Nughman Travels International

Nughman Travels International •Listen with ears of tolerance! See through the
eyes of compassion! Speak with the language
of love �

•Rumi �

22/08/2025
27/06/2025

سیاحتی سیزن شروع ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر ہونے والے حادثات

1- 3 مئی
لوئر کوہستان میں آلٹو گاڑی میں راولپنڈی کی ایک فیملی کے آٹھ افراد گاڑی گہری کھائی میں گرنے کی وجہ سے جان بحق ہوئے۔

ممکنہ وجہ: گنجائش سے زیادہ مسافر، پہاڑوں کے سفر سے ناواقفیت

2- 15 مئی سے 16 مئی
گلگت بلتستان میں گجرات کے چار دوست اپنی گاڑی سمیت لاپتہ ہوئے جن کی لاشیں اور گاڑی تقریبا دس دن کی تلاش کے بعد جگلوٹ سکردو روڈ پر ایک گہری کھائی میں دریا کے ساتھ ملیں.

ممکنہ وجہ: تھکاوٹ و نیند اور رات کی پہاڑی لانگ ڈرائیو

3- 28 مئی
مارتونگ وادی (بونیر) میں لاہور کی ایک فیملی ماں جوان بیٹوں سمیت گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے جاں بحق۔

ممکنہ وجہ: پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ سے ناواقفیت

4- 20 جون

لاہور سے ایک فیملی باپ بیٹا اور کزن ناران بٹہ کنڈی سوہنی آبشار کے گلشئیر کے نیچے تصویریں بنانے کی غرض سے کھڑے تھے کہ اچانک گلشئیر گر کے دبنے سے تینوں ہلاک ہو گئیے

5- 21 جون

کالام، اتروڑ شاہی باغ میں کشتی رانی کرتے ہوئے کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے دس افراد ڈوب گئے جن میں پانچ کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ پانچ ( دو خواتین اور تین بچے) زندہ نہ بچ سکے۔

ممکنہ وجہ: کشتی کا انجن فیل ہو گیا۔ لائف جیکٹ کسی نے بھی نہیں پہنی تھی اور کشتی پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گئی۔

6- 24 جون
کاغان میں ایک گاڑی دریا کنارے گہری کھائی میں جا گری۔ میاں بیوی جاں بحق، چھوٹا بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

ممکنہ وجہ: رات کی ڈرائیو، تھکاوٹ و نیند، راستے سے ناواقفیت

7- 27 جون

مینگورہ دریا سوات کے سیلابی ریلے میں 16 افراد بہہ گئيے۔ دس افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ تین افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

ممکنہ وجہ: غیر مقامیوں کا دریا میں آنے والے سیلابی ریلے کا اندازہ نہ کرسکنا اور کسی پیشگی وارننگ سسٹم کا نہ ہونا۔
Copy

02/05/2025

کچھ عرصہ قبل میں لاہور ٹھوکر نیاز بیگ سے موٹروے پر چڑھ کر گاڑی سائیڈ پر لگا کر اپنی میڈم باس کی کال سن رہا تھا۔ کال ختم ہوئی تو ایک بزرگ جن کی عمر ہو گی لگ بھگ 60 سال۔ پینٹ شرٹ و سویٹر پہنے تھے۔ حلیہ بہت ڈیسنٹ۔ میری گاڑی کے پسنجر سائیڈ کا شیشہ knock کرنے لگے۔ میں نے شیشہ اتارا تو بولے " بیٹا مجھے کوٹ عبدالمالک تک جانا ہے، اگر آپ مجھے وہاں اتار دیں تو آپ کا شکریہ"۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے ایک کارڈ جو انہوں نے ہاتھ میں تھام رکھا تھا وہ آگے بڑھایا اور پھر بولے " بیٹا میں فوج کا رئیٹائرڈ کمانڈو ہو۔ سرگودھا سے تعلق ہے اور سرگودھا ہی سروس رہی"۔

بزرگ تھے لہذا میں نے ان بزرگوں کو اپنے ساتھ پسنجر سیٹ پر بٹھا لیا۔ گاڑی چلی تو بولے " آپ کا گڈ نیم بیٹا ؟ "۔ میں نے کہا " سید مہدی بخاری" ۔۔ ایکدم انہوں نے مصافحہ کرنے کو ہاتھ آگے بڑھاتے اور انتہائی خوش ہوتے کہا " ماشاءاللہ بیٹا، میں سید عامر بخاری۔۔۔ یہ تو اتفاق ہو گیا۔ آپ بھی شاہ جی ہو بیٹا، میں بھی بخاری سید ہوں" ۔۔۔ ساتھ ہی مجھے دعائیں دینے لگے۔ میں نے مصافحہ کیا اور دعائیں دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

پھر بولے " بیٹا بس ایک مجبوری بن گئی ہے۔ دعا کریں وہ ختم ہو جائے۔ بیٹا میں سرگودھا سے یہاں ایک رشتے دار کے ہاں آیا ہوں۔ میری بیگم شوکت خانم ہسپتال میں داخل ہے۔ اس کو بریسٹ کینسر تھا بیٹا۔ اس کا آپریشن ہوا ہے۔ بس کل ہسپتال سے چھٹی مل جائے گی۔ کینسر کا علاج بیٹے نے خود کروایا ہے۔ وہ بھی آپ جتنا ہی ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ سید صدقہ خیرات و زکوۃ نہیں لیتے، ان پر حرام ہے۔ بس بیٹا آج صبح سے پریشانی تھی کہ سرگودھا واپس جانے کے لئے فری ایمبولینس نہیں مل رہی۔ ایک چھوٹا سا ٹیسٹ بھی کروانا ہے۔ 7400 کا خرچ ہے مگر چلو جہاں اللہ نے آج تک ہاتھ نہیں پھیلانے دیا اس کا بھی کوئی وسیلہ بنا ہی دے گا"۔

آپ سچ پوچھیں تو ان بزرگوں کو دیکھ کر میرے جیسے سیانے کا دل بھی پسیج گیا۔ میں چونکہ سفروں میں رہتا ہوں لہذا بہت سے ڈراموں سے بھی واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ ایسے ایسے نوسرباز ہیں اس ملک میں اور ان کے ایسے ایسے واردات کے طریقے ہیں کہ اچھا بھلا سمجھدار انسان بھی لٹ جاتا ہے۔ میرے جیسوں کو جن کو ملک کے طول و عرض میں سفر کے دوران ایسے نوسربازوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے وہ ذرا متجسس بھی رہتے ہیں اور ہوشیار بھی۔ مجھے بس یہ سوچ آئی کہ یہ اچانک ملے، بخاری بھی نکل آئے اور پھر بڑے مہذب طریقے سے اپنی بات بھی کہہ دی اور بات میں خرچہ بھی بتا دیا۔ کیوں ؟

ان بزرگوں کی مدد کرنے سے قبل بس یونہی برائے دلی تسلی یا یوں کہہ لیں کہ اک بار چھان پھٹک کرنے کو میں نے کہا " چچا جی وہ اپنا کمانڈو کا کارڈ تو دکھائیں جو آپ پہلے دکھا رہے تھے"۔ یہ سنتے ہی وہ ایکدم بولے " کیوں بیٹا ؟ خیریت ہے ناں ؟ "۔ میں نے گاڑی چلاتے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا " جی چچا بس دیکھنا ہے مجھے، آپ دکھا دیں"۔ انہوں نے پلٹ کر جواب دیا " بیٹا وہ دیکھ کر کیا کرو گے۔ مولا سلامت رکھے آپ کو، بس مجھے راوی ٹول پلازے پر ہی اتار دیں"۔

میں نے پھر کہا " چچا آپ وہ کارڈ دکھائیں بس، مجھے دیکھنا ہے آرمی کمانڈو کا کارڈ کیسا ہوتا ہے۔ آخر آپ کو دکھانے میں کیا ہے ؟ پہلے بھی آپ خود دکھا رہے تھے۔"۔ یہ سن کر انہوں نے ڈھیلا ڈھیلا سا بٹوہ نکالا اور کارڈ نکالنے لگے۔ پھر تھمانے سے پہلے بولے " بیٹا غلط نہ سمجھنا اس پر نام درست نہیں لکھا ہوا۔ وہ اصل میں ہوا یہ کہ آفس کلرک کی غلطی سے نام کسی اور کا لکھ دیا" ۔۔۔ وہ پتا نہیں کیا کیا بولنے لگے جس کی کوئی منطق نہیں بنتی تھی۔

کارڈ میں نے دیکھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا " اجمل گوندل ولد صمد حسین گوندل"۔ ایڈریس تھا " یو سی 155، سیٹلائٹ ٹاون، تحصیل و ضلع سرگودھا"۔ کارڈ کی پرنٹنگ انتہائی ناقص قسم کی تھی جو کہ پاک فوج جیسے ادارے کی نہیں ہو سکتی۔ فوج کا مونوگرام ہی دھندلا سا اور Blur چھپا ہوا تھا۔ یہ پہلی نظر میں ہی جعلی کارڈ لگ رہا تھا۔ اصلی تو میں نے بھی دیکھ ہی رکھے ہیں۔

چچا کو بھی سمجھ آ چکی تھی۔وہ گھبرا رہا تھا۔ کہنے لگا بس مجھے یہی ڈراپ کر دو بیٹا۔ میں نے کہا " چچا ایسے کیسے، آپ کو ٹھکانے پر اتارتا ہوں"۔ راوی ٹول پلازہ سامنے آیا تو میں نے موٹروے پولیس کے قریب بریک لگا دی۔ چچا اب مجھے بازو سے پکڑ کر میری منت ترلے شروع ہو گیا اور خدا کے واسطے دینے لگا کہ موٹروے پولیس کو نہ بلاو۔

اب آگے کا قصہ مزے کا ہے۔ موٹروے پر انسپکٹر موٹروے موجود تھے۔ تین پھول کاندھے پر سجائے وہ آئے۔ انہوں نے جیسے ہی اس چچا کو دیکھا تو اس سے پہلے کہ میں ماجرا سناتا وہ بولے " میں سمجھ گیا ہوں۔ ان کو ہم نے پہلے بھی پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا مگر پولیس انہیں چھوڑ دیتی ہے" ۔۔۔ !!!!!!

صاحبو، آپ سے بھی گزارش ہے کہ دوران سفر کسی پر بنا چھان پھٹک اعتبار نہیں کرنا۔ ایسے ایسے نوسرباز ہیں کہ آپ کو وہ مکمل اپنی باتوں میں الجھانے کے فن میں ماہر ہیں۔لفٹ دینا آج کے دور میں رسک ہے مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ بالکل نہ دیا کریں۔ مجھے کوئی مجبور نظر آئے تو بٹھا لیتا ہوں کہ خیر ہے۔ زیادہ تر باوردی اہلکاروں کو جو موٹروے انٹرچینج یا رنگ روڈ پر چھٹی کے بعد اپنے گھر جانے کے لیے لفٹ مانگتے ہیں۔صرف ایک بار ہی مجھے پولیس اہلکار ایسا ملا جس کو لفٹ دینے پر افسوس ہوا اور میں پھر اسے آدھ راستے میں اُتار کر بہانہ بنا کر چل دیا۔وہ گاڑی کی ہر چیز کو اُنگلی دے کر کھول دیتا اور پوچھنے لگتا کہ کتنے کی ہو گی۔ سن گلاسز، لائٹر، گاڑی کی قیمت، اور چھوٹے موٹے گیجٹس۔ کیا کام کرتے ہو۔ کتنی تنخواہ ہو گی۔ کتنا کما لیتے ہو۔ اس نے مجھے زچ کر کے رکھ دیا تھا۔ باقی انسان کو خود بھی ہوشیار رہنا چاہئیے۔

17/07/2024

یزید پلید کے دربار میں جب حضرت زینب کبری (علیہا السلام) کی نظر اپنے بھائی امام حسین (علیہ السلام) کے خون آلود سر پر پڑی تو آپ نے ایسی غمناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے ـ

یا حسیناہ !
یا حبیب رسول اللہ !
یابن مکه و منی !
یابن فاطمه الزہراء سیده النساء العالمین ! یابن بنت

المصطفی ۔ اے حسین !
اے محبوب رسول خدا !
اے مکہ و منی کے بیٹے !
اے فاطمہ زہرا سیده نساء العالمین کے بیٹے !
اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے !
_
راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے ـ خدا کی قسم ! حضرت زینب کی اس آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو ـ!

یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا ـ پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین (علیہ السلام) کے لبوں اور دندان مبارک پر لگایا ۔ ابوبرزہ اسلمی (جو کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صحابی تھے اور وہاں پر موجود تھے ) نے یزید کو مخاطب کرکے کہا ـ
_
اے یزید ! کیا تو اس چھڑی سے حسین فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر مار رہا ہے ؟ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) ، حسین اور ان کے بھائی حسن (علیہما السلام) کے لبوں اور داندان مبارک کو بوسہ دیتے تھے اور فرماتے تھے ـ"

تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو ، جو تمہیں قتل کرے ، خدا اس کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لئے جہنم کو آمادہ کرے اور وہ بہت خراب جگہ ہے "!
یزید غصہ میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ صحابی رسولﷺ کو باہر نکال دو ۔!
ایسے حالات میں جو جرات کا مظاہرہ سیدہ ثانی زاھرا نے کیا انکی جرات پر لاکھوں سلام🤲

15/07/2024

کسی نے ذکر کیا تھا علی اکبر کا
میری آنکھوں میں ابھر آئے خدوخال حضور ﷺ ❤️

حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام جنہیں ہمشکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل تھا حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام اپنے بابا جان حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں کہ اب مجھے میدان کربلا میں ظالم یزیدی لشکرکے ساتھ جنگ میں جانے کی اجازت دیجئے
حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنے نوجوان لخت جگر حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام کی پیشانی پر الوداعی بوسہ ثبت کرتے ہوئے جواں سال بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور بیٹے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا اور دعائیں دے کر مقتل کی طرف روانہ کیا کہ بیٹا جاؤ اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرو۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جب سیدنا علی اکبر کو اجازت ملتے دیکھا تو آپ تڑپ کر رو پڑیں ۔حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام شیر کی طرح میدان جنگ میں آئے سراپا پیکر رعنائی سراپا پیکر حسن سراپا پیکر جمال مصطفیٰ و مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی تصویر کامل یزیدی لشکر سے نبرد آزما تھا
حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام مقتل کی طرف بڑھے کہ اپنے بیٹے حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام کی جنگ کا نظارہ کریں وہ دشمن پر کس طرح جھپٹتا ہے؟ لیکن لشکر یزید میں اتنا گرد و غبار چھایا ہوا تھا کہ حضرت سیدناامام حسین علیہ السلام داد شجاعت دیتے ہوئے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کو نہ دیکھ سکے حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام آرزو مند تھے کہ دیکھیں میرا بیٹا حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام کس طرح راہ حق میں استقامت کا کوہ گراں ثابت ہوتا ہے کس طرح یزیدی لشکر پر وار کرتا ہے شجاعت حیدری کے پیکر حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام برق رعد بن کر یزیدی عسا کر پر حملے کر رہے تھے صفیں کی صفیں الٹ رہے تھے لشکر یزید جس طرف دوڑتا حضرت سیدناامام حسین علیہ السلام سمجھ جاتے کہ حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام اس طرف داد شجاعت دے رہے ہیں اسی طرح سمتوں کا تعین ہوتا رہا یزیدی سپاہی واصل جہنم ہوتے رہے حضرت سیدنا علی اکبر علیہ السلام مردانہ وار جنگ کر رہے تھے اور تین دن کے پیاسے تھے گرد و غبار سے فائدہ اٹھا کر گھوڑے کو ایڑی لگا کر واپس آئے عرض کی اباجان اگر ایک گھونٹ پانی مل جائے تو تازہ دم ہوکر بدبختوں پر حملہ کروں حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا بیٹا سیدنا علی اکبر علیه السلام میں تمہیں پانی تو نہیں دے سکتا میری زبان کو چوس لو حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام کی اپنی زبان مبارک خشک ہے امام حسین علیہ السلام نے اپنی زبان مبارک حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کے منہ میں ڈال دی اور حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا بیٹا اسی طرح میرے ناناجان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اپنی زبان مبارک میرے منہ میں ڈالا کرتے تھے شاید وہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میرے منہ میں اپنی زبان آج کے دن کے لئے ڈالتے تھے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام نے اپنے بابا کی سوکھی ہوئی زبان چوسی ایک نیا حوصلہ اور ولولہ ملا پلٹ کر پھر لشکر یزید پر حملہ کردیا اچانک لڑتے لڑتے آواز دی يا ابتاه ادرکنی ابا جان آ کر مجھے تھام لیجئے حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام سمجھ گئے کہ جواں سال بیٹے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کی شہادت کی گھڑی آگئی ہے حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام دوڑ کر حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کی طرف آئے قریب ہوکر دیکھا تو ہمشکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام زمین پر گر چکے تھے لشکر یزید کے کسی بدبخت سپاہی کا نیزہ حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کے سینے میں پیوست ہوچکا تھا حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام زمین پر بیٹھ گئے اپنے زخمی بیٹے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کا بوسہ لیا حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام نے فرمایا اباجان اگر یہ نیزے کا پھل سینے سے نکال دیں تو میں پھر دشمن پر حملہ کروں حضرت سیدناامام حسین علیہ السلام نے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کو اپنی گود میں لے لیا نیزے کا پھل کھینچا تو سینے سے خون کا فوارہ بہہ نکلا اور حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی انا للہ و انا الیہ راجعون حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام اپنے نوجوان لخت جگر حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کواٹھا کر اپنے خیمہ میں تشریف لائے تو خیمہ میں موجود حضرت سیدہ شہربانو سلام اللہ علیہا حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور ننھی حضرت سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا نوجوان حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کے لاشے کو دیکھ کر حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام سے پوچھنے لگیں ظالموں نے حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام کو بھی شہید کردیا حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام نے سب کو صبر کی تلقین فرمائی یوں میدان کربلا میں نوجوان حضرت سیدنا علی اکبر علیه السلام نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا

پبلک سروس میسج /  سائنس کے مطابق سبز درخت یا پانی والی جگہ پر اس وقت  کھڑے  نہ ہوں جب بادل گرج رہے  ہوں اور بارش ہو رہی ...
07/06/2024

پبلک سروس میسج /

سائنس کے مطابق سبز درخت یا پانی والی جگہ پر اس وقت کھڑے نہ ہوں جب بادل گرج رہے ہوں اور بارش ہو رہی ہو ,
بجلی گرنے کے آثار
جب کسی جگہ پر آپ کے سر کے بال یا جسم کے بال اوپر کی طرف کھڑے ہو جائیں,
مقناطیسی حالت محسوس ہو کہ کوئی چیز جسم کی اوپر کی طرف کشش کر رہی ھے
تو یہاں سے فورا" جلدی جلدی نکل جائیں
وھاں پر بجلی گرے گی_____
صدقہء جاریہ سمجھ کر معلومات دوسروں تک پہنچائیں____؟؟
شکریہ

Address

Faisal Plaza
Hafizabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nughman Travels International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share