Helping Hands Pakistan

Helping Hands Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Helping Hands Pakistan, Islamabad.

16/08/2026

A Humble Request for Help — Single Mother in Need
I am a single mother with two young children. One of my children goes to school, while my younger child still needs milk and diapers.
I have been working to support my children, but unfortunately, I have been without a job for the last two months. Because I had no income, I had to borrow money to pay my child's school fees and manage basic household necessities. Now I have no income left to repay the loan or properly meet my children's needs.
At the moment, I am staying at my mother's home. My mother is over 75 years old and unwell, and the household is mainly running on her pension.
I am actively looking for a job and I believe that once I get employment, I will be able to manage things again. But right now, I genuinely need some temporary help.

I understand that nowadays it is difficult to trust people, and I completely respect that. I can provide genuine proof of my situation, including documents related to my children's education, financial difficulties, loan, and other necessary information if required.
I am not asking for a large amount. Even a small contribution from several people can help me pay off part of my debt and provide milk, diapers, food and other necessities for my children.
If anyone can help me financially, even a small amount, I would be extremely grateful. If you cannot donate, please share my request with others who may be able to help.
I am only asking for help until I find a job and become financially stable again.
May Allah reward everyone who helps me, shares this message, or makes dua for my children. Ameen. 🤲

میں دو چھوٹے بچوں کی اکیلی ماں ہوں۔ میرے ایک بچے کی تعلیم جاری ہے جبکہ میرا چھوٹا بچہ ابھی دودھ اور ڈائپرز کا محتاج ہے۔

میں اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کر رہی تھی، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دو ماہ سے بے روزگار ہوں۔ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے بچے کی اسکول فیس اور گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔ اب میرے پاس نہ قرض واپس کرنے کے لیے آمدنی ہے اور نہ ہی بچوں کی ضروریات مناسب طریقے سے پوری کرنے کے وسائل۔

اس وقت میں اپنی والدہ کے گھر رہ رہی ہوں۔ میری والدہ کی عمر 75 سال سے زیادہ ہے اور وہ بھی علیل ہیں۔ اس وقت گھر کے اخراجات زیادہ تر ان کی پنشن سے چل رہے ہیں۔

میں مسلسل ملازمت کی تلاش میں ہوں اور مجھے یقین ہے کہ جیسے ہی مجھے روزگار ملے گا، میں دوبارہ اپنے معاملات سنبھال سکوں گی۔ لیکن اس وقت مجھے واقعی کچھ عرصے کے لیے عارضی مالی مدد کی ضرورت ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ آج کل کسی پر اعتماد کرنا آسان نہیں، اور میں اس بات کا مکمل احترام کرتی ہوں۔ اگر ضرورت ہو تو میں اپنی صورتحال کے حقیقی ثبوت فراہم کر سکتی ہوں، جن میں بچوں کی تعلیم سے متعلق دستاویزات، مالی مشکلات، قرض اور دیگر ضروری معلومات شامل ہیں۔

میں کسی بڑی رقم کی درخواست نہیں کر رہی۔ اگر چند لوگ بھی اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑی تھوڑی مدد کر دیں تو اس سے میرے قرض کا کچھ حصہ ادا کرنے اور بچوں کے لیے دودھ، ڈائپرز، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

اگر کوئی میری مالی مدد کر سکتا ہے، چاہے رقم بہت کم ہی کیوں نہ ہو، تو میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں گی۔ اگر آپ مالی مدد نہیں کر سکتے تو براہِ کرم اس درخواست کو ایسے لوگوں تک ضرور پہنچا دیں جو میری مدد کر سکیں۔

مجھے صرف اس وقت تک مدد کی ضرورت ہے جب تک مجھے ملازمت نہیں مل جاتی اور میں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتی۔

اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جزائے خیر دے جو میری مدد کرے، اس پیغام کو آگے پہنچائے یا میرے بچوں کے لیے دعا کرے۔

آمین۔ 🤲
اس بہن کی مدد کے لیے انبکس میسج کر دیں،جزاک اللہ
For help contact in inbox,

16/08/2026

کیا ان ماں بیٹے کو آپ جانتے ہیں۔۔۔؟؟!!!
ماں بول اور سن نہیں سکتی۔ راستہ "بھول" کر بھٹک گئے اور شیلٹر پہنچ گئے۔ عامر جوان ہوا ماں بوڑھی ہوگئی لیکن 27 سال ہوگئے خاندان نہیں ملا۔ آپ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے اس ویڈیو کو وائرل کریں ۔ آپکا ایک شئیر انکی اجڑی زندگی سنوار سکتا ہے۔
بسم اللہ کہہ کر ایک بار شئیر کریں ان شاءاللہ اللہ اسکا بدلہ دونوں جہانوں میں دےگا۔

16 Aug 2026

اس نوجوان کو اپنا نام ساغر یاد ہے والدین اور بہن بھائیوں کے نام یاد نہیں ہیں۔ ساغر کا کہنا ہے کہ مجھے بس اتنا یاد ہے میں...
15/08/2026

اس نوجوان کو اپنا نام ساغر یاد ہے والدین اور بہن بھائیوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
ساغر کا کہنا ہے کہ مجھے بس اتنا یاد ہے میں گھر کے باہر کھیل رہا تھا مجھے ایک شخص نے کار میں ڈالا ۔ اور مجھے ایک شیلٹر میں دےگیا۔ اپنا شہر بھی یاد نہیں ہے۔
ساغر کا نام شیلٹر میں بابر رکھا گیا ہے۔ فائل میں اتنی تفصیل لکھی ہے کہ "حیدرآباد سے گاڑی لیکر آئی ہے"۔ سال 2014 میں۔
فائل کی ایک تصویر میں سر گنجا ہے اور ایک میں بال ہیں۔
گنجے سر والی فوٹو اس وقت کی ہے جب وہ نیانیا شیلٹر میں آیا تھا۔
ساغر اب جوان ہوچکا ہے۔جوانی میں اس نے ماں باپ کا سہارا بننا تھا لیکن لاوارث ہوگیا ہے۔
آپ سب سے اپیل ہے کہ صرف اور صرف اللہ کے لئے اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں۔ تاکہ ساغر کسمپرسی کی زندگی سے نکل کر ماں باپ اور بہن بھائیوں کے درمیان رہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

7 Aug 2026

اس بےزبان بہن کی زبان بن جائیں۔۔۔!!سال 2009 میں یہ معصوم بچی ملتان میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ ایک شیلٹر میں جمع ہوئی۔ب...
15/08/2026

اس بےزبان بہن کی زبان بن جائیں۔۔۔!!

سال 2009 میں یہ معصوم بچی ملتان میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ ایک شیلٹر میں جمع ہوئی۔
بعد ازاں اسے کراچی کے ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ بچی برسوں سے زندگی گزار رہی ہے۔ شیلٹر میں نام آمنہ عرف حمیرا ہے۔
جو بچیاں اپنے گھر والوں سے ملتی ہیں یہ انکو دیکھ کر بہت روتی ہے اور اشاروں میں کہتی ہے مجھے بھی کوئی میرے اپنے گھر والوں سے ملائے۔
سترہ سال گزر گئے…وقت بدل گیا، بچپن گزر گیا، عمر بڑھ گئی…
مگر ایک سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:
آخر اس بچی کے اپنے کون ہیں؟
شاید وہ لوگ یہ سمجھ کر خاموش ہو گئے ہوں کہ ان کی بیٹی کبھی واپس نہیں آئے گی…لیکن ہم امید نہیں چھوڑیں گے۔
یہ تصویر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ہو سکتا ہے یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اس بچی کو پہچانتا ہو، یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی معمولی سی معلومات رکھتا ہو۔
ایک شیئر صرف ایک پوسٹ کو نہیں پھیلاتا، بلکہ کسی کی 17 سالہ جدائی ختم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آئیے، اس بچی کو اس کے اپنوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

8 Aug 2026

کیا آپ انکو جانتے ہیں۔۔؟!!یہ صاحب بول اور سن نہیں سکتے۔ آج سے تیرہ چودہ سال قبل کہیں سے بھٹک کر میاں والی کے ایک گاؤں می...
15/08/2026

کیا آپ انکو جانتے ہیں۔۔؟!!

یہ صاحب بول اور سن نہیں سکتے۔ آج سے تیرہ چودہ سال قبل کہیں سے بھٹک کر میاں والی کے ایک گاؤں میں پہنچے۔
اہل محلہ نے ان سے معلومات لینے کی کوشش کی تو یہ نا بول سکتے تھے اور نا ہی لکھ سکتے تھے۔ بہت کوششیں کی گئیں لیکن خاندان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔
بعد ازاں ایک بہت نیک دل انسان نے اسے اپنے ڈیرے میں رہائش دی ۔ اسکا کھانا پینا پہننا سب وہ کررہے ہیں اور اپنے بچوں کی طرح رکھا ہے۔
ہمیں انکا کیس موصول ہوا اور بتایا گیا کہ یہ تنہائیوں میں اپنے اہل خانہ کو یاد کرکے بہت روتے ہیں۔خاص کر جب کوئی خوشی کا موقع ہو۔ ۔۔نجانے گھر والے کس کرب سے گززرپے ہونگے۔
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر دل کھول کر شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر کسی ماں کو اسکا پیارا بچھڑا ہوا بیٹا دلوا سکتا ہے۔ اس ماں کے ہاتھ جب دعا کے لئے اٹھیں گے تو عرش والا وہ دعا کبھی رد نہیں کرےگا۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

8 aug 2026

اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن ک...
15/08/2026

اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔
جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن کو لاوارث حالت میں ملا تھا۔6 سال عمر تھی۔
جاوید کی مادری زبان پشتو ہے۔ اس کے بقول وہ گھر سے نکل کر سمندر کے قریب کہیں پہنچا تھا تو وہاں سے پولیس کو ملا تھا۔
خاندان کے افراد میں سے کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
جاوید نے زندگی میں بہت ہی مشکل حالات دیکھے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اس وقت بے یار و مددگار زندگی بسر کررہا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھے اور اذیت ناک زندگی سے نکل کر سکون میں آجائے۔
ان شاءاللہ فیملی ملنے کے بعد ہم جاوید کی زندگی پر لکھیں گے آپ پڑھ کر اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پائیں گے۔ فی الحال اسکی تکلیف کا احساس کرکے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

9 Aug 2026

تمام قارئین

13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ… 23  سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔سال 2003 میں جب محب ا...
15/08/2026

13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ…
23 سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!
یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔
سال 2003 میں جب محب اللہ کی عمر صرف 13 سال تھی، وہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اُس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کر رہا تھا۔

محب اللہ کے والد قاری عبداللہ مدنی مسجد، F-8 اسلام آباد کے امام تھے۔ چند سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اپنے بیٹے کی واپسی کی حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔

محب اللہ کی والدہ حنیفہ بی بی آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اس کے بھائی وصی اللہ، منیب اللہ، امداد اللہ اور عباد اللہ اور بہنیں سلمیٰ، تسلیم، ام ہانی اور حبیبہ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کا بچھڑا ہوا بھائی ایک دن اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
آبائی تعلق: گاؤں بیڑ، ضلع بٹگرام۔۔۔ رہائش: F-8/2، اسلام آباد
گھر میں محب اللہ کی یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر وقت کے ساتھ سیاہ پڑ چکی ہے، مگر اس تصویر میں آج بھی اس کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
ماں کی آنکھیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں… شاید کبھی اس کا بیٹا واپس آ جائے۔
محب اللہ! اگر آپ یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور آپ دنیا میں کہیں بھی موجود ہیں، تو اپنی ماں کی بے قراری اور اپنے بہن بھائیوں کی برسوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں۔
آپ کے گھر والے آج بھی آپ کے منتظر ہیں۔
اگر محب اللہ تک یہ پوسٹ نہ بھی پہنچ سکے، تو ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اسے جانتا ہو، اور یوں 23 سال سے بچھڑا ہوا بیٹا اپنی ماں سے مل جائے۔

کسی بھی معلومات کی صورت میں رابطہ کریں:
+92 316 2529829

10 اگست 2026

تصویر میں نظر آنے والا بچہ اپنا نام علی بتاتا ہے۔ علی کی والدہ بول اور سن نہیں سکتی تھی۔ سال 1999 میں علی اور اسکی والدہ...
15/08/2026

تصویر میں نظر آنے والا بچہ اپنا نام علی بتاتا ہے۔
علی کی والدہ بول اور سن نہیں سکتی تھی۔ سال 1999 میں علی اور اسکی والدہ ایک شیلٹر میں پہنچے تھے۔ پھر ملتان کے شیلٹر سے کراچی کے شیلٹر منتقل کئے گئے تھے۔ شاید انکا تعلق ملتان سے ہو پنجاب کے کسی آس پاس شہر سے ہو۔
علی کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ علی روز والدہ کی قبر پر جاتا ہے اور اپنی رو کر ماں کو آوازیں دیتا ہے۔
علی نے جب ہم سے رابطہ کیا تو اسکا کہنا تھا" اگر میرا گھر نہیں ملا تو میں اپنی جان دےدونگا" ۔ ذہنی طور پر ذرا سادہ ہے اور بہت معصوم ہے۔ علی کی نشانی یہ ہے کہ اسکی زبان توتلی ہے۔ وہ جب اپنے ساتھ کے دوستوں کو اپنے گھر والوں سے ملتا دیکھتا ہے تو دل میں بہت حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش اسکے گھر والے بھی مل جائیں۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپکا ایک شئیر ایک دکھی انسان کو اسکے خاندان سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

11 Aug 2026

یہ اسپیشل بچہ ہے۔ آج سے تقریبا 20 سال قبل اپنے گھر سے بچھڑا ہوا ہے۔ ایک بھائی نے رابطہ کرکے بتایا کہ:"اسلام و علیکم پیار...
15/08/2026

یہ اسپیشل بچہ ہے۔
آج سے تقریبا 20 سال قبل اپنے گھر سے بچھڑا ہوا ہے۔ ایک بھائی نے رابطہ کرکے بتایا کہ:
"اسلام و علیکم پیارے بھائ امید ہے آپ خیریت سے ہو گے!
یہ شخص تقریبا بیس سال قبل فیصل گجر کوچ میں بیٹھ کر آیا حسن ابدال اترا یہ بول نہیں سکتا سن سکتا ہے۔
ابھی ادھر ایک دو بندوں کے ہاں رہتا ہے اس کو میں نے کہا تماری تصویر لگاؤں تمہیں گھر والے مل جائے کہتا ہے ہاں۔
یہ ممکن ہے لاہور گجرانوالہ گجرات جو روٹ بنتا ہے لاہور سے مانسہرہ تک اس جگہ کا ہو گا ممکن ہے اس کے گھر والے بھی اسکی تلاش میں ہو پلیز پلیز اب اسکی پوسٹ لگا دیں جزاک اللہ"
اس جوان کی پرانی تصویر موجود نہیں ہے۔ چند سال قبل اور حالیہ تصویر موجود ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کیا پتہ آپکے ایک شئیر کرنے سے اسکو اپنا گھر مل جائے اور یہ اللہ والا دن رات آپکو دعائیں دے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

12 Aug 2026

15/08/2026

نعیم بچپن میں گھر گم گیا تھا ۔ 18 سے 20 سال قبل۔ والد کا نام بشیر تھا ملک بشیر کے نام سے مشہور تھا۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتا تھا۔
تمام دوست اس ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں اور نعیم کے ورثاء کا ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ راواں شہر سے قبل بھووڑ/بوہڑ چوک کسی جگہے کا نام ہے وہاں انکا گھر تھا۔ گھر کے قریب پیپل کا بڑا درخت موجود ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے وٹس ایپ کریں
03162529829

Address

Islamabad

Telephone

+923125022144

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Helping Hands Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share