22/07/2026
واپڈا کے مسائل: عوام کا قصور یا نظام کی ناکامی؟
پاکستان میں بجلی کا شعبہ کئی برسوں سے شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہے۔ بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ، بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخ، لائن لاسز، بجلی چوری اور ناقص انتظام نے عوام کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان وہ شہری اٹھا رہے ہیں جو ایمانداری سے ہر ماہ اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ بعض علاقوں میں بجلی چوری روکنے کے بجائے کچھ بدعنوان عناصر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض افراد غیر قانونی کنکشن یا بجلی چوری کی سہولت فراہم کرنے کے بدلے گھروں سے ہر ماہ تین سے پانچ ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں، جبکہ اس رقم کا فائدہ بدعنوان عناصر کو پہنچتا ہے۔ اگر ایسی شکایات درست ہیں تو یہ نہ صرف قومی خزانے کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ایماندار صارفین کے حقوق پر بھی ڈاکا ہے۔ ان الزامات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ آخرکار ان لوگوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔ نتیجتاً پورے پورے شہروں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، کاروبار متاثر ہوتے ہیں، طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، صنعتوں کی پیداوار کم ہوتی ہے اور عام شہری ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر چند لوگ قانون توڑ رہے ہیں تو سزا پورے شہر کو کیوں دی جائے؟
ڈیرہ اسماعیل خان کے بارے میں بھی یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ واپڈا کے مطابق اربوں روپے کے لائن لاسز اور ریکوری کے مسائل موجود ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق یہ رقم تقریباً 35 ارب روپے تک بتائی جاتی ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ نہایت تشویشناک صورتحال ہے، جس کے لیے مؤثر اصلاحات، احتساب اور بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے، اسمارٹ میٹرز نصب کیے جائیں، کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت نگرانی کا نظام بنایا جائے، اور دیانت دار صارفین کو ریلیف دیا جائے۔ صرف نرخ بڑھانے یا لوڈشیڈنگ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اصل خرابیوں کو دور کرنا ہوگا۔
پاکستان کی ترقی کا انحصار ایک مضبوط اور شفاف بجلی کے نظام پر ہے۔ اگر بجلی چوری، بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف واپڈا یا بجلی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری معیشت اور عوام اس کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ذمہ دار ادارے غیر جانبدارانہ احتساب کریں، بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور ایماندار صارفین کو ان کا حق دیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو