04/08/2026
بیٹا! کل تم سے فروٹ لیے تھے
میرا ایک شاپر یہیں رہ گیا تھا؟
اس میں سونے کی انگوٹھی تھی
جو بیٹی کو سالگرہ پر دینی تھی
زندگی کی کٹھن راہوں میں جب انسان غربت اور تنگ دستی کی چکی میں پس رہا ہو، تب بھی اگر اس کا دامن دیانتداری اور حلال رزق سے جڑا رہے، تو کائنات کا مالک غیب سے ایسے راستے کھولتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
یہ کہانی ہے قاسم نامی ایک ایسے ہی غریب نوجوان ریڑھی والے کی، جو پسینہ بہا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا، مگر ضمیر کا اتنا امیر تھا کہ حرام کی ایک پائی بھی اپنے گھر کی دہلیز پر لانے سے گریز کرتا تھا
قاسم شہر کے ایک پرہجوم بازار کے کونے پر پھلوں کی ایک چھوٹی سی ریڑھی لگاتا تھا۔
گرمی کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی، بازار میں کافی چہل پہل تھی۔ قاسم پسینے میں شرابور اپنی ریڑھی کے پاس کھڑا گاہکوں کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک چمکتی ہوئی گاڑی آ کر اس کی ریڑھی کے سامنے رکی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا ایک بابا جی اترے۔ ان کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ (شاپر) تھا۔
باباجی نے جلدی سے آگے بڑھ کر قاسم سے کچھ پھل تولنے کو کہا۔ قاسم نے عجلت میں پھل تول کر ایک شاپر میں ڈال کر ان کے حوالے کر دیے۔
بابا جی نے جلدی میں اسی شاپر سے ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے، قاسم کو تھمائے، اور پھل لے کر تیزی سے اپنی کار میں بیٹھے اور روانہ ہو گئے۔
باباجی تو چلے گئے، لیکن قاسم کی نظر جب ریڑھی کے دوسرے کونے پر پڑی تو اس کے پاس وہی شاپر رکھا ہوا تھا جو باباجی اپنے ہاتھ میں لائے تھے اور جلدی میں وہیں چھوڑ گئے۔
قاسم نے سوچا کہ شاید وہ پھلوں والا شاپر تو لے گئے، مگر یہ دوسرا شاپر یہیں بھول گئے۔
قاسم نے تجسس میں آ کر جب وہ شاپر کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اس کے اندر کچھ قیمتی نئے کپڑے اور ایک چھوٹا سا خوبصورت سا ڈبہ پڑا تھا۔
جب قاسم نے ڈبہ کھول کر دیکھا تو اندر ایک چمکتی ہوئی سونے کی انگوٹھ موجود تھی،
قاسم اسی شش و پنج اور الجھن میں پڑ گیا کہ وہ اتنی قیمتی امانت اس بزرگ تک کیسے پہنچائے گا؟
اسے تو بابا جی کا نام پتہ بھی نہیں تھا، اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ وہ کون ہیں۔
سارا دن گزر گیا، شام ڈھل گئی، بازار بند ہونے کے قریب
آ گیا، مگر وہ باباجی واپس نہیں آئے۔ قاسم رات بھر اسی پریشانی میں رہا کہ یہ امانت اصل مالک تک کیسے پہنچے گی۔
اگلی صبح، سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا اور قاسم نے اپنی ریڑھی لگائی ہی تھی کہ وہی جانی پہچانی گاڑی آ کر اس کی ریڑھی کے سامنے رکی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا تو وہی بابا جی انتہائی پریشان حال اور گھبرائے ہوئے اترے۔
ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں نمی تھی۔ وہ جلدی میں قاسم کے پاس آئے اور سانس پھولے ہوئے لہجے میں بولے
"بیٹا! کل... کل میں نے یہاں سے تم سے پھل لیے تھے...
سچ بتانا، کیا میرا ایک شاپر یہیں کہیں رہ گیا تھا؟
اس میں کچھ قیمتی کپڑے تھے اور ایک چھوٹی سی ڈبی میں میری بیٹی کی سونے کی انگوٹھی تھی،
جو میں نے آج اس کی سالگرہ پر اسے تحفے میں دینی تھی.میری بیٹی بہت اداس ہے،
قاسم کے چہرے پر ایک پرسکون سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اپنی ریڑھی کے نیچے سے وہ محفوظ شدہ شاپر نکالا اور باباجی کے آگے کرتے ہوئے
"باباجی! اللہ کا شکر ادا کریں، آپ کی ایک ایک چیز اور امانت یہاں بالکل محفوظ رکھی ہے۔
میں کل شام سے آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا کہ آپ آئیں تو میں آپ کی امانت آپ کے حوالے کروں۔"
ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر قاسم کو اپنے سینے سے لگا لیا اور فرطِ جذبات سے بولے:
"بیٹا! تم نے صرف میری بیٹی کی سالگرہ کا تحفہ نہیں بچایا، بلکہ ایک باپ کی عزت اور اس کا بھروسا بچا لیا ہے۔ آج کے دور میں ایسا ایمان کہاں ملتا ہے!"
باباجی نے خوش ہو کر ڈھیر سارا انعام اور رقم قاسم کے ہاتھ پر رکھنی چاہی، مگر قاسم نے مسکرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا:
"باباجی! امانت واپس کرنا میرا فرض تھا، اس کا صلہ دنیا میں نہیں لوں گا۔ آپ کی بیٹی کی دعائیں میرے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت ہیں۔"
اس دن کے بعد سے وہ باباجی قاسم کے پکے گاہک ہی نہیں بلکہ محسن بن گئے، اور انہوں نے قاسم کے بچوں کی تعلیم اور گھر کے حالات سنوارنے کی ذمے داری اپنے سر لے لی۔
دیانت داری اور رزقِ حلال انسان کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتے؛ دنیا کی عارضی چمک دمک کے مقابلے میں ایمان اور سچائی کا اجر ہمیشہ دیرپا اور بہتر ہوتا ہے۔
"اے اللہ پاک! ہمارے دلوں میں ہمیشہ ایمانداری اور امانت کی حفاظت کا احساس زندہ رکھ، اور ہمیں ہر آزمائش میں سرخرو فرما۔ آمین۔"