26/06/2019
گھر میں آسانی سے بٹرفلائی پی اگانے کا طریقہ
آج میں آپ کو بٹرفلائی پی کے بارے میں بتائوں گا اور ساتھ میں یہ بھی بتائوں کہ ہم اِس کو کس طرح آسانی کے ساتھ گھر میں اگا سکتے ہیں۔
بٹرفلائی پی ایک بہت ہی فائدہ مند بیل دار پودا ہے۔یہ ایک سو ایک خوبیوں کا حامل ہے۔ یہ مٹر کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس پر نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں جو بعد میں پھلیوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اِس پر لگنے والے پھول اور پھلیاں دونوں یہ قابلِ استعمال ہیں لیکن اِس کے پھول نمایاں خصوصیات رکھتے ہیں۔ اِس کے پھولوں سے قہوہ بنایا جاتا ہے جو نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ قہوہ اپنے بے پناہ فوائد کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت مقبول ہے۔ اِس کے علاوہ اِس کے پھولوں کو مختلف کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چاول پکاتے وقت اگر اِس کے پھولوں کو چاوالوں میں ڈال دیں تو چاولوں گا رنگ نیلا ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ بٹرفلائی پی کے پھول مختلف مشروبات اور آئیس کریم میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔بٹرفلائی پی کے پھول انڈونیشیائی فلپینی اور ویتنامی کھانوں کا ایک اہم جز ہیں۔
بٹرفلائی پی کے پھولوں کا قہوہ بہت سے طبعی فوائد کا حامل ہے۔ اِس کے قہوہ کا استعال بخار کی شدت کو کم کرتا ہے خافظہ بڑھاتا ہے آنکھوں اور دماغی امراض کے علاج کے لیے مفید ہے اِس کے علاوہ یہ بڑھاپے کے رفتارکو بھی سست کرتا ہے۔ اِن فوائد کے علاوہ اِس کے اور بھی بہت سے طبعی فوائد ہیں تاہم مضمون کے طوالت کو پیشِنظر رکھتے ہوئے مزید فوائد کے لکھنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
اب میں آپ کو بتائوں گا کہ ہم بٹرفلائی پی کے پودے کو کس طرح اگا سکتے ہیں۔ یہ پودا زمین میں بھی لگایا جا سکتا ہے اور گملے میں بھی۔ تاہم اگر اِس کو زمین میں لگایا جائے تو یہ ایک جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اگر گملے میں لگانا ہے تو ایک بارہ اینچ یا اِس سے بڑا گملا لے لیں ۔ گملے کے سوراخ کو کسی پتھر کی مدد سے ڈھک دیں تاکہ گملے سے مٹی باہر نہ نکل سکے۔ اب آپ آدھی مٹی لے لیں اور آدھی پتوں کی کھاد لیں لیں اگر پتوں کی کھاد میسر نہیں ہےتو گلاسرا گوبر لے لیں۔ اب مٹی اور پتوں کی کھاد یا گلے سرے گوبر کو اچھی طرح آپس میں ملا لیں۔ ملانے کے بعد اِس کو گملے میں بھر لیں۔
بٹرفلائی پی اگانے کے لیے آپ کو سب سے پہلے اِس کے بیج چاہیے ہوں گے۔ بٹرفلائی پی کے بیج آپ کسی بھی گارڈنگ سٹور سے خرید سکتے ہیں۔ یہ بیج ہر جگہ دستیاب ہیں۔
بٹرفلائی پی کے بیج گرمیاں شروع ہونے سے ایک مہینہ پہلے لگائے جاتے ہیں۔ ویسے اِن کو گرمیوں میں کسی بھی وقت لگایا جا سکتے ہیں۔
بیج لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ گملے میں مٹی بھرنے کے بعد مٹی میں آدھا اینچ گھرا سوراخ کریں اور اِس میں بٹرفلائی پی کا بیج ڈال دیں اِس کے بعد سوراخ کو مٹی سے ڈھک دیں اور پھر پانی دے دیں۔ گملے میں ہر وقت نمی برقرار رکھیں یعنی گملے کی مٹی کو کبھی خشک نہ ہونے دیں لیکن اِس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ گملے میں اتنا ذیادہ پانی ڈال دیں کہ مٹی کیچر بن جائے۔ اگر ایسا کریں گے تو بیج گل جائیں گے اور پودا نہیں اگے گا۔ ایک بارہ انچ کے گملے میں صرف ایک بیج یہ لگائیں۔ تقریبا چار دن بعد بیج سے پودا نکل آئے گا۔ تاہم ایک ہفتہ یا اُس سے ذیادہ کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔ کیوں کے بٹرفلائی پی ایک بیل ہے اِس لیے گملے میں ایک چھڑی بھی لگا دیں تاکہ بیل اُس پر چڑہ جائے۔ پودا اگنے کے تقریبا دو مہینے بعد بیل پر پھول لگنا شروع ہو جائیں گے اور سردیوں تک لگتے رہیں گے۔ پھول لگنے کے دو تین دن بعد اِن کو بیل سے اتار لیں کیوں کہ اِس کے بعد اِن سے پھلیاں بننا شروع ہو جائیں گی۔ آپ پھلیوں سے بیج بھی خاصل کر سکتے ہیں جو بعد میں اگائے جا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ پھلیاں پکائی بھی جا سکتی ہیں۔ سردیوں میں بٹرفلائی پی کے پتے جھڑ جاتے ہیں لیکن گرمیاں آنے پر اِسی بیل سے دوبارہ پتے نکلنا شروع ہو جاتےہیں۔ اِس لیے اگر آپ چاہیں تو سردیوں میں بیل کو اکھار کر پھینک دیں اور اگلی گرمیوں میں پھر بیج سے پودا اگا لیں اور اگر چاہیں تو اِس کو سردیوں میں بھی لگا رہنے دیں۔
بٹرفلائی پی کے پودے کو کسی ایسی جگہ اگائیں جہاں دوپہر تک دھوپ آتی ہو اور جب دوپہر شروع ہو جائے تو اُس جگہ سائیہ آ جاے یا پھر اِس کو کسی ایسی جگہ میں لگایا جا سکتا ہے جہاں سورج کی روشنی چھن کے آ رہی ہوں مثلا کسی درخت کے نیچے۔
پودے کودن میں صرف ایک دفع ہی پانی دیں ذیادہ پانی دینا نقصاندہ ہے۔ اگر پودے پر کسی کیڑے نے حملہ کر دیا ہے تو پودے پر نیم آئل کا سپرے کریں اگر نیم آئل میسر نہیں ہے تو لہسن سے بنے ہوئے سپرے کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جس کو بنانےکا طریقہ آرگینک کچن گارڈنگ پیج پر پہلے ہی بتایا جا چکا ہے۔ اُمید ہے آپ کو بٹرفلائی پی کے بارے میں معالومات اچھی لگی ہوں گی۔اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے یا پھر آپ کو کسی چیز کی سمجھ نہیں آئی تو آپ وہ کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں۔ اب میں آپ سے اگلی پوسٹ تک اجازت چاہوں گا۔ اُس وقت تک اللہ خافظ ۔