01/11/2024
*صحيح مسلم # ٤٩٢٣*
*Sahih Muslim # 4923*
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ] قَالَ: *سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ» .*
Narrated Abu Hurairaؓ that *he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The first to be judged on the Day of Judgment is a man who was martyred. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I fought for Your sake until I was martyred." Allah will say, "You have lied. You fought so it would be said that you were brave, and it has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire. And a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur'an. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I acquired knowledge and taught it, and I recited the Qur'an for Your sake." Allah will say, "You have lied. You learned so it would be said that you were a scholar, and you recited the Qur'an so it would be said that you were a reciter (Qari), and that has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire. And a man for whom Allah expanded his resources and gave him from all types of wealth. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I left no path wherein You love to spend except that I spent therein for Your sake." Allah will say, "You have lied. You did it so that it would be said that you were generous, and that has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire.*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: *میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ «قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا؛ اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا، تو اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پا کر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔" اللہﷻ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو اس لئے لڑتا رہا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ تجھے (دنیا میں) کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (دوسرا) وہ شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پا کر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے علم حاصل کیا، پھر اسے دوسروں کو سکھایا، اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔" اللہ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا؛ تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے ایسا (دُنیا میں) کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (تیسرا) وہ شخص ہو گا جسے اللہ نے (دنیا میں) وسعتِ رزق سے نوازا ہوگا اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوگا، اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے ہر اس راہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، تیری رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کیا۔" اللہ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے ایسا اس لئے کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، پس! تجھے (دنیا میں) ایسا کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے۔»*
_*(جب نیت میں دکھاوا اور دنیا کی عزت و جاہ کی طلب پیدا ہو جائے تو شہادت، علم، قراءت اور سخاوت جیسی خوبیاں اور نیکیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اللہﷻ ہمیں اپنی نیتوں کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_