Metro Store of Yarns

Metro Store of Yarns Online Store of YARN with the Lowest Available Prices, Booking, and Delivery. Our mission is to provide the customer with the minimized price and Best quality.

As we directly deals with the Textile Mills, so it makes our prices very low as compared to the other sellers as we believe in eradicating other Intermediaries that reduces its cost. We deals in the following accounts:

COTTON
=> 10/s => 12/s => 16/s => 20/s => 22/s => 24/s => 30/s => 40/s => 52/s
=> 60/s => 40/comb => 52/comb
All the accounts above are available in AUTO CORO, SHUTTLE LESS AND AIRJET. POLYESTER COTTON ( PC )

=> 10/PC => 16/PC => 20/PC => 22/PC => 24/PC => 30/PC => 31/PC => 40/PC => 31/CVC => 40/CVC

Plus Daily Market rates will be uploaded with the Yarn Market Position and Scenario. CONTACT US :

HEAD OFFICE
Yarn Market, Montgomery Bazaar, Faisalabad. LAHORE OFFICE
P no. 152- E Block, Phase 5, Defence Housing Authority, Lahore.

23/06/2026

Hey everyone,
Here is a quick market update based on current textile insights:
While overall demand for cotton and PC (Polycotton) clothing remains sluggish, experts expect cotton and PC yarn prices to hold steady.
This stability is driven by two main factors:
Production Shortages: Spinning mills are cutting back on output, which is tightening supply.
Steady Buying: Ongoing, baseline purchasing is keeping the market supported.
In short: clothing retail is quiet, but yarn prices should remain stable for now due to tighter supply and steady buying. Let's keep a close eye on the market.

23/06/2026

Today’s prices of cotton yarns of Nishat Chunian ltd in fine counts:
40/s combed 4650/- plus gst
54/s combed 5550/- plus gst
60/s combed 6400/- plus gst

23/06/2026

*Business Club Commodities*
*بزنس کلب کموڈیٹیز*
`HASEEB 03217654313 حسیب`
Mon-22-Jun-26
10:50 PM
*SANGHAR سانگھڑ*
400B 18000
+
*M. P. KHAS میرپور خاص*
400B 18000
+
*SHAHDASPUR شہدادپور*
200B 18000
*HANTEX حین ٹیکسٹائل*
*NAVINA EXPORT نوینہ*
*RELIANCE WEAVING ریلائنس*
*ALL BY LUCKY BROKERAGE HOUSE KARACHI لکی بروکریج ہاؤس کراچی*

*ICE COTTON*
(Dec'26): 79.32 -0.35
(Mar'27): 80.71 -0.34

*CBOT OIL*
(JUL 26): 71.19 +1.5
(SEP 26): 68.55 +1.17
(OCT 26): 67.58 +1.18
*CBOT MEAL*
(JUL 26): 300.1 -1.2
(AUG 26): 300.1 -1.2
(SEP 26): 300.3 -0.5
*CBOT SEED*
(JUL 26): 1119 -3.75
(AUG 26): 1125.75 -2.5
(SEP 26): 1129.5 +1

GOLD:4183.5 +25.7
SILVER:65.346 +0.53
CRUDE:73.52 -2.33
DOLLAR-INDEX: 101.004 +0.155
_*For Regular Market Update Call : 03217654313*_

23/06/2026

Price of cotton Stable same like yesterday
Sindh 17800 to 18000
Punjab 18200 to 18300

23/06/2026

*Business Club Commodities*
*بزنس کلب کموڈیٹیز*
`HASEEB 03217654313 حسیب`

Tue-23-Jun-26
02:25 PM

*ICE COTTON*
(Dec'26): 78.41 -1.00
(Mar'27): 79.69 -1.08

GOLD:4106.2 -74.7
SILVER:62.111 -2.931
CRUDE:73.35 -0.51

KLC-(SEP 26): 4654 -18
DOLLAR-INDEX: 101.165 +0.145

_*For Regular Market Update Call : 03217654313*_

Naturels….Future city outside the city… Come and live and Naturels life….But your dream villas….
20/06/2026

Naturels….
Future city outside the city…
Come and live and Naturels life….
But your dream villas….

Naturels, the future world. Come and see what we made for you….. it is down town… vision 2030
19/06/2026

Naturels, the future world. Come and see what we made for you….. it is down town… vision 2030

14/02/2026

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو ملکی برآمدات کا تقریباً 60% سے زائد حصہ بناتی ہے، اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ آپ نے جن مسائل کا ذکر کیا ہے، وہ اس صنعت کی بنیادیں ہلا رہے ہیں۔
اردو میں ان چیلنجز کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. چین سے سستے دھاگے (Yarn) کی ڈمپنگ
پاکستان کی مقامی سپننگ انڈسٹری (Spinning Industry) کو سب سے بڑا خطرہ چین سے آنے والے سستے دھاگے سے ہے۔
* غیر منصفانہ مقابلہ: چین اپنی انڈسٹری کو بھاری سبسڈیز دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کا دھاگہ پاکستان کے مقامی دھاگے سے کہیں زیادہ سستا پڑتا ہے۔
* مقامی ملوں کی بندش: جب مارکیٹ میں سستا چینی دھاگہ بھرا ہوتا ہے، تو مقامی ملوں کا مال نہیں بکتا۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے۔
2. بجلی اور توانائی کے کمر توڑ اخراجات
پاکستان میں انڈسٹریل بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک (بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام) کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔
* علاقائی فرق: جہاں بھارت اور بنگلہ دیش میں بجلی 7 سے 9 سینٹ فی یونٹ ہے، وہیں پاکستان میں یہ 12.5 سے 14 سینٹ تک پہنچ چکی ہے۔
* پیداواری لاگت: بلند نرخوں اور 'کیپیسٹی چارجز' (Capacity Charges) کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو جاتی ہیں، اور خریدار دوسرے ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔
3. ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (EFS) کا غلط استعمال
یہ ایک ایسی سکیم ہے جو برآمدات بڑھانے کے لیے بنائی گئی تھی تاکہ خام مال بغیر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے درآمد کیا جا سکے، لیکن اب یہ مقامی صنعت کے لیے وبال بن گئی ہے۔
* مقامی مارکیٹ میں فروخت: بہت سے عناصر "ایکسپورٹ" کے نام پر ٹیکس فری دھاگہ اور کپڑا درآمد کرتے ہیں، لیکن اسے باہر بھیجنے کے بجائے چوری چھپے لوکل مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں۔
* ٹیکس چوری: چونکہ اس مال پر کوئی سیلز ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹی نہیں دی گئی ہوتی، اس لیے یہ مقامی طور پر تیار کردہ اس مال کا مقابلہ کرتا ہے جس پر 18% جی ایس ٹی ادا کیا گیا ہوتا ہے۔ اس "انڈر انوائسنگ" اور اسمگلنگ نما کاروبار نے مقامی مینوفیکچررز کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
خلاصہ اور موجودہ صورتحال (2026)
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے توانائی کی قیمتیں کم نہ کیں اور EFS سکیم میں موجود سقم دور نہ کیے، تو پاکستان کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں مزید کمی آسکتی ہے۔
| چیلنج | اثر |
|---|---|
| بجلی کی قیمت | عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کا مہنگا ہونا۔ |
| Yarn ڈمپنگ | مقامی سپننگ ملوں کا دیوالیہ ہونا۔ |
| EFS کا غلط استعمال | حکومت کے ریونیو کا نقصان اور مقامی مارکیٹ میں غیر منصفانہ مقابلہ۔ |
> اہم نوٹ: انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خام روئی (Cotton) اور دھاگے کو EFS سکیم کے غلط استعمال سے نہیں بچایا جاتا، مقامی جننگ اور سپننگ سیکٹر بحال نہیں ہو پائے گا۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ان سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے APTMA اور معاشی ماہرین نے حکومت کو جو اہم تجاویز پیش کی ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. توانائی کے نرخوں میں اصلاحات (Power Sector Reforms)
انڈسٹری کا سب سے بڑا مطالبہ بجلی کی قیمت کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لانا ہے۔
* کراس سبسڈی کا خاتمہ: انڈسٹری پر عائد اضافی بوجھ (جو گھریلو صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے ڈالا جاتا ہے) ختم کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق صنعتی نرخ 9 سینٹ فی یونٹ سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔
* B2B وہیلنگ ماڈل: ٹیکسٹائل ملوں کو اجازت دی جائے کہ وہ نجی پاور پلانٹس سے براہ راست بجلی خرید سکیں اور نیشنل گرڈ کو صرف مناسب ٹرانسمیشن چارجز ادا کریں۔
2. EFS سکیم میں سخت مانیٹرنگ اور ترمیم
ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (EFS) کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں:
* ڈیجیٹل ٹریکنگ: درآمد شدہ خام مال (دھاگے اور کپڑے) کی کیو آر کوڈ (QR Code) یا ڈیجیٹل ٹیگنگ کی جائے تاکہ اسے لوکل مارکیٹ میں فروخت کرنا ناممکن ہو جائے۔
* ان پٹ آؤٹ پٹ ریشو کا آڈٹ: ایف بی آر (FBR) کو چاہیے کہ وہ ہر مل کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کے بلوں کا موازنہ اس کے برآمدی ڈیٹا سے کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ کتنا مال حقیقت میں برآمد ہوا اور کتنا لوکل مارکیٹ میں چھپایا گیا۔
* مقامی مینوفیکچررز کا تحفظ: ایسی مصنوعات کی EFS کے تحت درآمد پر پابندی لگائی جائے جو پاکستان میں وافر مقدار میں تیار ہو رہی ہیں۔
3. ڈمپنگ مخالف اقدامات (Anti-Dumping Measures)
چینی دھاگے کی ڈمپنگ روکنے کے لیے قانونی اور تجارتی اقدامات ضروری ہیں:
* اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی: نیشنل ٹیرف کمیشن (NTC) کو چاہیے کہ وہ چینی یارن کی قیمتوں کا جائزہ لے کر ان پر فوری طور پر اضافی ڈیوٹی عائد کرے تاکہ مقامی سپننگ ملز کو ایک یکساں میدان (Level Playing Field) مل سکے۔
* کوالٹی کنٹرول: درآمد شدہ دھاگے پر سخت کوالٹی سٹینڈرڈز نافذ کیے جائیں تاکہ غیر معیاری اور سستا مال مارکیٹ کو خراب نہ کرے۔
4. خام مال کی دستیابی (Cotton Sovereignty)
ٹیکسٹائل کا سارا دارومدار کپاس پر ہے، جس کی پیداوار پاکستان میں تیزی سے گری ہے۔
* کپاس کی امدادی قیمت: حکومت کپاس کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے پرکشش قیمت مقرر کرے تاکہ وہ گنے یا دیگر فصلوں کے بجائے کپاس اگائیں۔
* بیج کی تحقیق: جدید اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیج (GMO seeds) کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
مجوزہ ایکشن پلان کا خلاصہ
| شعبہ | فوری اقدام |
|---|---|
| ٹیکس | سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی تاکہ انڈسٹری کے پاس کیش فلو (Liquidity) موجود ہو۔ |
| بجلی | انڈسٹری کے لیے خصوصی "ایکسپورٹ ٹیرف" کا دوبارہ نفاذ۔ |
| کسٹم | بندرگاہوں پر EFS کے تحت آنے والے مال کی سخت چیکنگ۔ |
ان تجاویز پر عمل درآمد سے نہ صرف ٹیکسٹائل ملیں دوبارہ فعال ہو سکتی ہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات کو 25 سے 30 ارب ڈالر سالانہ

16/01/2026

افسوس صد افسوس۔ اگر امیر امیر تر اور غریب غریب تر ھوتا گیا تو ایک دن آۓ گا کہ یہ انڈسٹریز بند ہو جائینگی اور صرف ایک کلاس بچ جائیگی۔ شُکریہ میاں تنویر صاحب۔ شُکریہ

Address

Yarn Market, Montgomery Bazaar
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Metro Store of Yarns posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Metro Store of Yarns:

Shortcuts

Share