نہیں چھپتی کسی پردے میں صدائے مونس
مجھ سے پوچھے کوئی آہنگ نوائے مونس
لحن ِ داودؑ کا مجلس کو پتا دیتا ہوں
ہو کسی دھن میں ، میں اس لے کو بتا دیتا ہوں
ایک اور مرثیے میں میر نفیس کی شاگردی پر فخر کیا ہے
ہے مری نظم میں ہر بیت کی بنیاد نفیس
رکن ہر شعر کے دلچسپ ہیں اوتاد نفیس
رزم کا ڈھنگ نیا بزم کی ایجاد نفیس
کیوں نہ شاگرد ہو اچھا کہ ہے استاد نفیس
فیض استاد سے کیا نام ہمارا چمکا
مہر خورشید سے ذرے کا ستارہ چمکا
امیر الدولہ کا کلام کثیر ذخیرے پر مشتمل ہے . کچھ کل