20/04/2026
گلگت بلتستان میں نئے سیاسی دور کا آغاز نوجوان قیادت کو درپیش مسائل عوام اور ریاست کا کردار
انجئنیر سجاد حسین خان بلتستانی کا تجزیہ اور پیغام
# # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #
بزرگ سیاسدانوں نے موروثی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے بچوں کو قوم کے بچوں پر ترجیح دی ہے اور گلگت بلتستان میں نئی سیاسی نسل اور لیڈرشب کو متناضہ اور مشکل بنا دیا ہے۔
گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار ستر اور اسی کی دھائی کے بزرگ سیاسدان اپنی ریٹائرمینٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی سیاسی اجارداری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اپنی سیاسی وراثت سماچی شہرت اور معاشرتی حثیت کے ثمرات نئ نسل کو میرٹ کی بنیاد پر منتقل کرنے سے گریزاں ہے۔
گانگچھے تا دیامیر گلگت بلتستان کی سیاست میں نوجوان قیادت کا مقابلہ پارٹی اجارادی وفاقی مداخلت اندھی دولت اور طاقت منافقانہ رویوں اور عوامی سیاسی بے راہ روی سے ہو گا۔
میں دعا گو ہوں ان تمام نوجوان سیاسی امیدواروں کے لیے جنھوں نے اپنے آپ کو مستقبل کی سیاست کے لیے وقف کیا ہے یہ جانتے ہوئے کہ ان کی راہیں مسدود کر دی گئی ہیں ان کے لیے سیاسی اور ریاستی ہمدردیاں موجود نہیں مذہی مسلکی پارٹی زات برادری قوم قبیلے کی سیاست میں ایک پر عظم باہمت باغیرت اور بلند نگاہ نوجوان کو تائید غیبی ہی کامیاب کر سکتی ہے۔
گانگچھے تا دیامر یہ سیاسی امتحان نوجوان امیدواروں کے ساتھ ساتھ ان وٹرز اور سپوٹرز کا بھی ہے جو اپنا ضمیر اپنا شعور اپنا حق خود ارادی اور اپنا ووٹ کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
ریاستی مشینری کو بھی عالمی تناظر مقامی حساسیت اور سیاست کے اتار چڑھاو کے پیش نظر دیکھنا ہو گا کہ گزشتہ دھائیوں کی پولیٹیکل انجنیرینگ کے نتائج کی روشنی میں کیا یہ خطہ ایسے افراد کی لیڈرشب کا متحمل ہو سکتا ہے جو وفاقی پارٹیوں میں رہ کر ریاستی اختیارات تو حاصل کرتے ہیں مگر گلگت بلتستان کو وفاقی سوچ قومی دھارے اور ریاست پاکستان سے بہت دور کر چکے ہیں۔
اج گلگت بلتستان کے کشیدہ ترین حالات کی پہلی زمہ داری انھیں سیاسی خانوادوں پر ہے جنھوں نے سال ہا سال سیاسی ایوانوں کے مزے لوٹے مگر ریاستی سوچ قوی دھارا پاکستان محب الوطنی قوم سازی انھیں چھو کر نہ گزری۔ ساتھ ہی ریاستی مشینری کے کارندے بھی خود پر افسوس ضرور کریں کہ جی بی میں سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ ریاستی نظام بھی بہت کامیاب نہیں رہا۔
میں امید کرتا ہو اور دعا گو ہوں کہ گلگت بلتستان کے نئے سیاسی منظر نامے پر نوجوان قیادت کا ظہور ہو جو پانچویں نسل کی تباہ کاریوں کا شعور رکھے ملک خدادا پاکستان پاکستانی قوم اور پاک افواج کا دل سے احترام کرے اور صرف ایک سسٹم بینیفشری بننے کے بجائے ایک مثبت گیم چینچر ثابت ہو اور گلگت بلتستان پاکستان عالم اسلام اور اقوام عالم کے بدلتے منظر نامے میں ایک طاقتور بااختیار اور وفادار کردار کے طور پر اپنا لوہا منوائے۔
ہولیٹیکل انجئنیرز سے بھی گزارش ہے کہ بلوچستان کے سرداروں کی طرح ریاستی مال پر پل کر ریاستی منافرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں محب وطن باشعور با کردار نوجوانوں کو پائپ لائین میں رکھا جائے۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ مزید غلط پولیٹیکل مس منجمینٹ کی گنجائش موجود نہیں معاشرہ اپنا پارہ دیکھا چکا ہے گلگت بلتستان کو بلوچستان بننے سے صرف آج کا باشعور نوجوان روک سکتا ہے جیسے سیاسی ریاستی معاشی معاشرتی اعتماد کی ضرورت ہے۔
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست پر واجب ہے کہ نظام کو اپنی رو میں بہنے کے بجائے ایک قومی دھارے کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ ایک مظبوط مربوط اور معتبر قومی سیاسی ڈھانچہ وجود میں آئے۔
وما علینا الاالبلاغ المبین
Engineer's Perspective