Laptops For Sale In Pakistan

Laptops For Sale In Pakistan Karobaari Ideas

کوشش کریں کہ ایک تو صرف وہی ماڈل سیل کروں جن کا گاہک کو پیسے خرچ کرنے کا بھی کچھ فایدہ ہواس لیے  کم سے کم 6th جنریشن کے ...
19/07/2025

کوشش کریں کہ ایک تو صرف وہی ماڈل سیل کروں جن کا گاہک کو پیسے خرچ کرنے کا بھی کچھ فایدہ ہو
اس لیے کم سے کم 6th جنریشن کے ہی ماڈل رکھیں اور اگر کسی کا بجٹ بالکل کم ہے تو پھر 5 th جنریشن ریکومنڈ کروں
کوشش کریں اس سے نیچے والی جنریشن میں نا ہی جائیں کیونکہ زیادہ پرانی جنریشن کے لیپ ٹاپ میں اکثر کوئی نا کوئی ایشو نکل آتا ہے
اور خاص طور پر کوڑا مت خریدیں جیسے کے pantium پراسیسر والے لیپ ٹاپ تو بالکل مت خریدیں
اگر آپ کا کام ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہے ، نارمل ڈیزائننگ اور ایڈٹنگ ہے capcut
وغیرہ جیسے سافٹ ویئر اور اس کے علاوہ ویب ڈویلپمنٹ یوٹیوب آٹو میشن، ایس ای او وغیرہ یعنی صرف ویڈیو ایڈیٹنگ کے علاوہ سب کاموں کے لئے آپ کا 6 th.جنریشن کا لیپ ٹاپ بھی کافی ہوتا ہے
اور اگر آپ 8th جنریشن میں آ جاتے ہیں تو اس میں quad core پروسیسر ہوتا ہے مطلب 4 کور ہوتی ہیں پروسیسر کی اس سے پہلے والی جنریشن میں dual core پراسیسر یعنی دو کور والا پروسیسر ہوتا ہے۔اٹھویں جنریشن میں آپ کے سب ہی کام مزید آسانی سے اور فاسٹ ہو سکتے ہیں اسی طرح اگر آٹھویں سے دسویں جنریشن دسویں سے گیارہویں جنریشن میں جاتے جائیں گے تو آپ کا کام اتنا ہی فاسٹ سموتھ اور آسان ہوتا جائے گا مطلب جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا میٹھا
لیکن
ایک بات یاد رکھیں کے اگر آپ کو بہت ہیوی قسم کی ویڈیو ایڈیٹنگ کرنی ہے تو اس کے لئے آپ کو dedicated graphics card
والا لیپ ٹاپ ہی چاہئے ہوتا ہے، جس اور یہ dedicated graphics cards والے اچھے لیپ ٹاپ کم سے کم ایک لاکھ سے اوپر اوپر ہی ہوتے ہیں
اگر تو آپ کا کام بہت پروفیشنل ایڈیٹنگ کا نہیں ہے تو پھر آپ تمام تر سکلز کے لئے 6,8,10,11 جنریشن کے لیپ ٹاپ یوز کر سکتے ہیں
میں خود آج تک کبھی 10 جنریشن سے اوپر کا لیپ ٹاپ نہیں یوز کیا
ہی چلائی ہےکئی سال تک 6 7 اور 8 جنریشن
پرائس رینج کی بات کریں تو 6 جنریشن 38 سے 45 کے درمیان ہو گی
5 جنریشن 35 ہزار تک ہو گی
7 جنریشن 45 سے 50 کے درمیان ہو گی
8 جنریشن 50 سے 65 کے درمیان ہو گی
کوشش کریں اگر آپ 30/32 ہزار میں 4 جنریشن کا لیپ ٹاپ لینا چاہ رہے ہیں تو اس میں 8 10 ہزار اور ایڈ کر کے کم سے کم 6 جنریشن خریدیں تاکہ آپ کو کچھ عرصہ تک کام میں کوئی ایشو نا آئے

30/12/2024

یورپ میں کامن چارجر کا قانون لاگو ہوگیا موبائل جو بھی ہو لیکن چارجر اب ایک ہی ہوگا۔ اب یورپ بھر میں کسی بھی کمپنی کے موبائل کے لیے ٹائپ سی چارجر ہی استعمال ہوگا۔ اس قانون کے تحت یورپی صارفین کے چارجرز کی خرید کی مد میں خرچ ہونے والے 25 کروڑ یورو سالانہ بچائے جا سکیں گے۔ نئے قانون کے تحت ایپل کمپنی بھی آئی فونز کے ساتھ اینڈرائیڈ سسٹم کے ٹائپ سی چارجر دینے کی پابند ہوگی۔ یورپی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2022 میں کامن چارجر لا پاس کیا تھا اور ایپل کو اپنی ڈیوائسز کے لیے چارجر تبدیل کرنے کے لیے 2024 کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

پیغام ہمارے سر کا وزن تقریباً 5kg ہے۔ گردن سر کے وزن کو سہارا دیتی ہے جو جھکاؤ کے زاویے کے مطابق بڑھتا ہے۔  جتنا ہم نیچے...
21/12/2024

پیغام
ہمارے سر کا وزن تقریباً 5kg ہے۔
گردن سر کے وزن کو سہارا دیتی ہے جو جھکاؤ کے زاویے کے مطابق بڑھتا ہے۔ جتنا ہم نیچے کی طرف دیکھتے ہیں، اتنا ہی ہمارے سر کا وزن بڑھتا ہے۔ سروائیکل جو وزن اور تناؤ لیتا ہے، اس کے مطابق سر کا وزن 5 کلوگرام سے کم ہو جاتا ہے، لیکن اگر آپ آگے کی طرف جھکتے ہیں تو اس کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ 60 ڈگری پر جھکنے پر، یہ گریوا کے نچلے حصے اور سینے کے نیچے 22-27 کلوگرام چارج کرتا ہے۔ درحقیقت، پوری ریڑھ کی ہڈی.
مزید یہ کہ نرم بافتوں، فاشیاس، مسلز، لیگامینٹس اور کنڈرا کا سپورٹ بہت زیادہ تناؤ اور تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے جس سے جوڑوں اور ڈسکس پر تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ابھی نہیں، تو پٹری سے نیچے، اس کا اثر گردن پر پڑے گا کیونکہ یہ سخت ہوتی جاتی ہے اور کہیں اور مسائل پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے اپنا خیال رکھیں۔ ہم جو کچھ ہو رہا ہے اس میں پوری طرح جذب ہو جاتے ہیں اور ہم اپنی جسمانی پوزیشن اور وقت کے ساتھ یہ چھوٹا سا
آلہ ہمارے ساتھ کیا کر سکتا ہے اس کی جانچ نہیں کرتے
کچھ وقت اپنے اور اپنوں کے ساتھ گزاریں اپنے ساتھ مخلص رہیں۔
جتنا ہو سکے سکرین فوکس کم کریں بلخصوص چھوٹے بچوں کو موباٸل ہرگز نا دیں.

فرض کریں آپ ایک پرانی موٹر سائیکل چلا رہے ہیں جو شور بھی زیادہ کرتی ہے، آہستہ بھی ہے، اور بار بار پٹرول ختم ہونے کا مسئل...
10/12/2024

فرض کریں آپ ایک پرانی موٹر سائیکل چلا رہے ہیں جو شور بھی زیادہ کرتی ہے، آہستہ بھی ہے، اور بار بار پٹرول ختم ہونے کا مسئلہ بھی کرتی ہے۔ پھر آپ کو پتا چلتا ہے کہ مارکیٹ میں نئی موٹر سائیکل آ چکی ہے، جو تیز، آرام دہ اور کم پٹرول خرچ کرتی ہے۔ یہی حال کمپیوٹر پروسیسرز کا ہے۔ جب نئی جنریشن آتی ہے، تو پرانے پروسیسرز پیچھے رہ جاتے ہیں۔
پہلی جنریشن (Sandy Bridge)
2011 میں آئی پہلی جنریشن بالکل ایسی تھی جیسے کسی نے پرانے موٹر سائیکل کے انجن کو تھوڑا بہتر کر دیا ہو۔ اس وقت کے لیے یہ بہترین تھی، لیکن آج کے جدید کام جیسے گیمز کھیلنا یا ویڈیوز ایڈٹ کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔
مشورہ: پہلی جنریشن کے پروسیسرز خریدنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ بہت پرانے ہو چکے ہیں۔
دوسری جنریشن (Ivy Bridge)
2012 میں دوسری جنریشن آئی۔ یہ پہلی جنریشن سے بہتر تھی، جیسے موٹر سائیکل کا انجن زیادہ طاقتور بنا دیا گیا ہو۔ گرافکس میں بہتری اور توانائی کی بچت اس کی خاص بات تھی، لیکن آج کے بھاری کاموں کے لیے یہ بھی ناکافی ہے۔
مشورہ: اگر آپ ہلکے پھلکے کام کرتے ہیں، تو یہ ٹھیک ہے، ورنہ جدید جنریشنز پر غور کریں۔
تیسری جنریشن (Haswell)
2013 میں تیسری جنریشن آئی، جو ملٹی کور ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی۔ یہ پروسیسرز کئی کام ایک ساتھ کرنے میں مہارت رکھتے تھے، بالکل ایسے جیسے ایک موٹر سائیکل کو زیادہ ہارس پاور دے دی گئی ہو۔ گیمنگ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے یہ ایک اچھا انتخاب تھا۔
مشورہ: یہ پروسیسرز آج بھی کچھ حد تک کارآمد ہو سکتے ہیں، لیکن زیادہ جدید کاموں کے لیے بہتر آپشنز موجود ہیں۔
چوتھی جنریشن (Broadwell)
2014 کی چوتھی جنریشن میں پروسیسرز کو چھوٹا، تیز اور توانائی کے لحاظ سے بہتر بنایا گیا۔ یہ بالکل ایسے تھا جیسے ایک موٹر سائیکل کو نہ صرف طاقتور بنایا جائے بلکہ اس کی بناوٹ کو بھی خوبصورت اور ہلکا کر دیا جائے۔
مشورہ: یہ اچھی جنریشن ہے، لیکن جدید گیمز یا بھاری کاموں کے لیے محدود ہو سکتی ہے۔
پانچویں جنریشن (Skylake)
2015 کی جنریشن میں مزید تیزی اور طاقت آئی۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، گیمز، اور بھاری سافٹ ویئرز کے لیے یہ پروسیسرز ایک اچھا انتخاب تھے۔
مشورہ: اگر آپ ہائی پرفارمنس کی ضرورت رکھتے ہیں، تو یہ جنریشن ایک قابلِ غور آپشن ہے۔
چھٹی جنریشن (Kaby Lake)
2017 میں آئی چھٹی جنریشن ویڈیوز، سٹریمنگ، اور کانفرنسنگ کے لیے بہترین تھی۔ یہ ایسے تھا جیسے آپ کی موٹر سائیکل کو لمبے سفر کے لیے موزوں بنا دیا جائے، بغیر زیادہ ایندھن خرچ کیے۔
مشورہ: اگر آپ روزمرہ کے کام یا ویڈیوز دیکھنے کے لیے لیپ ٹاپ خرید رہے ہیں، تو یہ ٹھیک ہے۔
ساتویں جنریشن (Coffee Lake)
2018 میں ایک بڑی چھلانگ لگی اور پہلی بار پروسیسرز میں 6 کورز شامل کیے گئے۔ یہ گیمنگ، ملٹی ٹاسکنگ، اور ہائی پرفارمنس کے لیے شاندار تھے، جیسے آپ کی موٹر سائیکل میں سپرچارجڈ انجن ڈال دیا گیا ہو۔
مشورہ: اگر آپ جدید گیمز یا بھاری سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں، تو یہ ایک زبردست انتخاب ہے۔
اگر آپ آج ایک نیا لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر خریدنے جا رہے ہیں، تو پرانی جنریشنز جیسے پہلی یا دوسری جنریشن کو چھوڑ دیں۔ آٹھویں یا نویں جنریشن جیسے Coffee Lake یا Alder Lake پروسیسرز دیکھیں، جو تیز رفتار، کم بجلی خرچ کرنے والے اور جدید کاموں کے لیے بہترین ہیں۔

مینٹور عبداللہ وسیم

tech support 😆
07/12/2024

tech support 😆

05/12/2024

سب تو یہ بتاتے ہیں کہ کون سا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ لینا چاہیے، لیکن میں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ کون سا لیپ ٹاپ نہیں لینا چاہیے۔ یہ ایک اہم بات ہے کیونکہ غلط لیپ ٹاپ خریدنا آپ کے پیسے اور وقت دونوں کا ضیاع بن سکتا ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ پرانے ماڈلز نہ خریدیں۔ مارکیٹ میں بعض لوگ پرانے لیپ ٹاپ سستے داموں بیچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ لیپ ٹاپ جدید سافٹ ویئر یا ایپلی کیشنز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ جیسے 2015 یا اس سے پرانے ماڈلز میں نئے آپریٹنگ سسٹم نہیں چل سکتے یا چل بھی جائیں تو کارکردگی بہت سست ہوتی ہے۔ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ لیپ ٹاپ کس سال کا ہے، آپ لیپ ٹاپ کے سیریل نمبر یا ماڈل نمبر کو گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں یا سسٹم کی معلومات (System Information) میں جاکر دیکھ سکتے ہیں۔ ایک عام نشانی یہ ہے کہ 2015 سے پہلے کے ماڈلز میں اکثر انٹیل کے i3 یا اس سے پرانے پروسیسرز، موٹی باڈی اور پرانی USB 2.0 پورٹس زیادہ ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ، کم معیار کے یا غیر معروف کمپنیوں کے لیپ ٹاپ سے بھی بچیں۔ سستے لیپ ٹاپز کی صورت میں، آپ کو بظاہر قیمت میں فائدہ ملتا ہے، لیکن ان کا معیار اکثر خراب ہوتا ہے۔ ایسے لیپ ٹاپ جلد خراب ہو جاتے ہیں یا ان کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہوتی ہے، جس سے آپ کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ ایسے برانڈز ہیں جو سستے لیپ ٹاپز پیش کرتے ہیں لیکن ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی، جیسے Acer Aspire کے پرانے ماڈلز یا HP Stream سیریز۔ ان ماڈلز میں اکثر کم معیار کے پروسیسر اور کمزور بیٹری استعمال ہوتی ہے جو کہ طویل مدت میں مسائل پیدا کرتی ہیں۔
ایک اور بات یہ ہے کہ کبھی بھی کمزور پروسیسر اور کم ریم والے لیپ ٹاپ نہ لیں۔ اگر پروسیسر کمزور ہوگا یا ریم 4 جی بی سے کم ہوگی، تو آپ کو ہر وقت سسٹم سست چلتا ہوا محسوس ہوگا، اور یہ بہت مایوس کن ہو سکتا ہے۔ 2015 سے پہلے کے لیپ ٹاپس میں زیادہ تر انٹیل کے سیلیرون یا پینٹیم پروسیسر استعمال ہوتے تھے، جو آج کی ضروریات کے مطابق کافی سست ہیں۔ اسی طرح، ان ماڈلز میں 2 یا 4 جی بی ریم ہوتی تھی، جو آج کے سافٹ ویئرز اور ایپلی کیشنز کے لیے ناکافی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کم از کم i5 پروسیسر اور 8 جی بی ریم والا لیپ ٹاپ خریدیں تاکہ آپ کے کام میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کارکردگی اچھی رہے۔
کم معیار کی بیٹری لائف والے لیپ ٹاپ بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ایسا لیپ ٹاپ مل رہا ہے جس کی بیٹری زیادہ دیر نہیں چلتی، تو اس سے بچیں۔ کیوں کہ جب آپ کا لیپ ٹاپ چند گھنٹوں کے بعد ہی بند ہو جائے تو اس کی پورٹیبلٹی کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ عام طور پر 2015 سے پہلے کے ماڈلز میں پرانی اور کمزور بیٹریاں ہوتی ہیں جو زیادہ دیر تک نہیں چل پاتیں، اور بیٹری کی اصل کارکردگی کا اندازہ لینے کے لیے آپ 'بیٹری ہیلتھ رپورٹ' چیک کر سکتے ہیں جو اکثر سسٹم کی سیٹنگز میں دستیاب ہوتی ہے۔
کم ریزولوشن یا خراب ڈسپلے والے لیپ ٹاپ بھی نہیں لینے چاہئیں۔ آپ کو اچھی ریزولوشن اور واضح تصویر کے لیے کم از کم 1080p کا ڈسپلے ہونا چاہیے تاکہ آپ کی آنکھوں پر دباؤ نہ پڑے اور آپ کی ویڈیو یا گرافک کا تجربہ بہتر ہو۔ عام طور پر 2015 سے پہلے کے ماڈلز میں 720p یا اس سے کم ریزولوشن کی اسکرینز ہوتی ہیں جو جدید معیار کے مطابق مناسب نہیں ہیں۔ ان ماڈلز میں اکثر ٹی این (TN) پینل استعمال ہوتا ہے جس کی تصویر کی کوالٹی اور رنگوں کی درستگی محدود ہوتی ہے، جبکہ آج کے معیار کے مطابق آئی پی ایس (IPS) پینل بہتر تصور کیے جاتے ہیں جو رنگوں کی درستگی اور ویوئنگ اینگلز کے لحاظ سے بہترین ہیں۔ اس لیے کم از کم آئی پی ایس پینل اور 1080p ریزولوشن والا لیپ ٹاپ خریدنا بہتر رہے گا۔
ایسے لیپ ٹاپس جن میں ضروری کنیکٹیویٹی آپشنز نہیں ہیں، جیسے یو ایس بی پورٹس یا ایچ ڈی ایم آئی پورٹ، سے بھی پرہیز کریں۔ اگر مستقبل میں آپ کو اپنے لیپ ٹاپ کو دیگر ڈیوائسز کے ساتھ کنیکٹ کرنا پڑے تو یہ کمی آپ کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
آخر میں، ناقص کسٹمر سپورٹ یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ سے بھی بچیں۔ بعض اوقات آپ کو کم قیمت میں ریفربشڈ لیپ ٹاپ مل جاتے ہیں، لیکن ان کی وارنٹی نہیں ہوتی یا وہ جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح، برانڈ کی کسٹمر سپورٹ بھی اہم ہے، کیوں کہ اگر آپ کے لیپ ٹاپ میں مسئلہ ہو اور سپورٹ نہ ملے، تو آپ مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔
خریداری کرتے وقت یہ باتیں ضرور ذہن میں رکھیں تاکہ آپ اپنی محنت کی کمائی کو محفوظ رکھ سکیں اور بہترین لیپ ٹاپ حاصل کر سکیں۔
محمد عبداللہ وسیم

نان ایکٹو موبائل کی پہچان اور دھوکہ دہی سے کیسے بچیںآج کے دور میں موبائل فون خریدنا ایک اہم فیصلہ ہے، اور جب آپ ڈبہ پیک ...
02/09/2024

نان ایکٹو موبائل کی پہچان اور دھوکہ دہی سے کیسے بچیں

آج کے دور میں موبائل فون خریدنا ایک اہم فیصلہ ہے، اور جب آپ ڈبہ پیک موبائل خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ کو مکمل معلومات ہوں۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈبہ پیک موبائل خریدنا بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ نیا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس میں بھی کچھ پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں
https://urdughar.com/?p=8636

آج کے دور میں موبائل فون خریدنا ایک اہم فیصلہ ہے، اور جب آپ ڈبہ پیک موبائل خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ کو مکمل معلومات ہوں۔ اکثر لوگ یہ

اچھے لیپ ٹاپ کی نشانیاں.ریم: کم از کم 8 جی بی یا زیادہ سے 16 جی بیاگر ریم 8 جی بی ہو تو ایک سلاٹ میں ہونی چاہئے اور ایک ...
20/07/2024

اچھے لیپ ٹاپ کی نشانیاں.
ریم: کم از کم 8 جی بی یا زیادہ سے 16 جی بی
اگر ریم 8 جی بی ہو تو ایک سلاٹ میں ہونی چاہئے اور ایک سلاٹ خالی ہو اس میں 8 جی الگ سے خرید کر ڈالی جا سکتی ہے یعنی ریم بعد میں زیادہ کی جا سکتی ہے .
ہارڈ ڈسک یعنی میموری ssd ہونی چاہئے جبکہ hdd تین گنا slow ہوتی ہے اور بیٹری بھی زیادہ استعمال کرتی ہے اس لیے صرف ssd ہی کام کے لیے بہتر ہے .
جنریشن جتنی زیادہ اتنا ہی جدید یعنی 4th جنریشن سے 5th بہتر اور 5th سے 6th بہتر
سب سے جدید اس وقت تک13th جنریشن ہے
پروسیسر کی 3 اقسام:
core i3، i5 & i7.
جبکہ
i7 is the best
اگر آپ نے
گرافیکل کام کرنا ہے تو
کم از کم 2gb گرافک کارڈ بھی ضروری ہے
بیٹری lithium سیلز کی ہونی چاہئے
لیپ ٹاپ کی بیٹری جتنے mAh کی ہوتی ہے وہ بھی دیکھ لیں
یوزڈ used میں لیپ ٹاپ لیں تو تسلی کر لیں کہ کتنے mAh بیٹری بقایا ہے
Second hand
لیپ ٹاپ لیتے ہوئے زیادہ تر دھوکہ ڈسپلے میں ہوتا ہے.
یعنی اصل ڈسپلے نکال کر کوئی لوکل ڈالا ہوتا ہے، اس کو چیک کرنے کا طریقہ
اگر آپ نے استعمال شدہ لیپ ٹاپ لینا ہے تو یہ معلومات آپ کے لیے ہے
دکان دار پرانا لیپ ٹاپ بیچتے ہوئے ایسا وال پیپر لگاتے ہیں کہ لوگ ڈسپلے دیکھ کر ہی خوش جاتے ہیں اور وال پیپر بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ ڈیمج پگزل پر نظر نہیں جاتی .
ڈسپلے چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ.
لیپ ٹاپ کی brightness فل کر لیں اس کے بعد
آپ نے نوٹ پیڈ اوپن کرکے اسے ساری سکرین پر پھیلا دینا ہے اس سے ساری سکرین سفید ہو جائے گی.
اس طرح سکرین میں اگر کوئی پگزل ڈیمج ہے یا کسی جگہ سے سکرین پر دباؤ آیا ہوا ہے تو وہاں سے کالے نشان نظر آ جائیں گے.
دوسرا آپ نے جو لیپ ٹاپ لینا ہے اسے انٹرنیٹ پر سرج کر کے اس کی specification میں دیکھ لیں کہ مطلوبہ لیپ ٹاپ کو کونسا ڈسپلے لگا ہے lcd ہے یا led
اگر lcd ہو تو سکرین کو سائیڈو سے دیکھنے سے ڈسپلے ٹھیک نظر نہیں آتا یہ lcd کی نشانی ہے
اور led زیادہ بہتر ڈسپلے ہے
دوسرا اہم سوال ہے بٹنوں کا
کیا کوئی بٹن خراب تو نہیں
جو لیپ ٹاپ خریدنا ہو اس لیپ ٹاپ سے گوگل پر سرچ کریں
Keyboard tester.
یہ 1 mb کا سوفٹویر ہے ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اسے اوپن کریں
اور لیپ ٹاپ کے بٹنوں کو ایک ایک کر کے دباتے جائیں
جو جو بٹن ٹھیک ہو گا وہ سکرین پر سبز رنگ میں بدلتا جائے گا.
پروسیسر کو چیک کرنے کے لیے آپ نے گوگل میں سرچ کرنا ہے
CPU Z
اس چھوٹے سے سافٹویئر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اوپن کرنا ہے
اوپن کرنے کے بعد پہلے ہی آپشن میں CPU کی معلومات درج ہوں گی
اس CPU معلومات میں نام والے کالم کے سامنے درج نمبر آپ کو جنریشن کا بتائیں گے .
غور سے سمجھیں
مثلاً
Inter core i3,
اس کے بعد اگر تین ہندسے اور لکھے ہوں تو پروسیسر فرسٹ جنریشن ہے
اگر چار ہندسے ہوں تو سیکنڈ یا اس سے اگلی جنریشنز ہیں
مثلاً
Intel core i3.,,,, 803
یعنی i3 کے بعد تین ہندسے آئے تو مطلب فرسٹ جنریشن
Intel core i3.,,,, 2304
اس مثال میں i3 کے بعد چار ہندسے آئے تو یہ دوسری جنریشن
اسی طرح
Intel core i3.,,,, (3)405
Inter core i3.,,,, (4)505
ان دو مثالوں میں بھی چار ہندسے ہیں لیکن پہلی مثال میں شروع کا ہندسہ 3 ہے تو تیسری جنریشن
دوسری مثال میں شروع کا ہندسہ 4 ہے تو چوتھی جنریشن
یاد رہے کہ پہلے ہندسے کو سمجھانے کے لیے گول بریکٹ لگائی ہے
CPU. Z
اسی سوفٹویر کی مدد سے آپ cache اور mother board کی معلومات بھی لے سکتے ہیں
اور یہی سوفٹویر آپ ram کی معلومات اور گرافک کارڈ کی معلومات بھی دے گا.
اگر لیپ ٹاپ میں گرافک کارڈ نہیں ہوگا تو معلومات بھی نظر نہیں آئیں گی.
ہارڈ ڈسک اور بیٹری چیک کرنے کا طریقہ.
استعمال شدہ لیپ ٹاپ خریدتے وقت ہارڈ ڈسک اور بیٹری چیک کرنے کا طریقہ
آپ نے گوگل پر سرچ کرنا ہے
hard disk sentinel
اس سوفٹویر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اوپن کریں.
Health
اور
Performance
کی پرسنٹیج ظاہر ہو جائیں گی
اگر ہارڈ ڈسک میں کوئی پرابلم ہو
تو health اور performance لیول 100 پرسنٹ نہیں ہوتا
نیچے نوٹ بھی لکھا ہوتا ہے ہارڈ ڈسک ٹھیک ہو تو بتا دیا جاتا ہے اگر پرابلم یعنی bad sector ہوں تو نوٹ میں لکھے ہوتے ہیں
Temperature option
اسی سوفٹویر کے ٹمپریچر آپشن میں آپ ہارڈ ڈسک کا درجہ حرارت معلوم کر سکتے ہیں
Smart option
ہارڈ ڈسک کے باقی سارے ٹیسٹ
سمارٹ آپشن میں دیکھ سکتے ہیں
سمارٹ آپشن میں ٹیسٹ ویلیو 0 ہونی چاہئے
اگر ہارڈ ڈسک مرمت شدہ ہو یعنی مکینک نے bad sector نکالے ہوں تو ویلیو 0 نہیں ہوتی
Information option
اس آپشن میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کی ہارڈ کس قسم کی ہے
ایس ایس ڈی ہے یا ایچ ڈی ڈی وغیرہ
بیٹری چیک کرنے کا طریقہ
سٹارٹ سٹارٹ مینو پر رائٹ کلک کر کے ونڈوز پاور شیل اوپن کریں
اس میں آپ نے یہ لکھنا ہے
powercfg/betteryreport/output
آگے لکھنا ہے
-c:\bettery.html-
یعنی یہ آپ نے پاتھ لکھنا ہے اس کے بعد enter کلک کرکے بیٹری رپورٹ محفوظ کر لیں .
سی ڈرائیو میں آپ کی بیٹری رپورٹ محفوظ ہے اسے اوپن کرکے بیٹری کی معلومات دیکھ لیں۔
اس رپورٹ میں پتہ چل جاتا ہے کہ جب لیپ ٹاپ نیا بنا تھا تو بیٹری کتنی تھی
استعمال ہونے کے ابھی کتنی بیٹری بقایا بچی ہے۔
Copy

غربت ایک ایسی بیماری ہے، جس میں سب سے پہلے رشتہ دار اور دوست مر جاتے ہیں ❤ ـــۤۤـBest photo of the day 😘                ...
13/06/2024

غربت ایک ایسی بیماری ہے، جس میں سب سے پہلے رشتہ دار اور دوست مر جاتے ہیں ❤
ـ
ـ
ـ
ۤۤـ
Best photo of the day 😘




03/06/2024

ساٹھ ہزار تک کا کوئی موبائل بتائیں جس کے کیمرے کا رزلٹ بہت ہی اچھا ہو۔
یوٹیوب ویڈیوز بنانی ہیں

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Laptops For Sale In Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share