Ittefaq builders

Ittefaq builders we sell and buy all kind of house,shops plaza etc. Malik Zaheer Amir0301-8624153
Riaz Ahmed Dogar 0321-6236168
Mirza Irfan Baig Koankh0300-6262786

25/09/2014

انتظار کرنے والوں کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا کوشش کرنے والوں سے بچ جاتا ہے... اور هم انتظار کو صبر کا نام دیتے ہیں... اور پهر آخری لفظ ہمارا ہوتا ہے کہ قسمت میں نہیں لکها تها

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

25/09/2014

زندگی میں بعض مقام ایسے آتے ہیں جب نا چاہتے ہوئے بھی اپنے جزبات کو دفن کر کے اپنے سے وابستہ لوگوں کی خواہشات کا احترام کرنا پڑتا ہے !!

25/09/2014

شادی....................

پوسٹ لمبی مگر بہت پر اثر ہے. پڑھ کر کومنٹس میں ضرور بتایۓ گا کہ کیا آج ایسا ممکن ہے ؟

۰خضرت شجاع کرمانی رحمتہ اللہ علیہ سلطنت چھوڑ کر درویش بن گئے تھے .

۰خضرت شجاع کرمانی رحمتہ اللہ علیہ کی اک صاحبزادی تھیں.... جب وہ بالغ ہوئیں تو آپ کو خیال آیا کہ ان کا عقد کر دیا جاۓ......
آپ کے پاس بہت پیام آتے تھے........ اور پیام بھی معمولی لوگوں کے نہیں ....... بلکہ ...... بادشاہوں کے پیام آتے تھے ...... جب کسی بادشاہ کی طرف سے پیام آتا تو آپ فورا انکار کر دیتے ......

ایک مرتبہ آپ نے مسجد میں دیکھا کہ ایک غریب آدمی نماز میں مشغول ہے . اور نماز کا حق جیسا کہ اس کا حق ہے ادا کر رہا تھا...... اس کے چہرہ سے وقارومسکنت معلوم ہوتی تھی..... بس اس نماز کو دیکھ کر عاشق ہو گۓ اور اسی وقت قصد کر لیا کہ اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کروں گا.... اس سے بڑھ کر کون ہو گا.... اس کے اور کسی حال کی تفشیش نہ کی کہ یہ کون ہے ؟.... اس کے پاس کتنا سازو سامان ہے .

جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان سے کہا کہ مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے ..؟ (اس شخص نے آپ کو پہچانا نہیں تھا کہ آپ وہ تارک السلطنت عظیم بادشاہ شاہ شجاع کرمانی ہیں
چنانچہ آپ نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہو گئی یا نہیں .
اس نے کہا کہ ہم جیسوں کو کون لڑکی دیتا ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ میں غریب و مفلس ہوں.
آپ نے فرمایا ! اگر کوئی راضی ہو جاۓ تو منظور کر لو گے . اس نے پھر کہا کہ مجھے کون لڑکی دیتا ہے .

آپ نے فرمایا ! اگر شاہ شجاع اپنی لڑکی کا رشتہ دے تو پھر کیا کرو گے .

یہ سن کر وہ شخص گھبرا گیا اور بولا . بھائی میں کہاں اور کہاں شاہ شجاع اور اس کی بیٹی .
کیوں مجھے جوتیاں مروانے کا ارادہ ہے . آپ کیوں ذلیل بناتے ہو اور کرتے ہو . مذاق کیوں کرتے ہو جاؤ اپنا کام کرو.

آپ نے فرمایا .. واللہ میں نہیں بناتا. تم بتاؤ تو سہی.
اس نے کہا کہ پھر میں ضرور شادی کروں گا اور اسے ان کا تبرک سمجھوں گا.

آپ نے کہا . میں ہی شاہ شجاع ہوں اور بخوشی اپنی بیٹی کا رشتہ تمہیں دیتا ہوں . ہاں اتنا ٹھہرو کہ میں لڑکی سے پوچھ لوں.

چنانچہ آپ گھر میں تشریف لاۓ اور لڑکی سے اس کا زہدوتقوی کا حال بیان کیا اور دلیل یہ بیان کی کہ نماز اچھی پڑھتا ہے....... یہ کچھ بھی نہیں فرمایا کہ دنیا کا مال و متاع بھی کچھ ہے یا نہیں.

غور کریں کہ دلیل کیا اچھی بیان فرما رہے ہیں کہ نماز اچھی پڑھتا ہے .
بیٹی پر بھی باپ کی صحبت کا اثر خوب پڑا ہوا تھا . اور وہ بھی کامل ہو گئی تھیں. ان پر اس دلیل کا کافی اثر ہوا . بولیں کہ مجھ کو منظور ہے مگر اک شرط ہے کہ اس شخص میں حب دنیا نہ ہو . اور آگے آپ کو اختیار ہے .

غرض نکاح کر دیا اور اسے اس کے گھر پہنچا دیا اور نصیحت کی کہ خاوند کی اطاعت کرنا

اب ان صاحبزادی کا حال سنئیے کہ صاحبزادی نے گھر کے دروازے میں قدم رکھا تو دیکھا کہ ایک سوکھی ہوئی روٹی گھڑے پر ڈھکی ہوئی رکھی ہے.
یہ دیکھتے ہی فورا الٹے پاؤں لوٹ پڑیں اور کہا ..... ابا جان نے مجھے کہاں دھکا دے دیا....... اس شخص نے کہا میں تو پہلے ہی سمجھے ہوۓ تھا کہ بادشاہ کی بیٹی مجھ کو کہاں خاطر میں لائیں گی.

صاحبزادی نے کہا بعض گمان گناہ ہوتا ہے . تم نے خیال کیا ہو گا میں تمہاری غریبی دیکھ کر واپس ہوئی ہوں...... سو یہ بات نہیں . میں تو اس روٹی کے لئیے واپس لوٹی ہوں کہ والد نے کہا تھا کہ زاہد و متوکل شخص ہے . اگر تم کو خدا پر توکل ہوتا تو......... اس روٹی کے رکھنے کو کیوں پسند کرتے .

اس نے کہا میرا روزہ تھا . میں نے اس خیال سے روٹی رکھ لی تھی کہ اس سے روزہ افطار کر لوں گا.۰

لڑکی نے جواب دیا کہ تو نے جس کا روزہ رکھا ہے تو اس کا مہمان ہے . اور مہمان کی خبر گیری میزبان کے ذمہ ہے. پھر کیوں اس کو رکھ چھوڑا ہے.........

اس شخص نے فورا اس روٹی کو خیرات کر دیا. تب جا کر وہ گھر میں داخل ہوئیں..!!

25/09/2014

*~* بیٹیاں اللہ کی رحمت *~*

ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ
ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺍﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ
ﺩﯾﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﻟﮩﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ
ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻮ ﮐﻮ ﻧﯿﮏ ﺗﻤﻨﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺣﺖ
ﺑﮭﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ،
ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺩﻟﮩﮯ ﮐﮯ
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺎﮨﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ.
ﺩﻟﮩﺎ ﺩﻟﮩﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﺩﻟﮩﺎ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﻣﺪﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻻ.
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ.

ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮨﯽ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ
ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﮩﮯ ﮐﮯ
ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ
ﺩﺍﻣﺎﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﮏ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﭘﮩﻨﭽﺎ
ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ
ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ.
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ
ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺩﻟﮩﻦ
ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ.
ﺩﻟﮩﺎ ﺩﻟﮩﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺫﮨﻦ
ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮐﯿﺎ.
ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ
ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ
ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ.
ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ
ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﮐﮩﺎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ..

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ
ﮨﺎﮞ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺑﺎﺭ
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ..

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻨﮭﯽ ﮔﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ
ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺎﺭﭨﯽ
ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ
ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻣﻨﺎﺋﯽ
ﮔﺌﯿﮟ..

ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺒﮑﮧ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ
ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ..

ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ۔۔۔۔
ﯾﮧ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﯽ..

18/09/2014
17/09/2014

وہی بات کہ کوئی شخص آپ کو وہی کچھ عطا کر سکتا ہے جو اس کی ملکیت میں ہو ۔
آگر کوئی خود کو ہی عزت دار نہیں سمجھتا تو کسی اور کو عزت کیسے دے سکتا ہے ۔

آئندہ جب بھی آپ دیکھیں کہ کوئی زور آور کسی کمزور کی ہتک کر رہا ہے تو پختہ یقین کر لیں کہ ہتک کرنے والا خود بے عزت آدمی ہے چونکہ وہ بیچارہ وہی کچھ آگے دے رہا ہے جو اس کے پاس ہے اگر عزت ہوتی تو دوسروں کو بھی عزت ہی عطا کرتا ۔

Address

Shadman Chowk Opposite Shell Pump
Gujrat
50700

Telephone

0533-709393

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ittefaq builders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share