Urdu Poetry

Urdu Poetry Kashf ul majoob, Wsif Ali Wasif, Iqbal, Syed Sarfaraz A Shah, Ghalib, Rumi

02/12/2020

سودائیوں کی منڈی
پھیکا جب بھی آتا آنکھوں کی جھولی اشکوں سے بھری ہوتی ۔ میں اس من چلے کے اشکوں کا خریدار تھا ۔ کسی منگتے کی طرح اس کے آگے ہاتھ پھیلاتا ،اُس کے اشکوں سے اپنے عملوں کی بُھگی جُھگی سجاتا ۔اُس کے اشک دیئے کی طرح جلتے اور میرے عملوں کی بُھگی جُھگی لو دینے لگتی ۔
بہت دیری کی اس بار ۔۔۔۔ کہاں تھے پھیکے یار ۔۔۔؟
آنکھیں کب کی دروازے سے لگی ہیں ۔۔ انہیں اتنا انتظار مت کروایا کرو یہ سوکھنے لگتی ہیں ۔ ان کی خُشک سالی بڑھ گئی تو قیامت ہو گی ۔۔۔!
پھیکے نے میری بات سُنی ، اشکوں بھری آنکھوں کی جھولی سے مسکراہٹ نے جھانکا ، فرمانبرداری نچھاور ہونے کو تھی ۔ صاحب جی آپ کے پاس نہیں آؤں گا تو کہاں جاؤں گا ۔آپ ہی تو سب سے پہلے خریدار ہیں میرے دکھوں کے ۔ عجیب ہیں آپ بھی آپ کے ہاں سب ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے پھیکے سمیت ۔
وہ جانتا ہی نہیں تھا خریدار تو وہ تھا ۔ اس کی اس ادا نے وفا نے محبت نے مجھے پھر خرید لیا ۔۔۔۔۔ مجھے خرید کر اس نے مجھے بکنا سکھایا تھا لُٹنا سکھایا تھا اللہ کی راہ میں اور میں یہاں اس بازار میں بار بار بکنا چاہتا تھا ۔یہ کاروبار گھاٹے کا نہیں تھا
یہاں اک کے بدلے ہزار ملتے تھے بار بار ملتے تھے ۔۔۔۔۔!
سودائیوں کی عجب منڈی تھی یہاں سب دُکھوں کے خریدار تھے
سُکھوں کے دام کم اور مال بھی خالص ، قیمت لگانے کا ہنر آنا چاہیئے ۔
“ صاحب جی کہاں گواچ گئے ہیں جی “ ۔۔۔؟
پھیکے کے بلانے پر میں چونکا کہو آج کیا لائے ہو ۔اُس کی آنکھوں کی جھولی اشکوں کا بھار سہہ نہ سکی رسنے لگی
صاحب جی وہ تندور والی ماسی کے بیٹے نے پار کے گاؤں کی بچی کے ساتھ زیادتی کی اس کے ماں باپ آئے تھے جی میرے پاس
روتے دھوتے فریاد لے کر ۔
اس کا باپ بھائی شریف کہتا ہے میں اُس دن کے بعد شرم سے اپنی دھی کے سامنے ہی نہیں جا سکا پھیکے پُتر ۔۔۔۔۔! میرے ورگا میرا ہم جنس بڈھی ماں کا سہارا پل میں جانے کیسے بھیڑیا بن گیا۔
پھیکے یار کئی دن سے مُنڈیر پر کاں بول رہا تھا میں سمجھا پرونے آنے والے ہیں ۔ میری گھر والی نے کہا کاکی کے ابا یہ کرماں مارا روز ہماری مُنڈیر پر بیٹھ کر بین کیوں کرنے لگتا ہے ۔ یہ کیسا پرونا آیا تھا جو سب لوٹ کر لے گیا ۔۔۔مجھے کاگے کے بین سنائی ہی نہیں دیئے
پھیکے وہ بہت تڑپ رہا تھا رو رہا تھا ۔۔۔!
اگلے دن میں ان کے گھر گیا تھا صاحب جی بچی سے ملنے ساری گل بات پوچھنے ۔۔۔
صاحب جی گھر کے دروازے نے کسی ظالم کے دہلیز پار کرنے کی شکایت کی ۔ کیاری میں لگے موتیئے کی خوشبو کافور میں بدلی تھی ۔ ویہڑے میں لگے برگد کی شاخیں باپ کے کندھوں کی مانند جھکی تھیں ۔ نعمت خانے میں رکھا دودھ اس رات آپو آپ پھٹ گیا کاکی کی قسمت کی طرح ۔ہور تے ہور کاکی کا بولنے والا طوطا اس دن کے بعد بولا ہی نہیں صاحب جی ۔۔۔!
بچی کی حالت ٹھیک نہیں ہے صاحب جی خوف سے راتوں کو تڑپ کر اُٹھ جاتی ہے ۔۔۔پھیکا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔ آنکھیں تھیں یا کھو ان کا پانی مُکتا ہی نہیں تھا ۔۔۔! آپ کو لینے آیا ہوں میرے ساتھ ماسی رحمتے کے طرف چلیں صاحب جی ۔۔۔۔میں اُسی وقت پھیکے کو ساتھ لے کر تندور والی ماسی رحمت کے پاس گیا ۔ میں پھر بےخبر رہا” میں صاحب جی “ دل ہی دل میں بے حد شرمندہ تھا ۔
اماں رحمتے تیرا پُتر زحمت کیسے بن گیا تیرے پُتر نے جیتے جی بوڑھے باپ کو مار ڈالا ۔۔۔!
قدموں کی ناسمجھی پر عقل ماتم کرتی ہے ۔ لڑکیوں کے پر کاٹ دیتی ہو اماں ۔ لڑکوں کے پاؤں کیوں نہیں کاٹ سکتیں تم ۔ دو چار لوہلے لنگڑے بھی نظر آنے لگے تو غلط راستوں کی طرف اُٹھنے سے پہلے “ قدم “ سو دفعہ سوچا کریں گے میں نے سخت لہجے میں کہا
اماں رحمتے رحم کر ورنہ سخت سزا دوں گا یہ کہہ کر میں اور پھیکا چلے آئے ۔۔ !
تیسرے دن اماں رحمتے ساتھ والے گاؤں برات لے گئی سارا پنڈ ساتھ تھا ۔ دولہا کے دونوں پیروں پر پٹیاں بندھیں تھیں اماں رحمتے نے تندور میں جلتی لکڑی سے پُتر کے دونوں پیر سیکے تھے ۔
پھیکا خوش تھا آنکھوں کی جھولی آج بھی بھری تھی مگرخوشی کے اشکوں سے ۔
کچھ دن بعد پھیکے نے اماں رحمتے کے ُپُتر کو لنگر خانے میں کام پر رکھ لیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اُس کے پاؤں ٹھیک تو ہو گئے مگر ابھی بھی لنگڑاہٹ باقی ہے۔ دنیا کی سب سے خوبصورت لنگڑاہٹ جس نے سمت سیدھی کر دی تھی ۔!
تحریر مبشرہ ناز

13/11/2020
13/11/2020

میرے قاتل کو پُکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
پھر سے مقتل کو سنوارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
یہ شبِ ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے
تم تو سو جاؤ ستارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
لاکھ موجوں مِیں گِھرا ہوں ابھی ڈُوبا تو نہیں
مجھ کو ساحل سے پُکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
قبر سے آج بھی محسن کی یہ آتی ہے سدا
تم کہاں ہو میرے یارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
محسن نقوی

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share