15/10/2026
اسلام آباد ہائی کورٹ
*اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کی براہِ راست بھرتیوں کو روک دیا*
*براہ راست انسپکٹرز کی بھرتی کا عمل کیس کے فیصلہ سے مشروط ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ*
*اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی کو نوٹس،جواب طلب*
*اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف کمشنر، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ، ہبلک سروس کمیشن کو بھی جواب کیلئے نوٹس*
جسٹس ایاز شوکت نے ارشد علی وغیرہ39 سب انسپکٹرزکی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا،
درخواستگزاران نے وزارتِ داخلہ کا 29 اپریل کا نوٹیفکیشن اورپبلک سروس کمیشن کا 11 اگستکا اشتہار چیلنج کیا،
درخواستگزاران کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی عدالت پیش ہوئے،
درخواست گزاروکیل نے انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیوں کو پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 7(3) کے منافی قرار دے دیا،حکمنامہ
وکیل کے مطابق پولیس آرڈر 2002 اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں نافذ العمل ہے،حکمنامہ
وکیل کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2019 کے فیصلے میں پولیس آرڈر 2002 کے نفاذ کو تسلیم کیا تھا،حکمنامہ
درخواست گزاروں کے مطابق انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیوں کی قانون میں گنجائش نہیں ہے،حکمنامہ
درخواستگزران کے مطابق بھرتیوں کا عمل جاری رہا تو قانونی طریقہ کار کے برخلاف تقرریاں ہو سکتی ہیں،حکمنامہ
اسلام آبادہائیکورٹ کی اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت
انسپکٹرز کی بھرتیوں سے متعلق درخواست پر مزید سماعت 28 اکتوبرکو ہوگی،حکمنامہ
بھرتیوں کے عمل میں اٹھائے جانے والے اقدامات درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے،اسلام آبادہائیکورٹ
انسپکٹرز کی براہِ راست بھرتیوں کا معاملہ قانون کی تشریح اور پولیس آرڈر 2002 کے اطلاق سے متعلق ہے،حکمنامہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھرتیوں کے عمل کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا