03/08/2026
ابراہیم، گل محمد اور سمیرا بی بی ہنڈا کار میں لاہور سے اسلام آباد کی طرف براستہ موٹروے جا رہے تھے کہ پنڈی بھٹیاں انٹرچینج پر پولیس نے ناکے پر انہیں روکا۔ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اسلام آباد کا اور اسے ابراہیم چلا رہا تھا۔ پولیس نے گاڑی کی تلاشی لی تو ابراہیم کے پاؤں کے قریب سے چرس کے 13 کلو وزنی 11 پیکٹ برآمد ہوئے۔ ابراہیم (ڈرائیور) کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر گل محمد بیٹھا ہوا تھا، اسکے پاؤں رکھنے کی جگہ کے قریب سے چرس کے 12 کلو وزنی 10 پیکٹ برآمد ہوئے۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سمیرا بیٹھی ہوئی تھی۔ اسکی تلاشی لیڈی کانسٹیبل نے لی تو صرف ایک موبائل برآمد ہوا۔
یہ 21 مئی 2017 کا دن تھا۔ ملزمان کو گرفتار کرکے FIR درج کی گئی، جس میں مرد ملزمان پر منشیات رکھنے اور منتقل کرنے، جبکہ خاتون ملزمہ پر انکی مدد و اعانتِ جرم کا الزام لگایا گیا۔ ضبط شدہ منشیات میں سے نمونے فرانزک کیلئے بھجوائے گئے۔ پنڈی بھٹیاں کی عدالت میں مقدمہ چلا۔ ناکے پر روکنے والے سب انسپکٹر افضل حسین اس دوران انتقال کر گئے، اس لیے وہ بطور گواہ پیش نہ ہو سکے۔ البتہ بقیہ پولیس ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔ عدالت نے 26 ستمبر 2018 کو فیصلہ سنایا، جس میں مرد ملزمان کو عمر قید و جرمانہ، اور خاتون کو سولہ سال، آٹھ ماہ قید و جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں۔
ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو 12 مئی 2023 کو خارج ہوگئی، جس پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں تین رکنی بنچ نے جون 2025 میں کیس کی سماعت کی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے فیصلہ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ابراہیم (ڈرائیور) اور گل محمد دونوں کے پاؤں کے قریب سے منشیات کی برآمدگی ٹھوس شواہد سے ثابت ہوئی۔ گواہان نے ثابت کیا کہ منشیات کے نمونے موقع سے لے کر تھانے اور پھر فرانزک ایجنسی تک بحفاظت پہنچائے گئے اور فرانزک رپورٹ بھی مثبت آئی۔ پولیس گواہان پر کی گئی جرح میں انکی کوئی بدنیتی یا پرانی دشمنی ثابت نہیں ہوئی، اس لیے انکی گواہی کو محض پولیس اہلکار ہونے کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا ان دونوں کی حد تک نچلی عدالتوں کا فیصلے بالکل درست ہیں۔
البتہ سمیرا کا کردار باقی دو ملزمان سے بالکل مختلف تھا، کیونکہ وہ صرف گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی تھی۔ اسکے قبضے سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئیں۔ پولیس ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی جس سے ظاہر ہو کہ سمیرا کو اگلی نشستوں کے نیچے رکھی منشیات کا علم تھا۔ قانون کے مطابق "قبضے" کا مطلب صرف کسی چیز کے قریب ہونا نہیں، بلکہ اس پر شعوری اور ارادی کنٹرول ہونا ہے۔
سمیرا بی بی پر FIR میں جرم میں مدد کرنے کا الزام تھا، لیکن پولیس نے اسکی منصوبہ بندی یا جرم میں عملی شرکت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ نہ ہی یہ ثابت ہوا کہ منشیات کھلے عام پڑی تھیں اور اسے نظر آ رہی تھیں۔ شک کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، وہ ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا، اور شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملنا چاہیے۔ گاڑی میں محض موجودگی سزا کیلئے کافی نہیں۔
سپریم کورٹ نے ابراہیم اور گل محمد کی عمر قید و دیگر سزائیں برقرار رکھیں اور سمیرا بی بی کی سزا ختم کر کے اسے بری کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ ممکن ہے سمیرا کو اس وجہ سے سوار کیا گیا ہو کہ فیملی سمجھ کر پولیس تلاشی نہ لے۔ بہرحال، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے جیل میں آٹھ سال گزارنے پڑ گئے۔ فری کے چکر میں گاڑیوں میں لفٹ لینے کے شوقین حضرات یہ فیصلہ ضرور پڑھیں۔