Mission Dawat e Taqwa ->social media

Mission Dawat e Taqwa  ->social media Aslam-o-Alaikum.Is Page say Taqwa (Fear Of GOD) k baray me daily Hadees-e-Pak and Ayet-e-Quran Upload ki jati hai...

28/11/2024
‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ...
04/11/2024

‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*

نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی ۔ * *
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔

1. **پہلی نصیحت:**
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔

2. **دوسری نصیحت:**
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔

3. **تیسری نصیحت:**
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔

4. **چوتھی نصیحت:**
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"*
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔

5. **پانچویں نصیحت:**
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔

6. **چھٹی نصیحت:**
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔

7. **ساتویں نصیحت:**
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھو —پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، زندگی خود نہیں ہںے ۔

8. **آٹھویں نصیحت:**
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکے ، یا کسی بھی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔

9. **نویں نصیحت:**
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔

10. **دسویں نصیحت:**
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔
پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔

**آخری اور سب سے اہم نصیحت:**
کبھی بھی اپنی نماز کو نہ چھوڑیں؛ یہ آپ کا جیت کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد ۔

اگر آپ کو یہ مفید لگے ، تو اسے پھیلائیں۔ اگر نہیں ، تو دوسروں کو محروم نہ کریں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"جو بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہںے ، وہ اس کے کرنے والے کی طرح ہںے ۔

01/11/2024

*صحيح مسلم # ٤٩٢٣*
*Sahih Muslim # 4923*

[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ] قَالَ: *سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ» .*

Narrated Abu Hurairaؓ that *he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The first to be judged on the Day of Judgment is a man who was martyred. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I fought for Your sake until I was martyred." Allah will say, "You have lied. You fought so it would be said that you were brave, and it has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire. And a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur'an. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I acquired knowledge and taught it, and I recited the Qur'an for Your sake." Allah will say, "You have lied. You learned so it would be said that you were a scholar, and you recited the Qur'an so it would be said that you were a reciter (Qari), and that has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire. And a man for whom Allah expanded his resources and gave him from all types of wealth. He will be brought, and Allah will remind him of His favour [upon him], which he will recognize. Allah will say, "What did you do as a token of gratitude for that favour?" He will say, "I left no path wherein You love to spend except that I spent therein for Your sake." Allah will say, "You have lied. You did it so that it would be said that you were generous, and that has been said." It will be commanded that he be dragged on his face until he is thrown in the Fire.*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: *میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ «قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا؛ اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا، تو اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پا کر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔" اللہﷻ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو اس لئے لڑتا رہا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ تجھے (دنیا میں) کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (دوسرا) وہ شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پا کر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے علم حاصل کیا، پھر اسے دوسروں کو سکھایا، اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔" اللہ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا؛ تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے ایسا (دُنیا میں) کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (تیسرا) وہ شخص ہو گا جسے اللہ نے (دنیا میں) وسعتِ رزق سے نوازا ہوگا اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوگا، اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جَتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا، "تو نے ان نعمتوں کو پاکر کیا عمل کیا؟" وہ کہے گا، "میں نے ہر اس راہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، تیری رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کیا۔" اللہ فرمائے گا، "تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے ایسا اس لئے کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، پس! تجھے (دنیا میں) ایسا کہہ دیا گیا۔" پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے۔»*

_*(جب نیت میں دکھاوا اور دنیا کی عزت و جاہ کی طلب پیدا ہو جائے تو شہادت، علم، قراءت اور سخاوت جیسی خوبیاں اور نیکیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اللہﷻ ہمیں اپنی نیتوں کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_

30/10/2024

*صحيح مسلم # ٤٧٩٢*
*Sahih Muslim # 4792*

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ *قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» ‏.‏*

Narrated Ibn 'Abdullah al-Bajaliؓ that *the Messenger of Allah (ﷺ) said: “One who is killed under the banner of blindness (to just cause), raising the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya” (pre-Islam Ignorance).*

حضرت جندب بن عبدﷲ الْبَجَلِی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول ﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اندھے جھنڈے تلے مارا جائے جبکہ وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف، یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی، تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہو گا۔“*

_*(اللہﷻ کے یہاں قبولیت صرف اس قتال اور جہاد کو حاصل ہے جو خالصتا اللہ کی رضا کیلئے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے۔ شرعی قتال کا مقصد اسلام کی سربلندی ہوتا ہے یا مسلمانوں کے جان و مال اور امن و بقا کا دفاع۔ اور اگر قتال شرعی احکام کے مطابق ہو، تب بھی ہر شخص کا اخروی معاملہ اس کی انفرادی نیت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص مال یا شہرت حاصل کرنے کیلئے لڑا، یا قومی حمیت، esprit-de-corps، یونٹ کی عزت، قبیلے کی عزت، یا کسی اور طرح کی دنیاوی فخر و عزت کی خاطر لڑتے ہوئے مرا تو وہ دنیا میں چاہے شہید کہا جائے، لیکن آخرت میں اس کا یہ عمل وزن نہیں رکھے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں عصبیت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے کا مجاہد بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_

Address

Jamaat E Qasmia Ferozia Ahle Sunnat Pakistan Trust
Daska

Telephone

+923006410048

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mission Dawat e Taqwa ->social media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mission Dawat e Taqwa ->social media:

Share