15/03/2026
سو معاف تم کو کرتا ہوں
مجھے خدا نے فضل ہے
ظرفِ استقدار تو بخشا ہے
کہ معاف کرنا آتا ہے
سو معاف تم کو کرتا ہوں
لیکن سنو کہ جانِ جاں
معاف کر دینے میں
اور بھول جانے میں
فرق بہت سا ہوتا ہے
معاف کرنے کا مطلب
زخموں تک رسائی کی
اجازت تو نہیں ہوتا
سو تمہاری معافی اب
کی بار مقبول تھہری ہے
لیکن سنو جاں جاں
بھلا دینے کی خواہش کو
ہاں کہنے کا مطلب
زخموں تک رسائی کا
موقع فراہم کرنا ہے
جو میں کر نہیں سکتا
میں معاف تم کو کرتا ہوں
سو معاف تم کو کرتا ہوں
کامران زاہد - 2024