02/04/2020
پرائیویٹ اسکولز اور فیسوں کا معاملہ
ایک بحث پرائیویٹ اسکولوں سے متعلق چل پڑی ہے۔ بہت سوں کی رائے ہے کہ اسکولز کو دو ماہ کی فیس معاف کردینی چاہیے۔ عام طور پر جون جولائی کی چھٹیوں کے دوران میں یہ بحث عروج پر ہوتی ہے۔ اس بار مگر کسی اور انداز سے شروع ہوئی ہے۔
اس وقت جو صورت حال ہے اس میں جس طرح زندگی کے باقی شعبے متاثر ہوئے ہیں، اسی طرح پرائیویٹ اسکولز کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ نیا سیشن شروع ہوتے وقت پرائیویٹ اسکولز کو بہت سی امیدیں اور توقعات ہوتی ہیں۔ بہت سے اسکولوں نے اپنی داخلہ مہم پر خطیر رقم خرچ کی ہوتی ہے۔ مارچ اور اپریل ہی نئے داخلوں کے مہینے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار یہ صورت حال یکسر بدل گئی۔
ایسے میں پرائیویٹ اسکولز سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ مکمل فیس معاف کریں، شاید مناسب نہ ہو۔ وجوہات بہت سی ہیں۔ ان میں سے چند ایک؛ پرائیویٹ اسکولوں کو ایڈمن اور ٹیچنگ اسٹاف کی تنخواہ بہرصورت دینی ہوتی ہے۔ بلڈنگ کا کرایہ لازمی ادا کرنا ہوتا ہے۔ البتہ ایک معمولی فرق یہ ضرور پڑجاتا ہے کہ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں کچھ ریلیکسیشن مل جاتی ہے، مگر وہ کل آمدنی کا ایک فیصد بھی شاید نہ ہو۔
پھر حل کیا ہو؟ جس طرح حکومت نے کئی شعبوں کے لیے ریلیف کا اعلان کیا۔ اسی طرح سب سے اہم ترین شعبے یعنی تعلیم کے لیے بھی حکومتی سطح پر کوئی اقدام اٹھانا چاہیے تھا۔ اس کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت پرائیویٹ اسکولز کی پچاس فیصد فیس خود ادا کرے۔ 30 فیصد ادائیگی والدین کریں اور 20 فیصد رعایت اسکولز اپنے ذمے لے لیں۔
اس طرح بوجھ کسی ایک پر پڑنے کے بجائے تقسیم ہوجائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بہت سی خرابیوں کے باوجود اس وقت پرائیویٹ اسکولز کسی نہ کسی حد تک ایک اہم ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ کچھ چیزیں آئیڈیل نہیں ہوتیں، آپ لاکھ کہیں کہ تعلیم کاروبار ہے، سرکار کا ہی فرض بنتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت کی حقیقت یہی ہے کہ تعلیم کے میدان میں سے پرائیویٹ اسکولز کو نکالا جائے تو کچھ نہ بچے۔
اس لیے گزارش ہے کہ اگر اس سسٹم کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو سرکاری اسکولوں میں فی الوقت اتنی سکت نہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد کو اپناسکے یا کسی اور ذریعے تعلیمی سلسلہ برقرار رہ سکے۔
گلگت بلتستان حکومت سے متعلق یہ خوش آیند خبر آئی ہے کہ اس نے پرائیویٹ اسکولز کی فیسیں خزانے سے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملکی سطح پر بھی اسی طرح عملدرامد کرانے سے یہ مسئلہ کافی حد تک سلجھ سکتا ہے۔ جہاں حکومت پاکستان نے 12سو ارب روپے کی خطیر رقم ریلیف کے نام پر دی ہے، وہاں چند ارب سے اگر اتنے بڑے اور اہم شعبے کو بچایا جاسکتا ہے تو کوئی مہنگا سودا نہیں!
Copied