m.ali & brothers agro center

m.ali & brothers agro center All pesticides dealing on discount rate.

25/11/2022

گندم کی کاشت اور پانی لگانے کی اسٹیجز ۔۔۔
دوستو آج تھوڑی سی بات کر لی جائے گندم کو پانی لگانے کی اسٹیج کے بارے میں تو تفصیل کچھ یوں ہے۔۔
1۔ پہلا پانی۔۔۔
گندم کو پہلا پانی بجائی کے 20 سے 25 دن میں لگانا چاہیے اگرچہ سرد علاقوں میں دورانیہ 25 سے 30 دن کیا جا سکتا ہے ۔۔ گندم کی اس اسٹیج کو crown root initiation stage کہا جاتا ہے ۔۔ کیونکہ اس وقت گندم کے جڑوں کی شکل کسی crown کی طرح ہوتی ہے۔۔ اس وقت پانی نا دینے سے فصل کمزور ہو جاتی ہے بیماری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ٹیلرنگ کم ہو جاتی ہے ۔۔ اور دانے بھی کمزور پیدا ہوتے ہیں۔۔۔
2۔ دوسرا پانی۔۔۔
دوسرا پانی گندم کی بجائی کے 40 سے 45 دن تک لگا دینا چاہیے یہ بھی بہت اہم اسٹیج ہے اس وقت گندم ٹیلرز یعنی جھاڑ بنا رہی ہوتی ہے۔۔ اس وقت پانی کی کمی سے جھاڑ کم بنتا ہے جس کی وجہ سے پیدوار شدید متاثر ہوتی ہے۔۔۔
3۔ تیسرا پانی۔۔۔
تیسرا پانی گندم بجائی کے 70 سے 75 دن بعد لگا دینا چاہے۔۔ یہ بھی انتہائی اہم اسٹیج ہے۔۔ اس کو late jointing stage بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ یہ وہ اسٹیج ہے جس میں گندم کے پودے کے تنے کی گروتھ ہو رہی ہوتی ہے اور انٹرنوڈز بن رہی ہوتی ہے۔۔ اس وقت پانی نا لگانا پودے کو کمزور کر دیتا ہے۔۔۔
4۔چوتھا پانی۔۔۔
گندم کو چوتھا پانی بجائی کے 90 سے 95 دن بعد لگانا چاہیے ۔۔ اس کو flowering stage بھی کہا جاتا ہے عام طور پر دیکھا گیا ہے اس وقت پودے کو پانی کی کمی جلدی ہوتی ہے کیونکہ پودے کے گروتھ کی وجہ سے پودے جلد وتر کو خشک کر دیتے ہیں۔۔ اگر توجہ نا دی تو پانی کی کمی سے دانے کا سائز اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔۔
5۔ پانچواں پانی۔۔۔
گندم کو پانچواں پانی بجائی کے 110 سے 115 دن تک لگا دینا چاہیے۔۔ اس اسٹیج کو dough stage کہا جاتا ہے اس وقت پانی کی کمی سے فی ایکڑ 5 من تک گندم کی پیدوار کم ہو سکتی ہے۔۔۔ اس اسٹیج میں دودھیا دانے کا بننا دانے پر چھلکا آنا اور دانے کو پک کر میچور ہونا شامل ہے۔۔۔

09/02/2022

کیلے کی کاشت. کیلا لذیذ اور خوش ذائقہ پھل ہے جو پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے جدید تحقیق کے مطابق کچے کیلے میں زیادہ حیا تین پائے جا تے ہیں اور کوئی دوسرا پھل نمکیات اور غذائی کے اعتبار سے اسکا مدمقا بل نہیں ہے نیز اس کا فی ایکڑ پیداوار دیگر پھلو ں سے زیادہ ہو تی ہے دنیا میں کیلا پہلے پہل بعض تاریخی شواہد کے مطابق جزیرہ نماملایا یااس کے آس پاس بنگلا دیش کے ان جنگلی پودے کے صورت میں پا یا گیا جو مر طوب تھے پھر آہستہ آہستہ دنیا کے دوسرے گرم طوب علاقوں میں اس کی ا فزائش کی گئی اس وقت کیلا دنیا کے کئی ممالک میں کاشت ہورہا ہیں جن میں میکسیکو،ویتنام ،بھارت،ملایا،جنوبی اور مشرقی افریقہ ،نیوزی لینڈ، سپین ،پر تگال،گوئٹے ملا،برازیل کو سٹا ریکا،برٹش بنڈ یورس،ویسٹ انڈیز اور انڈو نیشیا شامل ہیں۔پاکستان میں کیلا زیادہ تر حیدر آباد ،ٹنڈو الہیار ،مٹیاری، نوشہرو فیروز،شہید بینظیر آباد، میر پور خاص،اور خیرپور، میں کاشت ہو تا ہے یہاں کیلے کی اعلی اقسام کاشت کی جاتے ہیں اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے دوسرے اضلاع پنجاب اور سرحدی علاقوں میں بھی کیلا کاشت کیا جاتا ہے ہمار ے ملک میں کیلے کی فی ایکڑ پیدا وار دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے اگر ہمارے کا شت کار مندرجہ ذیل باتوں کو ملحوض خا طررکھیں تو کیلے کے فی ایکڑ پیداوار میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں ۔ (۱) آب وہوا (۲) ترقی یافتہ اقسام (۳) آبپاشی (۴) پھل کی تیاری (۵) گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی (۶) بیماریوں کا تدارک (۷) زمین کا انتخاب اور تیاری (۸) افزائش پودوں کو سہارا دینا (۹) کھادوں کا متوازن استعمال (۱۰) بروقت برداشت (۱۱) پیداوار۔۔۔۔۔ کیلے کی منافع کاشت کیلئے گرم مرطوب آب وہوا کی ضرورت ہوتی ہے یہ آب وہواخط استوا کے دونوں طرف واقع منطقہ ہائے حارہ میں پائی جاتی ہے کیلے کے منافع بخش کاشت کیلئے وہ علاقہ زیادہ موزوں ہیں جہاں کادرجہ خرارت ۲۷ ڈگری سینٹی گریڈ سے ۲۹ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے اور یہ ۳۵ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاو ز نہ کرے نیز کبھی ۱۵ ڈگری سینٹی گرڈ سے کم بھی نہ ہو ان علاقوں میں سا لانہ اوسط بارش ۳۵سے ۴۰ انچ تک ہو تو زیادہ موزوں تصور کیلے جاتے ہیں اگر بارش کم ہو تو مصنوعی طریقہ سے پانی کا سپرے کیلے کی پیداوار اور کوالٹی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے صوبہ سندھ چونکہ سمندر کے نزدیک واقع ہے اور اس لئے ان علاقوں میں نمی کی شرح زیادہ ہونے سے کیلے کی کاشت کامیاب رہی ہے پاکستان میں آزادی کے بعد اسکی تجرباتی طور پر کاشت شروع کی گئی یہ صوبہ میں اتنی کامیاب رہی کہ اس کا شمار علاقہ کی نقد آور فصلوں میں ہونے لگا اور اس وقت یہ صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں کامیابی سے کاشت کیا جارہاہے۔زمین کا انتخاب اور تیاری : ۔ زمین کا انتخاب اور تیاری کیلے کے لئے ہموار زرحیز اور میرا زمین جس میں 4 تا 5 فٹ کی گہرا ئی تک بہتر نکاس ہو اور اس میں نامیانی مادہ 1-1/2 سے 2 فیصد تک موجود زیادہ موزوں تصور کی جاتی ہے کلرّاور تھوڑ سے پاک زمین میں اس کی بہتر کاشت ہوتی ہے زمین کے تیاری سے پہلے راؤ نی کریں پھر گہرے ہل مثلاً راجہ ہل چزل اور ڈسک پلووعیرہ (جو آپ کی زمین کے لیے موزوں ہوں ) کی مدد سے زمین کو گہرائی تک کھولیں پھر روٹا ویٹریا سہاگہ کی مدد سے زمین کو نرم ہموار اور بھر بھر کر لیں یہ سارا کام جنوری کے مہینے میں مکمل کرلیں۔ترقی یافتہ اقسام : ۔ دنیا میں کیلے کی سینکڑوں اقسام کاشت ہورہی ہیں لیکن پاکستان میں کاشت کی جانے والی اقسام بصرائی یا میر پوری،سلونکل،ولیم ہائبرڈ ،سفری چینی اور چمپا زیادہ مشہور ہیں لیکن ان سب اقسام میں بصرائی زیادہ کامیاب رہی ہے کیو نکہ اس کا پودا قد میں چھوٹا لیکن اس کی پھلیاں موئی گچُھے بڑے اور وزن دار ہوتے ہیں ایک نئی قسم ولیم ہائبرڈ بھی ہے جو بصرائی سے قدر ے بہتر پیداوار دیتی ہے بہر حال جن علاقوں میں کورے کا خطرہ نہ ہوں وہاں بصرائی اور ولیم ہا ئبرڈ اقسام کاشت کریں اور جن علاقوں میں کورے کا خطرہ ہو وہاں فلپائنی اقسام زیادہ موزوں تصور کی جاتی ہیں ۔وقتِ کا شت: ۔ کیلا فروری مارچ اور اگست ستمبر کے مہینوں میں کاشت کیا جا تا ہے لیکن فصل اگانے کا بہترین وقت فروری سے مارچ تک ہے کیو نکہ اس فصل سے نومبر دسمبر تک30 سے 35 فیصدتک پہلی پیداوار لی جا سکتی ہے نیز اگست دسمبر میں کاشت کردہ پودوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔افزائش :۔ کیلے کی افزائش تما م دنیا میں ایک ہی طریقہ سے ہوتی ہے یعنی اسکی افزائش کے لئے جڑوں سے نکلے ہوئے زیر بچوں کو استعمال کیا جا تا ہے زیر بچوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں پہلی قسم تلوار نما اور دوسرے کو جوڑے پتوں والے زیر بچے کہا جا تا ہے کیلے کے تلوار نما زیر بچوں کی کو نپل بہت جاندار اور جڑ موٹی ہوتی ہے اس کی نپلیں بڑے تنے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں تلوار نما زیربچوں کو پتوں والے زیر بچوں پر تر جیح دی جا تی ہے کیو نکہ جوڑے پتوں والے زیر بچے پتوں کی نشوونما کے دوران خوراک کی زیادہ مقدار صرف کرتے ہیں جس سے پھل کو زیادہ خوراک نہیں مل پاتی جوڑے پتوں والے زیر بچے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جس وقت بڑے پودے کاٹ دےئے جا تے ہیں لہذا باغ لگاتے وقت زیر بچوں کے انتخاب میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے عام طور پر فروری مارچ میں لگائے گئے پودوں میں جولائی اگست کے مہینوں میں پھول آنا شروع ہوتے ہیں لیکن ان سے حا صل شدہ پھل بہت کم اور چھوٹے سائز کا ہوتا ہے جو اکثر گر جاتا ہے اور مادری خشک ہوجاتا ہے اس لیے ماہرین کی رائے کے مطابق ابتدائی پودے فصل حاصل کرنے کیلئے نہیں رکھنے چاہیے بلکہ ان مادری پودوں سے اپریل مئی میں نکلنے والے زیر بچوں سے ایک شمشیر نما پتوں والا صحت مندزیر بچہ چھوڑ کر باقی زیربچوں کو کاٹ دیں اس طرح ایک زیر بچہ مئی جون میں اور ایک جولائی اگست میں رکھ کر باقی سب زیر بچے کاٹ دیں یعنی ایک گڑھے میں صرف تین بچے پھل کیلئے رکھے جاتے ہیں۔ ان زیر بچوں کے انتخاب کیلئے درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھیں۔ (1) زیر بچے ایسے پودوں سے منتخب کیے جائیں جن سے اس سے پہلے ایک جیسی اور زیادہ پیداوار حا صل ہوچکی ہو اور ان کے گچُھے اور پھلیاں بڑی قا مت کی ہوں ۔ (2) زیر بچے ہمیشہ تندرست پودوں سے لینے چا ہےءں جن کے عمر6-4ماہ ہو بڑے زیر بچوں سے پھل جلدی آجا تا ہے لیکن گچُھے بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ (3) پودے نکلتے ہوئے اس بات کا خاص حیال رکھیں کہ مادری پودے کی جڑیں زخمی نہ ہوں زیر بچوں کو فورًا بونے ہفتے بعد نئی جڑیں اور کو نپلیں نکل آتی ہیں۔ (4) زیر بچے صحت مند یعنی کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہونے چا ہیے ۔ (5 ) چوڑی پتوں والے زیر بچوں کا انتخاب نہ کریں کیونکہ یہ دیر سے پھل دیتے ہیں اور ان کے کوالٹی بھی خراب ہوتی ہے۔:-طریقہ کاشت جنوری میں تیار شدہ زمین میں 6فٹ کے فاصلے پر 2x2x2 کے گڑھے سے گڑھے اور لائن سے لائن کافا صلے 6 فٹ ہوجائے گا ایک ایک میں 12یا10گڑھے بنیں گے گڑھوں سے نکالی ہوئی مٹی کو15 سے 20 دن کھلی فضامیں رکھیں تا کہ اس کو دھوپ اور ہوا اچھی طرح لگ جائے اور زمین میں موجود جراثیم وعیرہ ختم ہوجائیں پودا لگا نے سے قبل گڑھے میں ایک مٹھی سونا ،ڈی،اے، پی، اور ایک مٹھی ایف ایف سی ،ایس،او،پی اور آدھی مٹھی کے ہلکی 1-1/2تا2 انچ موٹی تہد چڑھا دیںتا کہ پودے کی جڑیں براہ راست کھاد سے مس نہ ہوں یہ عمل کھیت کے تمام گڑ ھوں میں آ پنائیں اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا ایک بوری سونا ڈی،اے،پی ایک بوری ایف ایف، سی، ایس، او، پی یا 3/4 بوری ایف ایف ،سی،ایم،او،پی، اور آدھی بوری سونا یوریا استعمال ہوگی اس کے بعد پانی لگادیں تاکہ گڑھوں کی مٹی بیٹھ جائے اور گوبر کی کھاد گل سڑ جائے اس کے بعد ہر گڑھے میں ایک زیر بچہ رکھ کر اس کے چاروں طرف تقریبا 20 کلو گرام گوبر کی گلی سڑی کھاد کو مٹی کے ساتھ ملا کر گرھے کوبھر دیں اور پاؤں کی مدد سے مٹی اچھی طرح دبادیں تاکہ لگائے ہوئے زیر بچے ہلنے نہ پائیں اور بعد میں پودوں کو ہلکا سا پانی لگا دیں۔آبپاشی:۔ آبپاشی کیلے کی فصل کو دوسرے فصلوں کی نسبت پانی کی ضرورت زیادہ ہو تی ہے کیو نکہ بڑی پتوں کی وجہ سے پانی کا اخراج بزریعہ بخارات زیادہ ہوتا ہے پانی دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ پانی دینے کے بعد جب زمین وتر کی حالت میں آجائے تو دوسرا پانی اور دے دیں اور یہ سلسلہ تواتر سے جاری رکھیں یا گرمیوں کے موسم میں ہر ہفتہ اور سریوں میں دو ہفتوں کے بعد آبپاشی کریں اور کبھی بھی فصل کو خشک نہ ہونے دیں مگر خیال رہے کہ کھیت میں زیادہ پانی نہ کھڑاہو یعنی زمین کو ہموار رکھیں۔کیلے کی فصل کو کُہر سے بچانے کے لئے دسمبر میں باغ میں شام کی وقت ہلکا پانی دیتے رہیں خیال رکھیں کہ باغ میں پانی کھڑا نہ ہونے پائے اس کے علاوہ کیلے کے خشک پتوں کو جلا کر رات کے وقت دھواں کریں اس طرح فصل کُہر سے محفوظ ہوجائے گی۔کھادوں کا استعمال:۔ پودوں کی بہتر اور اچھی پیداوار کے لئے کھادوں کا متناسب اور بروقت استعمال ضروری ہے کھادوں کے منافع بخش اور مؤثر استعمال کیلئے زمین تجزیہ کروائیں تا کہ زمین کے طبعی وکیمیائی خواص کا پتہ لگا یا جا سکے اس مقصد کیلئے آپ قریبی سونا ڈیلر یا ہماری زرعی ماہرین سے رابط قا ئم کرکے ایف ایف سی کی جدید مٹی اور پانی کے تجزیہ کی لیبارٹریوں سے اپنی زمین کامفت تجزیہ کرواکر کھادوں کی صیح مقدار اور طریقہ استعمال کے متعلق سفارشات حاصل کریں ۔اگر آپ نے تجزیہ اراضی نہیں کروایا تو منددرجہ ذیل عام سفارشات کے مطابق کیمیائی کھادیں استعمال کریں۔ نام کھاد پہلے سال کی فصل مئی سے اکتوبر دیگرسالوں کی فصل فروری سےاکتوبر سونا یوریا 3/4 بوری ہر ماہ ایک بوری ہر ماہ سونا ،ڈی،اے،پی 3/4 بوری ہر ماہ ایک بوری ہر ماہ ایف ایف سی ایس او پی ایک بوری ہر ماہ 3/4 بوری ہر ماہ ایف ایف سی ایم او پی 3/4 بوری ہر ماہ 3/4 بوری ہر مامندر جہ بالا شیڈول کے مطابق کھادیں پودوں کے قریب ڈال کر گوڈی کریں اور پانی لگا دیں چونکہ ہمارے اکثر زمینوں میں زنک اور پوران کی کمی موجود ہے لہذا ماہرین کی رائے کے مطابق کیلے کے لئے ہر چار ماہ بعد سو نا زنک 33 فیصد بحساب 6 کلو گرام کے حساب سے استعمال کرنے سے پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں علاوہ ازیں بوران کی کمی کو پورا کرنے کیلئے سونا پوران بحساب 3 کلو گرام فی ایکڑ سال میں ایک مرتبہ استعمال کریں۔نامیاتی مادہ زمین کاایسا اہم جز ہے جوزمین کی مقدار 2 فیصد سے زیادہ ہوتی چاہیے لیکن ہمارے بیشتر زمینوں میں نامیاتی مادہ ایک فیصد سے بھی کم ہے کیلے گوبر کی کھاد بحساب 10-8ٹن فی ایکڑ دسمبر مین استعمال کریں یہ زمین کے طبعی کیمیائی اور حیاتیاتی خواص کو بہتر کرنے ساتھ ساتھ کیمیائی کھادوں کی افادیت بڑھاتی ہے۔گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی:۔ گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلے کی زیادہ تر جڑیں زمین کی سطح کے قریب سے خوراک جزب کر تی ہیں جڑی بوٹیوں کے وجہ سے فصل کو خوراک لینے میں دشواری کاسامنا ریتا ہے لہذا کیلے کی فصل کو ابتدائی مراحل میں ہلکی ہلکی گوڈیاں کر کے جڑی بوٹیوں سے محفوط رکھیں بعد میں جب پودے بڑی ہوجاتے ہیں تو پوری زمین پر سایہ کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جڑی بوٹیاں خود بخود ختم ہوجاتے ہیں جتنی دیر تک ممکن ہو زمین کی اوپر والی سطح کو سخت نہ ہونے دیں کیونکہ زمین سخت ہونے کی صورت میں پودوں کی جڑیں کھاد اور پانی جذب نہیں کر پاتیں اہیں۔پودوں کو سہارادینا: ۔ ایسے علاقے جہاں تندو تیز ہوائیں چلتی ہوں وہاں پودوں کے گر جا نے کے امکانات ہوتے ہیں جو کیلے کی فصل کیلئے بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتے ہیں اس لیے کہ کھیت کے چاروں طرف دیسی کیلے کے پودے لگادیں جوکہ قد میں بڑی ہوتےہیں اور پھلدار پودوں کوہوا کے دباؤ سے محفوظ رکھتے ہیں کیلے کے پودوں پر زیادہ پیداوار اپریل سے لیکر اکتوبر تک حا صل ہو تی ہے البتہ سردیوں میں پیداوار بہت کم ہوتی ہے کیلے کی پیداوار اسکی قسم اور طریقہ کاشت کے علاوہ زمین اور آب و ہوا کے مطابق ہوتی ہے۔کیلے کے گچُھے اس وقت توڑے جائیں جب پھلیاں اپنی جنس کے مطابق تیز ہرے رنک کی ہو جائیں اور یہ پھلیاں موٹی اور گول ہوں گچُھے تو ڑنے کے بعد پھل کو پتوں سے ڈھانپ دیں تاکہ اس میں مناسب نمی موجود رہے پھل کو دوپہر کے وقت نہیں کاٹنا چاہیے۔پھل کی تیاری :۔ کیلے کے لئے پھل کی کٹائی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اس کا پکا نا ہے کیو نکہ اس کے پکائی دوران کچھ کمی رہ جائی ہے گرم موسم میں کیلوں کو ڈبوں یا کریٹوں میں بند کر کے رکھ دیں تو چار سے چھ دنوں میں تیار ہو جاتے ہیں جبکہ اس کے بر عکس سردیوں میں کیلوں کو پکنے میں 8سے10دن لگ جاتے ہے اگر کیلوں کو جلدی پکا نا مقصود ہو تو پھلیوں کو نیم کے تازہ پتوں میں لپیٹ کر کریٹوں میں بند کردیں اگر کیلے کو بڑے پیمانے پر پکانا ہو تو کیلوں کے پتے گوبر اور بھوسے کا ہوا بند کمرے میں دھواں دیا جائے اس طریقہ سے موسم گرما میں 24گھنٹے بعد اور موسم سرمامیں 48گھنٹے بعد کیلا پک کرتیار ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اور طریقوں سے بھی کیلا پکا یا جا تا ہے یعنی زمین میں ایک گڑھا کھود ا جائے اور کیلوں کو پتوں میں لپیٹ کر اس گڑھے میں رکھ دیا جا ئے اس کے بعد ایک اُلٹا گملا گڑھے کے مند پر رکھ کر باقی تمام راستے بند کر دےئے جا ئیں پھر گملوں کی تہہ میں موجود سوراخ کے راستے تک دھواں تین دن صبح شام دیں او ر مکمل ہونے پر پھل کو نکال کر کھلی ہوا میں رکھ دیں اس طرح یہ پھل پک جا ئے گا ۔پیداوارآ :۔ پہلے سال کی نسبت دوسرے سال میں پیداوار 4 گنازائد حا صل ہوتی ہے اور ایک جیسی رہتی ہے اچھی زمین مناسب منصوبہ بندی اور کھاد وں کے متوازن اور متنا سب استعمال سے کیلے کی فی ایکڑپیداوار کوموجودہ پیداوار سے کافی حد تک بڑھا نے کی گنجائش ممکن ہے

09/02/2022

*السلام علیکُم!

*مارچ میں کن بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے؟*

سردیوں کے بعد درجہ حرارت کے تبدیل ہوتے ہی پودوں پر مختلف بیماریوں، بیکٹریاز، فنگس، کیڑے مکوڑوں اور وائرس کا حملہ ہو جاتا ہے۔ ذرا سی احتیاط اور ادویات کے استعمال سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس موسم میں زیادہ تر بیکٹیریل اٹیک ، فنگل اٹیک ، مختلف کیڑے مکوڑے کا حملہ اور وائرس اٹیک ہوتے ہیں۔

*فنگل اٹیک*

ویسے تو ہماری زمین پر ہر وقت ہی فنگس موجود ہوتی ہے مگر اس کو پھیلنے کے لیے گرمی اور ہوا میں نمی چاہیے ہوتی ہے۔ بہار کا آغاز ہوتے ہی بارشوں اور گرمی کے اضافے کے ساتھ ہی فنگس بھی پودوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے:-
جب پودوں پر فنگس کا حملہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے پتوں پر پیلے ،کالے ، زرد رنگ کے دھبے نمودار کرنے لگتا ہیں۔۔ تو اس حالت میں پودوں پر فنجسائیڈ کا اسپرے کرنا چاہیے ہے۔
بیکنگ سوڈا یا سرف کو پانی میں مکس کر کے پودوں پر اسپرے کرنا چاہیے۔

*بیکٹیریل اٹیک*

بیکٹیریا بہت چھوٹے ہوتے ہیں جو عام آنکھ سے نہیں دیکھے جا سکتے۔۔۔جب پودوں پر بیکٹیریا کا حملہ ہوتا ہے تو اس کے پتوں پر بہت چھوٹے چھوٹے سے نشان جیسے پینسل کے نشان ہوتے ہیں۔۔۔ پتوں اور پھل پر نمودار ہونے لگتے ہیں
ان علامات کے نظر آتے ہی پودوں پر کاپر بیس ادویات کا اسپرے کرنا چاہیے۔

فنگل اور بیکٹیریل اٹیک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دس سے پندرہ دن کے بعد پودوں پر اسپرے کرتے رہیں۔۔۔خاص طور پر بارشوں کے بعد تو لازمی طور پر پودوں پر فنگل اٹیک ہو جاتا ہے اس لیے بیکٹیریل اور فنگل اٹیک سے بچاؤ کے لیے اسپرے لازمی کریں۔ infected leave کو لازمی طور پر remove کر دیں۔اور پودوں سے دور پھینک دیں۔ ورنہ پودوں پر ہوا کے ذریعے دوبارہ حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

*کیڑے مکوڑوں کا حملہ*

مچھر، مکھیاں، تیلا، سبز تیلا، thrips ،white fly، mealybugs, aphids ,۔۔وغیرہ نا صرف پودوں کا رس چوس کر اسے کمزور کرتے ہیں بلکہ پودوں میں مختلف بیماریوں کو منتقل کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔۔جب یہ حملہ آور ہو جائیں تو فوراً pesticides spray کریں۔
سب سے آسان pesticide spray جو منٹوں میں تیار ہو جاتا ہے وہ ہے۔۔۔ایک لیٹر پانی میں ایک چمچ liquid dish wash, ایک چمچ آئل مکس کر کے پودوں پر اسپرے کریں:-

*وائرس اٹیک*

اس میں پتوں پر curls پڑنے لگتے ہیں ۔پتے اوپر کی طرف مڑنے لگتے ہیں ۔ ایسا زیادہ تر ٹماٹر، مرچ، رات کی رانی، زینیا میں نظر آتا ہے۔یہ بیماری pests کی وجہ سے ایک پودے سے دوسرے پودے میں پھیلتی ہے ۔
اس کے لیے home made pesticide spray کر کے دیکھیں اگر فرق نظر آۓ تو بہتر ورنہ پودے کو تلف کر دیں۔
100g دہی
100g لہسن
کو blender میں ڈال کر بلیڈ کر لیں اور اسکو ایک جگ پانی میں مکس کر دیں ۔۔اور چھان کے پودوں پر اسپرے کریں اگر اس مکسچر کو سات دن کے بعد استعمال کریں تو زیادہ اچھے نتائج ملتے ہیں۔ یہ اسپرے لیف کرل کے ساتھ ساتھ pests سے بھی نجات دلاتا ہے۔

اگر کوئی فرق نظر نہ آۓ تو ۔۔۔بس ایک ہی حل ہے کہ پودے کو تلف کر دیا جائے ورنہ یہ دوسرے پودوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے
کاپی

09/02/2022

زرعی زہروں اور ادویات کو استعمال کرنے سے پہلے ان ہدایات اور معلومات کو لازمی زہن میں رکھیں۔ شکریہ

1۔ پیراتھراءیڈ گروپ
اس گروپ کی زہریں زیادہ تر لمسی اثر رکھتی ہیں یعنی کیڑے کے اوپر گرنے سے یا زہر الود پتوں پر کیڑے کے گزرنے پر کیڑے کو تلف کر دیتی ہیں ان کی فی ایکڑ مقدار کم استعمال ہوتی ہے اور فصل پر منفی اثر بھی کم ہوتا ہے اس گروپ میں شامل زہریں
بائفنتھرین
ڈیلٹامیتھرین
سائپرمتھرین
بیٹاسائفلوتھرین
آلفاسائپرمتھرین
لیمڈاسائہیلوتھرین
آور جدید ترین زہر گیماسائہیلوتھرین

2۔ آرگینوفاسفیٹ گروب
اس گروپ کی زیریں عموما سراءیت پزیر ہوتی ہیں فصل کے اندر جذب ہو کر کیڑے کو کنٹرول کرتی ہیں ان فی ایکٹر مقدار زیادہ استعمال کرنی پڑتی ہے اور فصل پر منفی اثر بھی کرتی ہیں جیسے
کلوروپیریفاس(کلوری)
پرفینوفاس
ٹرائ ایزوفاس
آیسیفیٹ
ڈائمیتھوءیٹ
دوستو اب اتے ہیں ان کے استعمال کے بارے میں اگر اپ پیراتھرائڈ گروپ کی زہریں بار بار سپرے کرتے رہیں تو گلابی سنڈی کا حملہ نہیں ہو گا گلابی کو کنٹرول کرنے کا یہی اصول ہے اس کا حملہ ہو جانے کی صورت میں کنٹرول مشکل مہنگا اور فصل کے لئے خطرناک ہوتا ہے حملہ ہونے کی صورت میں ایک پیراتھرائڈ اور ایک ارگینوفاسفیٹ گروپ کی زہروں کا مکسچر بنا کر سپرے ہو گا
کاشتکار بھائیو جتنے بھی مکسچر سنڈیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں وہ اسی اصول کے تحت بنائے گئے ہیں مٹال کے طور پے
1 پولیٹرین سی (سائپرمتھرین+ پرفینفاس)
2 ڈیلٹافاس
(ڈیلٹا+ ٹرائ)
بولٹن
(گیماسئیہلوتھرین +کلوروپیریفاس)
(بیٹاسائ+ ٹرائ)
آیڈر پلس
(لیمڈا+ ٹرائایزو)..............................................اگر پھپھوند کُش ادویات کی اسپرے کے چند کھنٹے بعد بارش ہو جائے تو؟*

پھپھوند کُش ادویات دو طرح کی ہیں۔
1- لمسی ایکشن contact
2- سرایت پزیر systemic
پہلی وہ پھپھوند کُش ادویات ہیں جو صرف پودے کے اوپر موجود فنگس کو ہی ختم کر سکتی ہیں۔ جبکہ سرایت پزیر نہ صرف پودے کے اوپر موجود فنگس کا تدارک کرتی ہیں بلکہ فنگس کا وہ حصہ جو پودے کے اندر ہوتا ہے اس کا بھی تدارک کر دیتی ہیں۔

سرایت پزیر ادویات پودے کے اندر پہنچ کر لمبے عرصے کیلئے تحفظ نہیں دیتیں بلکہ یہ فنگس کے اندر پہنچ کر اس کا وہ حصہ بھی تلف کر دیتی ہیں جو پودے کے اندر ہوتا ہے اسلیئے بیماری زیادہ وقت کیلئے قابو میں رہتی ہے۔

*اگر اسپرے کے چند کھنٹے بعد بارش ہو جائے تو کیا دوبارہ اسپرے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟
*
*جی نہیں*

‏contact ایکشن والی ادویات کچھ دیر میں فنگس کو تلف کر دیتی ہے اور یہی اسکا کام ہے اسلیئے اسے بارش کی صورت میں فوری دوبارہ اسپرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جو systemic ایکشن والی ادویات ہیں وہ چونکہ فنگس کے اندر چلی جاتی ہیں اسلیئے انہیں بھی بارش کی صورت میں دوبارہ اسپرے کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔

اسپرے کے بعد بارش کی صورت میں فوری دوبارہ اسپرے کی ضرورت کا انحصار دوائی سے زیادہ پودے کی حالت پر ہے۔ اگر آم کے پودے پر پھول موجود نہیں تو دوبارہ اسپرے کی ہرگز ضرورت نہیں تاہم اگر پھول تیزی سے بڑھ رہے ہیں تو دوبارہ اسپرے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

اسپرے کے بعد جو پھول نکلتے ہیں وہ پہلے کی گئی اسپرے سے محفوظ نہیں ہوتے البتہ جن پر اسپرے ہو جاتی ہے وہ تقریبا سات دن تک محفوظ رہتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ دوائی contact ہو یا systemic صرف بیماری کو پودے پر اسی جگہ کنٹرول کرتی ہے جہاں یہ اسپرے پہنچتی ہے اور جہاں دوائی نہیں پہنچتی وہاں بیماری نقصان کر سکتی ہے۔

یہ سوچ کہ دوائی systemic ہے شاخ پر جہاں بھی گرے گی پوری شاخ میں پھیل جائے گی درست نہیں۔ گویا دوائی جو بھی اسپرے کریں یہ تسلی کریں کہ دوائی پودے پر ہر جگہ پہنچ گئی ہے۔ دوائی کی پودے پر درست ترسیل کسی بھی بیماری کے موئثر کنٹرول کی بنیاد ہے۔

کسی بھی بیماری کی شدت کی صورت میں ہمیشہ پہلا اسپرے contact اور دوسرا systemic ادویات کا کریں اور اگر اُس بیماری کیلئے contact fungicide دستیاب نہیں تو ماہرین سے مُشاورت کے بعد اسپرے کریں۔

یاد رکھیں تمام پھپھوند کُش ادویات بیماری کو آنے سے روکتی ہیں اور کوئی دوائی بیماری کا علاج نہیں ہے۔

09/02/2022

گندم کو بھڑولے میں کیسے سنبھالنا ہے؟ آپ بھی جانئے!

الحمد اللہ آجکل گندم کی گہائی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اضافی گندم بیچنے کے بعد ضروری ہے کہ بقیہ گندم کو اچھے طریقے سے سٹور کیا جائے۔
عام طور پر گندم، گھر میں کھانے کے لئے اور بیج وغیرہ کے مقصد کے لئے بھڑولوں میں سٹورکی جاتی ہے. لیکن بھڑولوں میں سٹور کی ہوئی گندم میں کئی ایک حشرات اور کیڑے مکوڑے حملہ آور ہو کر نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں. گندم کے بھڑولوں میں زیادہ تر کھپرا، گندم کی سُسری، آٹے کی سُسری، گندم کا پروانہ اور گندم کی سونڈ والی سُسری جیسے حشرات پائے جاتے ہیں. اگر مناسب طریقے سے گندم کو سٹور نہ کیا جائے تو شدید حملے کی صورت میں یہ گندم کا 10 سے 18 فیصد تک نقصان کر سکتے ہیں. لہذا بہت ضروری ہے کہ گندم کو نہائیت احتیاط اور سمجھداری سے سٹور کیا جائے.
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ گندم کو سٹور کیسے کرنا ہے.
گندم کو سٹور کرنے سے پہلے دو تین دن دھوپ لگوا لیں تاکہ اس میں سے نمی اچھی طرح سے نکل جائے. اگر گندم میں نمی زیادہ ہوگی تو کیڑے اور پھپھوندی لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

گندم کے بھڑولے میں کتنی گندم والی گولیاں رکھنی چاہئیں؟

بھڑولے کو اچھی طرح سے صاف کر کے اسے گندم سے بھر لیں. بازار سے کسی بھی اچھی کمپنی کی گندم والی گولیاں خرید لیں. ان گولیوں میں ایلومینیم فاسفائیڈ نامی ایک زہر ہوتا ہے جو بازار میں مختلف کمپنیاں اپنے اپنے ناموں سے بیچتی ہیں۔
8 من گندم کے لئے صرف ایک گولی ڈالنی چاہئے.
اس طرح 25 من گندم کے لئے 3 گولیاں اور 50 من گندم کے لئے 6 گولیاں کافی ہیں. یاد رکھیں کہ بتائی گئی مقدار سے زیادہ گولیاں گندم میں ہرگز نہ رکھیں. اس سے کئی طرح کے نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے.

بھڑولے میں گولیاں کیسے رکھنی چاہئیں؟

عام طور پر کاشتکار حضرات بھڑولے میں گولیاں رکھتے ہوئے انہیں کپڑے کی پوٹلی میں باندھ لیتے ہیں. پھر اس کے بعد یہ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے بھڑولے کے پیندے میں گولیاں پھینک کر اس کے اوپر گندم ڈال دیتے ہیں. پھرمزید گولیاں ڈال کر اوپر گندم ڈال دی جاتی ہے اور آخر میں‌ جب بھڑولہ بھر جاتا ہے تو پھر گولیاں گندم کے اوپر پھینک کر انہیں‌ دانوں میں دبا دیتے ہیں.
واضح رہے کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے.
سب پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے گولیاں‌ پوٹلی میں بالکل نہیں باندھنیں بلکہ انہیں‌ کسی کھلے برتن مثلاََ چائے والے کپ یا پیالی وغیرہ میں ڈال کر رکھنا ہے. برتن کو اوپر سے ڈھانپنا بالکل نہیں ہے.
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ یہ گولیاں بھڑولے کی ہوا میں موجود نمی کے ساتھ عمل کر کے ایک طرح کی زہریلی گیس (فاسفین) پیدا کرتی ہیں. لہذا اگر آپ گولیاں‌ کسی کپڑے کی پوٹلی میں‌باندھ کر رکھ دیں گے تو یہ کپڑا ہی نمی کو جذب کر تا جائے گا اور نمی ان گولیوں تک کم پہنچے گی جس کی وجہ سے زہریلی گیس بھی کم پیدا ہو گی. اور ظاہر ہے کہ پھر اس کا اثر بھی کیڑوں مکوڑوں پر کم ہی ہو گا. لہذا گولیاں بغیر پوٹلی میں باندھے کھلے برتن میں رکھنی چاہئیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو یہ گولیاں گندم کے دانوں میں دبانے کی ضرورت نہیں ہے. بلکہ گولیاں برتن میں ڈال کر برتن کو دانوں کے اوپر ہی رکھ دیں۔
ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آ رہی ہو کہ اس طرح گولیوں کا اثر دس بارہ فٹ نیچے پڑی ہوئی گندم تک کیسے پہنچے گا؟
اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ ان گولیوں سے نکلنے والی زہریلی گیس اپنے چاروں طرف پندرہ پندرہ فٹ تک گندم میں جذب ہو کر کیڑوں کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. گندم والی ایک گولی 3 گرام کی ہوتی ہے جس میں سے ایک گرام زہریلی گیس نکلتی ہے. اس گیس میں گندم کے اندر جذب ہونے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے .اس لئے آپ کو اس حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ گولیوں کا اثر نیچے تک نہیں جائے گا.
ایک اور بات ذہن میں رہے کہ جب آپ گولیاں کسی برتن میں رکھیں گے تو گولیوں سے گیس نکلنے کے بعد جو پیچھے گولیوں کی راکھ وغیرہ بچ جاتی ہے وہ آپ برتن سمیت اٹھا کر باہر پھینک سکتے ہیں. لیکن پوٹلی میں بندھی ہوئی گولیوں کی کچھ نہ کچھ راکھ گندم کے دانوں میں مکس ہو سکتی ہے. ظاہر ہے زہریلے مادے کی راکھ صحت کے لئے فائدہ مند تو نہیں ہو سکتی.

بھڑولے کو ہوا بند کرنا کیوں ضروری ہے؟

جیسا کہ آپ کو پہلے بتایا جا چکا ہے کہ گندم کی گولیاں ہوا میں موجود نمی کے ساتھ مل کر فاسفین نامی ایک انتہائی زہریلی گیس پیدا کرتی ہیں جس سے سارے کا سارا بھڑولہ بھر جاتا ہے. بھڑولے میں موجود کیڑے پتنگے جب اسی زہریلی گیس میں سانس لیتے ہیں تو سانس کے ذریعے یہ گیس ان کے خون میں‌شامل ہو کر انہیں جان سے مار دیتی ہے. لہذا ضروری ہے کہ یہ گیس کم از کم دو ہفتے تک بھڑولے میں موجود رہے. اگر یہ گیس بھڑولے سے لیک ہو گئ تو کیڑے وغیرہ تلف نہیں ہوں گے. اور گندم میں گولیاں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.
لہذا ضروری ہے کہ بھڑولے کو گولیاں رکھنے کے فوراََ بعد ہوا بند کر دیا جائے.

بھڑولے کو ہوا بند کیسے کیا جا سکتا ہے؟

بھڑولے کو ہوا بند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بھڑولے میں دانے ڈالنے اور دانے نکالنے والی دونوں جگہوں کو اچھی طرح سے سیل بند کیا جائے. اس مقصد کے لئے آپ آٹے کی لیوی بھی استعمال کر سکتے ہیں یا پھر مٹی میں باریک توڑی اور گوبر مکس کر کے اسے کام میں‌لا سکتے ہیں. ڈھکنوں کو اچھی طرح بند کر کے ان کے جوڑوں پر اس طرح سے لیپ کر دیں کہ کسی طرف سے بھی ہوا خارج نہ ہونے پائے. اگر ہوا خارج ہو گئی تو سارا کیا دھرا بے فائدہ ہو جائے گا.

بھڑولے کو کتنے دن بعد کھولنا چاہئے؟

بھڑولے کو ہوا بند کرنے کے بعد دو ہفتے تک کھولنا نہیں چاہئے تاکہ بھڑولے میں موجود گیس اچھی طرح سے کیڑوں مکوڑوں کو تلف کر دے. دو ہفتے کے بعد آپ بھڑولے کو کھول دیں اور کم از کم دو دن تک کھلا رکھیں تاکہ بھڑولے میں موجود زہریلی گیسیں اچھی طرح سے نکل جائیں. یاد رکھیں کہ بھڑولا کھولنے کے دو دن بعد تک گندم کھانے کے لئے استعمال نہ کریں. گندم کو گیس کے زہرلے اثرات سے مکمل طور پر پاک ہونے کے بعد ہی اپنے استعمال میں لائیں.

بھڑولے میں گولیاں‌کب رکھنی چاہئیں؟
عام طور پر ہمارے کاشتکار جب اپریل مئی کے مہینوں میں‌ بھڑولے بھرتے ہیں تو اسی وقت بھڑولوں میں گندم کی گولیاں رکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہماری گندم پورے سال کے لئے حشرات وغیرہ سے محفوظ ہو گئی ہے.
لیکن ایسے بھڑولے جن میں اپریل مئی کے مہینوں میں گولیاں رکھی گئی ہوں، جسے ہی جولائی کا مہینہ آتا ہے تو کھپرا، سسری اور دوسرے کیڑے مکوڑے بھڑولوں میں موجود گندم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں.
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حشرات اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب ہوا میں نمی کی مقدار ایک خاص حد سے زیادہ ہو جاتی ہے. اپریل مئی میں تو نمی بہت ہی کم ہوتی ہے جبکہ جولائی میں بارشوں وغیرہ کی وجہ سے ہوا میں نمی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے. لہذا گولیاں رکھنے کا بہترین وقت یہی جولائی کا مہینہ ہے. جیسے ہی ہوا میں نمی کی وجہ سے کیڑے مکوڑے گندم کے اندر متحرک ہونا شروع ہوں تو ساتھ ہی آپ اس میں گولیاں رکھ کر ان کا خاتمہ کر دیں.
امید ہے کہ آپ اس مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی گندم بہتر انداز میں بھڑولوں میں محفوظ رکھ سکیں گے.

السلام علیکم! ہم سیڈز کو بھگوتے کیوں ہیں ؟ پانی میں بھگونے سے بیج نرم ہو جاتا ہے اور 5 سے 7 دنوں میں جرمینیٹ ہو جاتا ہے ...
09/02/2022

السلام علیکم!

ہم سیڈز کو بھگوتے کیوں ہیں ؟

پانی میں بھگونے سے بیج نرم ہو جاتا ہے اور 5 سے 7 دنوں میں جرمینیٹ ہو جاتا ہے ۔ اگر ہم نا بھگوئیں تو دو دو ہفتے انہیں جرمنیشن میں لگ جاتے ہیں ۔ اگر ہم دودھ میں بھگوئیں تو وہ پانی سے جلد جرمینیٹ ہو جاتے ہیں وجہ دودھ میں کیلشیم ہوتا ہے جو بیج کے لیئے فرٹیلائزر کا کام کرتا ہے اور جلد اگ جاتا ہے ۔

■ کس کس سیڈ کو کتنا بھگونا ہے ؟

پالک : 24 گھنٹے
دھنیا : 24 سے 48 گھنٹے
کدو : 24 گھنٹے نمکین پانی میں
ٹینڈے : 24 گھنٹے
بھنڈی : 24 گھنٹے
گھیا توری : 10 سے 12 گھنٹے
کریلا : 12 گھنٹے ( دودھ میں کچھ لوگ بھگو لیتے ہیں )
تر / کھیرا : 8 سے 12 گھنٹے
خربوزہ : 24 گھنٹے
تربوز : 20 منٹ گرم پانی میں آبالیں گے پھر اسے ٹھنڈا کریں

♡ زیادہ ٹائم بھگونے سے سیڈز گل سکتے ہیں ۔

■ سیڈز کس درجہ حرارت پہ لگائیں ؟

پالک : 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
دھنیا : 10 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
کدو : 18 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
ٹینڈے : 15 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
بھنڈی : 20 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
گھیا توری : 25 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
کریلا : 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
تر / کھیرا : 21 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
خربوزہ : 21 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ
تربوز : 21 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہو

■ سیڈز سے سیڈز کا فاصلہ گہرائ ، قطار کتنی رکھیں ؟

پالک : آدھا انچ سے ایک انچ گہرائ ہو گئ
بیج سے بیج کا فاصلہ 3 سے 5 انچ
قطار سے قطار کا فاصلہ 14 سے 18 انچ

● پالک کے بیج چٹکیوں سے لگائیں 6 سے 8 دانے

دھنیا : بیج آدھا انچ گہرائ میں لگائے جائیں گے
بیج سے بیج کا فاصلہ 2 سے 3 انچ رکھیں
قطار سے قطار کا فاصلہ 8 سے 10 انچ رکھیں

● دھنیا کے سیڈز چٹکی سے لگائیں 8 سے 10 دانے

کدو : بیج 1 انچ گہرائ میں لگائے جائیں گے
بیج سے بیج کا فاصلہ 24 انچ رکھیں
قطار سے قطار کا فاصلہ 6 سے 10 فٹ رکھیں

ٹینڈے : بیج 1 انچ گہرائ میں لگائے جائیں گے
بیج سے بیج کا فاصلہ 4 سے 6 انچ رکھیں
قطار سے قطار کا فاصلہ 6 سے 8 فٹ رکھیں

● دو دو سیڈز اکھٹے لگیں گے تاکہ کوئ ایک جرمینیٹ ہو

بھنڈی : بیج ایک انچ گہرائ میں لگائے جائیں گے
بیج سے بیج کا فاصلہ 5 سے 6 انچ رکھیں گے
قطار سے قطار کا فاصلہ 18 انچ رکھیں

● دو دو سیڈز ایک ساتھ لگائیں تاکہ کوئ ایک جرمینیٹ ہو


گھیا توری : بیج 2 انچ گہرائ میں لگائے جائیں گے

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمالسلام علیکمنعیم انجم کمبوہ- (گوجرہ سے)ایک بیج سے کھیتی باڑی کرنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟How to lea...
09/02/2022

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم
نعیم انجم کمبوہ- (گوجرہ سے)

ایک بیج سے کھیتی باڑی کرنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟
How to learn agriculture from one seed?

آج کا موضوع ایسے کاشتکاروں کے لیے ہے جو کھیتی باڑی میں نئے ہیں یا ابھی کھیتی باڑی کے شعبے میں آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کو سیکھانے اور بتانے والا کوئی نہیں ہے۔

اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں اور کھیتی باڑی میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں تو ہم کھیتی باڑی صرف ایک بیج سے شروع کر کے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً آپ مرچ کا ایک بیج لیں اور مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات کسی ماہر کاشتکار سے لیں یا کسی اور سورس جیسے کے یوٹیوب، گوگل وغیرہ سے اور لکھ لیں ذہین نشین کر لیں اور پھر ان کو اپلائی کریں گے تو آپ ماہر تو نہیں بن سکیں گے لیکن اتنی کھیتی باڑی کرنا ضرور سیکھ لیں گے کہ مناسب فائدہ حاصل کر سکیں گے اور نقصان سے بچ جائیں گے۔ ان شاءاللہ

1- اگر ہم سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے ہم مارکیٹ میں دیکھیں گے کہ کونسی فصل اچھا منافع دے رہی ہے اور اس فصل کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں گے مثلاً خرچ کتنا ہے، کہاں بیچنی ہے اور منافع کتنا ہو گا۔

(مثلاً مرچ کا سوچا کہ ایک ایکڑ میں 50 من تک نکل آتی ہے اور 3 سے 4 لاکھ تک منافع دے سکتی ہے)

2- جب ہم فصل سلیکٹ کر لیں گے تو دیکھنا ہو گا کہ اس فصل کا موسم بھی ہے کہ نہیں۔ پنیری لگانی ہے کہ ڈائیریکٹ کھیت میں بیج لگانا ہے۔

(موسم کا دیکھا کہ ٹنل کے بغیر فروری میں کھیت میں لگائی جا سکتی ہے)

3- اگر پنیری لگانی ہے تو کتنے دن میں تیار ہوگی اور کب کھیت میں شفٹ کرنی ہے۔

(پتا چلا کہ مرچ کی پنیری لگائی جاتی ہے اور 25 سے 35 دن کے بعد شفٹ کر سکتے ہیں یا پانچ چھ پتے آنے پر۔ لہذا ہمیں سردی میں لگانی پڑے گی اور اس کے لیے ہمیں سردی سے بچاؤ کے لیے ٹنل میں لگانی پڑ سکتی ہے)

4- اسکے بیج کے بارے میں سوچیں کہاں سے ملنا ہے اور کب ملنا ہے اور کونسی ورائٹی کا لگانا ہے۔

(ہائبرڈ بیج جس کی سرخ پیداوار زیادہ ہو نی ہے مثلآ سیمنیس کا 7864 کا سوچ لیا اور بیج ہم نے آن لائین خریدے یا منڈی میں بیج کی دکان سے ہائبرڈ بیج مل گیا)

5- اگر پنیری لگانی ہے تو کیسے لگانی ہے۔ ٹرے میں، تھیلیوں میں، کیاریوں میں یا بیڈ بنا کر لگانی ہے۔

( پنیری کے لیے سیڈلنگ ٹرے کا انتظام کر لیا۔ آن لائن منگوا لی۔ لیڈ ٹائم ذہن میں رکھنے کے کتنے دن میں آئیں گی۔ اس کے علاوہ ٹنل کی ضرورت نہیں تھی کمرے میں ہی رکھ لیں گے)

6- پنیری کو لگانے کے لیے میڈیم کونسا استعمال کرنا ہے؟ بھل، پیٹ موس، کوکوپیٹ، مٹی، کمپوسٹ وغیرہ۔

( پیٹموس بھی آنلائن منگوا لی یا منڈی سے بیج والی دکان سے ہی مل گئی)

7- پنیری کو کونسی کھاد دینی ہے یا سپرے کرنا ہے، کتنا اور کب پانی دینا ہے

(این پی کے کھاد پیٹموس کے ساتھ مکس کر کے لگایا بیج اور اسکو موئسٹ رکھنا)

8- پنیری اگر ٹنل میں تھی تو اس کو شفٹ کرنے سے پہلے محول سے مطابقت کیسے دلوانی ہے، میڈیم سمیت شفٹ کرنی ہے یا صرف جڑوں کے ساتھ۔ شفٹ کرنے سے پہلے کوئی ٹریٹمنٹ کرنی ہے جڑوں کو نہیں؟

(مرچ کا پودا شفٹ کرنے سے پہلے دو تین دن کے لیے ٹنل سے باہر رکھ کر دھوپ لگوائی کچھ دیر کے لیے اور پھر جڑوں کو ویسٹ ڈی کمپوسٹ بیکٹیریل سولوشن میں ڈپ کر رکھ دیا ٹرانسپلانٹ کے لیے۔)

9- زمین کس طرح کی مناسب ہوگی۔ اور زمین کی تیاری کیسے کرنی ہے

(گملے میں لگانے کے لیے پوٹی مکس تیار کی، 40 فیصد بھل، 45 فیصد ریت اور 15 فیصد چکنی مٹی)

11- بنیادی کھادیں کون سی استعمال کرنی ہے

(ڈی اے پی کھاد مکس کر دی ساتھ گملے کی مٹی میں)

12- پانی کونسا استعمال کرنا ہے۔ نہری یا ٹیوبویل کا؟ پانی کیسے دینا ہے فلڈ یا ڈرب ایریگیشن؟ پہلا پانی کب دینا, کتنے پانی دینے ہیں اور کس سٹیج پر دینے ہیں

(نہر کے کنارے لگے ٹیوبویل سے گھر میں آنے والا پانی استعمال کیا اور ٹرانسپلانٹ کرتے ہی پانی دے دیا اور جب بھی گملے کی مٹی ڈیڑھ انچ تک خشک دیکھی پانی دے دیا اور اتنا دیا کہ پانچ سے دس منٹ می ہی جذب ہو گیا کھڑا نہیں رہنے دیا)

13- بیماریاں کونسی آ سکتی ہیں

(فنگس کا زیادہ تر اٹیک ہوتا ہے)

14- دوائیاں کونسی اور کتنی مقدار میں دینی ہیں۔

(فنگس کے لیے آرگینک سولوشن بنا کر رکھ لیے جیسے کہ سلفر کا سولوشن، گاربیج انزائم، ویسٹ ڈی کمپوسٹ، لہسن اور سرخ مرچ کا سولوشن، نیم آئل۔اور سرف کا سولوشن)

15- پھول اور پھل لگنے پر کونسی اور کتنی کھاد دینی ہے۔

(ابھی زیادہ ماہر نہیں تو کھادوں کے لیے یونیورسل قسم کی کھاد کا انتخاب کیا جیسا کہ ہائیڈروپونیکا اور لیبل پر دی گئی ہدایات کے مطابق پانی میں حل کر کے دی)

16- برداشت کیسے کرنی ہے۔

(کچن میں ہری استعمال کرنی ہے یا پاؤڈر بنانا ہے سرخ مرچ کا۔ اسی حساب سے توڑی)

17- محفوظ کرنی ہے تو کیسے کرنی ہے اور کتنے وقت تک کر سکتے ہیں، ماحول کیسا ہونا چاہیے

(ائیر ٹائیٹ ڈبے میں چھ ماہ تک بغیر رنگ بدلے محفوظ ہو سکتی ہے، ثابت ڈنڈی کے ساتھ)

18- مارکیٹ لے کر جانی ہے تو کس آڑھتی کے پاس لے کر جانی ہے اور اس کے ساتھ پیمنٹ اور ڈیلیوری کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

(یہ مرحلہ تب انا ہے جب مکمل فصل کاشت کرنی ہے تب تک ہمیں گملے میں لگائی ہوئی مرچ کی دیکھ بھال سے پتا چل چکا ہو گا مرچ کیسے کاشت کرنی ہے اور کیا مسئلے مسائل آ سکتے ہیں، ایک بوٹے سے کتنی حاصل ہوئی تو پورے کھیت میں کتنے پودے لیگی گے اور کتنی حاصل ہو گی۔ منڈی میں جا کر مرچ کا آڑھتی ڈھونڈ لینا ہے اور آڑھتی سے مل کر پورے معاملات تہہ کر لینے ہیں)

19- مارکیٹ میں بھیجنی ہے تو پیکنگ کیسے کرنی ہے، مارکیٹ تک کیسے لے کر جانی ہے۔

( آڑھتی سے پوچھ لینا کہ کیسی پیکنگ چاہیے اور گاڑی یا ٹرانسپورٹ کا انتظام کر کے وقت اور اخراجات تہہ کر لینے ہیں)

20- اگر اگلی بار وہی فصل لگانی ہے تو اسکا بیج کیسے تیار کرنا ہے، گریڈنگ کیسے کرنی ہے اور کیسے محفوظ رکھنا ہے۔

(اچھی صحت مند مرچوں کا انتخاب کر کے بیج نکال کر، گریڈنگ کر کے بیج ائیر ٹائیٹ لفافے یا جار میں پیک کر کے رکھ لینے اور ساتھ اس پر بیج کی تفصیل لکھ دینی ہے۔)

دیکھا کس طرح کسی بھی فصل کے صرف ایک بیج کو لے کر ہم کتنا کچھ سیکھ سکتے ہیں اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور امید ہے اس مثال کو سمجھ کر اور ان سوالات کے جوابات لے کر نئے کسان اور آنے والے کسان کھیتی باڑی سے آشنا ہو کر ایک اچھے طریقے سے کھیتی باڑی کا آغاز کر سکتے ہیں۔ مزید کوئی ماہر زراعت اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو موسٹ ویلکم۔

دعاؤں کا طلبگار
شکریہ

Address

A1 Hotel Market Tower
Hyderabad
71000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

03456433881

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when m.ali & brothers agro center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share