25/11/2021
تم کو سب کچھ یاد ہی ہو گا
یاد ہے اکثر تم کہتی تھی
جب میں اپنی سانسوں کی
اور دھڑکن کی ترتیب لگاؤں
کتنا سادہ کتنا پیارا
نام تمہارا بن جاتا ہے
میں گھنٹوں سنتی رہتی ہوں
یاد ہے جب تم
میرے سینے پر سر رکھ کے
میری سانس سنا کرتی
یا اپنا نام سنا کرتی تھی
یاد ہے اک دن
’’سانوں اک پل چین نہ آوے‘‘
میری فرمائش پر تم نے
نصرت کا یہ گیت سنا تھا
اور گھنٹوں محسوس کیا تھا
(شاید مجھ کو)
یاد ہے تم کو جب تم کالے رنگ کے
کپڑے پہنا کرتی، تو یہ کہتی
دیکھیں میں کچھ خاص نہیں ہوں
جانے آپ کی آنکھوں کو
میں اتنی سندر کیوں لگتی ہوں!
یہ تو تم کو یاد ہی ہو گا
جب تم مجھ سے یہ کہتیں تھی
آپ کے جیسا کوئی نہیں ہے
ایسے منہ مت پھیرا کیجئے!
دیکھیں میں دل سے کہتی ہوں
مجھ سے چاہے اپنے سر کی
ایک نہیں، دو چار نہیں تو
جتنی چاہے قسمیں لیجے
میں یہ بالکل سچ کہتی ہوں
اب دوری نہ سہہ پاؤں گی
آپ سے دور نہ رہ پاؤں گی
مجھ کو چھوڑ کے مت جائیے گا
میری خاطر رُک جائیے گا
مجھ کو چاہے جیسے رکھیے
آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے بس
اور کسی کا سایا بھی نہ
آنکھ کے پاس کبھی لاؤں گی
آپ سے دور نہ رہ پاؤں گی
یاد ہے مجھ سے جب کہتی تھی
آپ بھی کتنے سادہ ہیں نا
اپنی عمر کے لڑکے دیکھیں
تھوڑا سا تو فیشن کیجے
بالوں کا وہ ’کٹ‘ بنوایے
کالر والی پرپل شرٹ میں
آپ کمال لگیں گے سچ میں
کتنی ساری باتیں تھیں ناں
تم کو تو سب یاد ہی ہوگا
پھر بھی مجھ کو یوں لگتا ہے
مجھ کو ٹھیک سے یاد نہیں ہے!
اک مدت جو بیت گئی ہے
میرے ہاں تو یہ عالم ہے
پہروں سوچوں
گھنٹوں تم کو یاد کروں تو
تب جا کر ہی
دھندلا دھندلا سا اک چہرہ
یاد آتا ہے ہلکا ہلکا
وہ بھی اتنی مشکل سے کہ
بیچ میں اتنے زخمی لمحے
درد جگانے آجاتے ہیں
ڈر جاتا ہوں
اور وہ دھندلا عکس بھی مجھ سے
کھو جاتا ہے!
جب سے قسمیں، وعدے سارے
بھول گئی ہو، تب سے جاناں
یوں لگتا ہے
سارے ہوش ہوئے لاوارث
ہر احساس کا خون ہوا ہے
میری سانسیں جن میں اکثر
اپنا نام سنا کرتی تھی
بے ترتیبی کے عالم میں
ساری سانسیں بکھر گئی ہیں
نصرت کا وہ گیت تو اب بھی
چین نہیں آنے دیتا ہے
کالے کپڑے جب دیکھوں تو
یوں لگتا ہے
جیسے اک بے نام محبت
یا شاید گمنام محبت
ہجر کا ماتم کرتے کرتے
گہرے سوگ میں ڈوب گئی ہے
میرے سر کی قسمیں ٹوٹیں
اور کسی کے سائے سے ڈرتے
میرا سایہ بھول گئی ہو
مجھ کو ایسے تیز ہوا میں
جلتے بجھتے اک بے چارے
دیپ کے جیسا