25/09/2014
شادی....................
پوسٹ لمبی مگر بہت پر اثر ہے. پڑھ کر کومنٹس میں ضرور بتایۓ گا کہ کیا آج ایسا ممکن ہے ؟
۰خضرت شجاع کرمانی رحمتہ اللہ علیہ سلطنت چھوڑ کر درویش بن گئے تھے .
۰خضرت شجاع کرمانی رحمتہ اللہ علیہ کی اک صاحبزادی تھیں.... جب وہ بالغ ہوئیں تو آپ کو خیال آیا کہ ان کا عقد کر دیا جاۓ......
آپ کے پاس بہت پیام آتے تھے........ اور پیام بھی معمولی لوگوں کے نہیں ....... بلکہ ...... بادشاہوں کے پیام آتے تھے ...... جب کسی بادشاہ کی طرف سے پیام آتا تو آپ فورا انکار کر دیتے ......
ایک مرتبہ آپ نے مسجد میں دیکھا کہ ایک غریب آدمی نماز میں مشغول ہے . اور نماز کا حق جیسا کہ اس کا حق ہے ادا کر رہا تھا...... اس کے چہرہ سے وقارومسکنت معلوم ہوتی تھی..... بس اس نماز کو دیکھ کر عاشق ہو گۓ اور اسی وقت قصد کر لیا کہ اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کروں گا.... اس سے بڑھ کر کون ہو گا.... اس کے اور کسی حال کی تفشیش نہ کی کہ یہ کون ہے ؟.... اس کے پاس کتنا سازو سامان ہے .
جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان سے کہا کہ مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے ..؟ (اس شخص نے آپ کو پہچانا نہیں تھا کہ آپ وہ تارک السلطنت عظیم بادشاہ شاہ شجاع کرمانی ہیں
چنانچہ آپ نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہو گئی یا نہیں .
اس نے کہا کہ ہم جیسوں کو کون لڑکی دیتا ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ میں غریب و مفلس ہوں.
آپ نے فرمایا ! اگر کوئی راضی ہو جاۓ تو منظور کر لو گے . اس نے پھر کہا کہ مجھے کون لڑکی دیتا ہے .
آپ نے فرمایا ! اگر شاہ شجاع اپنی لڑکی کا رشتہ دے تو پھر کیا کرو گے .
یہ سن کر وہ شخص گھبرا گیا اور بولا . بھائی میں کہاں اور کہاں شاہ شجاع اور اس کی بیٹی .
کیوں مجھے جوتیاں مروانے کا ارادہ ہے . آپ کیوں ذلیل بناتے ہو اور کرتے ہو . مذاق کیوں کرتے ہو جاؤ اپنا کام کرو.
آپ نے فرمایا .. واللہ میں نہیں بناتا. تم بتاؤ تو سہی.
اس نے کہا کہ پھر میں ضرور شادی کروں گا اور اسے ان کا تبرک سمجھوں گا.
آپ نے کہا . میں ہی شاہ شجاع ہوں اور بخوشی اپنی بیٹی کا رشتہ تمہیں دیتا ہوں . ہاں اتنا ٹھہرو کہ میں لڑکی سے پوچھ لوں.
چنانچہ آپ گھر میں تشریف لاۓ اور لڑکی سے اس کا زہدوتقوی کا حال بیان کیا اور دلیل یہ بیان کی کہ نماز اچھی پڑھتا ہے....... یہ کچھ بھی نہیں فرمایا کہ دنیا کا مال و متاع بھی کچھ ہے یا نہیں.
غور کریں کہ دلیل کیا اچھی بیان فرما رہے ہیں کہ نماز اچھی پڑھتا ہے .
بیٹی پر بھی باپ کی صحبت کا اثر خوب پڑا ہوا تھا . اور وہ بھی کامل ہو گئی تھیں. ان پر اس دلیل کا کافی اثر ہوا . بولیں کہ مجھ کو منظور ہے مگر اک شرط ہے کہ اس شخص میں حب دنیا نہ ہو . اور آگے آپ کو اختیار ہے .
غرض نکاح کر دیا اور اسے اس کے گھر پہنچا دیا اور نصیحت کی کہ خاوند کی اطاعت کرنا
اب ان صاحبزادی کا حال سنئیے کہ صاحبزادی نے گھر کے دروازے میں قدم رکھا تو دیکھا کہ ایک سوکھی ہوئی روٹی گھڑے پر ڈھکی ہوئی رکھی ہے.
یہ دیکھتے ہی فورا الٹے پاؤں لوٹ پڑیں اور کہا ..... ابا جان نے مجھے کہاں دھکا دے دیا....... اس شخص نے کہا میں تو پہلے ہی سمجھے ہوۓ تھا کہ بادشاہ کی بیٹی مجھ کو کہاں خاطر میں لائیں گی.
صاحبزادی نے کہا بعض گمان گناہ ہوتا ہے . تم نے خیال کیا ہو گا میں تمہاری غریبی دیکھ کر واپس ہوئی ہوں...... سو یہ بات نہیں . میں تو اس روٹی کے لئیے واپس لوٹی ہوں کہ والد نے کہا تھا کہ زاہد و متوکل شخص ہے . اگر تم کو خدا پر توکل ہوتا تو......... اس روٹی کے رکھنے کو کیوں پسند کرتے .
اس نے کہا میرا روزہ تھا . میں نے اس خیال سے روٹی رکھ لی تھی کہ اس سے روزہ افطار کر لوں گا.۰
لڑکی نے جواب دیا کہ تو نے جس کا روزہ رکھا ہے تو اس کا مہمان ہے . اور مہمان کی خبر گیری میزبان کے ذمہ ہے. پھر کیوں اس کو رکھ چھوڑا ہے.........
اس شخص نے فورا اس روٹی کو خیرات کر دیا. تب جا کر وہ گھر میں داخل ہوئیں..!!