Naseer Ahmed Nasar

Naseer Ahmed Nasar اللہ کی زمین اللہ کا نظام

22/03/2022

مولانا فضل الرحمن ایسے ہے
مولانا فضل الرحمن ویسے ہے
ھر نقص ان میں ہے
فلاں فلاں علماء سے محبت بھی رکھتا ہوں
تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت بھی لگایا ہے
بس مولانا فضل الرحمن سے میری نہیں بنتی
یار وہ مولوی ہے مولوی کا سیاست میں کیا کام ہے
سوشل میڈیا پر ایسی باتیں عموما
پی ٹی آئی کے کارکن یا قادیانی یا لبرل طبقہ اور دین سے بیزار طبقہ کرتے ہیں
یا بدعتی حضرات کرتے ہیں
مختصر جواب یہ ہے کہ

اگر حج و عمرہ پہ جاتے ہو تو کسی امام کعبہ سے دریافت کرتے
مولانا کیسے ہے

اگر ختم نبوت سے منسلک ہو تو مولانا اللہ وسایا سے پوچھتے
مفتی محمد حسن صاحب سے پوچھتے
مولانا کیسے ہے

اگر دفاع صحابہ میں مگن ہو تو
مولانا احمد لدھیانوی صاحب سے دریافت کرو
مولانا کیسے ہے
قاضی ظھورالحسین صاحب سے معلومات کرو
علامہ اورنگزیب فاروقی سے پوچھو
ایم پی اے جنگ مولانا معاویہ اعظم سے دریافت کرو

اگر مناظرانہ ذوق رکھتے ہو تو
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب سے پوچھو
مفتی ندیم المحمودی سے پوچھو
مولانا کیسے ھے

اگر کسی بھی بزرگ سے بیعت ہو تو اپنے شیخ سے پوچھو
مولانا کی کیا شان ہے

یا پھر مولانا عبداللہ شاہ مظہر سے پوچھو مولانا فضل الرحمن کیسے ہے

حضرت ھزارویؒ صاحب سے پوچھو

قاضی ارشدالحسینی صاحب سے پوچھو

پیر ذوالفقار احمد نقشبندی سے پوچھو

کسی مفتی سے لگاؤ ہے تو
مفتی تقی عثمانی
مفتی رفیع عثمانی
مفتی زرولی خان صاحب
مفتی عبد اللہ شاہ صاحب
مفتی طارق مسعود مفتی ابولبابہ شاہ منصوری مفتی طیب مفتی عبدالغفور
مفتی خالدمحمود
مفتی محمد منیر شاکر سے پوچھو
مولانا فضل الرحمن کیسے ہے

کس کس کا نام لکھوں تم دریافت کرو
کسی بریلوی سے پوچھنا ہے تو شاہ اویس نورانی سے پوچھو
خادم حسین رضویؒ سے پوچھو اس کی اولاد سے پوچھو
تو دل مولانا کے حوالہ سے بھی صاف ھو جاۓ گا

اگر آپ کا تعلق دارالعلوم حقانیہ سے ہے
مولانا انوار الحق سے دریافت کریں
یا مغفور اللہ بابا صاحب سے پوچھو
دیر بابا سے پوچھو

اگر آپ کا تعلق جامعہ نعمانیہ سے ہے تو
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس سے پوچھو شیخ الحدیث محمد فقیر سے پوچھو

اہلحدیث کے علامہ اہتشام الہی ظہیر
اور جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق سے پوچھو

مولانا ابراہیم فانی صاحب کے ملفوضات دیکھیں
آپ کی طبیعت میں بہار آجاۓ گی

اور آپ خود بخود کہیں گے
مفتی محمود کا دوسرا نام
مولانا فضل الرحمن ہے.

اگر آپ کبھی پاکستان کے گمنام ہیروں جنرل حمید گل کے ہاں جائیں تو اس کے بیٹوں سے پوچھیں اگر وہ زندہ ہوتے تو اس سے پوچھتے مولانا فضل الرحمن کیسا ہے پھر آپ کو کچھ پتہ چلتا ہے

لیکن
اگر آپ عمران نیازی جو قادیانیوں اور یہودیوں کا ایجنٹ ہے یا آپ اسلام دشمن میڈیا یا لبرل دین سے بیزار طبقہ یا بدعتیوں یا قادیانیوں سے پوچھو گے
تو وہ خود بھی گمراہ ہیں اور آپ کو بھی گمراہ کرینگے...
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کاپی

10/03/2022

یہ حکومت تین سالوں میں ایک عدد گٹر بند نہ کرسکی۔ باقی کا کیا حال ہوگا

06/03/2022

السلام علیکم

19/02/2022

جب تک کارکن مطمئن نہیں ہوگا۔ حادثاتی کامیابیاں بے کار ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیمجناب محترم مولانا گل نصیب خان صاحب! سابقہ امیر جمعیت علماءاسلام خیبر پختونخواہ  : السلام علیکم جنا...
08/03/2021

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب محترم مولانا گل نصیب خان صاحب! سابقہ امیر جمعیت علماءاسلام خیبر پختونخواہ : السلام علیکم
جناب والا ! اللہ آپ کو اور ہم سب کو وہ آنکھیں اور وہ دل نصیب کرے جو حق کو دیکھیں اور حق کو قبول کرے۔
بلاتمہید عرض ہے کہ آپ نے جو بیانیہ بنایا ہوا ہے انتہائی غلط ،غیر معقول اور انصاف کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے ۔آج کل آپ حضور کی تقریریں سن کر دل آنسو رورہاہے۔ آپ جیسا کارکن آج جس سمت پہ نکلا ہے اس کا انجام یا تو جذباتیوں یا صرف یرغمالیوں کا ہوتا ہے۔اللہ آپ کو اور ہم سب کو حاسدین ،جذباتیوں اور بھتہ خوروں کی شرارتوں سے بچائے۔اگر آپ دل میں مخلص ہیں تو مجھ عاجز کی چند گزارشات کو دل کی آنکھوں سے پڑھیں اور دل کے کانوں سے سنیں اور ضمیر کے خانوں میں سوچنے دیں۔
آپ صاحب جو کہتے ہیں کہ جماعت کے انتظامی تشکیل میں خیانت ہوئی ہے۔ اس پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو اس کام کو خیانت سے تعبیر کرنا جماعت کی گردن پر چھری چلانے کے مترادف ہے اگر کوئی مسئلہ ہوتا بھی تو ایک سمجھدار اور وفادار کارکن کی طرح زیادہ سے زیادہ کوتاہی سے تعبیر کرسکتے تھے۔ جو بد انتظامی یا بھول چوک کی آپ بات کرتے ہیں اس پر پہلے تعجب ہوتا تھا اور اب اس بیانیے کے لنکس اور عواقب کو سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اب آپ کہتے ہیں کہ قیادت فلاں فلاں بات کی ضمانت دیں تو آپ معافی بھی بھی نرالی مانگیں گے۔ جناب اگر آپ مخلص ہوتے تو کہنے سے پہلے معافی کے طلب گار ہوتے ۔ جناب والا جن باتوں کا آپ ذکر کرتے ہیں یہ کوتاہیاں آپ کے دور امارت میں سب سے زیادہ تھیں۔ کیا آپ دل پہ ہاتھ رکھ کر حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے دور میں رکنیت سازی کے بیس تیس روپے بعض لوگ اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے تھے؟ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسا ہوتا تھا۔ تمام قارئین شاید اس بات کو نہ سمجھیں ان کے لیے عرض ہے کہ جمعیت کی رکن سازی کی ایک خاص فیس ہوتی ہے ۔ جماعت کے اکثر لوگ غریب ہوتے ہیں تو بعض اہل ثروت دوست اپنے اپنے علاقوں میں اپنے غریب ساتھیوں کی رکن سازی فیس اپنی جیب سے بھر دیتے ہیں،یہ کام آج سے نہیں عرصہ دراز سے ہوتا آیا ہے اور یہ برا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا البتہ اس مرتبہ جب انتخابات ہوئے تو اس میں میں بھی ضلعی معاونین میں شامل تھا تو کسی کو بھی اجازت نہیںملی۔ میرے سامنے یا میرے علم میں یہ صدقہ یا خیرات کہیں نہیں ہوئی البتہ گل نصیب خان صاحب کے دور امارت اور دور انتخاب میں یہ کام بدرجہ اتم ہوتا رہا۔ بیس تیس سال تک مولانا محمد خان شیرانی صاحب کا جو انتخاب ہوتا آیا ہے اس میں اکثر مرتبہ کسی بھی انتخاب میں ان باریکیوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ مولانا گل نصیب خان صاحب اگر سچے ہیں تو انکار نہیں کرسکیں گے۔ میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کے حلقے سے تعلق رکھتا ہوں انتخابی کاموں میں میں ضلعی ناظم انتخاب جناب مولانا قسمت اللہ صاحب کے ساتھ معاون تھا ایک ایک تحصیل میں انتخابات کرائے ، حتی کہ ضلعی انتخاب کی باری آئی ،میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر سچ کہتا ہوں کہ مجھے مولانا کے گھر یا ان کے خاندان سے کسی ایک شخص نے بھی ایسی کوئی ہدایت نہیں دی جس سے معلوم ہوتا کہ وہ مولانا لطف الرحمن صاحب کے لیے راستہ ہموار کررہے ہیں ۔جب ان کے مقابلے میں کوئی بندہ کھڑا ہی نہیں ہونا چاہتا جب عقیدت اور اعتماد کا یہ مظہر ہو کہ پوری عمومی میں ایک بندہ بھی کسی کانام پیش نہیں کررہا تو اس میں خیانت والی بات کہاں سے آئی۔اب مولانا گل نصیب خان صاحب آپ بار بار اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ ضلع میں اپنا بھائی امیر بنوایا تو اس بات سے ہمیں دکھ ضرور ہوتا ہے ۔اسی طرح صوبے کے انتخاب میں عمومی سے پورا ہال بھرا ہوا تھا نام بھی پیش ہوئے انتخاب بھی سب کے سامنے ہوا اب اس میں خیانت والی بات کہاں سے آئی۔ جہاں تک انتخاب سے پہلے کنونسنگ کی بات ہے تو یہ تو پہلے آپ کے زمانے میں جب انتخاب ہوراتھا تو دسترخوان پر مولانا شجاع الملک صاحب کے تمام حرکات،اشارات و کنایات میں نے خود دیکھیں ،جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن ہمیں تو وہ بھی برا نہیں لگا بلکہ اپنا ووٹ بھی مولانا شجاع الملک کو دیا تھا البتہ اس مرتبہ اپنی مرضی سے انہیں ووٹ نہیں دیا۔اب آپ جو اتنی معمولی معمولی باتوں کو بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو اس سے آپ کیا حاصل کرنا چاہیتے ہیں؟ جہاں تک سینٹ ٹکٹ کا تعلق ہے تو آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کرکہیں کہ کیا واقعی آپ خود کو مولانا عطاءالرحمن سے زیادہ اہل سمجھتے ہیں میرے خیال میں سینٹ میں وہ آپ سے سے زیادہ کارآمد ہیں اب آپ بتائیں کہ ٹکٹ کسے دینا چاہیے تھا؟
آپ جو موروثیت کا الزام بار بار لگا کر مولاناکے دشمنوں کو شے ہاتھ میں دے رہے ہیں کیا واقعی آپ شرعی نکتہ نظر سے موروثیت کی اس قسم کو غلط سمجھتے ہیں؟ یا کوئی خاص اصطلاح ہاتھ آئی اور آپ اس کا سہارا لے رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی میں صلاحیت موجود ہے تو کسی کا بیٹا ہونا یا کسی کا پوتا ہونا کوئی رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے ۔اگر مولانا کی ذات میں قیادت کی صلاحیت دوسروں کی بنسبت زیادہ موجود ہے تو کیا ہم ان کو صرف اس وجہ سے مسترد کریں کہ وہ مولانا مفتی محمود کا بیٹا ہے؟ کیا آپ کا یہی منشاءہے؟ اگر مولانا اسعد محمود صاحب میں دوسروں کی بنسبت زیادہ صلاحتیں موجود ہیں تو ہم انہیں اس وجہ سے مسترد کریں گے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا ہے؟ اگر ایسا ہے تو از روئے شریعت اس کا جواب دیں؟ جناب والا ہمیں معلوم ہے کہ اس غلیظ اور بدبودار اصطلاح کا اصل ماخذ کیا ہے وہ ہے شیعوں کا واویلا جو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کرتے ہیں اس کے بعد جناب مودودی صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں اس چیز کو بہت زیادہ ہائی لائٹ کیا گیا اب اس فکر کے جو فکر زدہ ہیں، تو یقینا وہ اس قسم کی بولی بولے گا۔اور آپ کا بھی زیادہ تر اٹھک بھیٹک اس قسم کے متاثرین کے ساتھ ہوا ہے کچھ تو اپنے علم و حکمت سے بھی سوچو۔
آپ قیادت سے ضمانتیں مانگ کر بعض سادہ لوحوں یا مقامی طور پر ناراض لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں کیا واقعی آپ سوچ سمجھ کر یہ کام کررہے ہیں یا اس کے پیچھے صرف گلے اور شکوے اور امارتیں اور عہدوں کی لالچ ہے۔ اگر ہم آپ سے ضمانت مانگیں کہ مولانا شیرانی جھاد کے متعلق اپنا فلسفہ درست کریں تو کیا آپ اس کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ یا آپ کا بھی جہاد کے متعلق وہی نظریہ ہے جو شیرانی کا ہے ؟۔ کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں؟ کہ شیرانی صاحب قادیونیوں کے متعلق اپنا نظریہ ٹھیک کرے گا یا آپ کا بھی قادیانیوں کے بارے میں وہی خیال ہے؟ جو شیرانی صاحب کا ہے۔ کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں شیرانی کا جو بھونڈا قرآنی استدلال ہے وہ اپنی اس غلطی سے رجوع کرےگا؟ یا آپ کا وہی خیال ہے کہ جس طرح شیرانی صاحب استدلال کرتے ہیں۔ کیا وہ ٹھیک ہے؟ کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ مولانا شیرانی صاحب شیعوں کے متعلق جو نظریہ رکھتے ہیں وہ اس سےرجوع کرے گا؟ یا آپ کا بھی شیعیت کے متعلق وہی عقیدہ ہے؟ اس طرح باریکیوں میں جاجاکر وحدت امت اور وحدت الوجود تک کے خیالات میں بھی ان کا نظریہ ڈانواں ڈول ہے تو کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ شیرانی صاحب ان تمام خرافات سے توبہ کرے گا؟ یا کم از کم آپ نے سوچا بھی ہے کہ آپ ایک چھوٹی سے بات کولے کر کہیں خطرناک دلدل میں تو نہیں پھنس گئے؟ اگر اتنی خرابیوں اور بد اعتقادیوں کے باوجود آپ شیرانی صاحب کے ساتھ چل سکتے ہیں تو ایک چھوٹی سی بد انتظامی یا کوتاہی کو برداشت کرکے آپ مولانا کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتے ۔ اگر آپ بات بات میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا شیرانی کے ساتھ نظریات میں ایک ہونا ضروری نہیں تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مولانا کی ایک مبینہ کوتا ہی کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
جناب والا ! کارکن سمجھتا ہے اور خوب سمجھتا ہے ۔آپ نے جو قدم اٹھایا، اس کے لیے جو وقت چنا، یہ آپ نے وہ غداری کی جس کی تاریخ اسلام میں بہت کم مثال ملتی ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ اپنے سابقہ کو بربادی سے بچائیں اور اپنے کیے پر نادم ہوکر سواد اعظم میں آجائیں۔ ورنہ بہت بڑا خسارہ اٹھائیں گے۔ ف ف کی رٹ لگا کر آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس رٹہ بازی کی اصل بنیاد اب ہر کارکن کو علم ہے ۔ مولانا نے حکومت کے خلاف جعل سازی کی بات کی تو آپ لوگوں نے اس بیانیے کے توڑ کے لیے جماعت کے اندر جعل سازی کی بات شروع کی جب مولانا نے عوام کے مینڈیٹ کی چوری کی بات کی تو آپ لوگوں نے مولانا کو نیچا دکھانے کیے انہی الفاظ میں دشمن کو اپنے خدمات پیش کیے ورنہ ف ف تو آپ لوگوں نے اس وقت سے شروع کیے رکھا تھا جب درخواستی صاحب اور سمیع الحق نے اپنا راستہ جدا کیا تھا اور آپ یہی کہتے رہے کہ اصل جمعیت یہی ہے جس کے قائد مولانا فضل الرحمن ہے اور آخر میں یہ ف کا لاحقہ ختم بھی ہوا حتی کہ الیکشن کمیشن تک یہ مسئلہ ختم ہوا اب مردہ گھوڑوں کو نکالنے سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟ جمعیت کے ساتھ ف کا لاحقہ ہے اس لیے یہ غلط ہے اور اسرائیل نوازی ٹھیک ہے ۔ جمیعت کی رکن سازی میں کوتاہیاں ہوئی ہیں اس لیے آپ قادیانیت نوازوں ،شیعیت نوازوں، منکرین جھاد کا ساتھ دے رہے ہیں؟۔ آپ کو صوبائی امیر منتخب نہیں کیا گیا اس لیے آپ پی ٹی آئی کے ہمدردوںکا ستھ دے رہے ہیں؟۔کیا مولانا کا بھائی بیٹا ایم این اے ہیں اس وجہ سے آپ افغانستان کے شہداءکو مردار کہنے والوں کا ساتھ دے رہے ہو؟ ۔کیا جماعت میں اقرباءپروری ہے اس لیے آپ فلسطین اور کشمیر کے شہداءکے خون کے غداروں کا ساتھ دے رہے ہو؟۔
مولانا گل نصیب صاحب !کارکن کو بہت کچھ کا علم ہے خدا کی قسم وہ باتیں تو ہم ٹچ بھی نہیں کرتے کہ جن لوگوں نے آپ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ان کا اپنا کردار کیا ہے ۔ خدا کی قسم اگر میرے اندر اس درجہ کے وسائل اور حیثیت ہوتی تو وہ حقائق بیان کرتا کہ پورا پاکستان دنگ رہ جاتا لیکن بس مجبوری ہے ۔ میں ان لوگوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا جو تمہیں مہمیز کرتے ہیں ۔آپ کو آگے لاکر اپنی ہوس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں جو لوگ آپ کو یہ پٹی پڑھاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے خیانت کی ہے ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو کنفرم ڈاکو اور چور ہوں جوبھتہ خور ہوں ۔ جو مظلوموں اور مسافروں کے مال کے غاصب ہوں ۔ لیکن بس کیا کہیے۔آپ کو جب حقیقت نظر آئے گی تو آپ کے پاس وقت نہیں ہوگا۔
فکر ولی اللہ کے نام سے ایک فتنہ اٹھا ان کا خیال تھا کہ جھاد کی یہ صورت ٹھیک نہیں جو امت سمجھتی ہے۔ ختم نبوت پر سوالات اٹھنے لگے نعوذ باللہ لیکن علماءامت نے انہیں پسپا کردیا ۔ کمیونزم کو اسلام کہنے والے میدان میں آگئے لیکن انہیں خاموش کردیا گیا مدارس کے دشمن اٹھے ان کے انتظام و انصرام اور امتحانی سسٹم پر اعتراضات کی آڑ میں انتہائی گھٹیا باتیں کی گئیں، لیکن انہیں خاموش کیا گیا ۔ اجتھاد کے نئے دروازے کھولنے کی شیعی فرمائیش اور اس کی فہمائش کی کوشش ہوگئی لیکن علماءامت نے اس کو بھی ناکام بنا دیا ۔ اسرائیل نوازوں نے بار بار سراڑٹھانے کی کوشش کی لیکن یہی جماعت سد سکندری بنی رہی اور وہ ناکام ہوئے ۔اس قسم کے کئی فتنے اٹھے لیکن ناکام ہوئے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سب یکجا ہوکر آپ کانام استعمال کریں ۔شاید وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چار کا ٹولہ ہمارے قدر مشترک کاکام کرسکتاہے۔شاید یہی ٹولہ ہمارے لیے اچھے خدمات کرسکتا ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان کے اس خطرناک کھیل کا حصہ نہ بنیں۔ خدا کے لیے ایسی باتیں نہ کہیں کہ جن کا جواب آپ ہی کی پرانی تقریروں میں موجود ہوں۔ خدا کے لیے ایسی باتیں نہ کہیں کہ کل پھر ہدایت اور توبہ کی صورت میں زندگی بھر تیرے لیے بوجھ کا باعث بنیں۔
جس راستے پہ آپ نکلے ہیں تو اس منظر کا انتظار کریں کہ لوگ اس قسم کے نعرے لگائیں گے؛
قادیانیوں کا آخری سہارا چار کا ٹولہ
منکرین جھاد کا آخری سہارا چار کا ٹولہ
شیعوں کا آخری سہارا چار کا ٹولہ
یہودیوں کا آخرہ سہارا چار کا ٹولہ
مدارس کا دشمن چار کا تولہ
امت کے غدار چار کا ٹولہ
اللہ کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ بس کیجیے۔ آپ کو خوب علم ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ آپ مولانا کے صبر و برداشت سے خوب واقف ہیں۔ مولانا نے اس سے بھی سخت صورت حال اپنی زندگی میں کئی بار دیکھی ہے یہ بھی برداشت کریں گے لیکن آپ کا کیا ہوگا۔
بات لمبی ہورہی ہے ایک بات اور عرض کردوں جب دو دوست ایک زمانے تک اکھٹے رہتے ہیں تو ان کے کئی راز ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہیں اصلی نسل والے ان رازوں کو پھر بھی راز رکھتے ہیں لیکن کم اصل پھر اپنے پرانے دوست کے راز لوگوں کے سامنے اچھا اچھال کر اپنی اصلیت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جس نے بھی امت سے غداری کی وہ اکثر نسل کے اعتبار سے انتہائی مشکوک تھے یہی وجہ ہے کہ مجھے صرف آپ پر افسوس ہے ورنہ اس خط میں بہت سوں کو مخاطب کرسکتا تھا۔ میرا دل کہتا ہے کہ آپ ان کے ٹولے میں نہ جائیں۔
اللہ کرے کہ میری ان باتوں سے برا نہ منائیں اور مجھے اپنا مخلص سمجھے۔میرے ذاتی طور پر جمعیت کے ذمہ داروں سے گلے بھی ہیں شکوے بھی ہیں چونکہ وہ میرے ذاتی معاملات ہیں لہذا جماعت میری ذات سے بالا تر ہے۔ ذاتی طور پر میرے اور مجھ جیسے دوستوں کے ساتھ جو رویے پیش آئے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ میں کوئی لولی لفنگی سوچ والا بندہ نہیں ہوں آپ کا مخلص ہوں اخلاص قبول کیجیے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔۔۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

03/01/2021

وہ دن کب آئے گا؟
جب قوم کا بچہ بچہ پوچھنے لگ جائے کہ احتساب کے نام پر غریب عوام کے خزانوں سے آج تک کتنے ارب ڈالر اڑائے گئے؟
جواب بھی مل جائے گا لیکن افسوس ہم نہیں ہوں گے

23/09/2020

وفاقی کابینہ نے 94 ادویات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کی منظوری دے دی

Address

Dera Ismail Khan
29050

Telephone

+923109506513

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naseer Ahmed Nasar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Naseer Ahmed Nasar:

Share