12/12/2025
یہی حال ہماری نسل کا بھی ہے
جگنوؤں کی ماند پڑتی روشنی کی طرح ہمارے اندر کی روشنی بھی بتدریج بجھ رہی ہے۔ 1900 کے آس پاس پیدا ہونے والی نسل، شاید وہ آخری نسل ہے جو اَخلاقیات کو محض کتابی لفظ نہیں سمجھتی تھی بلکہ اسے زندگی کی سانس، لہجے کی نرمی، فیصلوں کی بنیاد سمجھتی تھی۔ ہم وہ لوگ تھے جنہیں تہذیب صرف روایات کا نام نہیں بلکہ چلنے، بولنے، برتنے اور دوسروں کے دل نہ دکھانے کی ایک پوری مشق معلوم ہوتی تھی۔
ہم وہ نسل تھے جن کے لیے سچ بولنا بوجھ نہیں، فخر تھا
ہم وہ لوگ تھے جو کردار اور عزت کی خاطر نقصان اٹھا لیتے تھے لیکن اپنی انا اور ضمیر پر سمجھوتا نہ کرتے تھے
اور آج
جیسے جگنو روشنی کی آلودگی میں اپنا وجود کھو رہے ہیں ویسے ہی ہم ہنگامہ خیز، شور زدہ، تیز رفتار دنیا میں اپنے اَخلاق، اپنی تہذیب، اور اپنی انسانیت کھوتے جا رہے ہیں
یہ صرف جگنوؤں کا خاتمہ نہیں
یہ اچھی نسلوں کی آخری سانسوں کا اعلان بھی ہے
اگر ہم نے آج بھی اپنی ترجیحات نہ بدلیں تو آنے والی نسلیں نہ جگنو دیکھ سکیں گی نہ وہ اخلاق, نہ وہ تہذیب, نہ وہ انسانیت جس کا کچھ حصہ ابھی تک ہم اپنے اندر سنبھالے ہوئے ہیں۔
ہم آخری جگنو ہیں
اگر بجھ گئے تو اندھیرا ہی اندھیرا رہ جائے گا -
نیل احمد