Royal Chilghoza Pine Nuts Global Exporter

Royal Chilghoza Pine Nuts Global Exporter MARKHOR GLOBAL SMC Pvt Ltd–Pakistan’s leading Chilghoza (Pine Nuts) producer & exporter. Registered with SECP & Pakistan Single Window.

Expertise in harvesting, grading, and export of premium chilghoza from Zhob,Waziristan,Chilas,Chitral & Afghanistan.

30/12/2025

🌲 سیزن کا سب سے آخری چلغوزہ (پائن نٹس) — چترال
📅 30 دسمبر 2025
English:
🌲 The last Chilghoza (Pine Nuts) of the season — Chitral
📅 30 December 2025

🌲 Chilghoza Season – Pakistan 🇵🇰From Zhob (August) to Waziristan & Chilas,and finally Chitral (ending around 30 December...
30/12/2025

🌲 Chilghoza Season – Pakistan 🇵🇰
From Zhob (August) to Waziristan & Chilas,
and finally Chitral (ending around 30 December) —
the last & freshest chilghoza comes from Chitral due to its cold climate.
پاکستان میں چلغوزے کا سیزن
ژوب سے شروع ہو کر وزیرستان، چلاس
اور آخر میں چترال پر ختم ہوتا ہے۔
سرد موسم کی وجہ سے یہاں چلغوزے کے کون دیر سے کھلتے ہیں۔
⚙️ اب وقت ہے روایتی طریقوں سے جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے کا۔
🤝 NGOs سے اپیل: چترال میں چلغوزہ پروسیسنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائیں۔
🌲 Chilghoza is livelihood, not just a dry fruit.

30/12/2025

Pakistan’s Chilghoza Harvesting Season | پاکستان میں چلغوزے کی ہارویسٹنگ
Pakistan is one of the blessed countries where Chilghoza pine nuts grow naturally in mountainous regions.
The chilghoza harvesting season starts at the end of August from Zhob, Balochistan, then moves to Waziristan (Khyber Pakhtunkhwa), followed by Chilas, and finally ends in Chitral around December 30.
چلغوزے کا سیزن پاکستان میں ایک قدرتی سفر کی طرح ہے۔
یہ اگست کے آخر میں بلوچستان کے ژوب سے شروع ہوتا ہے،
پھر وزیرستان (خیبرپختونخوا)،
اس کے بعد چلاس
اور آخر میں چترال میں تقریباً 30 دسمبر کو ختم ہوتا ہے۔
📍 Why Chitral is the last? | چترال سب سے آخر کیوں؟
Chitral is a cold region. Due to low temperatures, pine cones (cones/dumps) open late, which is why the last and freshest chilghoza of the season comes from Chitral.
چترال ایک سرد علاقہ ہے،
یہاں کم درجہ حرارت کی وجہ سے چلغوزے کے کون (ڈمپس) دیر سے کھلتے ہیں،
اسی لیے سیزن کا سب سے آخری اور تازہ چلغوزہ چترال سے حاصل ہوتا ہے۔
⚙️ The real challenge | اصل مسئلہ
Due to the lack of modern technology, local communities still use ancient and traditional methods to separate chilghoza from cones — a process that is slow, labor-intensive, and causes losses.
بدقسمتی سے جدید ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے
عوام آج بھی قدیم اور روایتی طریقوں سے چلغوزہ الگ کرنے پر مجبور ہیں،
جو وقت طلب بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔
🤝 A sincere appeal to NGOs | این جی اوز سے اپیل
We strongly request NGOs, development organizations, and research institutions to introduce modern chilghoza cone-processing technology in Chitral, so local people can improve productivity, income, and sustainability.
ہم این جی اوز، ترقیاتی اداروں اور متعلقہ تنظیموں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ
چترال کے عوام کو چلغوزہ الگ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائیں،
تاکہ مقامی معیشت مضبوط ہو، محنت کا صحیح معاوضہ ملے
اور یہ قیمتی قدرتی نعمت ضائع ہونے سے بچ سکے۔
🌲 Chilghoza is not just a dry fruit — it is a livelihood, a heritage, and a gift of nature.
🌲 چلغوزہ صرف خشک میوہ نہیں، یہ روزگار، ورثہ اور قدرت کی نعمت ہے۔

06/12/2025

چلغوزہ کمیونٹی کا اہم اعلامیہ۔
سادات برادری کا معاشی قت---ل

لاہور کے زین کول اسٹور میں سنہ 2024 کے دوران کسٹمز حکام نے مجموعی طور پر 137 ٹن چلغوزہ—جس میں 100 ٹن چلغوزہ مغز اور 37 ٹن چلغوزہ چھلکوں سمیت شامل تھا—کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے سیل کیا تھا کہ یہ سامان “غیر ملکی” ہے۔
یہ معاملہ چلغوزہ مالکان کی طرف سے چیلنج کرنے کے بعد اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے۔

کل بعد نماز جمعہ اچانک چلغوزہ ٹریڈرز کے نمایاں افراد عبدالرؤف، غلام محمد (صدر چلغوزہ ٹریڈرز) اور مجیب کو کول اسٹور انتظامیہ نے اطلاع دی کہ کسٹمز اہلکار خاموشی کے ساتھ چلغوزہ ٹرکوں میں لوڈ کرکے لے جا رہے ہیں—نہ جج کی موجودگی، نہ مجسٹریٹ اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی۔

تینوں افراد اس وقت میو ہسپتال میں موجود تھے مگر صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر فوری طور پر برکت ٹاؤن لاہور پہنچے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا گیا کہ کسٹم حکام بغیر کسی قانونی کارروائی کے چلغوزہ ٹرکوں میں لوڈ کر چکے تھے اور روانہ ہونے ہی والے تھے۔

چلغوزہ مالکان کے پہنچتے ہی انہوں نے ٹرکوں سے چلغوزہ واپس اتار لیا۔ اس پر کسٹم اہلکاروں نے پولیس طلب کی، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر سامان لے جانے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے الٹا چلغوزہ مالکان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ رویّے کے خلاف چلغوزہ کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شام کے وقت چلاس میں کے کے ایچ روڈ بطور احتجاج بند کر دیا گیا، تاکہ حکومت، عدالت اور اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں۔
چلاس گلگت بلتستان کے زیادہ تر چلغوزہ کی تجارت سے وابستہ اور یہ انکے رزق حلال کمانے کا واحد ذریعہ ہے۔
ہماری صرف اتنی سی اپیل ہے کہ:
چلغوزہ کمیونٹی کے ساتھ انصاف کیا جائے، لدا ہوا مال قانونی فیصلے سے پہلے غیر قانونی طور پر نہ اٹھایا جائے، اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

مزید تفصیلات ان شاءاللہ میں سفر سے پہنچ کر شیئر کروں گا۔

سید عظیم شاہ چلاسی
چیئرمین، چلغوزہ ایسوسی ایشن دیامیر، گلگت بلتستان

چلغوزہ کمیونٹی کا اہم اعلامیہمورخہ 5 دسمبر 2025 – بروز جمعہلاہور کے زین کول اسٹور میں سنہ 2024 کے دوران کسٹمز حکام نے مج...
05/12/2025

چلغوزہ کمیونٹی کا اہم اعلامیہ

مورخہ 5 دسمبر 2025 – بروز جمعہ

لاہور کے زین کول اسٹور میں سنہ 2024 کے دوران کسٹمز حکام نے مجموعی طور پر 137 ٹن چلغوزہ—جس میں 100 ٹن چلغوزہ مغز اور 37 ٹن چلغوزہ چھلکوں سمیت شامل تھا—کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے سیل کیا تھا کہ یہ سامان “غیر ملکی” ہے۔
یہ معاملہ چلغوزہ مالکان کی طرف سے چیلنج کرنے کے بعد اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے۔

آج بعد نماز جمعہ اچانک چلغوزہ ٹریڈرز کے نمایاں افراد عبدالرؤف، غلام محمد (صدر چلغوزہ ٹریڈرز) اور مجیب کو کول اسٹور انتظامیہ نے اطلاع دی کہ کسٹمز اہلکار خاموشی کے ساتھ چلغوزہ ٹرکوں میں لوڈ کرکے لے جا رہے ہیں—نہ جج کی موجودگی، نہ مجسٹریٹ اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی۔

تینوں افراد اس وقت میو اسپتال میں موجود تھے مگر صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر فوری طور پر برکت ٹاؤن لاہور پہنچے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا گیا کہ کسٹم حکام بغیر کسی قانونی کارروائی کے چلغوزہ ٹرکوں میں لوڈ کر چکے تھے اور روانہ ہونے ہی والے تھے۔

چلغوزہ مالکان کے پہنچتے ہی انہوں نے ٹرکوں سے چلغوزہ واپس اتار لیا۔ اس پر کسٹم اہلکاروں نے پولیس طلب کی، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر سامان لے جانے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے الٹا چلغوزہ مالکان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ رویّے کے خلاف چلغوزہ کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شام کے وقت چلاس میں کے کے ایچ روڈ بطور احتجاج بند کر دیا گیا، تاکہ حکومت، عدالت اور اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں۔

ہماری صرف اتنی سی اپیل ہے کہ:
چلغوزہ کمیونٹی کے ساتھ انصاف کیا جائے، لدا ہوا مال قانونی فیصلے سے پہلے غیر قانونی طور پر نہ اٹھایا جائے، اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

مزید تفصیلات ان شاءاللہ میں سفر سے پہنچ کر شیئر کروں گا۔

سید عظیم شاہ چلاسی
چیئرمین، چلغوزہ ایسوسی ایشن دیامیر، گلگت بلتستان

Address

F/11 Markaz
Islamabad
92000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Royal Chilghoza Pine Nuts Global Exporter posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share