27/08/2022
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،
الحمدللہ، بفضل تعالیٰ میری بیٹی کا عقد نکاح مسجد آمنہ با ظاہر منعقد ہوا۔ الحمدللہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل میں ابلکل سادگی سے، نہ جہیز، نہ فنکشن ہال نہ ڈنر، نہ کوئی اسراف۔ مہر نقد ادا کیا گیا۔
میں نے ہی اپنی بیٹی کا خطبہ نکاح دیا اور خطبہ نکاح کا ترجمہ اور کچھ گفتگو کی۔ بعد عقد شرکاء کی کھجور اور عربی قہوہ سے تواضع کی گئی۔ اس کے فوراً بعد رخصتی ہوگئی۔ بہ مشکل30 منٹ میں ساری کاروائی مکمل ہوگئی۔ پوری تقریب میں خرچ نہ ہونے کے برابر رہا۔
نوشہ نے بھی اپنا ولیمہ ضیافت کی تقریب فنکشن ہال کی بجائے اپنے گھر کے کمپاونڈ میں منعقد کی۔
تحدیث نعمت اور ترغیب کے لئے لکھ رہا ہوں کہ الحمدللہ اللہ نے ہم دونوں خاندانوں کو دینی و دنیوی دونوں دولتوں سے نوازا ہے اور معاشی آسودگی عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شادی کے نام پر ہونے والے اسراف و جھوٹی نمائش سے بچایا۔ دونوں خاندانوں کا یہ عزم ہے کہ یہی رقم ان شاء اللہ ہم دین امت کے فلاحی و رفاحی کاموں میں خرچ کریں گے۔ ان شاء اللہ
چھبیس سال پہلے یعنی 1996 میں میری شادی اور ولیمہ بھی اسی طرح ہوا تھا۔ اس کی تحریک مجھے اپنے دادا حضرت سالار نظیرالدین غازی رح اور ڈاکٹر اسرار احمد رح سے ملی۔ جدہ سعودی عرب میں ڈاکٹر صاحب کا 1995 میں آسان نکاح پر ایک خطاب ہوا تھا۔ میں اپنے احباب کے ساتھ اس میں شریک تھا۔ بعد خطاب ہم تمام دوستوں نے جو تقریباً 40 کے قریب تھے ڈاکٹر صاحب کے روبرو یہ عہد کیا کہ ہم سب سادگی سے شرعی طریقہ پر اپنی شادیاں کریں گے۔ اور آسان نکاح کے لئے تحریک چلائیں گے۔ اور غیر شرعی اور اسراف والی شادیوں میں شریک نہیں ہونگے۔ الحمدللہ ہم تمام نے اس پر عمل کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ماضی میں انفرادی و اجتماعی کمزور کوششوں سے سینکڑوں نوجوانوں نے اسی انداز سے شادیاں کیں۔ اب مرحلہ میری بیٹی کا تھا۔ ہم نے اس کے بائیو ڈاٹا میں صاف صاف لکھ دیا تھا نہ جہیز، نہ فنکشن ہال، مسجد میں عقد اور رخصتی۔ لوگ کہتے تھے اس طرح کی شرائط پر رشتے کبھی بھی نہیں آئیں گے۔ لیکن الحمدللہ اللہ کے فضل سے اتنے رشتے آئے کے ہمارے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا. الحمدللہ ہم نے ایک صالح و تعلیم یافتہ داعی دین نوجوان کا انتخاب کیا۔
بعد عقد مسجد میں 20 کے قریب نوجوانوں نے اور کچھ والدین نے ملاقات کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسی طرح سے سادگی کے ساتھ نکاح کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت مطہرہ کو اپنی ذاتی و اجتماعی زندگی میں جاری و ساری کرنے کی توفیق عطا فرئے۔ معاشرے کی غیر اسلامی رسموں اور بوجھ کو اتار پھینکنے اور اللہ دین اور رضائے الٰہی کے حصول کو زندگی کی اولین ترجیح بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نقل شدہ