Sadabahar

Sadabahar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sadabahar, Business service, Faisalabad.

02/02/2024
02/02/2024

Start new online business 03156299098

31/12/2023

آج 31 دسمبر اس سال کی آخری رات ھے ، کل بس ایک ھندسہ بدلے گا ، وہی صبحیں وہی شامیں...!
میرے پاس اور تو کچھ بھی نہیں ، آپ سب کے لئے ڈھیر ساری دعائیں ہیں.. دعا کا کوئی رنگ نہیں ھوتا مگر دعا رنگ ضرور لاتی ھے.....!

اللّہ ربّ العالمین سے دعا ھے کہ آپکو اور آپ سے جُڑے ھر رشتے کو اس نعمت سے سرفراز فرماۓ ، جس میں آپ سب کے لیے.....!
خیرو برکت ھو..!
عزت و وقار ھو..!
راحت و سکون ھو..!
صحت و تندرستی ھو..!
ترقی و خوشحالی ھو..!
اوردنیا و آخرت کی بھلائی ھو...!!

دعا ھے اس"رحیم" سےکہ آپ پر "رحم" فرمائے،
دعا ھےاس"رب العزت" سے کہ آپکی "عزت" کی حفاظت فرمائے،
دعاھے اس"غنی" سے کہ آپکو خوب "نوازے" ،
دعا ھےاس "مالک کائنات" سے کہ آپکو ھر "سچی خوشی" دے،
دعا ھےاس "مشکل کشا" سے کہ آپ سب کی "مشکلات" دورفرمائے...!
آمین یارب العالمین.. ❤
صبح بخیر 💐

17/05/2023

*کُچھ غلطیاں جُرم ھُوا کرتی ہیں*

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار کسی صحرا سے گزر رہا تھا، دوران سفر اس نے ایک شخص کو ریت میں دھنسا پایا۔

اس نیک دل سردار نے نیچے اتر کر اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی اور اس بے ہوش آدمی کو ریت سے نکالا۔

پھر اس کا سر گود میں لیا اور چہرہ ہلایا ساتھ ساتھ آواز دی ۔
اتنے میں اس بے ہوش انسان نے اپنی آنکھیں تھوڑی تھوڑی کھولی تو سردار نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوۓ اس کے کان میں کہا۔

ارے آپ اس تپتے صحرا میں زندہ ہیں ۔

تو، وہ آدھی کھلی آنکھوں کے ساتھ پانی پانی کی آواز لگانے لگا ۔

کہنے لگا اگر میں نے پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے فوراً اسے پانی پلایا اور اسے مکمل ہوش میں لایا۔

اس شخص نے خوب سیر ہوکر پانی پیا اور سردار کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ بولا۔

اے رحم دل انسان آپ کی بدولت مجھے زندگی ملی ہے میرا تو یہ علاقہ بھی نہیں اور میرا گھوڑا شاید کہیں بھاگ گیا ہے، کیا آپ ایک احسان اور کر دیں گے ۔

سردار نے پوچھا وہ کیا ؟
کہا مجھے قریب کسی گاؤں میں چھوڑ دیں تا کہ میں نٸی سواری کا انتظام کر سکوں۔

سردار نے حامی بھری اور سردار گھوڑے پر سوار ہوکر اس اجنبی سے کہنے لگا،
آجاؤ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ، وہ شخص بمشکل زمین سے اٹھا اور اٹھ کر دو تین بار گھوڑے پر سوار ہونے کی کوشش کی مگر ہر بار جسمانی کمزوری کے باعث گرجاتا ۔

پھر سردار سے کہا، اس سنگدل صحرا نے میرے جسم کی ساری طاقت نچوڑ لی ہے، براہ کرم کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ اتریں اور گھوڑے پر سوار ہونے میں میری مدد کریں.
سردار بخوشی اتر کر اس اجنبی کو گھوڑے پر بٹھانے میں مدد کرنے لگا، اجنبی جیسے ہی گھوڑے پر سوار ہوا ، اس نے ایک زوردار لات سردار کے پیٹ میں رسید کی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر بھگا لے گیا.

سردار نے پیچھے سے آوازیں دیں، تو اس اجنبی شخص نے رک کر کہا، شاید تم شرمندگی محسوس کررہے ہو کہ ایک اجنبی کے ہاتھوں دھوکا کیسے کھا گیا.

سنو میں تو ایک ڈاکو ہوں اور اس مہارت سے ہی لوٹتا ہوں یہ مت سوچو کہ میں تمھیں بھیک مانگنے پر بھی گھوڑا واپس کر دوں گا اب یہ میرا ہے ۔

سردار نے جواب دیا کہ میں ایک قبیلے کا سردار ہوں، اور بھیک مانگنا یا رحم کی درخواست کرنا ایک سردار کی شان کے خلاف ہوتا ہے، میں تم سے فقط یہ کہنا چاہتا ہوں کہ، بات میری شرمندگی کی نہیں ہے، بلکہ جب تم کسی منڈی میں اس گھوڑے کو فروخت کرنے جاؤ گے، تواس نایاب نسل کے گھوڑے کے متعلق لوگ ضرور پوچھیں گے، تو انہیں میرا بتانا کہ فلاں قبیلے کے فلاں سردار نے مجھے تحفتاً دیا تھا، کسی بھی محفل میں صحرا میں لاچار اور بے یارو مددگار شخص کا روپ دھار کر مدد حاصل کرنے کے بہانے لوٹنے کا قصہ مت سنانا " ورنہ لوگ بے رحم صحراؤں میں مدد کے طلبگار اجنبیوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے"

انسان کمزور اور ضعیف ہے ایک چور بھی انسان ہے اور ایک عابد بھی انسان ہے ایک بادشاہ بھی انسان ہے اور ایک گدا گر بھی

ایک عطا کرنے والا سخی اور ایک کشکول اٹھاۓ مانگنے والا فقیر بھی انسان ہے ۔ عدالت کے منصب قضا پر فیصلہ کرنے والا جج بھی اور مجرم کو سزا دلوانے والا وکیل اور مجرم کو بچانے کی کوشش کرنے والا وکیل بھی انسان ہے ۔

بیماری سے تڑپنے والا مریض اور اس کے درد کو کم یا بڑھا دینے والا ڈاکٹر بھی انسان ہے ۔

غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہے مگر کچھ غلطیاں صرف آپ کی ذات کو وقتی نقصان نہیں دیتی بلکہ کسی روپ کسی کردار کسی مقام کسی منصب کا مکمل امیج ہی برباد کر دیتی ہیں ۔

لوگ اس منصب اس نام پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔

یاد رکھیں کچھ منصب ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں ذاتی خواہشات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔

نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کتنے جامع الفاظ ہیں کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے جو اس کے ذمہ ہے اور اس سے اس بارے قیامت کے روز سوال ہو گا ۔
ہم آج اپنی ناکامیوں کا بوجھ بھی دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ خدارا ایسا مت کیجیے ۔

آپ میں سے ہر انسان اس معاشرے میں اتنا ہی قیمتی اور اہم ہے جتنا ایک بادشاہ یا حکمران ۔ خوبصورت گھر سے لے کر خوبصورت معاشرے تک ہم میں سے ہر ایک پر کٸی ذمہ داریاں ہیں ۔اپنے منصب اپنے عہدے کی لاج رکھیے ۔ دوسروں کے باعمل ہونے کا انتظار مت کیجیے جتنا علم ہے اس پر آج سے ہی عمل کیجے ۔ دوسروں کے گناہوں کا واویلا کرنے یا دوسروں کی غلطیوں پر تبصرے کرنے کی بجاۓ اپنے حصے کا کام مکمل کیجیے ایسا نہ ہو کہ آپ بھی غلط ہو جاٸیں اور پھر زندگی وضاحتوں کی نذر ہو جاۓ ۔ حقوق پورے کیجیے معاملات درست کیجیے ۔

آپ شاگرد ہیں یا اولاد ہیں آپ والد ہیں یا استاد ہیں آپ ماں ہیں یا باپ ہیں آپ دکاندار ہیں یا خریدار ہیں آپ مزدور ہیں یا ٹھیکیدار ہیں ۔ آپ فن کار ہیں یا کار ساز ہیں کچھ بھی ہیں قاری ہیں یا لکھاری ہیں آپ اپنی حیثیت اپنے داٸرے میں کچھ ذمہ داریاں رکھتے ہیں بس ان کو حسن خوبی سے سر انجام دیجیے اور عطا ہوۓ منصب کی لاج رکھیے تا کہ کوٸی اس منصب کو گالی نا دے
اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم

17/05/2023

اگر واک کرنا روزانہ کا معمول نہیں بنا پائے تو وِیک اینڈ کے دو دنوں میں ہی سہی، خوب لمبی واک مار لیا کریں۔ دورانِ خون والی گاڑی کے ایکسلریٹر پر دباؤ بڑھا کر اس گاڑی کو بھگانا ضروری ہے۔ خون کو بدن کی نس نس تک پہنچانا صحت کی طرف لوٹ جانا ہے۔

خون میں جگہ بہ جگہ گانٹھیں پڑ جاتی ہیں، بلڈ کلاٹس کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ واک کرنے سے ٹوٹتے ہیں۔ دماغ کی باریک ترین شریانوں تک خون پہنچتا ہے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے، ڈیپریشن چھٹ جاتا ہے، صحت مند، مثبت، اور تخلیقی خیالات کی یلغار سی ہونے لگتی ہے۔ مُوڈ یکسر بدل جاتا ہے۔ مسائل کے نت نئے حل نظر آنے لگتے ہیں، اور چڑچڑاہٹ جاتی رہتی ہے۔

پیدل چلنے یا تھوڑی دیر بیڈ منٹن وغیرہ کھیلنے جیسی ایکٹوٹی کو خوب celebrate کر کے یوں انجام دیں جیسے یہ بہت ضروری (unavoidable) کام ہو جس بِنا آپ کا گذارا ممکن نہیں۔ نتیجتاً آپ دیکھیں گے کہ گھر میں جھگڑے کم ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے الجھنے کی بجائے، ہنسی خوشی اور جوش و خروش والی فضا پیدا ہوتی ہے۔

آج کی مصروف زندگی میں پیدل چلنے کو وقت نکالنا خوبصورت ترین جہاد ہے۔ بدن کے تھکے ہارے کیمیائی نظام اندر بھونچال آجاتا ہے۔ دل سے جڑی شریانوں میں لہو کی گردش کا میسر آنا گویا زندگی کے مہ و سال کا بڑھ جانا ہے۔

آپ یقین جانیں، ہمارے ہاں ایک ہزار افراد میں سے کوئی نو سو افراد اس نوع کی لاشعوری خود کشی کرنے میں مصروفِ عمل ہیں، ورنہ پاکستان میں صحت مند زندگی کی اوسط عمر 58 برس نہ ہوتی۔

ایسا کیوں ہے کہ جرمنی یا امریکہ جیسے ممالک میں ہم 80 اور 90 سالہ بندے کو جوگنگ کرتا ہوا دیکھتے ہیں؟ روزانہ آٹھ کلومیٹر سائیکل چلانے والے 90 سالہ نوجوان وہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستان سے متعلق سٹڈیز اور اعدادوشمار کیمطابق یہاں قبل از وقت موت کے بڑے اسباب میں سرِفہرست coronary artery disease ہے، یعنی دل کی شریانوں میں خون کا مناسب مقدار میں نہ پہنچنا۔ اس میں چکنائی سے بنی مرغن غذائیں اور مصالحہ جات کا استعمال تو کنٹریبیوٹ کرتے ہی ہیں، واک کلچر یا فزیکل ایکسرسائز کی کمی "سونے پر سہاگے" کا کام کرتی ہے۔

پچھلے دنوں معروف استاد سکندر حیات بابا نے ایک مختصر پوسٹ لگائی جس کا متن قابلِ توجہ ہے:

"کل رات میں نے امراضِ قلب والے وارڈ میں جو کچھ دیکھا چشم کشا ہے۔ اب اگر مجھ میں حیا ہوئی تو روزانہ آدھ گھنٹہ لازمی پیدل چلا کروں گا، چاہے کانٹوں پر چلنا پڑے۔ بازاری اشیاء سے پرہیز کروں گا۔ خود اپنے گھر میں بنی زیادہ چکنائی اور مرچ مصا لحہ والی چیزیں بھی نہیں کھاؤں گا۔ سوفٹ ڈرِنکس سے اتنا دور رہوں گا گویا شراب کی طرح حرام ہو۔ صرف سلاد اور ہری بھری سبزیاں کھاؤں گا، وہ بھی کوشش کر کے زیادہ تر کچی، یا پھر جو زیادہ جلائی گئی نہ ہوں۔ رات کسی صورت بارہ بجے کے بعد نہیں جاگوں گا، چاہے جاگنے پر مجھے انعام مل رہا ہو ۔ نماز کی ہر صورت پاپندی کروں گا۔ "

المختصر، واک کرنے سے دل کی صحت میسر آتی ہے جسے طبّی زبان میں cardiovascular fitness کہتے ہیں، اور پھیپھڑوں کی صحت جسے pulmonary fitness کہتے ہیں۔

ایک طالب علم کے لیے واک کرنا کھانا کھانے سے زیادہ اہم شے ہے۔ سُست پڑے رہنے سے آدھے دماغ تک خون پہنچتا ہے۔ ذہن پڑھائی جیسی پیچیدہ مشقّت گوارا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ نیز، پڑھا ہوا، یاد کیا ہوا مواد دماغ کی تختی پر جم کر نہیں دیتا۔

بچوں کو بتائیں کہ برین سَیلز پر ایسی پڑھائی کا نقش گہرا نہیں ہو پاتا۔ سٹڈیز میں مشغول بچہ اگر یہ کہتا نظر آئے کہ مجھے پڑھا ہوا سبق بھول جاتا ہے تو اُسے بادام کھلانے سے زیادہ کچھ دیر کھیل کُود والا ایکسپوژر دینا ضروری ہے۔

کم سے کم کچھ دیر ذرا تیز قدموں چلنا نماز کی طرح فرض خیال کریں۔

امریکہ میں محکمہ صحت اپنے شہریوں کو تجویز کرتا ہے کہ صحت مند رہنے کو 10 ہزار steps روزانہ پیدل چلا کریں۔ اب موٹے موٹے امریکی اس بات پر کتنا عمل کرتے ہیں، اس سے ہمیں غرض نہیں، تاہم میں نے اپنے ہاں ایک اچھی رُوٹین یوں استوار کی کہ پہلے پہل ذہن کو اعدادوشمار کے ساتھ hook کر کے، ذرا ناپ تول کر واک کرنا شروع کی۔

نوٹ کیا کہ ذرا مناسب رفتار سے چلوں تو میں چار منٹوں میں 1000 قدم پورے کر لیتا ہوں۔ یعنی آٹھ منٹ میں دو ہزار قدم، اور 12 منٹ میں تین ہزار قدم۔ یعنی 24 منٹوں میں 6 ہزار قدم ـــــــ لگ بھگ 40 منٹوں میں دس ہزار قدم بہ آسانی پورے ہو جاتے ہیں۔ گویا 10 ہزار steps کا سادہ سا مطلب ہے 40 منٹ کی واک۔ آپ چل پڑیں تو اتنے وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

آپ کے گھر میں جو افراد ضعیف ہیں، وہ یہ ٹارگٹ دو یا تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ صبح سے ظہر تک کے بیچ کسی طور 5 ہزار قدم پورے کرائے جا سکتے ہیں۔ یعنی سات آٹھ منٹ کی واک بنتی ہے۔ پھر عصر سے مغرب کے بیچ۔ پھر مغرب کے بعد کھانے سے پہلے یا کچھ دیر بعد۔

زندگی میں سکون اور خوشی کا مطلب ہے صحت مند ہونا۔ ایک غریب مگر صحت مند فرد ہی اپنی غربت سے لڑ سکتا ہے، اور ایک صحت مند امیر ہی اپنی امارت کا لطف اُٹھا سکتا ہے۔

ایمان کے بعد صحت اِس زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ ایمان کا مطلب ہے بعد از موت جی اُٹھنے اور اپنے کیے پر خدا کی عدالت کا سامنا کرنے کے احساس کے ساتھ جینا۔ جبکہ صحت کا مطلب ہے دستیاب وسائل اور وقت کو استعمال میں لانے کی طاقت و صلاحیت۔

صحت کی قدر کریں، اور روزانہ کچھ دیر پیدل چلنا اپنا معمول بنائیں۔ یہ واک کلچر اپنی زندگی میں یوں اپنائیں کہ دنیا آپ کے دیکھا دیکھی اس کلچر کو اپنانا شروع کر دے۔ یوں آپ کی واک ripple effect پیدا کرے گی ـــــــ ایک لہردار حلقہِ تاثیر! یہ واک صدقہ جاریہ بن جائے گی۔

15/05/2023

جب پروین شاکر کو شوہر نے طلاق دی اور انہیں تنہا چھوڑ کر چپ چاپ چلتا بنا تو اس وقت ان پہ یادگار اشعارکی آمد ہوئی اور اس عظیم شاعرہ کی مغفرت کیلئے دعاکیجیئے
شاعر
احمد شہزاد

رخصت ہوا تو __ آنکھ ملا کر نہیں گیا....
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا......

وہ یوں گیا کہ _____ باد صبا یاد آ گئی....
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا......

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا....
جاتے ہوئے چراغ ___ بجھا کر نہیں گیا.....

بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں....
دیوار راستے میں __ بنا کر نہیں گیا......

شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط....
وہ اپنے نقش پا تو _______ مٹا کر نہیں گیا.....

گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی....
لگتا ہے یوں کہ جیسے ___ وہ آ کر نہیں گیا.....

تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد...
جب تک وہ پتیوں کو ________ جدا کر نہیں گیا....

رہنے دیا نہ اس نے ____ کسی کام کا مجھے...
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا....

ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی...
وہ خار و خس میں آگ _ لگا کر نہیں گیا.....

یہ گلہ ہی رہا بس اس کی _ذات سے....
جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا.....۔۔

Please subscribe
14/05/2023

Please subscribe

Chiken Dahi Masala:Ingredients:chiken 800 gonion paste half cup tomatoes 2 green chilli 2yogurt 1 cupSalt to taste Red chilli crushed half tablespoon red chi...

Please subscribe
11/05/2023

Please subscribe

Dhaba Style Achari Baingan alo|Ingredients:Baingan 2 big size potatoes 2 big size tomatoes 2 chopped onion 1 chopped ginger garlic paste 1 tablespoon Salt to...

ہڑتال کی کال
08/05/2023

ہڑتال کی کال

Please subscribe My family Chanel
08/05/2023

Please subscribe My family Chanel

Chocolate Cake Ingredients::All purpose flour 2 cup suger 2 cupcocoa powder half cupvanilla powder half tsp Butter Half cupmilk 1 cupeggs 3Chocolate Ganash I...

Please subscribe
07/05/2023

Please subscribe

Chiken Shami Kbab|Ingredients |Chiken Breast 350gChanna Daal 2 cupSalt to taste Red chilli powder 1tablespoon coriander powder 1tablespoon cumin powder 1tab...

05/05/2023

السلام علیکم ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

صبح بخیر
" الفاظ سے بات سمجھ میں آتی ہے
، لہجے سے دِل میں اُتر جاتی ہے
۔ جادُو الفاظ میں نہیں لہجے میں ہوتا ہے
۔ الف لیلوی خزانوں کا دروازہ ہر ایرے غیرے کے " کُھل جا سم سم !" کہنے سے نہیں کُھلتا ۔ وہ الہ دین کا لہجہ مانگتا ہے ،
دلوں کے قفل کی کلید بھی لفظ میں نہیں لہجے میں ہوتی سے "

" رب کریم آپکـــےگلـــشن حیات کــــو
اپنی نعـــمتوں کــــی خوشبو سے ھـــمیشہ معـطراور مالامال رکھے
اورخوشیوں کے لازوال خزانے کے ساتھ
اللہ آپکـــی حفاظت کرے اورتـــمام حاجات پوری کرے

"‏زندگی دکھوں اور سکھوں کا مجموعہ ھے'
کبھی خوشی تو کبھی غم بس وقت ایک سا نہیں رہتا' خوشی میں شکر اور تکلیف میں صبر و استغفار کرنا چاهیے.
"اللّه ہم سب کو دکھوں سے محفوظ اور مشکل وقت میں ثابت قدم رکھے اور خوشیوں میں شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ.
"آمین يارب العالمين.


💖💖💖💖💖💖💖💖💖

Address

Faisalabad

Telephone

03156299098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sadabahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share