07/01/2025
یوں تو اکیسویں صدی کی ایک چوتھائی گزار چکے ہیں لیکن
پچھلی صدی کی باتیں بہت یاد آتی ہیں
وہ لالٹین کی مدہم روشنی
اس مدہم روشنی میں بیتی راتیں بہت یاد آتی ہیں
وہ شرم، وہ لحاظ ،وہ بڑوں کا احترام
وہ بنا دیواروں کے محفوظ گھر
وہ کسی ایک کی تکلیف میں سارے گاوں کا پریشان ہونا
وہ نانی دادی کے ہاتھوں کے بنے پکوان
وہ سوغاتیں بہت یاد آتی ہیں
چل بے خبر لوٹ کر اسی زمانے میں چلتے ہیں
جہاں نہ کمپیوٹر نہ انٹرنیٹ نہ کیبل نہ موبائل
گاوں کے اک کونے میں یاروں کا اگھٹے ہونا
اک دوسرے کو سننا ایک دوسرے کو سنانا
وہ بیٹھ کہ گھنٹوں کرنا باتیں بہت یاد آتی ہیں