Metro Store of Yarns

Metro Store of Yarns Online Store of YARN with the Lowest Available Prices, Booking, and Delivery. Our mission is to provide the customer with the minimized price and Best quality.

As we directly deals with the Textile Mills, so it makes our prices very low as compared to the other sellers as we believe in eradicating other Intermediaries that reduces its cost. We deals in the following accounts:

COTTON
=> 10/s => 12/s => 16/s => 20/s => 22/s => 24/s => 30/s => 40/s => 52/s
=> 60/s => 40/comb => 52/comb
All the accounts above are available in AUTO CORO, SHUTTLE LESS AND A

IRJET. POLYESTER COTTON ( PC )

=> 10/PC => 16/PC => 20/PC => 22/PC => 24/PC => 30/PC => 31/PC => 40/PC => 31/CVC => 40/CVC

Plus Daily Market rates will be uploaded with the Yarn Market Position and Scenario. CONTACT US :

HEAD OFFICE
Yarn Market, Montgomery Bazaar, Faisalabad. LAHORE OFFICE
P no. 152- E Block, Phase 5, Defence Housing Authority, Lahore.

16/01/2026

افسوس صد افسوس۔ اگر امیر امیر تر اور غریب غریب تر ھوتا گیا تو ایک دن آۓ گا کہ یہ انڈسٹریز بند ہو جائینگی اور صرف ایک کلاس بچ جائیگی۔ شُکریہ میاں تنویر صاحب۔ شُکریہ

12/12/2025

`ٹیکسٹائل و کاٹن انڈسٹری تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار`

بے تحاشا ٹیکسوں، خطے میں سب سے زیادہ بجلی کے نرخ، چائنہ اور دوسرے ممالک سے سستے دھاگے اور کپڑے کی درآمدات کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور کاٹن کی صنعت ملکی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گذر رہی ہے

اس وقت 100 سے زائد سپننگ ملز اور 400 سے زائد جننگ فیکٹریاں پہلے ہی نان آپریشنل ہو چکی ہیں۔ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے خام کپاس کی خریداری میں زبردست کمی آئی ہے، کپاس کی قومی پیداوار خطرناک حد تک سکڑ گئی ہے اور خوردنی تیل اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کا خطرہ ہے۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ایک بیان میں متنبہ کیا کہ درآمدی یارن کی بے لگام آمد، جس کا زیادہ تر حصہ انڈر انوائس ہے، نے گھریلو اسپننگ انڈسٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کپاس کی پیداوار کو بحال کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ریلیف دینے کے بجائے، اس شعبے کو بھاری ٹیکسوں اور بجلی کے ممنوعہ نرخوں کے نیچے کچلا جا رہا ہے۔ "اس بے مثال بحران نے لاکھوں خاندانوں کو بیروزگار کر دیا ہے۔"

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو لاکھوں کلو گرام انڈر انوائسڈ یارن کی ماہانہ آمد کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔ تاہم، کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے ہر ماہ درآمدات بڑھنے لگیں اور مقامی اسپننگ ملز کے خاتمے میں تیزی آئی۔
کچھ درآمد کنندگان ملک کی سب سے بڑی فیصل آباد یارن مارکیٹ میں بغیر کسی رسید کے سوت فروخت کر رہے ہیں جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ملکی کاٹن ویلیو چین کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بڑی چینی کمپنی پہلے ہی فیصل آباد میں ایک دفتر کھول چکی ہے، جس کے بارے میں مزید فرمیں مبینہ طور پر پاکستانی ملز کو دھاگے کی فروخت کو بڑھانے کے لیے ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

پاکستان کی کپاس کی پیداوار، جو پہلے تقریباً 15 ملین کاٹن بیکز تھی۔ ان دنوں صرف 5.5 ملین بیلز پر آ گئی ہے۔ یہاں تک کہ کمزور ڈیمانڈ کی وجہ سے تقریباً 800,000 غیر فروخت شدہ گانٹھیں جنرز اور تاجروں کے پاس رہ گئی ہیں۔

کپاس کی قیمت 8,000 روپے فی 40 کلو گرام تک گر گئی ہے، جس سے کسانوں کو شدید مالی پریشانی کا سامنا ہے۔ کپاس سے گنے کی کاشت میں تبدیلی کے ساتھ، انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اگلے سال خوردنی تیل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

جننگ سیکٹر بھی بڑے پیمانے پر ٹیکس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کپاس، بنولہ، تیل اور آئل کیک (کھل) پر مشترکہ 86 فیصد سیلز ٹیکس کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل یونٹس کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ 10 سال پرانے گیس کے واجبات کی ادائیگی کریں۔

بحران کی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے، انہوں نے نوٹ کیا کہ رحیم یار خان، جو پہلے ملک کا سب سے بڑا کپاس پیدا کرنے والا ضلع تھا، میں ہر سال تقریباً 125 جننگ فیکٹریاں اور 150 آئل ملیں کام کرتی تھیں۔ تاہم اس سال صرف 45 جننگ یونٹس اور 25 آئل ملز ابھی تک کام کر رہی ہیں۔ ضلع میں 100 سے زائد سپننگ ملز اور سینکڑوں پاور لومز کی بندش بھی دیکھی گئی ہے۔

وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر یارن اور فیبرک پر کم از کم 20 فیصد کی درآمدی ڈیوٹی عائد کرے۔ کاٹن ویلیو چین میں بجلی کے نرخوں اور ٹیکسوں کو کم کرے اور مسابقت کی بحالی کے لیے سپننگ، جننگ اور ٹیکسٹائل یونٹس کو ریلیف فراہم کرے۔

06/10/2025

بند ہوتی صنعتیں حکومت کے لیے لمحہ فکریہ......🫢

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ملکی معیشت اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تمام سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں مجموعی اقتصادی صورتحال، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اقتصادی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہوگا اور ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مثبت معاشی رجحان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاکستانی معیشت میں اعتماد کا عکاس ہے، شفافیت، بین الاقوامی معیار کے مطابق معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور پالیسیوں پر فوری عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کا پرکشش مرکز بنایا جائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کے تمام مواقع کو بروئے کار لائے گی، ہماری جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی نے معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے اور اس جدت اور شفافیت کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے حالیہ مہینوں میں متعدد مواقع پر یہ دعوے کیے گئے کہ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور معاشی اشاریوں میں بہتری نظر آرہی ہے جس کی فائدہ عام آدمی کے ساتھ کاروباری شعبے کو بھی ہو گا، لیکن زمینی حقائق وزیراعظم اور وزیرخزانہ کے ان دعووں کے برعکس نظر آتے ہیں،اور حالات وواقعات سے ظاہرہوتاہے کہ دراصل وہ کچھ نہیں ہے وزیراعظم اور وزیر خزانہ جس کے دعوے کررہے ہیں،اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اب ملک میں نئی سرمایہ کاری تو کجا موجودہ صنعت کار اور سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ سمیٹنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، ملک کی سب بڑی برآمدی صنعت پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات اب محض زوال پذیر نہیں رہیں بلکہ تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ اس طویل عرصے کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کا ناگزیر نتیجہ ہے جنہوں نے عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے بجائے صنعت کی کمزوریوں کو سبسڈی سے سہارا دینے پر زیادہ توجہ دی۔ اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال گل احمد ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج کو بھیجا گیا نوٹس ہے، جس میں کمپنی نے اپنے ملبوسات کی برآمدی شعبے کو بند کرنے کے فیصلے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا کہ مسلسل آپریشنل نقصانات، بڑھتی ہوئی لاگت، پالیسی تبدیلیاں اور علاقائی مسابقت جیسے عوامل نے کمپنی کو اس فیصلے پر مجبور کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق مسلسل چیلنجز میں شدید علاقائی مسابقت، مضبوط ایکسچینج ریٹ، حالیہ حکومتی پالیسی تبدیلیاں جیسے ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس میں اضافہ، نامزد فیبرکس کی بڑھتی ہوئی لاگت اور توانائی کے نرخ شامل ہیں۔ ان تمام عوامل نے مل کر لاگت کے ڈھانچے اور منافع کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں آپریشنل نقصانات کا سلسلہ جاری رہا۔یہ وجوہات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ اندرونی عوامل نے کمپنی کے ملبوسات برآمدی آپریشنز کی بندش میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اور پاکستان اپنی مسابقت کھو کر بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔اگر یہ حقیقت بھی پالیسی سازوں کو ان کی غفلت سے نہ جگا سکے تو پھر ارباب اختیار کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اس وارننگ پر ضرور غور کرنا چاہیے، جس میں لاجسٹکس سیکٹر کی شدید کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ملک کی اعلیٰ تجارتی تنظیم کی جانب سے تیار کردہ ایک پالیسی بریف میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح غیر مؤثر اور مہنگا لاجسٹکس سیکٹر برآمدات کاگلا گھونٹ رہا ہے۔ جب پاکستان کے اندر مال کی نقل و حرکت جی ڈی پی کا 15.6 فیصد کھا جاتی ہو جو ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے تو ہماری برآمدی شپمنٹس عالمی منڈی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی نقصان میں چلی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی بینک کے لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس سے ہی باہر ہو گیا ہے، جبکہ بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش مسلسل اوپر جا رہے ہیں۔کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم، جو تجارت کے گیٹ وے سمجھے جاتے ہیں، اپنی گنجائش کے صرف ایک تہائی پر کام کر رہے ہیں، اور یہاں کنٹینرز ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں دوگنی مدت تک پھنسے رہتے ہیں۔ یہ ایک بڑی مسابقتی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ اسلیے یہ حیران کن نہیں کہ ہماری برآمدات ان خطے کے ممالک کے ہاتھوں شکست کھا رہی ہیں جنہوں نے مؤثر بندرگاہوں، ریل نیٹ ورکس اور مربوط سپلائی چینز پر سرمایہ کاری کی ہے۔ دوسری طرف ہمارے پالیسی ساز ابیرون ملک کام یا کاروبار کرنے والے لوگوں کی جانب سے بھیجے گئے زرمبادلہ یعنی ترسیلات زر میں اضافے پر ہی مطمئن ہیں۔ اسلام آباد کو توقع ہے کہ اس سال بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات ریکارڈ 43 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جو موجودہ کھاتے کو سہارا دیں گی حالانکہ برآمدات لڑکھڑا رہی ہیں۔ مگر صرف ترسیلات زر پر بھروسہ کرنا خود فریبی ہے۔ یہ آمدنی وقتی طور پر خساروں کو کم کر سکتی ہے اور ساختی کمزوریوں کو چھپا سکتی ہے، لیکن یہ نہ تو کارخانے کھڑی کر سکتی ہے، نہ ہی بندرگاہیں ٹھیک کر سکتی ہے اور نہ برآمدات کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ جو ملک جو اپنی معیشت کا انحصار بجائے اپنی صنعتوں کی برآمدات کے بجائے صرف ترسیلات زر پر کرے تو دراصل وہ اپنے معاشی مستقبل پر خود ہی مہرِ فنا لگا رہا ہوتاہے۔وزارتِ خزانہ نے حال ہی میں ایک سسٹین ایبل فنانسنگ فریم ورک (ایس ایف ایف) متعارف کرایا ہے جس کا مقصد گرین، بلیو اور سوشَل انسٹرومنٹس کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ یہ فریم ورک بیرونی طور پر توثیق شدہ ہے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ پاکستان تیزی سے بڑھتے ہوئے پائیدار سرمایہ کاری کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اسے مناسب تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔گرین یا سوشَل بانڈز کی کشش کا تعین صرف لیبل سے نہیں ہوتا۔ ان کی قیمت اور خریداری کا انحصار مسلسل حکومتی بنیادی اصولوں پر رہے گا جن میں کریڈٹ ریٹنگز، قرضوں کی پائیداری اور مجموعی معاشی استحکام شامل ہیں۔ اگر مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی کوئی قابلِ اعتماد حکمتِ عملی نہ ہو تو گرین کا لیبل پاکستان کی سرمائے کی لاگت میں کوئی نمایاں فرق نہیں ڈال سکے گا۔یہ فریم ورک جس میدان میں مفید ثابت ہوسکتا ہے وہ ارادے کا اظہار کرنے اور نظم و ضبط پیدا کرنے میں ہے۔ اہل شعبوں کا تعین کرنے اور دوسروں کو خارج کرنے سے یہ وسائل کی تقسیم کی رہنمائی کرسکتا ہے اور سخت نگرانی اور رپورٹنگ کے معیارات نافذ کرسکتا ہے، اگر اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تو ایس ایف ایف آہستہ آہستہ سرمایہ کاروں کے ساتھ پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے، لیکن اصل امتحان عمل درآمد میں ہے لیکن ایسے فریم ورکس پر عمل درآمد کرنے کا پاکستان کا ادارہ جاتی ریکارڈ زیادہ سے زیادہ غیر تسلی بخش رہا ہے اور ایک بار کھو جانے والے اعتماد کو بحال کرنا مشکل ہوتا ہے۔

حکومت کی ناقص پالیسیوں اور متعلقہ حلقوں اور ماہرین کی جانب سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود سب اچھا کی گردان کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد غیرملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ شاید ملک میں کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔اس بحث نے زور اس وقت پکڑا جب رواں ہفتے امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشن پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) نے پاکستان میں کمرشل اور مینوفیکچرنگ سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ پی اینڈ جی بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے مختلف اشیا تیار کر تی ہے جن میں صابن، سرف، لوشنز اور ڈائپرز وغیرہ شامل ہیں۔اس کمپنی نے پاکستان میں 1991 میں کام کرنا شروع کیا تھا جس میں ملک میں فیکٹری لگانے کے ساتھ سپلائی چین کا پورا نیٹ ورک بھی موجود تھا۔اپنا کاروبار سمیٹنے کے اس اعلان میں پی اینڈ جی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی تقسیم کار کمپنی کا سہارا لے گی۔پی اینڈ جی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی عالمی حکمتِ عملی کے مطابق ترقی اور قدر میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستان میں اپنے کاروبار اور آپریشنز کا ماڈل بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی اینڈ جی کے مطابق اب کمپنی پاکستان میں تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) ڈسٹری بیوٹر ماڈل کے ذریعے صارفین کو سہولت فراہم کرے گی۔ان کے مطابق ‘اس مرحلے پر پاکستان میں اپنے آپریشنز کو تھڑد پارٹی ڈسٹری بیوٹر ماڈل میں منتقل کرنا زیادہ مؤثر ہے،اس بات کا مطلب یہ ہے کہ پی اینڈ جی پاکستان اور جیلیٹ پاکستان لمیٹڈ کی فیکٹری اور تجارتی سرگرمیاں بند ہو جائیں گی اور صارفین کو کمپنی کے دوسرے علاقائی آپریشنز کے ذریعے اشیا مہیا کی جائیں گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ جن افراد کی ملازمتیں اس فیصلے سے متاثر ہوں گی ان کو یا تو دوسرے ممالک میں کام کرنے کے مواقع دیے جائیں گے یا پھر مقامی قوانین، کمپنی کی پالیسیوں اور اصولوں کے مطابق علیحدگی (سیپریشن) پیکج دیا جائے گا۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق ان کی سب سے زیادہ توجہ پاکستان میں ملازمین پر ہو گی۔گذشتہ دنوں پاکستانی ٹیکسٹائل شعبے کی بڑی کمپنی گُل احمد ٹیکسٹائل نے بھی ملک میں ملبوسات کی تیاری ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔گل احمد ٹیکسٹائل نے پاکستان میں اپیرل یعنی ملبوسات کے شعبے کو بند کرنے کے سلسلے میں جاری ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ کمپنی نے یہ فیصلہ اس شعبے کی کارکردگی اور مستقبل کے جائزے کے بعد لیا ہے۔کمپنی کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ شعبہ بہت زیادہ محنت طلب ہے اس لیے اسے کئی اندرونی اور بیرونی مسائل کی وجہ سے منافع کمانے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔کمپنی کے مطابق ان مسائل میں خطے کے دوسرے ممالک سے سخت مقابلہ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی مضبوطی، حکومت کی نئی پالیسیاں (جیسے ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس میں اضافہ)، کپڑوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بجلی و گیس کے زیادہ بل شامل ہیں ۔ان سب وجوہات کی وجہ سے اس شعبے کی لاگت بڑھ گئی اور منافع کم ہوتا گیا، جس کے نتیجے میں یہ کاروبار مسلسل نقصان میں جا رہا تھا۔اس کے علاوہ گذشتہ برسوں میں ایلی للّی، شیل، مائیکروسافٹ، اوبر اور یاماہا نے بھی پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیے تھے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اس امر سے لاعلم نہیں ہوں گے کہ ملک میں گذشتہ کئی مہینوں سے یہ چہ مگوئیاں بھی چل رہی تھیں کہ پاکستان میں بجلی و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹیکسز اور دوسرے عوامل کے سبب کمپنیاں کاروبار بند کر رہی ہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ملک میں پیداواری لاگت زیادہ ہے۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں بلند افراطِ زر، بلند شرح سود، ڈالر کی کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگے خام مال کی وجہ سے جہاں عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی وہیں پر کاروباری شعبہ بھی ملک میں کاروبار پر بڑھتی ہوئی لاگت کی شکایت کرتے نظر آیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کمپنیوں کے کام بند کرنے کی اصل وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔پاکستان میں ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے آپریشنز بند کرنے کے بارے میں ملک میں معاشی اور ٹیکس امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ملک میں پیداواری لاگت کے بڑھنے کی وجہ سے اب پاکستان میں مینوفیکچرنگ قابل عمل نہیں رہی ہے۔ پیداواری لاگت میں بجلی، گیس، ٹیکس، فنانسنگ اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے اب ایسی صورت حال بن چکی ہے کہ پاکستان میں پیداواری عمل مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ جو حالات بنے ہیں اس میں اب کمپنیاں پیداوار سے زیادہ ڈسٹری بیوشن اور ٹریڈنگ پر کام کریں گی جیسے کہ پروکٹر اینڈ گیمبل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی مصنوعات کی پیداوار تو بند کر دیں گی تاہم یہاں صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باہر سے سپلائی کریں گی۔ پاکستان میں ٹیکس نظام اور ریٹ کو بھی کمپنیوں کے پاکستان سے نکلنے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔اکستان میں ٹیکس نظام کافی زیادہ بوجھل اور غیر منصفانہ ہو چکا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کارپوریٹ ٹیکس اتنے زیادہ اور مختلف شکلوں میں نہیں لیے جاتے جتنے پاکستان میں لیے جاتے ہیں۔یہاں ایک بڑی کمپنی کو 39 فیصد انکم ٹیکس دینا پڑتا ہے، اس کے ساتھ سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر کنٹریبیوشن اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے جو مجموعی طور پر 50 فیصد ہو جاتا ہے۔اس بھاری ٹیکس کے بعد جب کمپنی شیئر ہولڈرز کو ڈویڈنڈ (منافع میں حصہ) دیتی ہے تو اس پر بھی 15 فیصد سے 25 فیصد تک ٹیکس دینا پڑتا ہے، حالانکہ یہ آمدنی پہلے ہی ٹیکس شدہ ہوتی ہے۔پاکستان میں ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پیداوار بند کرنے سے جہاں حکومت کو ٹیکس کی مد میں نقصان ہوگا وہیں دوسری جانب ملازمتیں بھی ختم ہوں گی جس سے حکومت کیلئے مسائل پیداہونا لازمی ہیں۔
روزنامہ جرات میں شائع شدہ کالم

27/09/2025

September 18, 2025, Thursday

*_PCGA Report: Despite Higher Cotton Arrivals, Floods, Rains and Heatwaves Pose Severe Threats to Overall Production_*

*_By Sajid Mahmood_*", _Head Transfer of Technology Department Central Cotton Research Institute Multan_

Cotton, long regarded as the backbone of Pakistan’s economy, today stands at a critical crossroads. On one hand, the latest report of the Pakistan Cotton Ginners Association (PCGA) offers encouraging news, showing that by September 15, 2025, cotton arrivals had increased by nearly 40 percent compared to last year. On the other hand, torrential rains, floods, heatwaves and Cotton Leaf Curl Virus are sounding alarm bells of a decline in overall national production. While the recorded increase provides temporary relief, policy failures, agricultural challenges and industry indifference have pushed the entire value chain from farmers to the textile sector into a severe test.

According to the report released today by the Pakistan Cotton Ginners Association, total cotton arrivals across the country reached 2,004,384 bales by September 15, 2025 compared to 1,434,028 bales during the same period last year, marking an increase of 40 percent. This reflects a rise of 668,752 bales so far this season. In Punjab, 690,254 bales have arrived compared to 538,686 bales last year, an increase of 28 percent, while Sindh registered 1,314,130 bales, a rise of 47 percent over the previous year. Balochistan also displayed a positive trend, with 75,100 bales recorded this year. Overall, 1,652,204 bales have already been supplied to textile mills nationwide. At present, a stock of 325,780 bales remains, including 97,712 pressed stock and 228,068 seed cotton. Meanwhile, 428 ginning factories are operational across the country.

However, estimates suggest that due to floods and recent heavy rains, production could decline by 0.6 to 1 million bales, plunging the country’s largest agro-industrial chain into uncertainty. In South Punjab, particularly Jalalpur Pirwala, Alipur and Lodhran, cotton crops suffered massive destruction due to flooding. Similarly, in Bahawalnagar, rainfall caused extensive damage, with around 40 percent of the crop destroyed in tehsils such as Fort Abbas, Minchinabad, Chishtian and Haroonabad. This loss has directly impacted both farmers and the ginning industry, as the shortage of raw material has limited operations. The consequences have now rippled through the textile value chain, where rising costs and disrupted production are threatening yarn, fabric and garment stages. Nationally, production is feared to fall to only 5 million bales, compelling Pakistan to import over 6 million bales to meet domestic demand. This trend will not only strain precious foreign exchange reserves but also worsen the trade deficit and economic pressure.

In comparison, Sindh has shown relatively better performance than Punjab this season in terms of both yield and quality. While pest attacks remained limited in both provinces, Cotton Leaf Curl Virus exacerbated crop losses. The combined impact of excessive rains, floods, diseases and heatwaves has severely undermined production. Moreover, the destruction of crops has raised another pressing concern: seed availability for the next season, further deepening the uncertainty for future cultivation.

Another worrying factor is the consistent neglect by the textile industry. While it has focused primarily on securing energy subsidies and tax rebates, it has taken no meaningful steps to improve cotton production, strengthen research institutions or facilitate farmers. By contrast, the sugar industry continues to provide maximum support to its growers, leading to a rapid shift of cultivation from cotton to sugarcane across the cotton belt, shrinking cotton acreage. Meanwhile, Bangladesh, despite producing no cotton, imports around 8 million bales annually and has surpassed 50 billion dollars in textile exports. Pakistan, even when cotton production reached 14.6 million bales, could only achieve 16 to 20 billion dollars in textile exports, evidence that the industry has remained dependent on low-value addition. Furthermore, the cotton research and development structure has been paralyzed due to the non-payment of cotton cess to the PCCC, entangling it in over 67 legal cases nationwide, the consequences of which the national economy is bearing today.

If timely and serious measures are not taken, the economy will be further gripped by import dependency, inflation and foreign exchange pressure. The immediate need is to promote research with substantial investment, improve local seed varieties, implement proactive measures against flood risks and frame a comprehensive and actionable cotton policy. Only then can cotton and the entire textile value chain be steered out of crisis towards a sustainable future.

27/09/2025
27/09/2025

*Business Club بزنس کلب*
`HASEEB 03217654313 حسیب`
_Fri-26-Sep-2025_
10:20 PM
BALOCHI COTTON بلوچی کاٹن
*D.G.KHAN ڈی جی خان*
AMAR AMJAD + AMMAR AMJAD CF 400B 16400 DIN TEXTILE
-
ICE COTTON
(Dec'25): 66.29 +0.01
(Mar'26): 68.20 +0.01
(May'26): 69.51 -0.01

CBOT OIL
(OCT 25): 49.78 +0.04
(DEC 25): 50.32 +0.05
(JAN 26): 50.7 +0.04
CBOT MEAL
(OCT 25): 269.7 +1.1
(DEC 25): 274.5 +1.3
(JAN 26): 278.6 +1.3
CBOT SEED
(NOV 25): 1013 +0.75
(JAN 26): 1032.25 +1
(MAR 26): 1048.25 +0.75

GOLD:3775.6 +26.7
SILVER:46.245 +1.078
CRUDE:65.77 +0.55
DOLLAR-INDEX: 98.223 -0.33
DOW JONES: 46293.21 +344.97
-
_*For Regular Commodities Market Update Call : 03217654313*_

Some yarn importers are importing yarn to sell in the local market and they are using under invoicing to make their impo...
27/09/2025

Some yarn importers are importing yarn to sell in the local market and they are using under invoicing to make their imports cheaper and as a result government of pakistan is suffering from heavy losses. Therefore APTMA request to investigate this with thorough check and send the culprits behind the bars.

27/09/2025

پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش بحران امپورٹڈ یارن کو کم قیمت ظاہر کیا جا رہا ہے APTMA کا FBR کو خط

پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے بلکہ ملکی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ بھی اسی صنعت سے وابستہ ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو لکھا گیا ایک خط اس شعبے کو درپیش ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے درآمد شدہ کاٹن یارن کی کم قیمت ظاہر کرنا ہے

ٹیکسٹائل کی نمائندہ تنظیم APTMA کے مطابق
60 کاؤنٹ اور اس سے اوپر کے امپورٹ ہونے والے دھاگوں کی قیمت عالمی اور مقامی مارکیٹ میں تقریباً *3.50 امریکی ڈالر فی کلوگرام ہے، لیکن بعض درآمد کنندگان اسے صرف ایک (1.00) امریکی ڈالر فی کلوگرام ظاہر کر کے امپورٹ کر رہے ہین اس عمل کو "gross misdeclaration" اور "undervaluation" کہا جاتا ہے، جو نہ صرف
حکومتی ریونیو میں کمی کا باعث بن رہا ہے
بلکہ مقامی صنعت کو غیر منصفانہ مقابلے میں دھکیل رہا ہے

مقامی یارن تیار کرنے والے ادارے اس کم قیمت سے مقابلہ نہیں کر سکتے، جس کے نتیجے میں ان کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 120 سپنگ ملیں پہلے ہی بند ہیں جبکہ 50 کے قریب جزوی چل رہی ہیں حقیقی معنوں میں مقامی سپنگ کی صنعت دباؤ کا شکار ہے مزدور بے روزگار ہو رہےہیں ملیں بند ہونے سے حکومتی ریونیو بھی کم ہو رہا ہے ہر ماہ ریونیو ٹارگٹ کم ہو رہا ہے
یہ مسئلہ صرف ایک تجارتی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک قومی اقتصادی چیلنج ہے اگر اس پر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت، ریگولیٹری اداروں اور صنعتکاروں کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
انتخاب !!! سید مدبر شاہ

29/07/2025

کپاس کی صنعت 18% کاٹن امپورٹ ٹیکس پر SRO کا انتظار کر رہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کپاس کی درآمد ملکی پیداوار سے تجاوز کر گئی ہے – ایک ایسی ترقی جس سے ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبوں کی پائیداری کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درآمدی کپاس پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کے لیے فوری طور پر ایک قانونی ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) جاری کرے، جیسا کہ فنانس بل 2025 میں بتایا گیا ہے۔

درآمدی کپاس پر ٹیکس لگانے کے وفاقی بجٹ میں واضح اعلان کے باوجود، مطلوبہ ایس آر او کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کا نفاذ التوا کا شکار ہے۔ "بجٹ کی منظوری کو تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، پھر بھی بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر جاری ہے، بعض بااثر مفاد پرست گروپ ایس آر او کے اجراء میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

ایک بیان میں، پی بی ایف نے اس بات پر زور دیا کہ درآمدی کپاس پر ٹیکس لگانے کے وفاقی بجٹ میں واضح اعلان کے باوجود، مطلوبہ ایس آر او کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کا نفاذ التوا کا شکار ہے۔ "بجٹ کی منظوری کو تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، پھر بھی بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر جاری ہے۔"

مصدقہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ بعض بااثر مفاد پرست گروپ ایس آر او کے اجراء میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا، "حکومت کو شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے اور کپاس کے مقامی کاشتکاروں اور معیشت کے مفاد میں آگے بڑھنا چاہیے۔"

فورم نے متنبہ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کپاس کی درآمد ملکی پیداوار سے تجاوز کر گئی ہے – ایک ایسی ترقی جس سے ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبوں کی پائیداری کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اس نے کہا، "ایف بی آر کو اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کرنی چاہیے اور بغیر کسی تاخیر کے ایس آر او جاری کرنا چاہیے۔"

فورم نے انکشاف کیا کہ درآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں سے روئی کی 7.5 ملین گانٹھوں کے لیے پہلے ہی معاہدے کر چکے ہیں۔ جواد نے کہا، "بہت کوششوں کے بعد، مقامی کپاس کے کاشتکاروں نے بالآخر قانون سازی کے ذریعے ایک برابری کا میدان حاصل کر لیا۔ اسے عملی شکل دینے کا وقت آ گیا ہے۔"

ایک سرکردہ کپاس پیدا کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے، انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک گیر کپاس کی بحالی کا پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سفارش کی کہ خام مال کی درآمد کو، خاص طور پر جو ملکی صنعتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، کو ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم سے مکمل طور پر خارج کر دیا جائے۔

فورم نے کپاس کی فصلوں کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سندھ کی کارکردگی خاص طور پر پریشان کن ہے، اس سال اب تک صرف 152,650 گانٹھوں کی سپلائی ہوئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 327,666 گانٹھوں کے مقابلے میں - 53 فیصد کی کمی ہے۔

اس کے برعکس پنجاب نے 145,101 گانٹھوں کی سپلائی کے ساتھ نسبتاً بہتر نتائج دکھائے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ خانیوال (28,825 گانٹھوں)، وہاڑی (33,950 گانٹھوں)، ڈیرہ غازی خان (19,397 گانٹھوں) اور راجن پور (9,200 گانٹھوں) سمیت کئی اضلاع میں قابل ذکر نمو دیکھی گئی ہے – تمام ریکارڈنگ نے پیداوار میں بہتری لائی۔

Address

Yarn Market, Montgomery Bazaar
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Metro Store of Yarns posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Metro Store of Yarns:

Share