02/08/2019
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے جاری کردہ سرکلر کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ گاہک سے سیلز ٹیکس صرف اس صورت میں لیا جائے گا اگر سپلائر سیلز ٹیکس رجسٹر ٖڈ ہے اور اس نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر رسید پر درج کیا ہوا ہے ۔ ایف بی آر نے پبلک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ خریداری پر رسید طلب کریں جس پر سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر درج ہو ۔ دوسری صورت میں سپلائر گاہک سے سیلز ٹیکس نہیں لے سکتا ۔
عام مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اشیاء اور خدمات کے سپلائرز گاہک سے سیلز ٹیکس لے لیتے ہیں جبکہ گاہک کو دی گئی رسید میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر درج نہیں ہوتا ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ رسید پر صرف نیشنل ٹیکس نمبر درج ہوتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ سپلائر رجسٹرڈ ہے ۔ سپلائر کی طرف سے ایسا کیا جانا قانوناََ جرم ہے جس کی سزا متعین ہے ۔ اس رحجان سے قیمتیں بڑھتی ہیں اور سپلائر کو غیر قانونی فائدہ ہوتا ہے اور حکومت کے خزانے میں سیلز ٹیکس بھی نہیں آتا ۔ مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ خریدار غیر رجسٹرڈ سپلائر کو شناختی کارڈ دینے کا پابند نہیں ۔
مزید برآں وضاحت کی جاتی ہے کہ تھرڈ شیڈول اشیاء کی خریداری جس پر ریٹیل قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے اور جس پر ریٹیل قیمت واضح درج ہوتی ہے ایسی اشیاء پر لاگو سیلز ٹیکس درآمدکنندہ اور مینوفیکچرر جمع کراتا ہے لہازا ایسی اشیاء کی ریٹیلر سے خریداری پر سیلزٹیکس رجسٹریشن نمبر نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔