25/06/2020
اسلام آباد () ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسویسی ایشن نے وفاقی حکومت سے گیس کی تقسیم کار کمپنی سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ کی تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ایس ایس جی سی کی جانب سے جامشورو جوائنٹ وینچر (جے جے وی ایل) کے ساتھ ایل پی جی گیس پروسیسنگ کا معاہدہ ختم ہونے سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر سالانہ 4 ارب کے قریب نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے گذشتہ روز وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر کے ساتھ ملاقات کی۔ جس میں انہوں نے ایس ایس جی سی بورڈ کی ایل پی جی گیس کی پروسیسنگ کے حوالے سے موجودہ صورتحال بارے آگاہ کیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی ندیم بابر نے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کو عوام کو سستی ایل پی جی گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے ہوئے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ ان کی دونوں حکومتی رہنماؤں سے ملاقات میں ایس ایس جی کمپنی کی جانب سے ایل پی جی گیس کے پروسیسنگ کے معاہدہ کو ختم کرنے کی وجہ قومی خزانے کو سالانہ بنیادوں پر 4 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے حالیہ اقدام کی وجہ سے ایل پی جی گیس صارفین مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ معاہدہ ختم ہونے سے پہلے اوگرا کی جانب سے مققر کردہ قیمت 110 روپے فی کلو سے بھی 20 روپے کم قیمت پر مارکیٹ میں صارفین کے لیے عام دستیاب تھی۔ تاہم کمپنی کی جانب سے اچانک معاہدہ ختم ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں ایل پی جی گیس نایاب ہو چکی ہے۔ عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے رواں ماہ کی 20 تاریخ کو معاہدہ ختم ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر گیس کی طلب اور رسد میں 300میٹرک ٹن یومیہ کا فرق سامنے آیا ہے۔ جبکہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اب تک مجومعی طور پر ملک کو 900 میٹرک ٹن ایل پی جی گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمپنی کے بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے ۔ مزید براں ان کا یہ کہنا تھا کہ ایل پی جی گیس پروسیسنگ پلانٹ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں لگایا گیا تھا اور اس کا سنگ بنیاد سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے رکھا تھا۔