Geologist Muhammad Shafi

Geologist Muhammad Shafi Geological Operations

10/12/2023
12/02/2023

کیا زلزلوں کی پیشگی اطلاع ممکن ہے؟
ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے اور پاکستان میں زلزلے کی پیشنگوئی کی حقیقت کیا ہے؟
آئیے اس پر ماہرین ارضیات کی رائے پر نظر ڈالتے ہیں۔

ترکی اور شام میں پیر کے روز آنے والے زلزلے میں اب تک 5000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حکام کی جانب سے سینکڑوں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ 7.8 شدت کا تھا اور اس کی گہرائی 17.9 کلومیٹر تھی۔

زلزلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترکی میں آنے والے سب سے بڑے زلزلوں میں سے ایک تھا اور بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ زمین دو منٹ تک ہلتی رہی۔

اسی دوران نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ایک محقق فرینک ہوگربیٹس کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں اُنھوں نے تین فروری کو کہا تھا کہ جلد یا بدیر 7.5 شدت کا ایک زلزلہ اس خطے (جنوبی و وسطی ترکی، اردن، شام، اور لبنان) میں تباہی مچائے گا۔

چنانچہ اس ٹویٹ کے صرف تین دن بعد ہی تقریباً اتنی ہی شدت کے زلزلے کے اس خطے میں آنے کے بعد لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا زلزلوں کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟

فرینک ہوگربیٹس کا دعویٰ ہے کہ آسمان میں سیاروں کا محلِ وقوع زلزلوں کی وجہ بن سکتا ہے۔

تاہم سائنسی برادری میں اس حوالے سے اتفاق موجود ہے کہ زلزلوں کی پیش گوئی کرنے کا کوئی طریقہ فی الوقت سائنس کے پاس موجود نہیں اور نہ ہی ان کے مطابق ایسا کوئی طریقہ مستقبل میں تیار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے دنیا میں زلزلوں پر نظر رکھنے اور تحقیق کرنے والے صفِ اول کے اداروں میں سے ایک ہے اور اس ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے اور نہ دیگر سائنسدانوں نے کبھی کسی بڑے زلزلے کی پیش گوئی کی ہے۔

ادارے کے مطابق ہم ابھی بھی نہیں جانتے کہ پیشگوئی کیسے کی جائے بلکہ اس کے صرف امکان کا حساب لگایا جا سکتا ہے کہ فلاں علاقے میں اتنے برس میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا کتنا امکان ہے۔

جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی پیشگوئی میں تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے، یعنی وقت اور تاریخ، مقام، اور شدت۔ اگر کوئی ’پیشگوئی‘ ان میں سے تینوں چیزیں فراہم نہیں کرتی تو اسے ایک غلط پیشگوئی تصور کیا جائے گا۔

فرینک ہوگربیٹس جس ادارے سولر سسٹم جیومیٹری سروے کے ساتھ وابستہ ہیں وہ باقاعدگی سے سیاروں کی پوزیشنز کا جائزہ لے کر کچھ امکانات ظاہر کرتا ہے کہ کس علاقے میں ارضیاتی سرگرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں آنے والے اس زلزلے سے قبل جب اس ادارے نے اپنی ایک ویڈیو جاری کی تھی تو انھوں نے مغربی چین، پاکستان، افغانستان، انڈیا اور مشرقی چین کے درمیان کے علاقے میں ارضیاتی سرگرمی میں اضافے کا کہا تھا مگر ترکی میں زلزلے کے امکان کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی تھی، چنانچہ اسے امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ’پیشگوئی‘ نہیں کہا جا سکتا اور سائنسدان زلزلے کے ’امکان‘ اور ’پیشگوئی‘ میں فرق کرنے کے قائل ہیں۔

امریکی جیولیوجیکل سروے کے مطابق حالیہ کئی تحقیقی مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاند کی وجہ سے زمین کی سطح اور سمندر کی لہروں کے بلند ہونے اور کچھ طرح کے زلزلوں کے درمیان ایک تعلق موجود ہے مگر اس کے نتیجے میں جو امکان بڑھتا ہے، وہ تب بھی بے حد کم ہی رہتا ہے۔

اسی طرح امریکہ کی برکلے یونیورسٹی کے مطابق اِجرامِ فلکی کے محلِ وقوع کی وجہ سے زلزلوں کی شرح اور ٹیکٹونک پلیٹس کی حرکت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا

زلزلوں کی پیشگوئی کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر کام جاری ہے جن میں زلزلے سے پہلے جانوروں کے رویے کا جائزہ لینا اور اس کی بنیاد پر زلزلے کی پیشگوئی کرنا شامل ہے۔ کچھ مطالعوں میں ان کے درمیان تعلق تو پایا گیا ہے مگر اب بھی اس حوالے سے سائنسی برادری کسی حتمی اور ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے، چنانچہ جانوروں کا پہلے ہی محفوظ ٹھکانے کی جانب چلے جانا اب بھی کسی سائنسی حقیقت سے زیادہ ایک سنی سنائی بات ہے۔

کیا کوئی پیشگی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

ایک صحافی الیا ٹوپر نے فرینک ہوگربیٹس کے جواب میں کہا کہ زلزلے سے نقصان روکنے کا واحد طریقہ محفوظ عمارتیں بنانا ہے، یہ نہیں کہ حکام روزانہ لوگوں کو مہینوں اور برسوں تک گھروں سے رات باہر گزارنے کا کہتے رہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2009 میں اٹلی کے شہر لا اقوئیلا میں آنے والے ایک خوفناک زلزلے میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد چھ سائنسدانوں اور ایک سرکاری عہدیدار پر مقدمہ چلایا گیا تھا کہ اُنھوں نے زلزلے کا خطرہ ہونے کے باوجود اسے گھٹا کر پیش کیا جس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہو گئے۔

یہ ٹرائل سات برس تک جاری رہا جس کے بعد ان تمام افراد کو رہا کر دیا گیا مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زلزلوں کی پیشگوئی کرنا کتنا مشکل کام ہے، یا تو ایسی پیشگوئیاں افراتفری پھیلا سکتی ہیں یا پھر اگر ان میں کوئی غلطی ہو جائے تو لوگوں میں تحفظ کا ایک بے بنیاد احساس پیدا ہو سکتا ہے۔

اور اگر واقعی کوئی پیشگوئی درست ثابت ہو بھی جائے، تب بھی انخلا کے منصوبوں اور زلزلے سے محفوظ عمارتوں کی ضرورت بہرحال رہے گی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کی سائنسدان سوزن ہو کہتی ہیں کہ ’اگر آپ زلزلے کے خلاف مزاحمت اور تحفظ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو خطرے اور زلزلے سے ہونے والی حرکت کا اندازہ لگا کر اس حساب سے عمارتیں تعمیر کرنی چاہییں، پیسے کا بہتر استعمال یہی ہو گا۔

Source: BBC URDU

ریسائی جموں کشمیر، پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے محض 90 کلومیٹر دور ہے۔ وہیں پر سیالکوٹ کے آخری گاؤں جو بارڈر پر ہیں جیسا کہ...
12/02/2023

ریسائی جموں کشمیر، پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے محض 90 کلومیٹر دور ہے۔ وہیں پر سیالکوٹ کے آخری گاؤں جو بارڈر پر ہیں جیسا کہ مہیندر والی وغیرہ اگر وہاں سے یہ فاصلہ دیکھیں تو یہ محض چالیس کلومیٹر بنے گا۔

مگر ہم یہاں نہیں جا سکتے کیونکہ آگے باڑ ہیں اور یہ باڑ جموں کی وادی کو پاکستان سے الگ کرتی ہے۔ جموں اس وقت جیولوجیکل اسیسمنٹ G3 زون میں ہے۔ مطلب کہ یہاں پر معدنیات کی فراوانی ہے اور مقبوضہ حکومت یہاں پر مختلف معدنیات کی تلاش پہ لگی ہوئی ہے۔

حالیہ جیولوجیکل اسیسمنٹ کے بعد بھارتی سرکار کو جموں کی ریسائی تحصیل میں لیتھیم کے 5.9 ملین ٹن بڑے ذخائر ملے ہیں۔ اور ان ذخائر کے ملنے کے ساتھ ہی بھارت لیتھیم کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے۔

لیتھیم کیا ہے؟

لیتھیم ایک منرل ہے جس کی آج سے سو سال پہلے صفر اہمیت تھی مگر آج یہ سب سے اہم منرل بن چکا ہے۔ اگر ہم کہیں کہ لیتھیم ایک سفید سونا ہے تو غلط نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ہماری ساری دنیا چل رہی ہے۔ آپ کے موبائل میں موجود بیٹری سے لیکر کار، جہاز اور ہر الیکٹرک چیز میں لیتھیم کی بیٹری استعمال ہوتی ہے۔ اور یہ لیتھیم زیر زمین ذخائر سے نکالی جاتی ہے۔

اس وقت لیتھیم کی پیداوار کا 90% شئیر تین ممالک کے پاس ہے جن میں سے 52% تک شئیر آسٹریلیا، 24.5% چلی اور 13.2% حصہ چین کا ہے جبکہ باقی کی دس فیصد پیداوار میں بڑے ممالک جیسا کہ ارجنٹائن 5.6% اور برازیل 1.4% شامل ہیں۔

اتنی کم جگہوں پہ اس لیتھیم کی موجودگی کی وجہ سے اس کی مانگ حد سے زیادہ ہے اور اس وقت ایک ٹن لیتھیم 54000 ڈالر کی ہے لیتھیم کی یہ قیمت ایک سال میں 400% بڑھی ہے اور آگے مزید بڑھے گی۔ مطلب کہ سو ٹن لیتھیم کی پیداوار اتنی ہی مالیت کی ہوگی جتنی مالیت کے ڈالرز کے لئے ہم ہر سال آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے ہیں۔

وہیں پر 5.9 ملین ٹن لیتھیم کو اگر کیلکولیٹر سے کیلکولیٹ کریں تو صفر ختم ہو جائیں مگر ڈالر بڑھتے جائیں۔

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ،

بھارت کا ٹارگٹ ہے کہ یہ 2070 تک کاربن فری ریاست بن جائے اور اس وقت پوری دنیا میں لیتھیم کی شارٹیج ہے کیونکہ یہ الیکٹرک کاروں کی بیٹری کی پیداوار میں استعمال ہوتی ہے۔ اس وقت 75% کاریں فاسل فیولز مطلب پٹرول پہ چلتی ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی آلودگی بڑھ رہی ہے جس کو پوری دنیا کم کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ اور اس کے لئے لیتھیم کا استعمال بڑھے گا۔ گو لیتھیم انسانی اور حیوانی صحت کے لئے تباہ کن ہے مگر یہ فقط تب ہی ہے جب اسے نگلا جائے ورنہ یہ ماحول کو ویسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اب دنیا میں لیتھیم کے جو بڑے ذخائر ہیں وہ اوپر بتائے گئے ممالک کی بجائے بولیویا، چلی اور ارجنٹائن میں ہیں جبکہ چین کے بعد کل بھارت دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا تھا جو لیتھیم کے ذخائر رکھتا ہے۔

ان ذخائر کے ہونے کے باوجود اس کو الگ کرنا مطلب extract ایک کھٹن کام ہے جس میں کافی وقت اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے۔ اب اگر بھارت لیتھیم کے بڑے پروڈیوسر ممالک سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کرکے اس کو زمین سے لیتھیم ایکسٹریکٹ کرنے میں لگائے گا تو یہ آسٹریلیا کو بھی لیتھیم کی پیداوار میں پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے جو کہ الیکٹرک وہیکلز بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی لیتھیم سے جدید سستی بیٹریاں بھی بنائے گا جس سے یہ وہیکلز نہایت سستے بنیں گے۔

اب بھارت جموں کے متنازعہ علاقے سے یہ لیتھیم نکال کر ایک امیر ترین ملک بنے گا کہ نہیں یہ ان کی صوابدید ہے مگر اگلے مہینے جموں و کشمیر میں جی 20 ممالک کے سربراہان کا دورہ بھارت کے انہی عزائم کی نشاندہی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں کی جانیوالی ترقی دنیا کو دکھا کر اپنا سافٹ امیج بنانا چاہتا ہے۔ وہیں پر یہ لیتھیم بھارت کو ایک امیر ترین ملک بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی۔

بھارت فقط جموں کی اس لیتھیم کی وجہ سے کھربوں ڈالر کما سکتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی بیچ کر جو کھربوں مزید آنے ہیں وہ الگ ہیں۔ آنیوالے سالوں میں یہ لیتھیم بھارت کو الیکٹرک وہیکلز کی صنعت میں امریکہ اور چین کے برابر کھڑا کرے گی اور یہ باقی کی غریب دنیا سے بھارت کو کوسوں دور لے جائے گی۔

ضیغم قدیر

14/12/2022
14/12/2022

The bathroom is often an ignored room when it comes to planning. Many find it difficult to arrange fixtures and faucets here. Well, let me tell you that Bathroom is often an ignored room when it comes to planning. Many find it difficult arranging fixtures and faucets here. Well let me tell you that....

04/12/2022

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Geologist Muhammad Shafi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share