20/10/2025
ایئر لائنز اپنا منافع بڑھانے کے لیے ایک خاص چالاکی کرتی ہیں، اور وہ یہ کہ وہ اپنی فلائٹ کی اصل سیٹوں سے زیادہ ٹکٹ بیچ دیتی ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی جہاز میں صرف 100 لوگ بیٹھ سکتے ہیں، تو ایئر لائن اکثر 105 یا 110 ٹکٹ بیچ دیتی ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیوں؟ وہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ ہر فلائٹ میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو آخری لمحے پر نہیں آتے۔ جیسے کسی کو بخار ہو گیا، کسی کا پلان بدل گیا، یا وہ فلائٹ مِس کر گیا۔ ایسے لوگوں کو کہتے ہیں (No Show)
اب اگر ایئر لائن صرف 100 ٹکٹ بیچے اور ان میں سے 5 لوگ نہ آئیں، تو 5 سیٹیں خالی جائیں گی۔ خالی سیٹ کا مطلب ہے نقصان۔ تو کمپنی یہ خطرہ نہیں لیتی وہ 5-10 ٹکٹ زیادہ بیچ دیتی ہے تاکہ اگر کوئی نہ بھی آئے، تب بھی سیٹیں پوری ہوں اور جہاز بھر کر اُڑے۔
لیکن کبھی کبھار سب لوگ آ جاتے ہیں۔ تب مسئلہ ہو جاتا ہے، کیونکہ سیٹیں کم پڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں کچھ لوگوں کو بورڈنگ سے روک دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ اگلی فلائٹ سے جائیں، اور بدلے میں انہیں کچھ نہ کچھ معاوضہ دیا جاتا ہے، جیسے کہ پیسے، ہوٹل قیام یا فری ٹکٹ۔
یہ سارا کھیل خالص منافع کا ہے۔ ایئر لائنز کو اس طریقے سے سالانہ کروڑوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ اور یہ دنیا بھر میں عام کیا جاتا ہے صرف پاکستان یا کسی ایک ملک کی بات نہیں۔