13/08/2022
آج ہمارے پرنسپل صاحب نے ایک واقعہ سنایا۔
واقعہ کچھ اتنا موونگ تھا کہ میں نے سوچا میں آپ سب سے بھی شئیر کر لوں۔ ویسے پرنسپل صاحب خود بھی آبدیدہ ہو گئے۔ ان کی آواز بھرا گئی، اور واقعہ بیان کرنا ان سے مشکل ہو گیا۔
میرے ساتھ ساتھ شائد کچھ اور لوگوں کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔
پرنسپل صاحب اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بات کر رہے تھے، کہ ہم اساتذہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں، اور ظلم و ستم کے خلاف نرم دلی اور عفو و درگزر کی خصوصیات پروموٹ کر رہے ہیں۔ بہرحال کسی نہ کسی پیرائے میں ہم اخلاقیات اور علم سکھا رہے ہیں۔
کہتے ہیں ایک دفعہ، جب فزیکل پنشمنٹ الاؤڈ تھی، ایک استاد نے کہا، آج جس کی جتنی غلطیاں نکلیں گی، اسے اتنے ہی ڈنڈے پڑیں گے۔
ایک بچہ بیچارہ سنتے ہی سہم گیا۔ اس نے اپنی مٹھیاں بھینچنی شروع کر دیں۔ وہ کبھی اپنی نوٹ بک رکھے اور کبھی اٹھائے۔
کہتے ہیں جب استاد صاحب بچوں کی نوٹ بکس چیک کرتے کرتے اس بچے تک پہنچے، کسی کو ایک غلطی پر ایک، اور کسی کو دو غلطیوں پر دو سٹکس لگاتے، تو وہ بچہ اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنی نوٹ بک آگے بڑھاتا ہوا بولا:
”استاد جی اگر سارا ہی کام غلط ہو گا تو کتنے ڈنڈے ماریں گے“۔
پرنسپل صاحب کی آواز بھرا گئی۔ کہتے ہیں، وہ استاد ایک دم چونکا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔ بعد میں کسی نے اسے کسی کونے کھدرے میں بیٹھے روتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا ہے۔
کہتے ہیں، اس بچے کے سوال نے مجھے محشر میں لا کھڑا کیا، اور مجھے لگا میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا اسی بچے کی طرح سوال کر رہا ہوں، کہ یا اللہ اگر سب کچھ ہی غلط نکلا، تو کیا بنے گا۔
پرنسپل صاحب کا کہنا تھا، کہ اللہ تعالیٰ سے بہرحال عفو و درگزر کی امید ہی پر تعلق قائم رکھنا چاہئے۔ جزا سزا بھی ٹھیک ہے، لیکن معافی کی امید بہرحال رکھنی چاہئے، اور مانگتے بھی رہنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں ہم پر ہماری توقع سے بھی زیادہ عفو و درگزر فرمائے، ہمیں ہماری سوچ اور تصور سے بھی بڑھ کر معاف فرمائے، آمین ثم آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔