Crops Shop with Muhammad Aziz Ur Rehman

Crops Shop with Muhammad Aziz Ur Rehman Analysis of Financial indicators and thier impact on crops and different commodities

🌾 Crops Shop – Trade Updateتاریخ: 27 فروری 2026کیٹیگری: آئل سیڈ / فیڈ مارکیٹ🔔 اہم خبر (Confirmed News)چین نے کنولا سیڈ، ...
27/02/2026

🌾 Crops Shop – Trade Update
تاریخ: 27 فروری 2026
کیٹیگری: آئل سیڈ / فیڈ مارکیٹ
🔔 اہم خبر (Confirmed News)
چین نے کنولا سیڈ، کنولا میل اور مٹر پر عائد 100 فیصد ٹیرف مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی زرعی منڈیوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
📊 مارکیٹ امپیکٹ اینالیسس
عالمی سطح پر کنولا سیڈ اور کنولا میل کی طلب میں اضافہ متوقع۔
ایکسپورٹرز کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان۔
آئل سیڈ اور فیڈ سیکٹر میں قیمتوں میں بہتری آ سکتی ہے۔
شارٹ ٹرم میں مارکیٹ میں تیزی (Bullish Sentiment) بننے کے امکانات۔
📌 اسٹریٹیجک پوائنٹس (For Traders & Investors)
✔ اسٹاک پوزیشن کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔
✔ ایکسپورٹ انکوائریز پر قریبی نظر رکھیں۔
✔ قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے پیش نظر رسک مینجمنٹ اپنائیں۔
Prepared by:
Crops Shop – Agri Commodity Intelligence Desk 🌾

بین الاقوامی مارکیٹ میں اس وقت گوار سیڈ اور گوار گم پاؤڈر کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالم...
27/02/2026

بین الاقوامی مارکیٹ میں اس وقت گوار سیڈ اور گوار گم پاؤڈر کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اوور سپلائی کا کوئی نمایاں دباؤ بھی موجود نہیں ہے۔
اگر پاکستان کی صورتحال کو مدِنظر رکھا جائے تو حالیہ دنوں میں نئی فصل کی زیادہ آمد کے باعث وقتی طور پر قیمتوں پر دباؤ ضرور ہے، تاہم یہ دباؤ عارضی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ جیسے ہی سپلائی کا یہ ابتدائی پریشر جذب ہو گا، مارکیٹ بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہو جائے گی اور قیمتوں میں توازن پیدا ہو گا۔

اگر ہم اپنی مقامی زرعی منڈی کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہاں انویسٹرز اور اسٹاکسٹس...
25/02/2026

اگر ہم اپنی مقامی زرعی منڈی کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہاں انویسٹرز اور اسٹاکسٹس کے لیے کوئی مضبوط اور منظم ڈھانچہ موجود نہیں۔ اسی خلا کے باعث آج بھی سادہ آڑھتی یا عرفِ عام میں ٹریڈرز مارکیٹ میں نسبتاً زیادہ طاقتور اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہمارے علاقے میں دسمبر کے بعد مختلف فصلوں کی آمد کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے، جن میں بالخصوص باجرہ، گوار، چنا اور گندم شامل ہیں۔ چونکہ مقامی سطح پر سرمایہ کی دستیابی محدود ہے، اس لیے ٹریڈرز عموماً ایک فصل میں طویل عرصہ رکنے کے بجائے تیزی سے اپنا سرمایہ ایک فصل سے نکال کر دوسری اور پھر تیسری فصل کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد سرمایہ کو جامد رکھنے کے بجائے مسلسل گردش میں رکھنا ہوتا ہے تاکہ مواقع سے بروقت فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تاہم اس تیز رفتار منتقلی کا ایک فطری اثر مارکیٹ ریٹس پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ جب ٹریڈرز کسی ایک فصل سے نکلتے ہیں تو اس فصل میں وقتی طور پر سپورٹ کمزور پڑ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تناؤ اور بعض اوقات نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے برعکس جس نئی فصل کی طرف سرمایہ منتقل ہوتا ہے، وہاں طلب بڑھنے سے قیمتوں کو سہارا ملتا ہے۔ باجرہ اس رجحان کی ایک واضح مثال کے طور پر ہمارے سامنے آ چکا ہے، جبکہ گوار کا معاملہ اپنی نوعیت اور طلب کے ڈھانچے کی وجہ سے کسی حد تک مختلف رہا ہے۔
اس تناظر میں اسٹاکسٹس اور انویسٹرز کے لیے موجودہ مرحلہ صبر اور حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔ بہتر مواقع کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری ردِعمل کے بجائے درست وقت کا انتظار کریں۔ حقیقی اور پائیدار بہتری اسی وقت سامنے آتی ہے جب جنس بتدریج ٹریڈرز کے ہاتھوں سے نکل کر صنعتی خریداروں اور اینڈ کنزیومرز کی طرف منتقل ہونا شروع ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں مارکیٹ کو مضبوط بنیاد اور قیمتوں کو حقیقی سپورٹ میسر آتی ہے۔
مختصراً، موجودہ حالات میں جلد بازی کے بجائے محتاط انتظار اور درست وقت کا انتخاب ہی اسٹاکسٹس اور انویسٹرز کے لیے بہتر اور زیادہ منافع بخش حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے

🌱 دیسی چنا (Desi Chickpeas) – اہم نکاتبھارت کی بندرگاہوں پر اس وقت تقریباً 400,000 میٹرک ٹن امپورٹ اسٹاک موجود ہے۔دیسی چ...
16/02/2026

🌱 دیسی چنا (Desi Chickpeas) – اہم نکات
بھارت کی بندرگاہوں پر اس وقت تقریباً 400,000 میٹرک ٹن امپورٹ اسٹاک موجود ہے۔
دیسی چنے کی فصل کے حالات بہت سازگار ہیں اور پچھلے سال سے زیادہ پیداوار کی توقع ہے۔
اندازہ ہے کہ پیداوار 0.5 سے 1.0 ملین میٹرک ٹن زیادہ ہو سکتی ہے۔
آسٹریلیا کے پاس 10 لاکھ ٹن سے زیادہ دیسی چنا اسٹاک میں موجود ہے۔
آسٹریلین کسان اپنی سیلنگ اور اگلی کاشت کے فیصلے بھارت کی امپورٹ پالیسی کو دیکھ کر کریں گے۔
بھارتی حکومت کی امپورٹ پالیسی آئندہ مارکیٹ کی سمت طے کرے گی۔
📊 نتیجہ:
➡ سپلائی زیادہ ہونے کے امکانات
➡ پالیسی پر مکمل انحصار

11/02/2026
04/02/2026

📊 چین کی مٹر امپورٹ مارکیٹ – آسان تجارتی خلاصہ
📌 ملک وار امپورٹ صورتحال
2024
کینیڈا: 42٪ (تقریباً 6 لاکھ ٹن)
روس: 46٪ (تقریباً 6.5 لاکھ ٹن)
دیگر ممالک: بہت کم
2025
کینیڈا کی سپلائی میں تقریباً 60٪ کمی
روس کی سپلائی میں تقریباً 80٪ اضافہ
یوکرین سے ابھی تک کوئی شپمنٹ نہیں
📦 تجارتی پالیسی کی تبدیلیاں
مارچ 2025 میں چین نے کینیڈا کی مٹر پر 100٪ ڈیوٹی لگا دی
➝ کینیڈا کی برآمدات بہت کم ہو گئیں
چین اور یوکرین میں معاہدہ تو ہوا مگر عملی تجارت شروع نہیں ہوئی
2026 کے آغاز میں چین اور کینیڈا کے درمیان ڈیوٹی ختم کرنے پر بات چیت ہوئی
➝ ممکنہ آغاز 1 مارچ 2026 سے
💰 مٹر کی برآمدی قیمتیں (فروری 2026)
کینیڈا: 455 ڈالر فی ٹن
روس: 252 ڈالر فی ٹن
📌 روس کی قیمت واضح طور پر کم ہے
🌾 پیداوار کی صورتحال
روس کی مٹر پیداوار 2025:
تقریباً 52 لاکھ ٹن (پچھلے سال سے 40٪ زیادہ)
یوکرین: پیداوار موجود ہے مگر برآمدات شروع نہیں ہوئیں
📈 اہم باتیں (سادہ نکات)
اس وقت روس چین کو سب سے زیادہ مٹر سپلائی کر رہا ہے
کینیڈا کی سپلائی ڈیوٹی اور مہنگی قیمت کی وجہ سے کم ہو گئی
قیمت چین کے لیے سب سے اہم فیصلہ کن عنصر ہے
کم قیمت اور زیادہ پیداوار کی وجہ سے روس کو 2026 میں بھی برتری حاصل رہ سکتی ہے
🧭 مختصر ٹریڈ خلاصہ
پہلے: کینیڈا چین کا بڑا سپلائر تھا
اب: روس مارکیٹ لیڈر بن چکا ہے
آگے: کینیڈا واپس آ سکتا ہے، مگر روس کی برتری برقرار رہنے کا امکان ہے

🌱 تل (Sesame) مارکیٹ آؤٹ لک 2026📈 1۔ طلب کے رجحانات2026 میں عالمی سطح پر تل کی مانگ میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جس کی اہم ...
09/01/2026

🌱 تل (Sesame) مارکیٹ آؤٹ لک 2026
📈 1۔ طلب کے رجحانات
2026 میں عالمی سطح پر تل کی مانگ میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جس کی اہم وجوہات یہ ہیں:
✅ خوراکی مصنوعات میں بڑھتا استعمال
(بیکری، اسنیکس، تاہینی، تل کا تیل)
✅ صحت اور فلاح و بہبود کے شعبے میں بڑھتی مقبولیت
✅ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیزی سے توسیع
(تل کا تیل، پیسٹ، بھنے ہوئے بیج)
🌍 2۔ سپلائی کی صورتحال
🔹 افریقہ اور ایشیا سے بھرپور پیداوار
🔹 عالمی منڈی میں برآمد کنندگان کے درمیان سخت مقابلہ
🔹 زیادہ سپلائی کے باعث قیمتوں میں تیز اضافے کے امکانات محدود
💰 3۔ قیمتوں کا منظرنامہ
📉 تل کی قیمتیں دباؤ میں رہنے کا امکان
📊 قیمتوں میں بہتری کا انحصار ہوگا:
✔ اعلیٰ اور منفرد کوالٹی
✔ سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں
✔ فریٹ، لاجسٹکس اور جغرافیائی و سیاسی حالات
🌍 4۔ افریقہ کا کلیدی کردار
2026 میں افریقہ تل کی عالمی برآمدات کا اہم مرکز رہے گا، خاص طور پر:
🌱 سوڈان | ایتھوپیا | نائجیریا | تنزانیہ
⚠️ تاہم کسانوں کی آمدن کا دارومدار ہوگا:
مستقل اور معیاری کوالٹی
مؤثر لاجسٹکس اور بندرگاہی سہولیات
سیاسی استحکام، خصوصاً سوڈان اور ایتھوپیا میں
🚜 5۔ برآمد کنندگان اور کسانوں کے لیے حکمتِ عملی
2026 میں بہتر منافع حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے:
⭐ آرگینک اور اسپیشلٹی گریڈ تل پر توجہ
⭐ مضبوط ٹریس ایبلٹی اور کوالٹی کنٹرول
⭐ بروقت فارورڈ سیلز کے ذریعے قیمتوں کے خطرات کا انتظام
⭐ بعد از برداشت نقصانات اور لاجسٹکس میں تاخیر میں کمی
🌐 6۔ اہم ممالک کی سمت
🇨🇳 چین: طویل مدتی سپلائی معاہدوں کی جانب پیش رفت
🇵🇰 پاکستان: ایک ابھرتا ہوا سپلائر، مارکیٹ شیئر میں اضافہ متوقع
🇮🇳 بھارت: عالمی سطح پر اپنی مضبوط برآمدی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا
🔎 نتیجہ
2026 میں تل کی عالمی طلب بڑھتی رہے گی، مگر زیادہ سپلائی اور سخت مسابقت کے باعث قیمتیں دباؤ میں رہیں گی۔ کامیابی انہی کسانوں اور برآمد کنندگان کو حاصل ہوگی جو صرف مقدار نہیں بلکہ کوالٹی، ویلیو ایڈیشن، ٹریس ایبلٹی اور اسمارٹ سیلنگ اسٹریٹیجی پر توجہ دیں گے۔

03/01/2026

گوارے میں مضبوطی برقرار اور بہتری کے قوی امکانات انشاءاللہ

03/01/2026

انٹرنیشنل مارکیٹس میں زیرہ اور دھنیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جبکہ یہ بھی معلوم پڑا ہے کہ انڈیا میں ان کی کاشت کے رقبے میں کمی واقع ہوئی ہے

19/11/2025
21-10-2025
21/10/2025

21-10-2025

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Crops Shop with Muhammad Aziz Ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share