KAKA KHEL

Call Directions Website Contact the business

KAKA KHEL IR Solar Energy provides cutting-edge on-grid, off-grid, and hybrid solar solutions for residential, commercial, and industrial needs.

We make clean energy accessible, reducing costs and promoting sustainability. Partner with us to power a greener future!

فیصل آباد گلبرگ روڈ پر شہری محسن  ATM سے روم نکلوانے گیا تو اس نے پہلے دروازے لاک کر لیا رقم نکلوانے کے بعد جب لاک کھولا...
13/08/2026

فیصل آباد گلبرگ روڈ پر شہری محسن ATM سے روم نکلوانے گیا تو اس نے پہلے دروازے لاک کر لیا رقم نکلوانے کے بعد جب لاک کھولا تو وہ فری ہو گیا
جس کی وجہ سے شہری دو گھنٹے تک ATM میں پھنسا رہا
ہیلپ لائن پر کالنکی تو انہوں نے کہا صبح تک انتظار کرو( سبحان اللّٰہ)
بعد ازاں شہریوں نے دروازہ توڑ کر شہری کو باہر نکالا
شہری نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی..

27/11/2025

ایلون مسک نے کل حادثاتی طور پر دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرانک لابی/بوٹ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے اکاؤنٹس آپ کو یا آپ کے ملک کو گالیاں دیتے ہیں— چاہے آپ کی قومیت کچھ بھی ہو— ان میں سے آدھے تو انسان ہی نہیں!

سارا معاملہ ایک چھوٹے سے اپ ڈیٹ سے شروع ہوا جو پلیٹ فارم "ایکس" پر آیا تھا۔ یہ بس ایک معمولی اپ ڈیٹ ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس کے ساتھ ایک نئی خصوصیت شامل ہوگئی، یعنی آپ جس اکاؤنٹ کو فالو کرتے ہیں اُس کا اصل مقام دیکھ سکتے تھے۔ یعنی وہ نہیں جو اکاؤنٹ والے نے خود لکھ رکھا ہوتا ہے، بلکہ وہ جگہ جہاں سے اس کی ڈیوائس حقیقتًا چل رہی ہے۔

یہ اپ ڈیٹ میڈیا کے کئی ماہرین کے مطابق— امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی الیکٹرانک لابیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تھا۔ اور اِس نے واقعی ایسا ہی کیا۔ لیکن اس کا اثر پوری دنیا پر ایک ڈیجیٹل ایٹمی دھماکے کی طرح پھیل گیا۔

جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا، لوگوں نے فوراً چیک کرنا شروع کیا کہ جن اکاؤنٹس کو وہ فالو کرتے ہیں وہ کہاں سے چل رہے ہیں… اور تب اصل دھماکہ ہوا۔

مصر کے کچھ مشہور اکاؤنٹس جو رات دن مصر کے خلاف لکھتے رہتے ہیں، اُن کا مقام ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نکلا۔ سعودی عرب کے خلاف چلنے والے اکاؤنٹس قطر اور برطانیہ سے نکلے۔ اور وہ صفحات جو مراکش–الجزائر کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کے لیے پوسٹس کرتے تھے، وہ یورپی ممالک سے چل رہے تھے جن کا ان دونوں ممالک سے کوئی تعلق ہی نہیں! اِسی طرح کئی "جعلی" شامی حب الوطن اکاؤنٹس استنبول سے چل رہے تھے، اور خلیجی لڑکیوں کے نام سے چلنے والے بعض اشتعال انگیز صفحات برطانیہ سے آپریٹ ہو رہے تھے۔

اور جانتے ہیں 99 فیصد ان اکاؤنٹس میں مشترک چیز کیا تھی؟

ہزاروں ایسے عربی لہجے میں لکھنے والے اکاؤنٹس جو عرب ملکوں کو گالیاں دیتے تھے اور خاص ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے تھے— اصل میں isرائیل سے چل رہے تھے۔ اور وہ بھی isرائیلی فوج کی بدنام زمانہ یونٹ 8200 سے، جو سائبر اور الیکٹرانک جنگ میں ماہر ہے۔ یہ یونٹ برسوں سے عرب دنیا کے خلاف نفسیاتی مہمات اور فتنہ پھیلانے والی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

اب کی بار یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہوگئی کہ جن اکاؤنٹس کے نام "عمر"، "ریم"، "سعودی اصیل"، یا "مصری اصیل" تھے، وہ دراصل اسرائیلی ماہرین چلا رہے تھے جو عربی لہجے جعل سازی میں مہارت رکھتے ہیں۔

اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جن ممالک کے خلاف یہ اکاؤنٹس نفرت انگیز مواد پھیلا رہے تھے— جیسے مصر، سعودی عرب، امارات، مراکش، الجزائر، شام، لبنان، سوڈان وغیرہ— اور عرب قوموں کو آپس میں لڑاتے تھے… ان میں سے بڑا حصہ عربی نہیں تھا… بلکہ صہ یون ی تھا۔

نتیجۃً یہ بات واضح ہوگئی کہ ہم جو کچھ روزانہ دیکھتے ہیں، وہ نہ عوام کا حقیقی غصہ ہے، نہ ثقافتی اختلاف، بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے جس کا مقصد عرب قوموں میں نفرت، تقسیم اور فتنہ پیدا کرنا ہے۔ اِس کے علاوہ ہزاروں ایسے بوٹس جو 24 گھنٹے خودکار طریقے سے مواد پوسٹ کرتے ہیں تاکہ آپ کو لگے کہ آپ اکیلے ہیں اور آپ کا ملک برا ہے۔

اور یہ صرف عرب دنیا تک محدود نہیں رہا۔

امریکہ میں بھی لوگوں نے سیاسی اکاؤنٹس کا جائزہ لینا شروع کیا جو ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کشیدگی بڑھاتے تھے، اور حیرت انگیز طور پر ان میں سے زیادہ تر روس، بھارت، بنگلہ دیش اور isرائیل سے نکلے!

جی ہاں رائیل بھی۔

جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا اور معاملہ سامنے آیا، ایک گھنٹے کے اندر اندر ہزاروں اکاؤنٹس بند کر دیے گئے، اور یہ فیچر بھی ہٹا دیا گیا۔ اب آپ یہ معلومات نہیں دیکھ سکتے۔

یہ کوئی پہلا سکینڈل نہیں. ا

Address

Rajjar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KAKA KHEL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KAKA KHEL:

Shortcuts

Share