Dhapra Law Firm

Dhapra Law Firm Dhapra Law firm provide services regarding the cases of criminal , civil, revenue, texation, labour,

27/11/2025

*سپریم کورٹ کا تازہ ترین فیصلہ حقِ نان و نفقہ: نکاح کے انعقاد سے بلاشرط قائم ایک آئینی و شرعی ذمہ داری"*
*"Maintenance as an Unconditional Right of Wife: Constitutional, Statutory and Jurisprudential Analysis"*
*"آئین، فقہ اسلامی اور مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تناظر میں بیوی کے نان و نفقہ کا حق*
C.P.L.A.1107-L/2015 Ambreen Akram v. Asad Ullah Khan, etc Mr. Justice Syed Mansoor Ali Shah 11-09-2025.
سوالات قانونی
(1) When does a Muslim woman become entitled to maintenance within a marriage?
ایک مسلمان عورت نکاح کے ساتھ ہی نان و نفقہ کی حق دار بن جاتی ہے۔
(2) Under what circumstances, if any, may a husband be excused from his marital obligation to pay maintenance to his wife?
صرف اس صورت میں جب شوہر بھاری بوجھِ ثبوت کے ساتھ یہ ثابت کرے کہ بیوی نے بلاجواز اور کلی طور پر ازدواجی تعلقات سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، تبھی شوہر اس ذمہ داری سے عارضی طور پر بری ہو سکتا ہے۔
(3) Judges, particularly in family law matters…
ججز، بالخصوص خاندانی قوانین میں، محض فریقین کے درمیان تنازع ختم کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ وہ اصلاح کار اور فکری رہنما بھی ہوتے ہیں۔ ان پر آئینی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنفی حساس اور حقوق پر مبنی زبان استعمال کریں تاکہ عورت کو برابر اور خودمختار قانونی حیثیت دی جا سکے۔
(4) The institution of amicus…
امیکَس کیوریائی (amicus curiae) کا ادارہ نہایت اہم ہے تاکہ عدالتی کارروائی باخبر، شمولیتی اور اصولی رہے۔ یہ ادارہ قانون اور انصاف، مقامی حقائق اور عالمی نقطہ نظر، عدلیہ اور علمی حلقوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ اس ماڈل کو اپنانا فیصلوں کی معتبریت اور معیار بڑھانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے آئینی مکالمے اور کھلے پن کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

اصل متن کا اردو ترجمہ
اسلامی فقہِ معاصر، قانونی ضوابط، آئینی تحفظات اور عدالتی نظائر کے ایک جامع مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بیوی کا نان و نفقہ کا حق نہ تو ہم بستری (consummation) یا رخصتی پر منحصر ہے اور نہ ہی شوہر کی صوابدید پر۔ یہ حق ایک درست نکاح کے انعقاد کے ساتھ بلا شرط وجود میں آتا ہے اور شوہر پر بطورِ قانونی فریضہ عائد ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر اس ذمہ داری کو معطل کرنے کی صرف ایک جائز بنیاد ہو سکتی ہے، اور وہ تب جب شوہر بھاری بوجھِ ثبوت پورا کرتے ہوئے یہ ثابت کرے کہ بیوی نے بلاجواز اور کلی طور پر ازدواجی تعلقات سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ اور یہاں ازدواجی تعلق کا مطلب صرف جسمانی رسائی تک محدود نہیں بلکہ جذباتی، رہائشی اور باہمی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ اگر ایسا کوئی ثبوت پیش نہ کیا جائے تو نان و نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔

یہ فہم نہ صرف اسلامی قانون کی مساوات پر مبنی روح کو عملی جامہ پہناتا ہے بلکہ آئین میں درج وقارِ انسانی (آرٹیکل 14)، مساوات (آرٹیکل 25) اور خاندانی نظام کے تحفظ (آرٹیکل 35) کے وعدے کو بھی تقویت دیتا ہے۔ ایسے پدرشاہی معاشرے میں جہاں عورت کی معاشی انحصار اکثر نظامی ناانصافی کو جنم دیتا ہے، نان و نفقہ کا حق ایک لازمی آئینی، قانونی اور اخلاقی حق کے طور پر محفوظ رہنا چاہیے۔ اس حق کو محدود کرنے کی ہر کوشش انتہائی سخت آئینی اور فقہی جانچ پرکھ کے بغیر درست نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔

زیرِ نظر مقدمے میں یہ بات متنازعہ نہیں کہ فریقین نے ایک جائز نکاح کیا تھا۔ نہ ہی کوئی الزام یا ثبوت موجود ہے کہ درخواست گزار (بیوی) نے بلاجواز ہم بستری یا ساتھ رہنے سے انکار کیا۔ اس کے برعکس، ریکارڈ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مدعا علیہ (شوہر) نے نہ تو رہائش فراہم کی، نہ رخصتی کا انتظام کیا اور نہ ہی ازدواجی معاہدے کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اسی طرح ریکارڈ میں ایسا کوئی قانونی یا حقیقی جواز نہیں جس کی بنیاد پر شوہر کو نان و نفقہ کی ذمہ داری سے استثناء دیا جا سکے۔ کوئی معتبر شہادت موجود نہیں کہ بیوی نے بلاجواز ازدواجی تعلقات سے علیحدگی اختیار کی ہو یا بلاوجہ ہم بستری سے انکار کیا ہو۔
بیوی کی یہ معذوری کہ وہ شوہر کی طرف سے رخصتی نہ کرانے کے باعث ساتھ نہ رہ سکی، اس کے نان و نفقہ کے حق کو ختم نہیں کرتی۔ اسے اس غیر ازدواجی تعلق پر سزاوار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جو خود شوہر کی کوتاہی سے پیدا ہوا۔ بصورتِ دیگر، مردوں کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ اپنی غفلت یا لاپرواہی کو بہانہ بنا کر مالی ذمہ داریوں سے بچ نکلیں اور عورتوں کو ایسے نکاح میں قید کر دیں جہاں نہ حقوق ہوں اور نہ عزت۔
ان مستحکم اصولوں کی روشنی میں عدالت قرار دیتی ہے کہ درخواست گزار کا نان و نفقہ کا حق نکاح کے انعقاد کے ساتھ ہی قائم ہو گیا تھا اور ازدواجی رشتہ قائم رہنے تک برقرار رہا۔ چونکہ طلاق اس مقدمے کی کارروائی کے دوران ہوئی، اس لیے نان و نفقہ کی مدت عدت تک جاری رہے گی۔ موجودہ مقدمے میں نان و نفقہ کی تردید، مدعا علیہ کی کوتاہی اور بیوی کی طرف سے کسی قصور کے نہ ہونے کے باوجود، قانون کے منافی تھی اور اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
کیس حوالہ:
C.P.L.A. 1107-L/2015
Ambreen Akram v. Asad Ullah Khan, etc
Mr. Justice Syed Mansoor Ali Shah
فیصلہ: 11-09-2025
اسلامی فقہ کا اصولی پس منظر

فیصلے کا تجزیہ آئینی و فقہی بنیادوں پر

مستقبل کے قانونی اثرات (Implications)

1. فیصلے کی اصل روح
Ambreen Akram v. Asad Ullah Khan (C.P.L.A. 1107-L/2015)
فیصلے میں یہ اصول طے کیا گیا

بیوی کا نان و نفقہ کا حق نکاح کے انعقاد کے ساتھ ہی بلا شرط قائم ہو جاتا ہے۔

یہ حق نہ رخصتی پر مشروط ہے، نہ consummation پر، اور نہ ہی شوہر کی مرضی پر۔

صرف استثنائی صورت میں شوہر بری ہو سکتا ہے جب وہ یہ ثابت کرے کہ بیوی نے بلاجواز مکمل طور پر ازدواجی رشتہ توڑ دیا۔

اگر شوہر نے خود رہائش، رخصتی یا ذمہ داری پوری نہیں کی تو وہ بیوی کے نان و نفقہ سے بری نہیں ہو سکتا۔

یہ حق آئین (آرٹیکل 14، 25، 35) اور اسلامی شریعت کی مساوات پر مبنی روح سے تقویت پاتا ہے۔

2. آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات
Article 14: Inviolability of dignity of man, etc.
“No person shall be deprived of life or liberty save in accordance with law. The dignity of man and, subject to law, the privacy of home, shall be inviolable.”

کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ قانون کے مطابق ہو۔ انسان کا وقار اور، قانون کے تابع، گھر کی نجی حیثیت ناقابلِ خلاف ورزی ہو گی۔

تجزیہ: بیوی کا نان و نفقہ اس کے وقار سے جڑا ہوا ہے۔ مالی سہارا نہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

Article 25: Equality of citizens
“All citizens are equal before law and are entitled to equal protection of law. There shall be no discrimination on the basis of sex.”

تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے یکساں تحفظ کے حق دار ہیں۔ جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہو گا۔

تجزیہ: عورت کو نان و نفقہ کا حق دینا مساوات کی ضمانت ہے۔ اگر یہ حق رخصتی پر مشروط کیا جائے تو عورت مرد کے برابر نہ رہے گی۔

Article 35: Protection of family, etc.
“The State shall protect the marriage, the family, the mother and the child.”

اردو ترجمہ:
ریاست نکاح، خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

تجزیہ: خاندان کے استحکام کے لیے لازمی ہے کہ بیوی کو نان و نفقہ ملے تاکہ ازدواجی رشتہ مساوی اور محفوظ رہے۔

3. مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 – دفعہ 9
Section 9: Maintenance
“If any husband fails to maintain his wife adequately, or where there are more wives than one, fails to maintain them equitably, the wife, or all or any of the wives, may, in addition to seeking any other legal remedy available, apply to the Chairman who may constitute an Arbitration Council to determine the matter and to make an order for maintenance.”
اردو ترجمہ:
اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کا مناسب نان و نفقہ ادا کرنے میں ناکام ہو جائے، یا اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو سب کا مساوی نان و نفقہ نہ دے، تو بیوی (یا تمام بیویاں یا ان میں سے کوئی بھی) دیگر قانونی علاج کے علاوہ چیئرمین کو درخواست دے سکتی ہے۔ چیئرمین معاملہ کے حل کے لیے ثالثی کونسل بنا سکتا ہے اور نان و نفقہ کا حکم جاری کر سکتا ہے۔

تجزیہ: یہ دفعہ maintenance کو ایک قانونی حق قرار دیتی ہے اور بیوی کو فورم فراہم کرتی ہے۔

4. اسلامی فقہ کا اصولی پس منظر
قرآن (الطلاق 65:7):
“جو صاحبِ وسعت ہے وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔”

حدیث:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم پر عورتوں کے حقوق ہیں اور عورتوں پر تمہارے حقوق ہیں۔” (ترمذی)

فقہی اصول: نکاح کے بعد نان و نفقہ شوہر کی بنیادی شرعی ذمہ داری ہے، خواہ رخصتی نہ ہوئی ہو۔

5. فیصلے کا تجزیہ آئینی و فقہی بنیادوں پر
اسلامی قانون: نکاح کے بعد بیوی کا نان و نفقہ لازمی ہے۔

پاکستانی قانون: MFLO 1961، دفعہ 9 میں واضح ہے کہ بیوی نان و نفقہ کا دعویٰ کر سکتی ہے۔

آئین: آرٹیکل 14، 25، 35 اس حق کو مزید تحفظ دیتے ہیں۔

عدالتی تشریح: جسٹس منصور علی شاہ نے maintenance کو unconditional right قرار دیا، سوائے اس صورت کے جب بیوی کلی طور پر ازدواجی رشتے کو بلاجواز توڑ دے۔

6. مستقبل کے قانونی اثرات
(Implications)
فیملی کورٹس میں اب رخصتی یا
consummation
کی شرط عذر نہیں بن سکے گی۔

شوہر پر بھاری بوجھِ ثبوت ہو گا اگر وہ بیوی کے نان و نفقہ سے بری ہونا چاہے۔

آئین اور فقہ کی روشنی میں عورت کو مساوی و خودمختار قانونی شخصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

amicus curiae
کے کردار کو وسعت دے کر فیملی لاء میں علمی و بین الاقوامی بصیرت شامل کی جا سکتی ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے خاندانی قوانین میں gender justice کا نیا سنگ میل ہے۔

نتیجاً مختصراً ۔۔۔
یہ فیصلہ نہ صرف اسلامی فقہ اور خاندانی قانون کو عصری آئینی تناظر میں دوبارہ زندہ کرتا ہے بلکہ عورت کے وقار، مساوات اور خاندانی تحفظ کو آئین و قانون کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کر دیتا ہے۔

19/11/2025

تمام شریک مالکان کو فریق مقدمہ بنائے بغیر دعوی تقسیم جائیداد قابل سماعت نہ ہے
2024 MLD 1508
MUBASHAR ALI SHAH VS MUHAMMAD SHARIF
Civil Revision No 58370 of 2021
Punjab Partition of Immovable Property Act, 2012
Non-impleadment of all other co-owners as defendants-Effect---No claim of mesne profit in the suit---Competency of suit-Non-appearance of petitioner himself as a witness-Effect Claim of the petitioner based on hearsay evidence---Validity---Petitioner did not implead all the co-owners in the suit, therefore, the suit was not maintainable and competent---Passing of preliminary decree in partition suit under Punjab Partition of Immovable Property Act, 2012, (ACT) is not provided; therefore, without claiming mesne profit undem the Act, the suit was not competent---Deposition of PW.1& PW.2 was based on hearsay, which had also rightly been disbelieved by the lowe courts-Non-appearance of the petitioner himself in the witness box ane not making deposition on oath also went against him---Courts below ha rightly appreciated and evaluated evidence of the parties and had reache to a just conclusion, concurrently, that the petitioners had failed to prov their case by leading cogent, confidence inspiring and trustworth evidence---Concurrent findings on record could not be disturbed exercise of revisional jurisdiction under S. 115 of C.P.C۔

Appreciated!
11/09/2025

Appreciated!

14/11/2024

وہ تمام نوجوان ہائیکورٹ کے وکلاء جن کو ابھی سپریم کورٹ کا لائسنس/انرومنٹ نہیں ہوئی ہے وہ سپریم کورٹ کے رولزریگولیشن کے مطابق اجازت پر کیس کی پیروی کرسکتا ہے
2022 SCMR P .270

اگر کوئی وکیل سپریم کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ انرول نہ ہے تو وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس میں اس وجہ سے پیش ہوسکتا ھے کہ وہ اس کیس میں بطور ایڈووکیٹ دیگر ماتحت عدالتیں میں پیش ہوتا رہا تھا اور وہ کیس کے حقائق سے اچھی طرح واقف تھا اور متاثرہ فریق نے بھی سپریم کورٹ کا وکیل نہ کیا ہوا تھا تو اس ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں پیش
ہونے کی اجازت لینے کی درخواست دائر کی تو سپریم کورٹ نے اس وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دے دی ۔

2022 SCMR P .270

With the permission of Supreme Court, Advocate high court could be appeared before Supreme Court.

میں اپنے تمام اساتذہ کرام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنایا
05/10/2024

میں اپنے تمام اساتذہ کرام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنایا

03/09/2024
11/08/2024

پاکستان میں عدالتوں کی فہرست اوپر سے نیچے تک ان کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے ساتھ متعلقہ حصوں کے ساتھ
: سپریم کورٹ 1. 184(1) بین الحکومتی تنازعات میں اصل دائرہ اختیار، اعلانیہ فیصلے جاری کرنا
؛ 2. 184(3) بنیادی حقوق کا نفاذ جس میں عوامی اہمیت کا مسئلہ شامل ہے۔
3. آرٹیکل 185(2) فوجداری مقدمات میں ہائی کورٹ کے فیصلے/حکم سے اپیل، اصل اور/یا اپیل کی صلاحیت میں مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی گئی۔
4. آرٹیکل 185(2) دیوانی مقدمات میں اپیل جب دعوے کی قیمت پچاس ہزار روپے سے زیادہ ہو۔
5. آرٹیکل 185(2) اپیل جب ہائی کورٹ تصدیق کرے کہ کیس میں آئین کی تشریح شامل ہے
؛ 6. آرٹیکل 185(3) ہائی کورٹ کے فیصلے/حکم سے اپیل (چھوٹی دینے سے مشروط)
؛ 7. آرٹیکل 186 قانون کے کسی بھی سوال پر مشاورتی دائرہ اختیار جس میں صدر کی طرف سے حوالہ دیا گیا عوامی اہمیت پر مشتمل ہو۔
8. آرٹیکل 187 زیر التوا کیس/معاملے میں مکمل انصاف کرنے کے لیے ہدایات/احکامات جاری کرنا
۔ 9. آرٹ 188 اپنے کسی بھی فیصلے/حکم کا جائزہ لینا۔ 10. آرٹ 204 اس کی توہین کی سزا؛
11. آرٹیکل 212 انتظامی عدالتوں/ٹربیونلز سے اپیل؛ اور 12. آرٹ 203F اس کا شریعت اپیلیٹ بنچ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں/حکموں سے اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت
: 1. آرٹ 203-D اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا قانون کی کوئی شق اسلام کے احکام کے خلاف ہے
؛ 2. آرٹ 203 ڈی ڈی ترمیمی دائرہ اختیار ہدود قوانین کے تحت مقدمات میں؛
3. آرٹ 203 E اس کے فیصلے/حکم کا جائزہ لینا
؛ 4. آرٹ 203 ای اس کی توہین کی سزا دینا؛ اور
5. ہدود قوانین کے تحت، فوجداری عدالتوں کے فیصلے/حکم سے اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ ہائی کورٹ:
1. آرٹیکل 199(1) 5 رٹ جاری کرنے کے لئے یعنی مینڈیمس، ممانعت، سرٹیوریری، ہیبیس کارپس اور کو وارنٹو؛
2. آرٹیکل 199(2) بنیادی حقوق کا نفاذ؛ آرٹ
203: ماتحت عدالتوں کی نگرانی/کنٹرول کرنا۔
آرٹ 204: اس کی توہین کی سزا؛ 5. CPC کے S.100 کے تحت اپیل کی سماعت کے لیے؛ 6. CPC کے S.100 کے تحت ریفرنس کا فیصلہ کرنا؛ 7. CPC کے S.114 کے تحت نظرثانی کی طاقت؛ 8. CPC کے S.115 کے تحت نظرثانی کی طاقت؛ 9. Cr.P.C کے S.410 کے تحت اپیلیں؛
10. Cr.P.C کے S.411-A(2) کے تحت بریت کے خلاف اپیل 11. خصوصی قوانین کے تحت ٹربیونلز کے فیصلے/حکم نامے/حکم کے خلاف اپیل؛ 12. Cr.P.C کے S.491 کے تحت ہیبیس کارپس کی نوعیت کی ہدایات جاری کرنا؛ 13. S.439 Cr.P.C کے تحت نظرثانی کی طاقت
14. لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں ہیج انٹر کورٹ اپیل، DISTT اور سیشن جج/اضافی۔ DISTT اور سیشن جج 1.
CPC کے S.96 کے تحت سول جج کے فیصلے/حکم نامے کے خلاف اپیل؛ 2. CPC کے S.104 کے تحت حکم کے خلاف اپیل؛ 3. CPC کے S.115 کے تحت نظرثانی کی طاقت؛ 4. CPC کے آرڈر ###VII کے تحت ایکسچینج کے بلوں، ہنڈیز یا پرومسری نوٹوں پر اصل دائرہ اختیار؛ 5. Cr.P.C کے S.265 کے تحت قتل کا مقدمہ؛ 6. حدود کے قوانین کے تحت مجرمانہ ٹرائل؛ 7. Cr.P.C کے S.408 کے تحت اپیلیں؛ 8. Cr.P.C کے S.439-A کے تحت نظرثانی کی طاقت؛ 9. Cr.P.C کے S.491 کے تحت ہیبیس کارپس کی نوعیت کی ہدایات جاری کرنا؛ اور 10. Cr کے S 498 کے تحت قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ پی سی 11. ایک اعلیٰ سطحی جسٹس آف پیس ہونے کے ناطے (i)
ایک پولیس افسر سے دوسرے کو تفتیش کی منتقلی، پولیس اتھارٹی کے کاموں اور فرائض کے سلسلے میں ناکامی یا زیادتی۔ سول جج پہلی کلاس:
1. تمام سول سوٹ آزمانے کے لیے، اس کے دائرہ اختیار پر کوئی مالی حد نہیں ہے
۔ 2. بعض دائرہ اختیار میں جنہیں کرایہ کنٹرولر کے طور پر بھی نامزد کیا گیا ہے۔
3. بعض دائرہ اختیار میں جسے جج، فیملی کورٹ بھی نامزد کیا گیا ہے۔ سول جج 2nd کلاس:
1. روپے کی مالیت تک سول سوٹ آزمانا۔ 50,00,00/-
(5- ملین روپے)؛ اور
2. رینٹ کنٹرولر/جج، فیملی کورٹ کے طور پر نامزد بعض دائرہ اختیار میں۔ سول جج تھرڈ کلاس: روپے کی قیمت تک دیوانی مقدمہ چلانے کے لیے۔
10,00,000/- (1-ملین روپے) مجسٹریٹ درجہ اول: 1-3 سال قید اور پینتالیس ہزار روپے جرمانے کے قابل سزا جرم کی کوشش کرنا۔ 2- S. 12 Cr.P.C کے تحت موبائل کورٹ کے طور پر 3- S14 Cr.P.C کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے بطور ایریا مجسٹریٹ کو ہینڈل کرنا i- ریمانڈز ii- ڈسچارج رپورٹس وغیرہ مجسٹریٹ 2nd کلاس: 1 سال تک کی سزا پانے والے جرائم کی کوشش کرنا۔ مجسٹریٹ تھرڈ کلاس: پندرہہزار روپے جرمانہ ____ مجسٹریٹ Cr.P.C کے S.30 کے تحت بااختیار ___ ایسے تمام جرائم کو آزمانا جن کی سزا موت نہیں ہے۔ لیکن سزائے موت یا 7 سال سے زیادہ قید کی سزا نہیں دے سکتے۔..

11/08/2024

Stages of Civil Trial.

Normally a civil suit has to travel through 17 main stages from institution of the suit till its judgment, they are as under :-

1)
Institution of Suit
Order 4, 6 and 7

2
Issue of Summons
Order 5

3
Filing of Written Statement
Order 8
30

4
Examination of Parties
Order 10
10

5
Settlement of Despute
Section 89

6
Discovery & Inspection
Order 11

7
Admission
Order 12

8
Production of Documents
Order 13

9
Framing of Issues
Order 14

10
List of Witness
Order 16

11
Summons to Witnesses
Order 16 R 1 (4)

12
Settling Date
Order 16

13
Evidence of Parties
Order 18 R 4
r/w Order 17
----

14
Exhibiting of Documents
Order 18 R 4 (1)
Proviso
07

15
Cross-exam by parties
Order 18 R 4 (2)
----

16
Arguments
Order 18 R 2 (3A)
----

17g
Judgment
Order 20

ہمارے معاشرے میں بھیڑیے بے لگام ہیں عبدالمتین ایڈوکیٹ جسے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور معاشر...
07/04/2024

ہمارے معاشرے میں بھیڑیے بے لگام ہیں
عبدالمتین ایڈوکیٹ جسے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کیلئے لڑتا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پولیس اور انتظامی اداروں کے کالے کرتوت اور لا قانونیت کے عمل سامنے لاتا ہے
عبدالمتین ایڈووکیٹ کا کسی بھی معاملے کو ڈیل کرنے کے انداز پر تو بحث ہو سکتی ہے لیکن پولیس جو کہ first-hand investigative agency کے طور پر کام کرنے پر مامور ہے وہ جب بدمعاشی اور انتقامی کارروائیوں کا ذریعہ بنتے ہیں تو ایسی tone بن ہی جاتی ہے جو ان پولیس اہلکاروں نے اپنے whatsapp status پر لگا کر اسکی تذلیل کررہی ہے۔
یہ ایک نوجوان وکیل جو انتہائی vocal ہے، چار لوگوں کو معاشرے میں جانتا پہچانتا ہے تو اسکے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے تو عام شہری کے لئے یہ نئے نئے renovated تھانے اور digital front desks کی کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ ان تھانوں میں استحصال، ظلم و جبر اور انتقامی کارروائیوں کو نہ روکا جائے اور آئے روز وردی کے نئے رنگ تبدیل کرنے کی بجائے professional training and development نہ کی جائے۔

01/04/2024

:

● Every civil suit is filed in the lowest court of a district which is the court of Senior Civil Judge.

● A summary suit under order 37 of CPC is filed in the court of district judge.

● Family suits are governed by Family Courts Act, 1964 in Pakistan.

● Another statute that governs family suits is West Pakistan Family Court Rules, 1965.

● In case of family suits, it is filed at the place where the female resides even if she resides temporarily.

● Visitation is a right for both the parents. It cannot be denied by courts unless any one of them is defaulted.

● Stay order can be permanent or temporary.

● Perpetual or permanent stay is granted under Specific Relief Act 1877.

● Temporary Injunction or stay is granted under order 39 rule 1 & 2 of CPC.

● Any application can be given anytime in a civil suit and Judge is bound to admit or dismiss it.

● Decree can be preliminary or final. It is always appeal-able.

● An order is generally revision-able unless it falls under the ambit of section 104 or order 43 of CPC.

● The time for filing first appeal in civil cases is 30 days.

● The time for filing second appeal in civil cases is 60 days.

● The time for filing civil revision is 90 days.

● Civil revision is filed under section 115 of CPC.

● The petitioner is bound to provide all the record of trial court in a civil revision.

● The first appeal can have question of law as well as question of fact.

● Second appeal is only filed on Question of Law.

● In normal civil cases first appeal is filed in the court of district judge.

● In normal civil cases second appeal is filed in High Court.

● Civil court has unlimited pecuniary jurisdiction under West Pakistan Civil Courts Act 1962.

● In normal practice different local governments have set different limits for pecuniary jurisdiction of civil courts.

● When a case is filed in high court for the first time it is heard by single bench.

● An appeal of a decision of single bench can be heard by division bench or full court in Intra Court Appeal.

● For challenging decision of DB or Full Court a leave to appeal is filed in Supreme Court.

● When Supreme Court accepts leave to appeal then case is heard in Supreme Court.

● A case of public interest can be directly filed under Article 184(3) of Constitution of Pakistan.

● Normally appeals in Supreme Court are filed under article 185 of Constitution of Islamic Republic of Pakistan.

● Writs are of 5 types.

● Writs are usually filed under article 199 of constitution of Islamic Republic of Pakistan.

● Writ of Habeas Corpus is filed in Session court under section 491 of CrPC.

● Inherent Powers of Civil Courts can be invoked under section 151 of CPC.

● Courts have powers to appoint local commission under order 26 of CPC.

● In cases of contempt of court regarding temporary injunction local commission is appointed under order 39 rule 7 of CPC.

● Property can be attached and accused can be imprisoned for 6 months in contempt under order 39 of CPC.

● Review is done by the same court passing the judgment.

● Review petition is filed under order 47 rule 1 of CPC.

● Order 21 of CPC deals with the ex*****on proceedings

● Plaintiff has a time of 3 years to file ex*****on.

● Limitation in civil suits is 3 years from the cause of action.

● Plaint is rejected under order 7 rule 11 of CPC.

● Plaint is returned under order 7 rule 10 of CPC.

● Section 10 of CPC deals with the principle of Res Sub Judice

● Section 11 of CPC deals with the principle of Res Judicata

● A plaint can be amended under order 6 rule 17 of CPC.

● A written statement can be amended under order 6 rule 17 of CPC.

● Order 7 of CPC deals with the plaint

● Order 8 of CPC deals with the Written Statement

● In cases of appeals and revisions the respondents are not required to file replies.

● Time for filing written statement is 30 days.

● In case of Government Institutions time period for filing written statement is 90 days.

● When an organization has head office in one city and branch office in another city then suit can be filed anywhere.

● A civil suit is filed where cause of action takes place or where the defendant resides.

● A female child remains with mother till she reaches her puberty.

● A male child remains with mother till the age of 7 years.

● Father is liable to maintain his children no matter with whom they live.

● When a mother contracts second marriage, she loses her right of child custody.

● Khula can be taken on grounds mentioned in section 2 of Dissolution of Muslim Marriages Act 1939.

● When a woman has right of Talaq-e-Tafweez in column 18 then she can take Talaq directly from Arbitration council.

● A husband can contract second marriage if arbitration council permits him.

● A husband is liable to pay full Haq Mehr to first wife before contracting second marriage.

● Wife is liable to return Haq Mehar in case of Khula.

● If a wife is not in a position to return Haq Mehar, her Khula decree cannot be stopped.

● Khula decree becomes effective after six months of its passing.

● Khula is counted as single Talaq in Pakistan.

● Suit for declaration is filed under section 42 of Specific Relief Act 1877.

● Declaration can be in rem or in personam.

● Nominee is not an Inheritor. He is liable to distribute the shares as per Islamic Law of Inheritance.

● Right of wife in the inheritance of deceased is 1/8 in case of children.

● Right of wife in inheritance is 1/4th in case there are no children.

● Right of mother and father is 1/6 each.

● Right of husband in the property of wife is 1/4th in case of children.

● Right of husband in the property of wife is 1/2 in case of no children.

● Single daughter inherits 1/2 property.

● 2 or more than 2 daughters inherit 2/3rd property

● Single son inherits full property.

● Mother and father are natural guardians of children.

● Banking court is equal to the district court.

● Murderer has no share in inheritance.

● Specific relief cannot be granted for the mere purpose of enforcing a penal .

Address

K&D Law Chamber Opposit Senior Civil Judge Court Jhang
Jhang Sadar

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+13127500758

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dhapra Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dhapra Law Firm:

Share