15/07/2021
ریسرچ
ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ۔ ایک مچھلی اسے کھانے کے لیے دوڑی ۔ وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منھ نہ لگانا ، اس کے اندر ایک چھپا ہو کانٹا ہے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا ، جو ہزار کوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا ۔ تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہو جائے گی۔ تو تڑپے گی وہ خوش ہوگا، اس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کرےگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مصالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔
چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی ان پڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنےوالی ، کوئی حقیقت نہیں اس کی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ہے ، اس کی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ہے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیے بیٹھی ہے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیے ہوئے ہے۔
چناں چہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منھ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیے۔ بڑی مچھلی کی طرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا راستا چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستے پر چل رہے ہیں ۔
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے۔
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا.
.