10/01/2021
😂😀😁😃😄😅😆😗😘😍😎😋😊😉
یہ اجکل کے ایموجز ہیں۔جو کہ وقت کے صورتحال کے حساب سے لگائیں اور بھیجے جاتے ہیں۔اور کبھی کبھی لوگ باتیں نہیں صرف ایموجز سے ہی باتیں کرتے ہیں۔حالانکہ ہم اس ایموجز کو دیکھ کر اس بندے کی فیلنگز کافی حد تک جان بھی لیتے ہیں۔لیکن ہم جس انسان کو یہ ایموجز بھیجتے ہیں۔وہ انسان ہماری ظاہری صورت حال نہیں دیکھتا۔بس ان ایموجز سے اندازہ لگاتا ہے۔ہو سکتا ہے۔کوئی بندہ ایموجز کوئی اور ،اور حقیقت میں کوئی اور ہو؟ جیسا کہ میرے پروفائیل سے ظاہر ہے۔کہ یہ میرا اصلی چہرہ نہیں ہے۔میں بس بن آدم ہوں۔
بنیادم۔
دنیا جتنی ترقی کر رہی ہے۔اتنی ہی تباہی کی طرف جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔
ہوسکتا ہے کہ ملک میں صورتحال خراب ہو اسلئے یہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔شائید اپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہو۔
لیکن اگر صرف ہمارے الیکٹریسٹی خراب ہو تو یقین کیجئے۔کہ یہ تاریک راتیں انا بہت کم لوگوں کے نصیب میں ائنگے انے والے وقت میں۔
کیونکہ اج رات بہت سارے لوگ سکون کی نیند سو پائیگیں۔اور ہونا بھی چاہئے۔کیونکہ 2000 کے بعد دنیا پر ایک چیز قبضہ اور ہو رہا ہے کہ اپکو بالکل چین ہی نہیں دے رہا ہر وقت اپکو پریشان کر رہا ہے۔اور وہ چیز کوئی اور چیز نہیں۔بلکہ سوشل میڈیا ہی ہے جس سے اپ یہ عبارت پڑھ رہے ہیں۔اور اختلافات ک جڑ ہے۔
میں سوشل میڈیا کو سکون خلل اسلئے کہونگا کہ سوشل میڈیا پر کبھی بھی اپ ایک ایسا تحریر نہیں دیکھ سکتے جس پر کسی نے تنقید نہ کی ہو۔اور تنقید سے اختلافات بنتے ہیں۔اور اختلافات سے امن اور سکون مین کمی اتی ہے۔تو میں اس سوشل میڈیا کو اگر سکون کی قاتل کا نام دوں تو جائیز ہے۔
اور اگر اپ مجھے اپنی بات میں غلط ثابت کر سکتے ہیں۔
تو بے شک میں مزید مکالمے کیلئے تیار ہوں۔
لیکن اس سے پہلے اس نے مجھے سمجھانا ہوگا کہ وہ میری تحریر کہاں تک سمجھتا ہے۔
میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اس بے سکون رات کو سکون کے ساتھ گزارو۔کیا پتہ ایسا سکون دینے والی رات کبھی ائیں بھی نہیں۔
امید کرتا ہوں کہ اپ لوگ میری اس سوچ کو سمجھ سکتے ہیں۔
شکریہ ۔
شبہ خیر راتسکون۔