26/04/2022
پچھلے چند روز میں 3 بچیاں گھر سے غائب ہوئیں پھر پتہ چلا کہ وہ تو خود گھر سے نکلیں اور اپنی پسند کی شادیاں بھی کر لیں۔
یہ انتہائی توجہ طلب معاملہ ہے:
اس کی وجوہات اور حل پر بات کرنا ضروری ہے:
اصل میں یہ بات ہے اس معاشرے کی، ایسا معاشرہ جس میں والدین کی طرف سے بچیوں کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے اور پھر والدین کی اپنی بچیوں سے اعلٰی معیار کی توقعات رکھنا ایک احمقانہ بات ہے۔
جب بچیاں اپنی پسند کے ساتھی کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں تو والدین کو وہ لڑکا پسند نہیں آتا۔ پھر والدین اپنی مرضی سے اپنی بچیوں کی شادیاں کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں جس کے رد عمل میں بچیاں گھر سے فرار کا راستہ اختیار کرتی ہیں جو کہ ایک اچھا عمل نہیں۔
اگر تربیت اچھی کی جائے تو بچیوں کی پسند بھی اتنی اعلٰی ہوگی کہ والدین کو اس پسند پر فخر محسوس ہوگا۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ معاشرے کی بنیادی اکائی فرد ہوتا ہے، اس کے بعد مرد اور عورت مل کر شادی کرتے ہیں اور یوں ایک خاندان کی تشکیل مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح کئی خاندان مل کر ایک طبقہ جنم لیتا ہے اور مختلف طبقات کو ملا کر ایک معاشرہ جنم لیتا ہے۔
اس لیے ہر فرد کی تربیت پر مکمل توجہ دینا بہت ضروری ہے جو کہ پوری طرح والدین کی ذمہ داری ہے۔ وہی افراد مل کر ایک بہتر یا بُرے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔
اچھے معاشرے کے قیام کیلئے تمام جُز اہم ہوتے ہیں لیکن والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
ہمیں صوبائیت، نسل پرستی اور زُبان سے الگ ہو کر پہلے ہمیں بطور انسان ایک بہتر معاشرے کا سوچنا ہوگا تبہی کوئی اچھا معاشرہ بننا ممکن ہو پائے گا۔
اہم نوٹ:
جو بچی اپنے ہم خیال لڑکے، جس سے ابھی چند روز یا ماہ پہلے آپ کی جان پہچان ہوئی ہے وہ لڑکی کیسے اپنے والدین کے ساتھ گُذاری 18 سے 25 سالہ زندگی پر ترجیح دے سکتی ہے؟
جو والدین نے اپنی اولاد کیلئے قربانیاں دی ہیں وہ ثابت ہیں جبکہ اُس لڑکے نے قربانیاں دینے کی ابھی صرف باتیں کی ہیں اور والدین جو کہ اولاد پر پوری زندگی سایہ بن کر رہنے کا نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے جبکہ اچھا ساتھی جلد یا دیر مل ہی جائے گا۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین
جی ایم سومرو