Young Lawyers Forum Islamabad

Young Lawyers Forum Islamabad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Young Lawyers Forum Islamabad, Consulting Agency, Islamabad.

02/01/2022

*‏جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سمیت اعلی عدلیہ کے 7 ججز امسال ریٹائر ہوجائیں گے۔*

جسٹس عمر عطاء بندیال 2 فروری 2022ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھائیں گے ، چیف جسٹس گلزار احمد سمیت سپریم کورٹ کے 5 اور ہائیکورٹ کے 2 ججز 2022 میں ریٹائر ہونگے ‏سپریم کورٹ کے ججز 65 سال جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے ججز ل62 سال کی عمر پوری ہونے پر ریٹائر ہوں گے ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد یکم فروری کو ریٹائر ہوں گے ، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمدامین احمد 25 مارچ ، جسٹس مقبول باقر 4 اپریل ، ‏جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل 13 جولائی اور سپریم کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ 13 اگست کو ریٹائرڈ ہونگے
ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم 30 جون 2022 اور جسٹس چودھری مسعود جہانگیر 2 دسمبر 2022 کو ریٹائر ہوں گے ، واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں اسوقت ایک جبکہ ہائیکورٹ میں 12ججز کی اسامیاں خالی ہیں۔

پنجاب میں 407 سول ججز کے تبدلے کے احکامات.ٹرانسفر ہون والے ججز کی مکمل فہرست۔
28/11/2021

پنجاب میں 407 سول ججز کے تبدلے کے احکامات.
ٹرانسفر ہون والے ججز کی مکمل فہرست۔

(یہ پوسٹ معلومات کیلئے لگائی جارہی ہے)اسلام آباد میں ضلعی عدالتوں کی تعمیر، سی ڈی اے نے ایک ارب چالیس کروڑ کا ٹھیکہ ایف ...
01/09/2021

(یہ پوسٹ معلومات کیلئے لگائی جارہی ہے)
اسلام آباد میں ضلعی عدالتوں کی تعمیر، سی ڈی اے نے ایک ارب چالیس کروڑ کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو اوکے ساتھ فائنل کردیا

مجوزہ ڈیزائن اور لے آؤٹ۔پلان میں ایسٹ اینڈ ویسٹ کمبائنڈ 93 عدالتیں تعمیر کی جائیں گی، جبکہ خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ واش رومز، عورتوں اور اٹھارہ سال سے کم عمر ملزمان کے لئے علیحدہ علیحدہ بخشی خانوں اور مسجد کی جگہ بھی مختص کی گئی ہے، جبکہ سائلین اور عوامی سہولیات کے پیش نظر کنٹین، کار پارکنگ اور زیر زمین پانی کی ٹینکی بھی منصوبے میں شامل ہیں

علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر اور اسکا ڈیزائن مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں توسیع ممکن ہو
یاد رہے کے لائرز کمپلیکس کے حوالے سے بھی معاملات آخری مراحل میں ہیں اور دونوں کا افتتاح اکٹھا کرنے کے متعلق آج بھی چئیرمین سے تجدید ھوئی ھے مزید جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کے لئے مخصوص ایریا اور واش رومز کے بارے میں بھی تحفظات سے آگاہ کر دیا گیا ہے
تصاویر میں کمشنر آفس کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس کی جگہ واضح کر دی گئی ھے اس کا فاصلہ لائرز کمپلیکس سےانداز دو سے تین سو میٹر کے لگ بھگ ھے
Source: Fb Account of President of IBA

11/07/2021

کیا وکلاء کو گرمی نہیں لگتی؟

آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز
جولائی کا مہینہ ہے۔ گرمی زروروں پر ہے اور حبس شدید۔ دم گھٹتا ہے۔ لیکن میرے وکیل دوست اس حبس اور اس گرمی میں کالے رنگ کا پینٹ کوٹ پہن کر ٹائی لگا کر پھر رہے ہوتے ہیں۔ میں شدید گرمی میں ان دوستوں کو اس حال میں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں یہ لباس پیشہ ورانہ ضرورت ہے ، احساس تفاخر ہے یا ہماری فکری غلامی کی ایک یاد گار ہے جسے ہم گلے لگائے پھرتے ہیں؟ اگر ہم موسم کی مناسبت سے کوئی معقول لباس پہن لیں تو کیا قانون کی کتابوں میں لکھے الفاظ ہم سے روٹھ جائیں گے؟

بار کونسلز نے ہوٹلوں کو تو خط لکھ دیے کہ اپنے بیروں کے لباس تبدیل کیجیے کیونکہ وہ ہمارے لباس سے ملتے جلتے ہیں لیکن کیا بار کونسلز نے کبھی جون جولائی کے مہینوں میں وکیلوں کا حشر ہوتے نہیں دیکھا؟ کیا یہ لازم ہے کہ دور غلامی کی ہر نشانی کو سینے سے لگا کر رکھنا ہے چاہے دم گھٹ جائے ؟

ہمارے قانون دان رہنما دنیا کے ہر موضوع پر تہتر کے آئین کے تناظر میں اس قوم کی رہنمائی کرنے پر ہر دم تیار پائے جاتے ہیں کیا ان اکابرین میں سے کوئی ہے جو بتا سکے کہ سیاہ رنگ کے اس پینٹ کوٹ اور ٹائی کی کیا افادیت ہے اور ہماری تہذیبی اور قانونی روایات سے اس کا کیا تعلق ہے ؟ ڈریس کوڈ ضرور ہونا چاہیے لیکن اپنے موسم اور اپنے مقامی ذوق سے اسے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ عقل کی نعمت بھی اللہ تعالی نے عطا کر رکھی ہے اور اتفاق سے عقل کا ستعمال ابھی تک قابل دست اندازی پولیس جرم قرار نہیں پایا۔

وکلاء کا موجودہ لباس ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کی یاد گار ہے۔ دور غلامی کا یہ طوق امریکہ ، کینیڈا وغیرہ نے اتار پھینکا ہے لیکن ہم اسے گلے میں ڈالے جون جولائی کے حبس میں فخریہ پھر رہے ہوتے ہیں کہ ہم ’ ورنیکلر ‘ لوگ بھی صاحب بن گئے۔امریکہ نے آزادی کے ساتھ ہی برطانوی ڈریس کو ڈ لپیٹ دیا۔ کینیڈا نے بھی کسی حد تک یہی کیا اور وہاں ججوں کو مائی لارڈ اور یور آنر کی بجائے صرف سر کہا جانے لگا۔ یہی کام جزوی طور پر بھارت میں بھی ہوا لیکن یہ اعزاز ہم پاکستانیوں کے حصے میں آیا ہے کہ آزاد ہوئے پون صدی بیت چکی لیکن ہم دور غلامی کی ہر یادگار کو نشان منزل قرار دیے بیٹھے ہیں۔

ہندوستان میں 1857 میں جنگ آزادی لڑی گئی۔ اس کے بعد ملکہ وکٹوریہ نے گورنمنٹ آف انٖڈیا ایکٹ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان کو اپنی عملداری میں لے گیا۔یہی وہ فیصلہ تھا جس پر پنجاب کے’’ علماء و شیوخ ‘‘ نے سپاس نامہ پیش کیا کہ ’’ ہوئی بد نظمیاں سب دور انگریزی عمل آیا‘‘۔ پہلا انتظامی فیصلہ یہ کیا گیا کہ یہاں ایک ایسا فوجداری نظام لایا جائے کہ رعایا میں سے کسی کو آئندہ سر اٹھانے کی جرات نہ ہو۔ چنانچہ تین سال کے غوروخوض کے بعد 22 مارچ 1961 کوپولیس کا ڈھانچہ وضع کیا اور پولیس ایکٹ آ یا۔آج 160 بعد بھی ہماری پولیس ( چند جزوی تبدیلیوں کے باجوود) بنیادی طور پر اسی ڈھانچے پر کھڑی ہے۔

جس قانون کو ہم تعزیرات پاکستان کہتے ہیں یہ قانون بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کے ایک سال بعد اور ان کی وفات سے ایک سال قبل متعارف کرایا گیا۔ یہ آج 161 سال بعد بھی ویسا ہی ہے۔ بس ہم نے اس کا نام بدل لیا اور چند پیوند لگا کرہم مطمئن ہو گئے۔ کیسی خوفناک حقیقت ہے کہ ہمارا سارا فوجداری ڈھانچہ اس قانون پر کھڑا ہے جو بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کے مانے میں رعایا کو کچلنے کے بعد اس اہتمام سے لایا گیا کہ اس رعایا میں آئندہ کوئی سر نہ اٹھانے پائے۔

مجموعہ ضابطہ فوجداری 121سال پرانا ہے۔ سیلز آف گڈز ایکٹ 89سال پرانا ہے۔ سپیسیفک ریلیف ایکٹ کو بنے 140سال ہو گئے ہیں۔ سٹیمپ ایکٹ 119سال کا ہو چکا ہے۔ ٹرانسفر آف پراپرٹی کا جو قانون ہم نے رائج کر رکھا ہے وہ 136 سال پرانا ہے۔ ایکسپلوزوز ایکٹ کی عمر 134 سال ہے۔ پاسپورٹ ایکٹ 98سال پرانا ہے۔ پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس کا قانون 157 سال پرانا ہے۔ایکٹریسٹی ایکٹ کی عمر 108سال ہے۔ فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ کو بنے 163 سال ہو گئے ہیں۔ جنرل کلاز ایکٹ 121سال کا ہو چکا ہے۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 128سال پرانا ہے۔ لینڈ ایکوی زیشن ایکٹ کی عمر 124سال ہے۔ ۔ نگوشییبل انسٹرومنٹ ایکٹ کی عمر 137سال ہے۔ اوتھ ایکٹ 145سال کا ہو چکا ہے۔ پارٹیشن ایکٹ کو 125 سال ہو چکے۔ پارٹنرشپ ایکٹ86سال پرانا ہے۔ ۔ پنجاب لاز ایکٹ کی عمر 146سال ہے۔ پنجاب ٹیننسی ایکٹ 131سال پرانا ہے۔ رجسٹریشن ایکٹ 110سال پرانا ہے۔ علی ہذا القیاس۔

نہ ہمارے قانون بدلے ہیں نہ ہمارے لباس بدلے ہیں۔ ایسے میں رویے کیسے تبدیل ہو سکتے ہیں؟ اراکین پارلیمان یخ بستہ ماحول میں مطمئن ہیں جہاں ایک دن کے اجلاس پر اٹھنے والا خرچ اوسطا چار کروڑ تک پہچ چکا ہے اور و ہم کلاء حبس کے موسم میں پینٹ کاٹ ٹائی پہن کر مطمئن ہیں کہ وکٹوریہ عہد کی اشرافیہ کا لباس پہن لیا۔ ہم ’معزز‘ ہو گئے۔

آزاد ہوئے ہمیں پون صدی ہونے کو ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہم اپنے لباس پر غور کریں ۔ سوچیں کہ سیاہ رنگ ہی کیوں ؟ سیاہ رنگ تو گرمی جذب کرتا ہے۔اور پھر انگریزی لباس ہی کیوں؟ خدام ادب کو یہاں جناح کیپ پہنا دی گئی ہے اور قانون دان جولائی میں کالا سوٹ پہنتے ہیں۔ انگریز نے ججوں کو وگ پہنائی تو اسی کی دہائی تک ہمارے ہاں بھی وگ پہنی جاتی رہی۔ آزادی کے بعد تین عشرے کسی نے غور کرنے کی زحمت نہ کی کہ اس وگ مبارکہ میں کون کون سی فضیلت ہے ۔ہمارے ہاں شلوار قمیض کی اجازت دی گئی تو ساتھ شیروانی کی شرط رکھ دی گئی۔ پینٹ کوٹ میں پھر کہیں سے ہوا کا جھونکا گر جاتا ہے شیروانی محترمہ تو پورا بکتر بند ہیں۔ پھر یہ سرما میں تو ایک موزوں لباس ہو سکتا ہے گرم موسم میں یہ بھی مناسب نہیں۔

انگریز نے جو لباس متعارف کرایا تھا وہ ان کے سرد موسم کی مناسبت سے تھا۔ ہم جون جولائی میں بھی اسے اتارنے کو تیار نہیں۔ہے کوئی ہم سا؟

11/07/2021

Few Grounds for dismissal of a suit for specific performance

1. Handwriting expert reported that signature are forged. (2012 CLC 1699)
2. Two attested witnesses were not produced. (2006 CLC 571)
3. Agreement was written by unlicensed person. (2006 CLC 571)
4. Stamp paper was not issued by stamp vendor . (2012 MLD 535)
5. Dates of purchasing stamp paper and endorsement were different. (2011 YLR 404)
6. Purchaser of stamp paper was not produced as witness. (2011 MLD 404)
7. Stamp paper was issued on one date in favour of an unknown person and was executed on another date. (PLD 2008 Queta 01)
8. Payment of whole consideration was paid before ex*****on. (2006 YLR 2446)
9. Scribe was not a registered Waseeqa Navees. (2006 CLC 1444)
10. Register of scribe belongs to another person wherein various pages and serial number were missing. (2006 CLC 1444)
11. Contradiction as to vanue where bargain took place. (2006 CLC 1444)
12. Contradiction as to person who obtained stamp paper. (2006 CLC 1444)
13. Plaintiff failed to produce bank record as to payment of half money. 2006 MLD 886
14. Date, Time, Month and Place of transaction was not given in pleading or evidence. (2005 YLR 2655)
15. Number of N.I.C was different from number on agreement. (2002 CLC 942)
16. Land was situated at a place whereas stamp paper was purchased from another place. (2002 CLC 942)
17. Neither vendor of stamp paper nor scribe was produced. (2001 YLR 2145)
18. Agreement was scribed on plain paper and was written by unlicensed petition-writer whereas both were available as nearby place. ( 1996 MLD 562)
19. Stamp paper was purchased at one date and executed after one week, stamp paper neither showed name of stamp vendor nor the place from where it was purchased. (1992 CLC 2193)
20. Failure to deposit balance amount. (PLD 2002 Lah 88, 2012 CLC 1392)
21. Two marginal witnesses were not produced. (2013 YLR 903, 2009 SCMR 740)
22. Payment of consideration not proved.(2006 YLR 1039 )
23. Document was not put before witness. (2006 MLD 1622)
24. One witness was not produced without any reason/ explanation. (2006 MLD 1622)
25. Scribe admitted that alleged promisor was not present at the time of ex*****on neither he signed before him. (2006 MLD 1622)
26. Claim of plaintiff valuing 25 lac was based on a document which was not registered. (2011 CLC 309)
27. Agreement was signed twice. (2011 CLC 309)
28. Original agreement to sell not produced…loss of agreement not pleaded….no attempt was made to produce secondary evidence…plaintiff was not confronted with…Executant defendant was not identified by anyone. (2005 YLR 463)
29. National Identity Card number was not written. (2005 YLR 3163)
30. Lost of original document not proved. (1995 SCMR 1237)
31. It is doubtful that plaintiff paid whole consideration but did not insist for registered sale deed in his favour. (2006 YLR 2779)

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے کابینہ ممبران کی صدر بار چوہدری فرید حسین کیف ایڈووکیٹ کی سربراہی میں چیف کمشنراسلام آباد ...
02/06/2021

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے کابینہ ممبران کی صدر بار چوہدری فرید حسین کیف ایڈووکیٹ کی سربراہی میں چیف کمشنراسلام آباد و چیرمین سی ڈی اے عامر علی، ممبر پلاننگ سی ڈی اے، ڈائریکٹر آرکیٹیکچر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت سے چیرمین سی ڈی اے آفس میں میٹنگ ہوئی ۔

میٹنگ لائرزکمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے پروجیکٹ کے حوالے سے تھی

میٹنگ کے دوران چیرمین سی ڈی اے نے لائرز کمپلیکس اور جوڈیشل کمپلیکس کے پروجیکٹ پر پریذنٹیشن دی ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ لائرز کمپلیکس کے پروجیکٹ کے لیے ۱.۵ ارب کے فنڈذ کی گرانٹ کیبنٹ سے منظور کروا لی گئی ھے۔ اور لائرز کمپلیکس ۵ ایکڑ ( لائرز کے اپنے پلاٹ جی /10) پر تعمیر کیا جائے گا ۔ لائرز کمپلیکس کی تعمیر کا آغاز انشاءاللہ جولائی میں شروع کیا جائے گا ۔ لائرز کمپلیکس کی تعمیر سی ڈی اے کا ادارہ کرے گا ۔ لائرز کمپلیکس میں وکلاء کے چیمبرز (وکلاء کی کنٹریبیوشن بھی اس میں شامل ھوگی)۔ پارکنگ کا الگ پلازہ ۔ لائرز کے لیے مسجد، ہسپتال ۔ بینکس ۔ فوڈ کورٹ۔ جدید طرز پر بار ایسوسی ایشن کے ایونٹ کے لیے بڑا ہال۔ بار ایسوسی ایشن کے آفس سمیت دیگر تمام سہولیات شامل ہو گی ۔
جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر پی ڈبلیو ڈی یا سی ڈی اے میں سے ایک ادارہ کرے گا یہ کمپلیکس چیف کمشنر آفس سے ملحقہ پلاٹ جی /11 پر 93 کورٹس(ایسٹ اور ویسٹ کمبائنڈ )کی صورت میں تعمیر کیا جائے گا، جوڈیشل کمپلیکس میں بھی وکلاء کے لئے کیفٹریا الگ سے تعمیر کیا جائے گا اس کی تعمیر بھی جون میں شروع کر دی جائے گی ۔ لائرز چیمبرز کے لیے معزز ممبران بار کی رجسٹریشن کا سلسلہ جلد شروع کیا جائے گا جو سنیارٹی کی بنیاد پر ھوگا ( اس میں جن وکلاء کے آباد چیمبرز گرادئے گئے ہیں ان کو ترجیح دی جائے گی ) لائرز کمپلیکس کا کام تیز رفتاری سے ہنگامی بنیادوں پر اعلی معیار کے مطابق ھوگا- انشاءاللہ

05/05/2021

Heartiest Congratulations the bail petitions of Naseer kiyani adv Tassadaq Hanif Adv & Hammad Saeed Dar Adv are accepted

Congratulations to all those candidates declared successful to practice as High Court advocates by the enrolment committ...
10/04/2021

Congratulations to all those candidates declared successful to practice as High Court advocates by the enrolment committee of Islamabad Bar Council.

ہماری بار کے ممبر ماجد آفریدی ایڈووکیٹ صاحب کا پورا گھرانا، چھوٹا لاہور ، ضلع صوابی میں قتل ہو گیا ہے۔ ابتدائی اطلاع کے ...
04/04/2021

ہماری بار کے ممبر ماجد آفریدی ایڈووکیٹ صاحب کا پورا گھرانا، چھوٹا لاہور ، ضلع صوابی میں قتل ہو گیا ہے۔
ابتدائی اطلاع کے مطابق مقتولین میں ان کے والد(جج انسداد دہشت گردی سوات)، والدہ ، زوجہ اور ان کا ایک سال کا بچہ شامل ہے۔
آپ تمام دوستوں سے لواحقین کے صبر اور اس دکھ کو جھیلنے کے لئے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔

Your Comments??
21/03/2021

Your Comments??

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Young Lawyers Forum Islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share