واصف علی واصف کے اقوال

واصف علی واصف کے اقوال *ہم کو یہی کافی ہـے سرکار ﷺ ہمارے ہیں*🫀

*صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْہ وَآلہ وَسَـلَّـمْ(ﷺ)*🤍

12/06/2025

ہمارا مقصد با شعور معاشرہ

: بعض اوقات انسان تُرش بولتا ہے، بعض اوقات آہستہ بولتا ہے۔

: کوئی غیر آ جائے تو،،،،، بسم اللہ
اور
: کوئی ” اپنا بندہ آجائے “ تو کہے گا چل پیچھے ہو۔
تو وہ ” غصے سے بولتا “ ہے۔

: جس طرح اولاد کے ساتھ انسان غصے کے ساتھ بولتا ہے۔ تو جہاں ”غصہ کرنا ہوتا ہے وہاں نہیں کرتا۔ “

: تو یہ زبان جو غصے سے بولتی ہے یہ اس انسان کی ”کیفیت کی Indication ہے۔“

: زبان کی ٹریننگ یہ ہے کہ اگر غصہ آیا ہو تو بھی " غصے سے نہ بولو ۔ "

: اگر ”زبان کی ٹریننگ ہو جائے تو زبان دعا “ دیتی ہے،
: زبان قرآن بولتی ہے
: اور ٹریننگ نہ ہو تو ”زبان بد دعا دیتی ہے، “
: فحش گانے گاتی ہے
اور
: زبان ہر طرح کی حرکات کرتی ہے۔ """

______ آدھے لوگوں کی ”گرفت زبان کی وجہ سے ہوگی۔“

حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو نمبر 24 صفحہ نمبر 253

سوال:-سر یہ ہمہ حال نماز کیا ہوتی ہے؟جواب:-*ہمہ حال نماز کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے اور ایک آدمی...
25/05/2025

سوال:-
سر یہ ہمہ حال نماز کیا ہوتی ہے؟
جواب:-
*ہمہ حال نماز کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے اور ایک آدمی نماز سے باہر ہے ، اگر آپ کو مسجد میں یہ خیال آئے کہ اس وقت مسجد میں ، بڑا دل لگ رہا ہے لیکن کام بھی کرنا ہے اس لیے میں جا رہا ہوں ۔ دوسری کیفیت یہ ہے کہ دنیا کے کام میں مصروفیت کے دوران خیال آ جائے کہ نماز پڑھنی ہے تو مسجد چلیں ۔ ان دونوں کیفیات میں فرق ہے
ایک کیفیت یہ ہے کہ نماز میں سے اللہ کے حکم کے مطابق دنیا کے کام کے لیے وقت نکالنا اور دوسری کیفیت یہ کہ دنیا میں سے نماز کے لیے وقت نکالنا ۔ نماز میں سے اللہ کے حکم کے مطابق وقت نکالنا یہ نماز قائم کرنا ہے ۔ تو آپ نماز کی کیفیت میں رہو بلکہ حالتِ نماز کا مطلب ہے کہ رو برو ہونا ، ہو بہو نہ ہوں تب بھی رو برو رہنا کہ جس طرح آپ دعا مانگتے ہوئے سمجھتے ہو کہ اللہ نماز میں قریب ہے تو جب آپ باہر بازار میں ہوں تو بھی یہ سمھجیں کہ اللہ قریب ہے اور وہاں بھی آپ کا رابطہ وہی ہو تو بازار کا عمل جو ہے وہ نماز کے خیال کے برابر ہو ۔ تو جب آپ نماز میں کہتے ہو کہ میرے ماں باپ پر رحم تو اصلی ماں باپ آپ کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ ان پر رحم نہیں کرتے ، تو اللہ کیا رحم کرے گا ۔ آپ نماز میں دعا مانگتے ہو کہ یااللہ میری اولاد کو نماز سکھا اور نماز پر مجھے بھی اور ان کو بھی قائم کر دے اور جب زندگی میں اولاد آپ کے قریب آتی ہے تو آپ انہیں نماز نہیں سکھاتے ہو
مطلب یہ کہ آپ نماز خود قائم نہیں کرتے اور نہ اپنی اولادوں کو قائم کرواتے ہو ۔ تو دعا کا مقصد یہ ہے کہ آپ کوشش کرو ۔ کہیں آپ فیل ہو جائیں تو پھر دعا کام آئے گی ۔ ایسے تو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ خانقاہ کی بجائے کسی اور نامناسب جگہ پر بیٹھے ہوں اور کہیں کہ یااللہ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے ۔ تو اس میں حالات اور ماحول کا بھی فرق ہوتا ہے ۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اچھی جگہ پر رہو اور نورانی مقامات پر رہو ۔ جہاں جہاں نور کی چمک دمک ہے وہاں اس کے قریب رہو ۔ جس جس جگہ پر اللہ کا فضل ہوا اس جگہ پر رہا کرو
تو اس بات کا خلاصہ یہ ہوا کہ آپ اپنے دَور میں یا ہم اس دَور میں فیصلہ کر رہے ہیں کہ جو راستہ اللہ تعالیٰ کا ، اللہ کے حبیب ؐ کے ذریعے اُمت کو ملا ، راستہ وہی صحیح ہے ۔ اس کے علاوه شوق کی راہیں ہیں ، چلتی جائیں ، جتنا جتنا جس کا شوق ہے وہ چلتا جائے ، یہ راستہ منسوخ نہیں ہو گا ۔ آپ بازار میں جاوء تو اللہ کے خیال میں جاوء ، جاگو تو اس کے خیال سے جاگو ، سونے لگو تو اس کے خیال میں سو جاوء ۔ آپ محنت کر رہے ہو تو اس کا نتیجہ بھی اللہ کے حوالے کرو اور اللہ ہی کے لیے محنت کرو ۔ سارے واقعات اللہ کے لیے کرو اور آپ کا مقصدِ حیات اللہ کا قرب ہونا چاہیے ۔ تو اللہ کے قرب کا مطلب اللہ کے مقربین کا قرب ، اللہ کے مقربین میں پہلا نمبر جو ہے وہ اللہ کے حبیب ؐ پاک کی ذات ِ گرامی ہے ، پھر آپ ؐ کے مقربوں کی ذات ہے اور پھر آپ ؐ کے مقربوں کے مقربوں کی ذات ہے
جہاں کہیں ذرا خیال آ جائے کہ یہ بندہ اللہ کے قریب ہے آپ اس کے قریب ہو جاوء اور اس کی زبان سے اپنے حق میں اچھے کلمات کہلوا لو ۔ اور پہلا کلمہ آپ کا یہ ہو کہ جی دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے ، اور یہ کہلوالینا چاہیے بلکہ آپ ہی کہنا چاہیے کہ یااللہ مجھے معاف کر دے ، وہ اعمال جو میں نے غلط کیے اس کی معافی اور جو صحیح کام تھے اور میں نہیں کر سکا اس کی معافی ، اور آئندہ کے لیے مجھے اپنا راستہ دکھا ، اپنی امان کی راہ ، اپنے فضل کی راہ تا کہ ہم تیرے ساتھ ، تیری راہ میں ، تیرے ہی لیے سفر کریں اور ہمیں اس راستے کا کوئی دوست عطا فرما جو تیرے راہ کا مسافر ہو اور اس سے ہمیں آسانی ہو جائے گی ۔ تو آپ لوگ یہ دعا کیا کریں
اللہ تعالیٰ اس دَور کے تضاد اور فساد سے آپ کو بچائے ، تضاد کا مطلب یہ ہے کہ کچھ مولوی ہیں لیکن اندر باطن میں بد ہیں ، اوپر سے مشائخ کرام ہیں اور اندر سے بالکل غلط انسان ہیں ۔ اس دَور میں جو ظاہر اور باطن کا فرق آ گیا ہے یہ سیاست کی وجہ سے ہے کیوں کہ سیاست میں کہنا اور ہوتا ہے اور کرنا اور ہوتا ہے ۔ اس لیے لوگوں کے ذہن پر ان باتوں سے فرق پڑا ہے
آپ لوگ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو عبرت سے بچائے ۔ یارب العالمین اس قوم کو سزا نہ دینا ، مہربانی فرمانا ، ہم پر مہربانی اور ہدایات نازل فرما ۔ یارب العالمین ہماری اصلاح کر دے ، ایسا نہ ہو کہ ہم سزا پا جائیں ۔ یارب العالمین ہماری اصلاح فرما دے ، ہم سے غلطیاں دُور کر دے ، ہمارے اکابرین کی اصلاح کر دے اور اس قوم کو بے ترتیب زندگی سے نجات دے ، یارب العالمین آسانی عطا فرما ، دشمنوں سے اس قوم کو بچا ۔ یارب العالمین ظاہری دشمن ، باطنی دشمن ، اندر کے دشمن ، جو ہمارے خیال کے دشمن ہیں ، جو ہمارے حال کے دشمن ہیں اور جو ہمارے عمل کے دشمن ہیں ان سے ہمیں بچا ۔ آمین

(گفتگو والیم 14 ......... صفحہ نمبر 62 ، 63 ، 64 ، 65)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Address

Jampur
786786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when واصف علی واصف کے اقوال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share