AZAM LAW ASSOCIATES

AZAM LAW ASSOCIATES AZAM LAW ASSOCIATES (TAX Consultants) is a Pakistan based Law firm providing Legal, Corporate and technical business solutions through lawyers.

26/05/2026
26/05/2026

۔ATIR کا اہم فیصلہ!
اپیلیٹ ٹربیونل اِن لینڈ ریونیو، ملتان بینچ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف دستاویزات طلب کرنے یا وضاحت مانگنے کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

کیس میں محکمہ نے ٹیکس دہندہ کے خلاف تقریباً 46 کروڑ 96 لاکھ روپے کی ایڈیشن سیکشن 111 کے تحت کی تھی، جس کی بنیاد: • ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں liabilities، • adjustment income، • اور دیگر inflows تھے۔

ٹربیونل نے واضح کیا کہ:
✅ سیکشن 122(5A) صرف اسی وقت استعمال ہو سکتا ہے جب:
1۔ ریکارڈ میں واضح غلطی موجود ہو، اور
2۔ اس غلطی سے ریونیو کو نقصان پہنچا ہو۔

✅ محکمہ “fishing inquiry” یا “roving inquiry” نہیں کر سکتا۔

✅ نئی دستاویزات طلب کر کے بعد میں غلطی تلاش کرنا قانون کے خلاف ہے۔

✅ سیکشن 111 کی ایڈیشن عام طور پر سیکشن 122(5A) کے ذریعے نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس کے لیے “definite information” اور الگ investigative proceedings درکار ہوتی ہیں۔

✅ اگر return کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات attach نہ ہوں تو کارروائی سیکشن 120(3) کے تحت ہوگی، نہ کہ 122(5A) کے تحت۔

ٹربیونل نے قرار دیا کہ limitation گزرنے کے بعد محکمہ return کو “complete” تصور کرے گا اور بعد میں 122(5A) کے ذریعے خامیاں پوری نہیں کی جا سکتیں۔

آخرکار ٹربیونل نے محکمہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے CIR(A) کا فیصلہ برقرار رکھا۔

The CIR, Legal Zone, LTO Multan Vs. Abdul Karim ITA No. 341/MB/2022 Order dated: 12-02-2026۔

Azam Law Associates

TRIB CIR Abdul Karim 122 5A on the basis of documents fall under section 120

25/05/2026

سینیٹ سے ہاؤسنگ فنانس ریکوری بل 2026 منظور، بینکوں کو جائیداد نیلام کرنے کے وسیع اختیارات مل گئے۔۔۔

اسلام آباد: سینیٹ نے Financial Institutions (Recovery of Finances) Amendment Bill 2026 منظور کر لیا، جس کے تحت ہاؤسنگ فنانس نادہندگان کے خلاف ریکوری کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے اور بینکوں کو رہن رکھی گئی جائیداد کی نیلامی کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

نئے قانون کے مطابق اگر کوئی قرض لینے والا ہاؤسنگ فنانس کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کرے گا تو متعلقہ مالیاتی ادارہ اسے تین تحریری نوٹس جاری کرے گا، جبکہ ہر نوٹس کے درمیان 30 دن کا وقفہ رکھا جائے گا۔ اگر آخری نوٹس کے بعد بھی واجبات ادا نہ کیے گئے تو بینک یا مالیاتی ادارہ رہن رکھی گئی جائیداد نیلام کر سکے گا۔
ترمیمی بل کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اب بینکوں کو جائیداد کی نیلامی سے قبل عدالت سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مالیاتی ادارے مقررہ نوٹسز کی تکمیل کے بعد براہِ راست نیلامی کا عمل شروع کر سکیں گے۔
قانون کے تحت بینک قرض ری اسٹرکچرنگ یا سیٹلمنٹ کی درخواست پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ نیلامی کا عمل اشتہار جاری ہونے کے کم از کم 15 کاروباری دن بعد ہی کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق نئی قانون سازی سے بینکاری شعبے میں قرضوں کی وصولی کا عمل تیز ہوگا، تاہم عوامی و قانونی حلقوں میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ عدالتی نگرانی محدود ہونے سے قرض لینے والوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

propakistani.pk
Azam Law Associates

22/05/2026

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 6روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے80پیسے فی لیٹر سستا کردیا گیا

پٹرولیم ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

22/05/2026

۔ K-Electric کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل، FBR کارروائی پر کاروباری حلقوں میں تشویش۔

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے K-Electric کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن 20 مئی 2026 سے معطل کر دی ہے۔ یہ صورتحال FBR کے آن لائن ٹیکس دہندہ رجسٹریشن پورٹل پر ظاہر کی گئی، جہاں کمپنی کا سیلز ٹیکس اسٹیٹس “Suspended” جبکہ انکم ٹیکس اسٹیٹس تاحال “Active” دکھایا جا رہا ہے۔

K-Electric کے ترجمان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ کمپنی نے اس معاملے پر پہلے ہی FBR سے رابطہ کر لیا ہے اور انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ سسٹم جلد
معمول کے مطابق بحال کر دیا جائے گا۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی کے بعد متعلقہ ٹیکس دہندہ کو قانونی ریلیف کے لیے ان لینڈ ریونیو ٹربیونل سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

معروف سیلز ٹیکس ماہرین نے FBR کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ Section 21 کے تحت محض ٹیکس ریکوری کے لیے حقیقی اور فعال ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن معطل کرنا کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی کارروائیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ Federal Board of Revenue کی جانب سے رجسٹریشن معطلی کے اقدامات حالیہ عرصے میں سخت ٹیکس نفاذ پالیسی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

Source: Business Recorder (2026)
AZAM LAW ASSOCIATES

22/05/2026

۔ FBR نے دودھ، گھی، آئل اور اسٹیل سیکٹر کی پروڈکشن پر الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دے دی۔

اسلام آباد: Federal Board of Revenue نے S.R.O. 880(I)/2026 جاری کرتے ہوئے ملک کی چار بڑی صنعتوں کی پیداوار پر الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ نوٹیفکیشن 20 مئی 2026 کو جاری کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اب پیکجڈ دودھ، آئرن اینڈ اسٹیل، کوکنگ آئل اور گھی تیار کرنے والے تمام رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی پروڈکشن لائنز براہِ راست FBR کے ڈیجیٹل نگرانی نظام کے تحت ہوں گی۔

ایف بی آر نے یہ اقدام سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 40C اور سیکشن 50 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا ہے،

جبکہ اس کا طریقہ کار سیلز ٹیکس رولز 2006 کے چیپٹر XIV-BA اور رول 150ZQR میں درج کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس نظام کے تحت فیکٹریوں میں ڈیجیٹل میٹرز، سمارٹ کیمرے اور سینسرز نصب کیے جائیں گے جو ہر تیار ہونے والی مصنوعات کا ریئل ٹائم ڈیٹا براہ راست FBR کے مرکزی کنٹرول روم کو منتقل کریں گے۔

ذرائع کے مطابق FBR کی منظور شدہ لائسنس یافتہ کمپنیاں یہ سسٹمز نصب کریں گی جبکہ متعلقہ صنعتیں انٹرنیٹ، بجلی اور تکنیکی رسائی فراہم کرنے کی پابند ہوں گی تاکہ مانیٹرنگ کا نظام چوبیس گھنٹے فعال رہ سکے۔

ٹیکس اور کارپوریٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان ڈکلیئرڈ پروڈکشن اور سیلز ٹیکس چوری کا خاتمہ ہے، کیونکہ ماضی میں متعدد صنعتوں پر اصل پیداوار کم ظاہر کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
تاہم صنعتی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب، سافٹ ویئر، لائسنس یافتہ وینڈر فیس اور مسلسل مینٹیننس کے باعث Cost of Doing Business میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی مینوفیکچرر مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے سے انکار کرے، سسٹم میں مداخلت کرے یا جان بوجھ کر مانیٹرنگ متاثر کرے تو Federal Board of Revenue کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ: • فیکٹری کی سپلائی یا پیداوار روک دے۔

• بھاری جرمانے عائد کرے
• یا فیکٹری احاطہ سیل کر دے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو مؤثر بنانے اور ریونیو مانیٹرنگ کے جدید نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

Source: FBR Notification S.R.O. 880(I)/2026 dated 20 May 2026
AZAM LAW ASSOCIATES

21/05/2026

بینک اکاؤنٹ اٹیچمنٹ کے ذریعے سپر ٹیکس کی مد میں 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ریکوری۔

۔Federal Board of Revenue کے ذیلی ادارے Regional Tax Office Islamabad نے سیکشن 4C سپر ٹیکس کے تحت نادہندہ ٹیکس دہندہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ریکوری کر لی۔

تفصیلات کے مطابق چیف کمشنر آر ٹی او اسلام آباد کی ہدایات پر یونٹ-III، بلڈرز زون نے ایسے ٹیکس دہندہ کے خلاف ریکوری کارروائی شروع کی جس نے سیکشن 4C کے تحت واجب الادا سپر ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

بعد ازاں بینک اکاؤنٹس اٹیچ کرنے کی قانونی کارروائی کے ذریعے 12 ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیے گئے۔

حکام کے مطابق یہ ریکوری آپریشن ایک مشکل صورتحال میں مکمل کیا گیا، جہاں کارروائی کے دوران بینک میں موجود ریکوری انسپکٹر کو ٹیکس دہندہ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

تاہم، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو محترمہ Aisha Farooq اور اے ڈی سی (ہیڈکوارٹر) Muhammad Shakeel Anwar کی خصوصی نگرانی اور معاونت سے کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی۔

آر ٹی او اسلام آباد نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومتی محصولات کی وصولی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے قانونی اقدامات سختی سے جاری رکھے جائیں گے۔
: fbr.gov.pk
AZAM LAW ASSOCIATES

21/05/2026

پاکستان میں INGOs کے لیے رجسٹریشن اور انکشافات کے قواعد مزید سخت —
۔FBR نے نیا SRO جاری کر دیا۔

پاکستان کے Federal Board of Revenue (FBR) نے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (INGOs) کے لیے رجسٹریشن اور معلومات فراہم کرنے کے قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے FBR نے SRO 879(I)/2026 مورخہ 20 مئی 2026 جاری کیا ہے، جس کے ذریعے Income Tax Rules, 2002 میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔

یہ ترامیم اس سے قبل جاری کیے گئے ڈرافٹ نوٹیفکیشن SRO 856(I)/2026 کے تسلسل میں کی گئی ہیں، جن کا بنیادی مقصد پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی فنڈڈ تنظیموں کی نگرانی، شفافیت اور قانونی تعمیل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

اہم تبدیلیاں کیا ہیں؟
ترمیم شدہ Rule 80B کے تحت اب INGOs کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ شناخت اور انکشافات (disclosures) کے تقاضے بھی نمایاں طور پر بڑھا دیے گئے ہیں۔

نئے قواعد کے مطابق اب درج ذیل دستاویزات اور معلومات فراہم کرنا ضروری ہوں گی:

ٹیکس دہندہ / تنظیم کا نام اور کاروباری پتہ
اکاؤنٹنگ پیریڈ اور رابطہ نمبر
بنیادی کاروباری یا فلاحی سرگرمی کی تفصیلات
پرنسپل آفیسر یا مجاز نمائندے کی معلومات
نمائندہ مقرر کرنے کا اتھارائزیشن لیٹر
مجاز افسر کا موبائل نمبر اور ای میل
آبائی ملک کی ٹیکس رجسٹریشن یا incorporation دستاویزات۔
سفارت خانے سے اسناد کی تصدیق
پاکستان میں رہائش یا دفتر کا ثبوت، کرایہ نامہ اور یوٹیلٹی بلز
وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات سے NOC
حکومتِ پاکستان کے ساتھ MoU کی تفصیلات
ڈائریکٹرز، ٹرسٹیز یا 10 فیصد یا اس سے زائد شیئر رکھنے والے افراد کی معلومات۔

قانونی اور انتظامی اثرات
ماہرین کے مطابق یہ ترامیم حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے والی تنظیموں کی مالی سرگرمیوں، انتظامی ڈھانچے اور قانونی حیثیت پر زیادہ مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے گی۔
اس اقدام سے:
رجسٹریشن کا عمل زیادہ دستاویزی اور سخت ہوگا
۔renewal اور compliance checks میں اضافہ ہوگا
غیر رجسٹرڈ یا غیر شفاف INGOs کے لیے پاکستان میں کام کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
۔FBR، وزارت داخلہ اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے درمیان coordination مضبوط ہوگی

download1.fbr.gov.pk
AZAM LAW ASSOCIATES
📍 Opposite Al Noor Hotel, Main Sant Pura Bazar, Faisalabad
📞 03009668758

آئی ایم ایف کا پاکستان پر دباؤ — سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی نئی شرط۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان پر زور ...
21/05/2026

آئی ایم ایف کا پاکستان پر دباؤ — سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی نئی شرط۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تمام سیلز ٹیکس استثنیٰ (Sales Tax Exemptions) ختم کیے جائیں اور پورے ملک میں یکساں سیلز ٹیکس نظام نافذ کیا جائے۔

یہ مذاکرات اس وقت جاری ہیں جب حکومت اور Federal Board of Revenue آئندہ مالی سال 2026-27 کے ٹیکس اہداف پر مشاورت کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تقریباً 15.264 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف پر زور دیا ہے جبکہ مزید:

778 ارب روپے enforcement اقدامات سے،
اور تقریباً 430 ارب روپے نئے ٹیکس اقدامات سے حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یکساں سیلز ٹیکس نظام کی تجویز۔

آئی ایم ایف کی تجویز یہ ہے کہ:
مختلف شعبوں کو دی گئی خصوصی رعایتیں ختم کی جائیں،ٹیکس نظام کو سادہ بنایا جائے،اور تمام سیکٹرز پر تقریباً یکساں شرح سے سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق بعض اشیاء اور سیکٹرز پر اس وقت 22.8 فیصد تک ٹیکس لاگو ہے، جسے کم کرکے 18 فیصد تک لانے کی بات کی جا رہی ہے، مگر ساتھ ہی استثنیٰ ختم کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

کن شعبوں پر اثر پڑ سکتا ہے؟

ماضی اور حالیہ مذاکرات کے مطابق درج ذیل شعبے متاثر ہو سکتے ہیں:

فیول اور پٹرولیم مصنوعات
نئی رہائشی تعمیرات
سولر سیکٹر
الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں
بعض صنعتی شعبے
درآمدی مشینری اور مخصوص اشیائے ضروریہ ۔

قانونی اور معاشی تجزیہ۔
پاکستان میں سیلز ٹیکس استثنیٰ کا مقصد عموماً:
عوام کو ریلیف دینا،
مخصوص صنعتوں کی حوصلہ افزائی،
یا برآمدات کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ:
زیادہ استثنیٰ ٹیکس نظام کو پیچیدہ بناتا ہے،
ریونیو کم کرتا ہے،
اور ٹیکس نیٹ محدود رکھتا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ:
بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ مہنگائی بڑھا سکتا ہے،
صارفین پر مالی بوجھ منتقل ہوگا،
جبکہ اصل مسئلہ ٹیکس نیٹ کی کمزوری اور دستاویزی معیشت کی کمی ہے۔

اہم سوال
اگر تمام استثنیٰ ختم کیے جاتے ہیں تو:

کیا حکومت عوام کو متبادل ریلیف دے گی؟
کیا ضروری اشیاء مہنگی ہوں گی؟
کیا صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھے گی؟
اور کیا یہ اقدامات واقعی ٹیکس نظام کو بہتر بنا سکیں گے؟
🔗 TaxationPK
https://taxationpk.com/imf-wants-to-end-sales-tax-exemptions/
🔗 ProPakistani
https://propakistani.pk/2026/05/18/imf-pushes-pakistan-to-end-all-sales-tax-exemptions/
🔗 Times of Islamabad
https://timesofislamabad.com/18-05-2026/imf-presses-pakistan-to-eliminate-all-sales-tax-exemptions-ahead-of

AZAM LAW ASSOCIATES

We combine professional consultancy with real-time news, tax calculators, and a deep knowledge base to simplify filing tax returns and business registration for everyone.

ایف بی آر کا بڑا اقدام — اب پیداواری عمل کی الیکٹرانک مانیٹرنگ لازمی!وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس نظام کو مزید سخت اور شفاف ...
20/05/2026

ایف بی آر کا بڑا اقدام — اب پیداواری عمل کی الیکٹرانک مانیٹرنگ لازمی!

وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس نظام کو مزید سخت اور شفاف بنانے کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
۔ S.R.O. 880(I)/2026
تاریخ: 20 مئی 2026

نوٹیفکیشن کے مطابق اب درج ذیل صنعتوں کی پیداوار کو الیکٹرانک طور پر مانیٹر کیا جائے گا:
▪️ پیکجڈ دودھ
▪️ آئرن اینڈ اسٹیل
▪️ آئل
▪️ گھی

یہ مانیٹرنگ Sales Tax Rules, 2006 کے Rule 150ZQR (Chapter XIV-BA) کے تحت کی جائے گی۔

قانونی بنیاد: یہ اختیار ایف بی آر کو Sales Tax Act, 1990 کی:
۔Section 50(1)
۔Section 40C
کے تحت حاصل ہے۔

اہم نکات:
✔ متعلقہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز کیلئے الیکٹرانک مانیٹرنگ لازمی ہوگی
✔ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے
✔ پیداوار، سپلائی اور ٹیکس ڈیٹا کی براہِ راست نگرانی ممکن ہوگی
✔ ٹیکس چوری اور انڈر رپورٹنگ روکنے کیلئے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق:
یہ اقدام حکومت کی ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو مضبوط بنانا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
Azam Law Associates

19/05/2026

پاکستان کی موجودہ مالیاتی پالیسی، خصوصاً پیٹرولیم لیوی کے بڑھتے ہوئے استعمال، نے ایک سنجیدہ آئینی، قانونی اور معاشی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

ڈاکٹر اکرم الحق کے مطابق وفاقی حکومت نے International Monetary Fund (IMF) پروگرام کے تحت محصولات حاصل کرنے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس سے نہ صرف عام شہری پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ صوبوں کے آئینی مالی حقوق بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ماضی میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) وصول کرتی تھی، جو National Finance Commission (NFC) Award کے تحت divisible pool میں شامل ہوتا تھا۔

اس کا ایک بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا تھا تاکہ وہ تعلیم، صحت، بلدیات، زراعت اور دیگر عوامی خدمات کے اخراجات پورے کر سکیں۔

تاہم حکومت نے GST کم یا ختم کرکے Petroleum Levy میں نمایاں اضافہ کیا، جس کی پوری رقم وفاق اپنے پاس رکھتا ہے کیونکہ اسے “ٹیکس” کے بجائے “لیوی” قرار دیا جاتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے مصنف آئینی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160(3A) کے مطابق صوبوں کے حصے کو پچھلے NFC Award سے کم نہیں کیا جا سکتا۔

ناقدین کے مطابق اگر وفاق divisible taxes کو کم کرکے non-divisible levies بڑھا دے تو عملی طور پر صوبوں کا مالی حصہ متاثر ہوتا ہے، چاہے بظاہر آئینی شق برقرار ہی کیوں نہ ہو۔

اس تناظر میں پیٹرولیم لیوی کو وفاقی مرکزیت اور صوبائی مالی خودمختاری کے درمیان ایک اہم تنازع سمجھا جا رہا ہے۔

قانونی اعتبار سے بھی یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ حکومت ایک طرف پیٹرولیم لیوی کو “ٹیکس نہیں” قرار دیتی ہے تاکہ اسے NFC تقسیم سے الگ رکھا جا سکے، جبکہ دوسری جانب اسی لیوی کو بجٹ خسارہ پورا کرنے اور سرکاری اخراجات کے لیے مستقل ریونیو ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہی تضاد اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ اگر کوئی وصولی عوام سے لازمی بنیادوں پر کی جائے، مسلسل نافذ رہے اور قومی بجٹ کے لیے استعمال ہو تو کیا اسے عملی طور پر ٹیکس تصور نہیں کیا جانا چاہیے؟

مزید یہ کہ پیٹرولیم لیوی کو Money Bill کے ذریعے منظور کرنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق Money Bill میں سینیٹ کا کردار محدود ہوتا ہے، جس سے پارلیمانی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک غیر ٹیکس لیوی کو بھی اسی طریقہ کار سے منظور کیا جائے تو یہ وفاقی جمہوری ڈھانچے اور پارلیمانی توازن کے لیے تشویش ناک مثال بن سکتی ہے۔

معاشی سطح پر پیٹرولیم لیوی کے اثرات براہِ راست عام شہری تک پہنچتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، زرعی لاگت، بجلی کی پیداوار اور صنعتی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ اس بوجھ کو سب سے زیادہ برداشت کرتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے “Regressive Taxation” قرار دیتے ہیں جہاں امیر اور غریب دونوں یکساں شرح سے بوجھ اٹھاتے ہیں مگر اثر غریب پر زیادہ پڑتا ہے۔

ڈاکٹر اکرم الحق کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ صرف کم ٹیکس وصولی نہیں بلکہ غیر منصفانہ مالیاتی ڈھانچہ ہے۔ ان کے خیال میں حکومت کو ایندھن پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے،

غیر دستاویزی معیشت کو قانونی دائرے میں لانا چاہیے، بڑے کاروباری اور اشرافیہ طبقات پر مؤثر ٹیکس عائد کرنا چاہیے اور ایسی اصلاحات متعارف کروانی چاہئیں جو آئینی وفاقیت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔

یہ معاملہ محض ایک معاشی پالیسی یا بجٹ حکمتِ عملی نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری، آئینی بالادستی اور پارلیمانی نگرانی کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔

اگر divisible taxes کو مسلسل کم اور non-divisible levies کو بڑھایا جاتا رہا تو مستقبل میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد اور مالی توازن مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

— Azam Law Associates

Address

9-12 RAHIM CENTRE, MAIN BAZAR, SANT PURA
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923083188889

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AZAM LAW ASSOCIATES posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AZAM LAW ASSOCIATES:

Share