Shakeel electoric

Shakeel electoric Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shakeel electoric, Business service, islampura jabbar, Islampura.

07/07/2018

ایک ٹن، دو ٹن۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے ایئرکنڈیشنر کی صلاحیت ٹنوں کے حساب سے کیوں جانچی جاتی ہے؟ اس کا وزن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ۔۔۔ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وزن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو پھر ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش ٹنوں میں کیوں کی جاتی ہے، جبکہ یہ تو وزن کی اکائی ہے؟

ویب سائٹ انرجی وینگارڈ کی رپورٹ کے مطابق ائیرکنڈیشنر کی کولنگ کی پیمائش کیلئے ٹن کی اکائی استعمال کرنے کے پیچھے دلچسپ تاریخ ہے۔ قدیم دور میں جب ائیرکنڈیشنر جیسی ٹیکنالوجی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا تو گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے برف کا استعمال کیا جاتا تھا۔ دور دراز پہاڑوں سے لائی جانیوالی اس برف کو امراءکے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ برف ٹنوں کے حساب سے لائی جاتی تھی، لہٰذا ٹھنڈک کی پیمائش بھی ٹنوں میں کی جانے لگی۔
ائیرکنڈیشننگ کے ماہر ایلی سن ڈیلز بتاتے ہیں کہ ایک ٹن کے ائیرکنڈیشنر سے مراد ایک ایسا ائیرکنڈیشنر ہے جو فی گھنٹہ 12000 برٹش تھرمل یونٹ (BTU ) حرارت آپ کے کمرے سے نکال سکتا ہے۔ ایک بی ٹی یو سے مراد اتنی حرارت ہے جو ماچس کی ایک تیلی کو مکمل طور پر جلائے جانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کے پاس ایک ٹن برف ہو تو اسے مکمل طور پر پگھلنے کیلئے 286000بی ٹی یو حرارت کی ضرورت ہو گی ۔اگر ایک ٹن برف 24 گھنٹے میں مکمل طور پر پگھلانا ہو تو اسے 286000 بی ٹی یو حرارت 24 گھنٹے کے درمیان فراہم کر نا ہو گی، جو کہ فی گھنٹہ تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو بنتی ہے۔ اس حساب سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا ایک ٹن کا اے سی ایک گھنٹے میں تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو حرارت کو کمرے سے نکال باہر کرتا ہے، یعنی اتنی حرارت ہے جو کہ ایک گھنٹے میں ایک ٹن برف کو پگھلانے کیلئے کافی ہو گی ۔

03/07/2018

کوئی اگر کرنٹ میں بھنسا ہو تو

سٹینڈرڈ طریقہ کار یہی ہے کہ سوئچ کو بند کریں، وہاں تک۔رسائی نا ہو تو مین بریکر کو بند کر دیں

اگر وہ بھی ممکن نا ہو تو کسی پلاسٹک کے پائپ یا لکڑی کی سوکھی چھڑی سے اسے الگ کرنے کی کوشش کریں،

اگر وہ بھی نظر نا آئے تو آپ اپنے جوتے سے مار کر بھی اسے الگ کر سکتے ییں، اگرچہ اخلاقی طور پر اچھا نہیں لگتا لیکن جان بچانے کے لئے کیا جا سکتا ہے،

اس نے اگر کوٹ یا جیکٹ پہنا ہے، یا قمیض کو پکڑ کر بھی کھینچا جا سکتا ہے
گھر میں موجود تکیے کو آگے رکھ کر بھی اسے دھکا دیا جا سکتا ہے

یہاں تک بھی ممکن نا ہو آپ بھاگ کر اسے اپنے کندھے سے ٹکرا کر بھی الگ کر سکتے ہیں، اگرچہ اس میں آپ کو بھیکرنٹ لگنے کا خدشہ ہے، لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ زور دار دھکا ملنے سے وہ الگ ہو جائے گا،

لیکن یہ آخری حل ہے مگر پھر بھی اس کے علاوہ کبھی بھی اپنے ننگے ہاتھ سے اسے پکڑ کر الگ کرنے کی کوشش نا کریں، آپ کے اپنے ہاتھ کی گرپ ہی آپ کو بھی بجلی ساتھ چمٹا دے گی

اس کے علاوہ جنرل نالج کے طور سب گھر والوں کو بشمول خواتین و بچے پتہ ہونا چاہیے کہ کون سی چیز موصل ہے کون سی نہیں، انسان بذات خود بھی موصل ہے، یہ چیز ایک بار بتانے سے ذہن نشین نہیں ہوتی یہ بار بار بتانا پڑتا ہے، اور ذہنی طور پر کسی بھی ایسے مسئلے کے لئے تیار رہنا چاہیے اور اس میں اپنے حواس قابو میں رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے آپ کے درست فیصلے کے لئے
اور یہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے جوتے پہننا کبھی نا بھولیں، روٹین میں استعمال ہونے والے جوتے کو چیک کریں کہیں وہ کسی کیل کے ذریعے آپ کے پاؤں کا زمین کے ساتھ کنکشن تو نہیں بنا رہا؟

یہ ساری احتیاطیں عادت کے طور پر اپنانے کی کوشش کریں

29/06/2018

➖🌼

⚜ *آج کی پہلی بات*

زندگی کی حقیقت فقط
اتنی ہے۔۔۔۔ جب انسان
سنبھلنے لگتا ہے تب
زندگی لڑکھڑانے لگتی
ہے۔۔۔۔!!

⚜ *آج کی دوسری بات*

ڈگریاں درحقیقت تعلیمی
*اخراجات* کی رسیدیں
ہیں ، ورنہ علم تو وہی
ہے جو عمل سے ظاہر
ہو ۔۔۔۔!!

⚜ *آج کی آخری بات*

اللہ رزق کے دروازے کھولے
تو دسترخوان لمبے کرلو۔۔۔
۔۔دیواریں نہیں ۔۔!!!
..

25/06/2018

سولر سے متعلقہ معلومات کے لئے رابطہ کریں

31/12/2017

اچھے اساتذہ .
ناکام اور کامیاب لوگ

ہم سب کی زندگی میں نالائقی کا ایک دوربھی آتا ہے‘ یہ دور عموماً شباب کے ابتدائی دنوں سے شروع ہوتا ہے اور پچیس سال کی عمر تک جاری رہتا ہے‘ اس دور میں ہر انسان کی سوچیں منتشر ہو جاتی ہیں‘ وہ سلو (سست) ہو جاتا ہے‘ اس کا دھیان کام میں نہیں لگتا اور وہ زندگی کی دوڑ سے نکل کر میدان کے کنارے لیٹنے کوفوقیت دیتا ہے۔
یہ میکنگ یا بریکنگ کا دور ہوتا ہے‘ دنیا کے زیادہ تر کامیاب لوگ اسی دور میں آگے بڑھنے کا عزم کرتے ہیں اور دنیا کے نوے فیصد ناکام لوگ بھی اسی زمانے کی پیداوار ہوتے ہیں۔ آپ آج سے اپنی زندگی کے ناکام دوستوں کی فہرست بنائیں اور بعدازاں تمام ناکام دوستوں کی ناکامیوں کی وجوہات پر غورکریں توآپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ان سب کی ناکامیوں کی جڑیں ان کے سولہ سے پچیس سال کے دورمیں پیوست ہیں۔ دنیا کے پچانوے فیصد اسموکر اور نوے فیصدشرابی‘ جواریے‘ چور‘ ڈکیت‘ غنڈے‘ جھوٹے‘ دھوکے باز‘ فراڈیے‘ سست‘ منفی ذہنیت کے شکارلوگ اور دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کا آغاز اسی عمرمیں کرتے ہیں اورنیکی‘ اچھائی‘ بھلائی‘ کامیابی اور ترقی کا فیصلہ بھی عموماً اسی عمر میں کیا جاتا ہے ۔ ہم لوگ عادتیں چھ ماہ کی عمر میں اپنانا شروع کرتے ہیں لیکن ان عادتوں کی فصل سولہ سے پچیس سال کی عمرمیں پکتی ہے ۔
قدرت ایک خود کار نظام کے تحت انسان کو زندگی میں دو مرتبہ اپنی ان عادتوں کو ’’ری وائز‘‘ کرنے‘ انھیں چھوڑنے یا جاری رکھنے اور ان کے نتائج کا تخمینہ لگانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ قدرت انسان کو پہلا موقع سولہ سے پچیس سال کی عمر میں دیتی ہے اور دوسرا موقع چالیس سے پینتالیس برس کے دوران دیا جاتا ہے چنانچہ نیکی اور برائی دونوں کی تبلیغ کے بہترین زمانے زندگی کے یہ دو پیریڈ ہوتے ہیں۔
انسان اگرپہلے دور میں برے لوگوں کے سرکل میں آ جائے یا وہ دوسرے دور میں برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے لگے تو اس کے خراب ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں اور اسی طرح اگر وہ پہلے یا دوسرے پیریڈ میں اچھے‘ کامیاب اور ذہین لوگوں کی صحبت میں آ جائے تو اس کاراستہ سیدھا ہو جاتا ہے۔ میں اپنے تمام بزرگ دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں آپ کے بچے اگرسولہ سے پچیس سال کی عمر میں ہیں تو آپ ان پر نظر رکھیں اور میں اپنے تمام نوجوان دوستوں اور خواتین کو مشورہ دیتا ہوں آپ کا خاوند یا والد چالیس سال میں قدم رکھ رہا ہے تو آپ اپنے شوہر یا والد پر نظر رکھیں کیونکہ اس وقت اس کے بگڑنے کے چانس ہوتے ہیں۔
اسی طرح میں تبلیغ کرنے والے حضرات کو بھی اکثرسمجھاتا ہوں آپ سولہ سے پچیس سال اور چالیس سے پینتالیس سال کے لوگوں کو ٹارگٹ کیاکریںاور پچیس سے چالیس اور پینتالیس سے ساٹھ سال کے لوگوں پر اپنا وقت ضایع نہ کریں ‘ یہ لوگ آپ کے قابو نہیں آئیں گے۔ انسان کو پہلے اور دوسرے دونوں ادوار میں مشیروں اور مشوروں کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ ان ادوار میں ان کے لیے اچھے اساتذہ کا بندوبست ہونا چاہیے۔

25/12/2017

ذہنیت اور قسمت میں فرق ہے ۔copy

آپ اپنے اخراجات سے کم پیسے کما رہے ہیں ۔ یا اپنی صلاحیت سے کم معاوضہ لے رہے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

آپ ایسی جاب میں پھنسے ہیں جو آپ کو پسند نہیں اور آپ کی صلاحیتوں کےمطابق نہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو زندگی کے کسی محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے اسے دائمی ناکامی سمجھ لیا ہے یہ یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

آپ اپنے خوابوں، گلابوں اور کتابوں بھرے گھر میں نہیں رہتے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

آپ کسی غلیظ گلی میں، کسی ٹوٹے گھر میں ، اور کسی دور افتادہ علاقے میں رہ رہے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

آپ سست ہیں، اپنی فلیڈ میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دے رہے تو یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ پڑھائی میں من چاہے نمبر نہیں لے پارہے یا بار بار فیل ہور ہے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں تھکا دینے والا، غذاب دہ اور ذلت بھرا سفر کرتے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ دن بھر خجل ہوکر گھر پہنچتے ہیں اور سکون کی بجائے سینکڑوں مسائل آپ کے منتظر ہوتے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ مقروض رہتےہیں یا مانگ تانگ کر گذر بسر کررہے ہیں اور کسی پل خوش نہیں رہ پاتے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کے دوست احباب آپ کو کمتر سمجھتےہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ اپنے بچے کو لے کر ہسپتال کی لمبی لائن میں کھڑے ہوتےہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کے بچے بے کار سکولوں میں پڑھ کر اوسط درجہ کے نمبر لے رہے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کی ماں بیمار ہے اور اس کے پاس دوائی نہیں، علاج کی سہولت نہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کی بیگم اور بچے آپ سے شاکی ہیں اور آپ کی کسی بات کی قدر نہیں کرتے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو آپ کا باس بات بے بات بے عزت کرتا ہےا ور آپ چپ چاپ یہ سب سہہ جاتےہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کے رشتہ دار آپ کو نکما، غریب، احمق اور منحوس سمجھتے ہیں یہ کی ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو آپ کی محبت نہیں ملی اور آپ اس کے بعد محبت سے نفرت کرتےہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ لوگوں کو چمچماتی گاڑیوں اور سٹوروں میں گھومتے دیکھتے ہیں اور اپنی حالت پر آپ کو ترس آتا ہے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ محنت سے جی چراتے ہیں اور کامیابی کے صرف خواب دیکھتے ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کی زندگی بغیر کسی رنگ، امنگ اور ترنگ کے گذر رہی ہے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ اپنے خوابوں کی تصویروں میں اپنی محنت، ریاضت اور ہمت کا رنگ نہیں بھر رہے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو دنیا اندھیر نظر آتی ہے اور کسی بھی طرف سے امید کی کرن نہیں دکھائی دیتی یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ دنیا میں وسائل اور پیسوں کی کمی ہے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

جو سپورٹس آپ کو پسند ہے اور آپ اس کے ٹاپ کلاس کھلاڑی نہیں بن سکتے یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو لگتا ہے کہ جو پروفیشن آپ کو پسند ہے اس کی آپ میں صلاحیت نہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کے دن رات، صبح و شام آپ کے اختیار سے باہر ہیں یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

جو زندگی خوشخال لوگ گذار رہے ہیں وہ آپ نہیں گذار سکتے ، یہ ذہنیت ہے قسمت نہیں

میرا ماننا ہے کہ ذہنیت کو بدلا جاسکتا ہے، اگرانسان سچا ارادہ کرلے تو ذہنیت کیا قسمت کو بدلا جاسکتا ہے

کوئی بھی انسان اقبال کے اس مصرعے کی عملی تفسیر بن سکتا کہ ۔۔۔۔

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

28/10/2017

Click Here to Watch Video

25/10/2017
25/10/2017

کاروباری میراث

تحریر : عامرالاسلام)(copy)

پیغمبر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ عرب کی ٹریڈنگ میں ٹاپ پہ تھا ، جبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن ہی سے اقتصادیات کے شعبے میں قدم رکھ دیا، عرب کی مشہور بزنس شخصیات میں سرفہرست خواتین میں پہلا نام حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہے ،
بکریوں کے ریوڑ ہانکتے ہوئے پیغمبر کاروبار میں پھر اسی خاتون کے بزنس پارٹنر بن جاتے ہیں ۔
پارٹنر شپ کی بنیاد پہ حاصل ہونے والے نفع کی بھاری مقدار حضرت خدیجہ کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ہے، اور پھر یہ دنیا کے بہترین پارٹنر ازدواجی رشتہ میں منسلک ہو جاتے ہیں ،

اگر اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کیاجائے تو قرون اولی میں کاروباری حضرات نے جو کا رہائے نمایاں سرانجام دئیے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ،

ایکسپورٹ اور امپورٹ کے بے تاج بادشاہ حضرت ابوبکر ہوں یا کیٹل فارم سے وابستہ فاروق اعظم ،
زرعی اجناس اور قالین بافی سے وابستہ حضرت عثمان ہوں یا سونے ، سلور اور دھاتوں کے ذخیرے رکھنے والے عبد الرحمان بن عوف ۔۔۔ ان میں ہر ایک کاروبار اور بیوپار کا ایکسپرٹ ہے ۔

پیغمبر کائنات کی محفل میں رب کی راہ میں قرض حسنہ کا اعلان سن کر یہی کاروباری طبقہ آگے بڑھتا ہے اور سخاوت کی عظیم مثالیں رقم ہوتی ہیں ،

پیغمبر کی مقدس جماعت نے کھجوروں سے لے کر ہیروں تک کا بزنس کیا ، غلہ کےگودام بنائے ، کپڑے کی صنعت کو فروغ دیا ، گلہ بانی کی ، خوراک کے ذخیرے اگائے ، عقیق اور زمرد جیسے قیمتی پتھروں کی تجارت کی اور پاکیزہ تجارت سے تابناک مثالیں رقم کیں ،

دوسرے دور میں دیکھئے

وقت کے آئمہ سے محدثین تک ہر ایک منفرد اور متنوع کاروباری لائن سے جڑا نظر آتا ہے ، امام ابو حنیفہ نے ہیرے کی کانوں کے مختلف ٹھیکے لے رکھے تھے ، امام واقدی ، علامہ سرخسی ، علامہ ذہبی ،شیخ نسائی ، شیخ ابو عیسی ترمذی ، اور صاحب قدوری مختلف قسم کے کاروبار سے وابستہ نظر آتے ہیں ۔

آج اگر کوئی دین داری میں سرفہرست ہو اور معاش میں سب سے نیچے ہو تو معاشرہ اس کی حیثیت پہ قدغن لگاتا ہے ، کاروبار دین سے متصادم نہیں ہے ، اگر اس میں اسلامی روح پھونکی جائے تو ہر بزنس امت مسلمہ ہی کی میراث ہے ، اس لئے گھبرائیں
نہیں اور آگے بڑھ کر امت کی وراثت سنبھال لیجئے ۔۔

انشاء اللہ اس عنوان پہ مستقل سلسلہ لکھیں گے۔

02/10/2017

خود۔ کو کمزور نا اہل بد قسمت سمجھنے اور ہمت ھارنے سے پہلے ضرور یہ پڑھ لیجئے

[واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی]

بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں
وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔
جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوش قسمتی سے اسے ایک گروسری اسٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ اسٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمے داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمے داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا‘ یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ء میں ’’یاہو‘‘ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے۔
2004ء میں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘ جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ’’یاہو‘‘ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔
جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کیے جا سکیں اور جسے ’’ہیک‘‘ بھی نہ کیا جا سکے‘ یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ’’ایپ‘‘ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘ آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کے لیے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا۔
فروری 2014ء میں فیس بک بھی ’’واٹس ایپ‘‘ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ’’یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا‘‘ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ’’فیس بک‘‘ کو ہاں کر دی‘ 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی۔
جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی’’میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا‘‘ فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سینٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کا انتظار کرتے تھے۔
یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی’’تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے۔
خاتون انھیں ’’سلپ‘‘ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے‘ چیک لیا اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ’’آئی گاٹ اے جاب‘‘ اور سینٹر سے باہر نکل گیا۔
یہ ایک غریب امریکی کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘ .copy

01/10/2017

Copy Paste.
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ‏( lightning ‏) ﺩﺭﺍﻝ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ . ﺟﺐ ﺑﺎﺩﻝ
ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺭﮔﮍ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﻣﯿﮟ
ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﻭﻭﻟﭧ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﯾﻤﭙﺌﺮ ﮐﺮﻧﭧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ .ﺟﻮ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﻭ
ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ 1ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﭼﯿﺰ ﻣﺜﻼ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺖ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺟﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﮨﻮﮞ . ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮ ﮐﺮ
ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ . 2 ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﻣﺜﺒﺖ ﯾﺎ ﻣﻨﻔﯽ ﭼﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﭼﺎﺭﺝ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﺘﯽ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ .ﺣﺪ ﺩﺭﺟﮧ ﻭﻭﻟﭩﯿﺞ ﺍﻭﺭ
ﻣﯿﮕﺎ ﺍﯾﻤﭙﺌﺮﺯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﮨﻮﺍ ﮐﻮ IONIZE ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ. ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﺳﻔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ۔ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻣﺎﺣﻮﻟﯿﺎﺕ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ
ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺁﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺿﺎﻓﮯ
ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻟﯿﮧ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺣﻮﻟﯿﺎﺗﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ
ﺑﺎﻋﺚ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ
ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 2100 ﺗﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯽ
ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ 35 ﻓﯿﺼﺪ ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺮﺁﮞ ﺑﺠﻠﯽ
ﮔﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍﺋﮯ ﺗﺮﮐﯿﺒﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﻮ
ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ
ﮐﻮ ﻣﺘﺤﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺮﻡ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﺶ ﮐﯽ ﺟﺎ
ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮈﮔﺮﯼ ﺍﺿﺎﻓﮯ ﺳﮯ
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ 12 ﻓﯿﺼﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﯽ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﻤﯿﺎﺋﯽ ﺭﺩﻋﻤﻞ ﮐﮯ
ﺫﺭﯾﻌﮯ ﯾﮧ ﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﺁﮐﺴﺎﺋﯿﮉ ﮔﯿﺲ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﮔﺮﯾﻦ
ﮨﺎﺅﺱ ﮔﯿﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﻮ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﺧﻄﺮﺍﺕ ﻻﺣﻖ
ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ
ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻏﯿﺮﯾﻘﯿﻨﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﭘﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﺳﮯ
ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭﭘﺮﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ
ﮔﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻋﺎﺕ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﯾﮧ ﺣﺎﺩﺛﺎﺕ ﺟﺎﻥ
ﻟﯿﻮﺍﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺱ ﻣﻈﮩﺮ ﻓﻄﺮﺕ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽ
ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ
ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺑﭻ ﺳﮑﮯ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﺍﯾﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﻟﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ
ﻗﺮﯾﺐ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮐﺮ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ
ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﭧ ﮔﺰﺭﺳﮑﮯ ﻣﺜﻼً
ﻟﻮﮨﮯ، ﺗﺎﻧﺒﮯ ﯾﺎ ﺩﯾﮕﺮ ﺩﮬﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﻮﺟﻮﺩﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﮔﺮ
ﺁﭖ ﺑﺎﺭﻭﺑﺎﺭﺍﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﮭﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﻠﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻠﺪ
ﭘﺮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﺒﺘﮯ ﻣﺤﺴﻮﺳﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺑﺎﻝ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ
ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﺎ ﺣﻤﻠﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﮯ۔ ﭘﺎﺅﮞ
ﮐﮯ ﺑﻞ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻭﺭ
ﺩﺍﺭ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﺳﮯ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔
25

Address

Islampura Jabbar
Islampura
0030098135

Telephone

03009813527

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shakeel electoric posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share