VR Technicians

VR Technicians Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from VR Technicians, In-Home Service, Karachi.

Technicians Details

01==> Electrician

02==> Painter

03==> A.C Technician

04==> Technician of Soler Panal installation

05==> Technician for CCTV installation

Call or whatsapp V.R.T(V R Technicians)

0315-6916681

پرانے کمپیوٹر  ،مانیٹر ،ایل سی ڈی، فریج ، اے سی،ایکسرسائز مشین ، اور ہر قسم کے الیکٹرونکس اسکریپاچھی قیمت میں بیچنے کے ل...
07/10/2023

پرانے کمپیوٹر ،مانیٹر ،ایل سی ڈی، فریج ، اے سی،
ایکسرسائز مشین ، اور ہر قسم کے الیکٹرونکس اسکریپ
اچھی قیمت میں بیچنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔

مزید معلومات کے لیے کال یا واٹس اپ کریں
For more info call or Whatsapp

03040258601

09/09/2022

آج شہنشاہ تغزل جگرؔ مراد آبادی کا یوم وفات ہے۔

جگرؔ مراد آبادی ۔۔۔ ( سوانح حیات)

مشاعرے کا ذکر جب بھی آتا ہے تو جگر مراد آبادی کا نام آنا ضروری ہے۔ کیونکہ آج تک کسی شاعر کو مشاعروں میں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جو جگر کو حاصل تھی۔
مرتضیٰ برلاس کا یہ لکھنا درست ہے کہ
’جگر جس شہر میں وارد ہوئے اس بستی کی راتیں جاگنے لگیں، اور لوگوں کے نظام الاوقات تبدیل ہو گئے۔‘

یہ ان کی شاعری کو بہت بڑا خراج عقیدت ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ بھی نہیں ہے کیونکہ جگر جس مشاعرے میں جاتے تھے چھا جاتے تھے لیکن ان کی شاعری کو صرف مشاعرے کی شاعری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔

جگر کاپیدائشی نام علی سکندر تھا اور وہ 6 اپریل 1890ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کے علاوہ عربی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ شاعری کا چسکا انہیں 12، 13سال کی عمر سے ہی لگ گیا تھا۔ لیکن ان کے اس جذبے کو سب سے زیادہ اصغر گونڈوی نے مہمیز دی تھی اور اس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں:

”میں مختلف مذہبی عقائد سے گزرتا رہا ہوں۔ ایک زمانے میں دہریت مجھ پر حاوی رہی۔ ان دنوں میں لاہور میں چشمے کی ایک فرم میں ملازم تھا جس کے ڈائرکٹروں میں شیخ عبد القادر بھی تھے۔ یہ زمانہ میرا دکھ اور روحانی اذیتوں کا تھا۔ آخر ایک روز میں حضرت اصغر گونڈوی کے پاس ان سے ملنے کے لیے گیا جو ایک صاحب سے بحث کر رہے تھے۔ میری دلچسپی نے دور ہی سے مجھے اس بحث کو سننے کے لیے روک دیا۔ میں قریب کھڑا اس طرح، کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکیں، تمام بحث سنتا رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ حضرت اصغر سمجھا رہے تھے اسے، اور میرے دل میں کانوں کے ذریعہ ہر ایک بات اترتی جا رہی تھی ایسا بھی وقت آیا کہ جوشبہات میرے دل میں تھے میں نے سوچے اور تھوڑی دیرکے بعد ہی وہاں سے جواب ملا۔ وہ وقت مجھے یاد ہے جب میں تھوڑی دیر میں راسخ العقیدہ حنفی ہو گیا۔“
ہمایوں لاہور، مارچ سنہ 1991صفحہ۔ 258

حالانکہ جگر 15،16 سال کی عمر میں ہی مے نوش ہو گئے تھے۔لیکن اصغر کی باتوں کا ان پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ انہوں نے شراب ترک کر دی اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔

جگر کی زندگی میں بہت سے انقلابات آئے۔ ان کی زندگی بہت سے نشیب و فراز سے گزری۔ لیکن اپنی شاعری کے لیے انہوں نے جو روش طے کر لی تھی یعنی محبت۔ اس سے وہ کبھی الگ نہیں ہوئے۔

دنیا کی جفا یادنہ اپنی ہی وفا یاد
اب کچھ بھی نہیں مجھ محبت کے سوا یاد

جگر کی پوری شاعری غزل سے عبارت ہے۔ اگرانہوں نے کچھ نظمیں کہی بھی ہیں تو ان پر بھی تغزل کا رنگ حاوی ہے۔ لیکن ان کا اصل رنگ غزل ہی ہے جس کے بارے میں وہ خود ہی کہتے ہیں:

” میری شاعری غزل تک ہی محدود ہے۔ اب چونکہ حسن و عشق ہی میری زندگی ہے اس لیے بعض مستزاد کو چھوڑ کر کبھی دوسرے میدان میں قدم رکھنے کی جرات نہ کر سکا۔“

جگر کے تین شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ سنہ 1922 میں ”داغِ جگر“ کے نام سے شائع ہوا جسے اعظم گڑھ کے احسان احمد وکیل نے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔ اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے تعارفی نوٹ لکھا تھا۔

دوسرا شعری مجموعہ ”شعلۂ طور“ کے عنوان سے 1932ء میں علی گڑھ سے شائع ہوا۔ اس کے نام کی شانِ نزول یہ تھی کہ مین پوری میں ایک طوائف شیرازن تھیں، جو بہت ہی مہذب اور باذوق خاتون تھیں۔ جگر کا قیام ان دنوں مین پوری میں تھا ان کی ملاقات شیزان سے ہوئی اور جلد ہی گہرے تعلقات ہو گئے۔ وہ جگر کی شاعری کی دلدادہ تھیں اور اپنی مخصوص محفلوں میں زیادہ تر جگر کا ہی کلام سناتی تھیں۔ جگر اکثر ان کے گھر پر ہی پڑے رہتے تھے۔ ان کے لیے بالائی حصے پر ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا، جسے جگر صاحب”طور“ کہا کرتے تھے۔ اسی لیے جب اس زمانے میں ان کا مجموعہ شائع ہونے لگا تو انہوں نے اس کا نام ”شعلہٴ طور“ رکھ دیااور سر ورق پر یہ شعر لکھا:

ہجومِ تجلی سے معمور ہو کر
نظر رہ گئی شعلۂ طور ہو کر

ان کا تیسرا شعری مجموعہ ”آتشِ گل“ 1954ء میں ڈھاکہ سے شائع ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کا طویل مضمون ”جگر میری نظر میں“اور پروفیسر آل احمد سرور کا دیباچہ بھی شامل ہے۔ 1958ء میں دوبارہ اسے انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا۔

جگر کی شاعری عشق سے عبارت ہے۔ وہ عشق سے شروع ہو کر عشق پر ختم ہو تی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اورڈوب کے جانا ہے

کتابِ عشق کا مشکل ترین باب ہوا
وہ ایک دردِ محبت جو صرفِ خواب ہوا

کس قدر جامع ہے میرا عالمِ تصویر بھی
حسن کی تشریح بھی ہے عشق کی تفسیر بھی

تفسیرِ حسن و عشق جگر مصلحت نہیں
افشائے رازِ قطرہ و دریا نہ کیجیئے

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ
یہ ہے عشق کی کرامات یہ کمال شاعرانہ
ابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ

کیا کشش حسنِ بے پناہ میں ہے
جو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے

نگاہوں سے بچ کر کہاں جائیے گا
جہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا

جگر مراد آبادی کسی کی تقلید کے قائل نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے آغاز میں ہی اپنی روش طے کر لی تھی جو دوسرے شعرا سے الگ ہے۔ وہ خود ہی لکھتے ہیں:

”ہو سکتا ہے میرے کلام میں کہیں کہیں مومن کا اثر غیر شعوری طور پر موجود ہے۔ لیکن واضح رہے کہ میں تقلید کا قائل نہیں۔ البتہ اس کا اعتراف ہے کہ میرے ابتدائی کلام پر داغ کا نمایاں اثر موجود ہے۔ غالب کی عظمت اور محبت میرے دل میں ہے لیکن مقلد ان کا بھی نہیں۔“
سہ ماہی اردو، کراچی، جولائی۔ سنہ 1959صفحہ۔145

جگرمراد آبادی کا انتقال نو ستمبر 1960ء کو گونڈا میں ہوا تھا اور وہیں انہیں محمد علی پارک میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ لیکن جگر کی موت کی خبر دو دو بار اخبارات میں شائع ہوئی اور ریڈیو سے بھی نشر ہوئی۔ اس کے بعد ان کے عقیدت مندوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ پہلی بار چارمئی سنہ 1938ء کو جب ان کے موت کی خبر شائع ہوئی تو بعض اخبارات نے خاص نمبر تک شائع کر دیے۔ ہر جگہ تعزیتی جلسے ہوئے۔ دہلی کی جامع مسجد میں تو تعزیتی جلسے کے ساتھ ساتھ نمازِ غائبانہ بھی ادا کی گئی۔

لیکن چند دنوں بعد لوگوں کو یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ جگر بقید حیات ہیں۔ سنہ 1958ء میں جب جگر کو دل کا شدید دور پڑا تواس وقت بھی ان کے انتقال کی خبر ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ لاہور اور کراچی میں متعدد تعزیتی جلسے ہوئے۔ لاہور کے ایک جلسے کی صدارت احسان دانش نے کی تھی۔ اس خبر کی تردید ہونے کے بعد مشہور مزاح نگار شوکت تھانوی نے روزنامہ ”جنگ“ میں لکھا تھا کہ پہلی خبرکے بعد جگر صاحب کی عمر بیس سال بڑھ گئی تھی اوراب اس خبر کے بعد پھر کم از کم بیس برس کے اضافے کی توقع ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا 9 ستمبر 1960ءکو ان کو دل کا دورہ پڑا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔

جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جگر مرادآبادی اور ایک نعتیہ مشاعرہ

ڈاکٹر شمس کمال انجم

رئیس المتغزلین حضرت جگر ؔمردآبادی پچپن ہی سے حسن پرست واقع ہوئے تھے۔ آٹھ نو سال کی عمر تھی جب اپنے چچا کے ایک کرایہ دار کی بیوی کا حسن ان کی آنکھوں میںسما گیا تھا۔اس کے بعد وحیدن، روشن فاطمہ،نسیم،سندری ، مندری اور شیرازن جیسی عورتوں کے حسن کاوہ شکار ہوتے رہے ور ان کے عشق میں بیمار بھی۔ چودہ پندرہ برس کی عمرمیںانگورکی بیٹی سے تعارف ہوا اور جب یہ کافر ادا منہ لگی تو پھر چھڑائے نہ چھٹی۔ لاکھ توبہ کرتے مگر انگور کی بیٹی ایک بار جب ان کے سامنے آجاتی توبہ دھری کی دھری رہ جاتی۔کبھی لہراکے پی جاتے تو کبھی شرماکے پی جاتے اور کبھی رحمت تمام کو باتوں باتوں میں بہلاکے پی جاتے۔شراب ان کی گھٹی میں اپنامستقربنا چکی تھی اوران کی شیروانی میں بوتل ہمیشہ پڑی ملتی۔کبھی اپنے مرشد حضرت اصغرؔ گونڈوی سے دعا کی درخواست کرتے اور اپنے ہی جیسا نرگس مستانہ بنانے کی فرمائش کرتے تو کبھی شاہ عبد الغنی منگلوری کے در پر حاضر ہوکررہنمائی کی التجا کرتے ۔ وہ اپنی رندی وبلانوشی پرنادم بھی ہوتے اور شرمندہ بھی ۔ اسے ترک کرنے کی کوشش بھی کرتے مگرجس دل پر پیہم وار لگے ہوں اس کے کاری زخم کو شراب کے علاوہ اور کس شے سے قرار مل سکتا تھا۔وہ آوارہ ہوگئے تھے، عینک فروشی سے جو کچھ ہاتھ آتا اسے شراب میں لٹادیتے اور عالم مدہوشی میںان کا جذبۂ شوق جدھر لے جاتا وہ پھرتے رہتے۔کئی کئی دن گھر نہیں آتے۔ جانے کہاں کہاں بیٹھ کر شراب پیتے رہتے۔جیسے جیسے دل پر وار ہوتا،ضرب لگتی دل کی آہ شاعری بن جاتی۔بڑی سادگی سے وہ اپنے قلب وجگرکے سوز پنہاں کو شاعری کے پیکر میں ڈھال دیتے۔جیسے جیسے درد بڑھتارہا، شغل مے نوشی اور بادہ نوشی میں اضافہ ہوتا رہا اور شاعری پروان چڑھتی رہی۔جب جگر کے مخصوص ترنم میں ان کا مخصوص کلام سامعین کی سماعتوں سے ٹکراتا تو دلوں میں گھر کرلیتا، سامعین جھوم جھوم جاتے عش عش کر اٹھتے۔وہ دن مشاعروں کے موسم بہار اور اردو شعر وادب کے عروج کے دن تھے۔جگر ؔمرادآبادی کا نام ہی مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گیا تھا۔ شاعری کی شہرت کے ساتھ مے نوشی میں بلا کا اضافہ ہوگیا تھا۔ منتظمین مشاعرہ انہیں بھر بھر کر پلاتے اور جی بھر کر سنتے اور حظ اٹھاتے۔کبھی شراب کے لیے انہیں عینکوں کاکاروبار کرنا پڑتا تھا مگراب یہ حالت تھی کہ انہیں شراب پلانے میں لوگ اپنی سعادت سمجھنے لگے تھے۔مشاعرہ جگرؔ اور شراب لازم ملزوم بن گئے تھے۔کوئی مشاعرہ جگرؔ کے بغیر کامیاب تسلیم نہیںکیا جاتا تو جگرؔ شراب کے بغیر کچھ پڑھ بھی نہیں سکتے تھے اور جب پڑھتے تو ایسا کلام سامنے آتا کہ گلی کوچوں میں مدتوں دہرایا جاتا۔مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ کوئی مذاق میں بھی کہہ دیتا’’ وہ دیکھوجگر صاحب آرہے ہیں‘‘تو بے شمار آنکھیں اس طرف اٹھ جاتیں۔

جگرؔ صاحب نے ہمیشہ شغل مے نوشی کی اور صرف غزلیں کہیں۔جن دنوں بھوپال ہاؤس میں جگر صاحب ٹھہرے ہوئے تھے نعت کے مشہور شاعراور زائرحرم کے خالق جناب حمیدؔ صدیقی بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے اور جگرؔصاحب سے ملنے آیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ حمیدؔ صدیقی ان سے ملنے آئے جگر ؔعالم سرشاری میں لیٹے ہوئے کوئی غزل گنگنا رہے تھے۔ تپائی پر بوتل رکھی ہوئی تھی۔ جیسے ہی حمیدؔ صدیقی پر نظر پڑی وہ گھبراگئے اور کہا میں نے آپ کو منع کیا تھا کہ ایسے وقت میرے پاس نہ آیا کریں۔ انہوں نے کہا حرج ہی کیا ہے۔ میں آپ کے اس شغل سے واقف بھی ہوںاور معترض بھی نہیں۔ جگرصاحب نے کہا بات معترض ہونے کی نہیں ہے اس عالم میں اگر میں آپ سے نعت سنوں تو کیسے سنوں۔ اور وہ آب دیدہ ہوگئے۔

جگرؔجیسے شرابی شاعر کا یہ اعلیٰ شعور۔ اللہ اکبر! جگرؔ نے کبھی نعت نہیں کہی صرف غزلیں کہتے رہے اور دل کا غبار کاغذ پر اُنڈیلتے رہے۔جگرؔ صاحب نے پہلی نعت اجمیر کے مشاعرے کے لیے کہی۔اس نعت کا عجیب وغریب شان نزول پاکستان کے مشہورومعروف تذکرہ وخاکہ نگار ڈاکٹر ساجد حمید نے کچھ ا س طرح بیان کیاہے :

’’ اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر ؔصاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

در اصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔

سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوںسے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔

ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوںکو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے ؎

کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔

’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘

اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:

دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ

اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ

اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ

اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ

کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ

اس امت عاصی سے نہ منھ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ

کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشعار جگرؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کہ تھا جانِ زیست آہ جگرؔ
اسی خانہء خراب نے مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکوہء موت کیا کریں کہ جگرؔ
آرزوۓ حیات نے مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ہی جفا جو ہیں جگرؔ عشق ہو یا حسن
اک یار نے لوٹا مجھے ایک یار نے مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پاۓ یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے جگرؔ کی تجھ سے التجا یہی ہے
اپنے جگرؔ کو اپنے دل سے جدا نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ لٹتے ہم! مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ
نظر بچاتے ہوۓ ڈبڈبا کے لوٹ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ اب خودی کا پتہ ہے،نہ بیخودی کا جگرؔ
ہر ایک لطف کو لطفِ خدا نے لوٹ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خون جگرؔ کا اک شعر تر کی صورت
اپنا ہی عکس جس میں اپنا ہی رنگ بھرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر ہے،شرح ہستی،اے جگرؔ
زندگی ہے خواب،اجل تعبیر خواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعار بن کے نکلیں جو سینہ جگر سے
سب حبسن یار کی تھیں،بے ساختہ ادائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں پھر یہ ہستی؟کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی میخواریاں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق خود اپنی جگہ عین حقیقت ہے جگر
عشق ہی میں کیوں نہ نشان دلبری پیدا کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس کی یاد میں پھر جی یہ چاہتا ہے جگرؔ
لگا کے آگ نکل جاؤں آشیانے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگرؔ
ظالم نے بات بات پہ تڑپا دیا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منتخب کلام:

اداسی طبیعت پہ چھا جاۓ گی
انہیں جب میری یاد آۓ گی
شب غم کرشمے دکھا جاۓ گی
کمی آنسوؤں کی رلا جاۓ گی
میرے بعد ڈھونڈو گے میری وفا
مرے ساتھ میری وفا جاۓ گی
مجھے اس کے در پر ہے مرنا ضرور
مری یہ ادا اس کو بھا جاۓ گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا لطف پوچھتے ہو پرشوق زندگی کے
جی جی اٹحا ہوں مر کے مر مر گیا ہوں جی کے
بے حکم عشق مر کے بے اذن عشق جی کے
کرتے ہیں مفت ضائع اوقات زندگی کے
دیکھا تو اس جگہ پر لاکھوں ہیں زخم تازہ
حاصل ہوئی تھی فرقت جس زخم دل کو سی کے
فیض بہار سے ہے۔عالم یہ تازگی کا
گویا برس رہے ہیں انوار زندگی کے
اک اک سے پوچھتے وہ میری حالت دل
قربان اس ادا کے اس بے تکلفی کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کی خبر نہ ہوش کسی کو جگر کا ہے
اللہ اب یہ حال تمھاری نظر کا ہے
اس سمت دیکھتی بھی نہیں رخ جدھر کا ہے
سب سے جدا اصول تمھاری نظر کا ہے
سب رفتہ رفتہ داغ الم دے گۓ مگر
محفوظ ہے وہ زخم جو پہلی نظر کا ہے
میرے دل حزیں میں کہاں تاب اضطراب
جو کچھ کمال ہے وہ تمھاری نظر کا ہے
کس طرح دیکھوں جلوہء جاناں کو بے حجاب
پردہ پڑا ہوا مرے آگے نظر کا ہے
پیہم ہجوم یاس سے آتا نہیں یقین
تم میرے سامنے ہو یا دھوکا نظر کا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تو کچھ ظرف ہے اے دل ترے پیمانے کا
راز میخانے سے باہر نہ ہو میخانے کا
عرصہ حشر کہاں،یہ دل برباد کہاں
وہ بھی چھوٹا سا ہے ٹکڑا اسی ویرانے کا
اس کی تصویر کسی طرح کھنچ نہیں سکتی
شمع کے ساتھ جو تعلق ہے جو پروانے کا
جرعہء مے کی ادائیں نگہء ناز میں ہیں
چشم مخمور میں کل راز ہے میخانے کا
جذبہء شوق نے دم لینے کا موقع نہ دیا
شمع منہ دیکھتی ہی رہ گئی پروانے کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبر کے ساتھ مرا دل بھی لۓ جائیں آپ
اس قدر رحم میرے حال پہ فرمائیں آپ
دیکھۓ میری تمناؤں کا احساس رہے
باغ فردوس میں تنہا نہ چلے جائیں آپ
کر دیا درد محبت نے مرا کام تمام
اب کسی طرح کی تکلیف نہ فرمائیں آپ
نالے کرتے ہوۓ رہ رہ کے یہ آتا ہے خیال
کہ مری طرح نہ دل تھام کے رہ جائیں آپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺘﻢ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﻭﻓﺎ ﯾﺎﺩ
ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﯾﺎﺩ
ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﺑﻠﺐ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ ﯾﺎﺩ
ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮧ ﻣﺮﮮ ﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﺎﺩ
ﭼﮭﯿﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻞ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻧﮯ
ﺍﺏ ﺗﮏ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﮎ ﻧﻐﻤۂ ﺑﮯ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺻﺪﺍ ﯾﺎﺩ
ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺴﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﻧﻮﺍﺯﺵ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺍ ﯾﺎﺩ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﺭﺑﺎﺏ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﻮ
ﻣﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍ ﯾﺎﺩ
ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﮎ ﺣﺎﺩﺛۂ ﻋﺸﻖ ﮐﻮ ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﺏ ﺗﮏ ﮨﮯ ﺗﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﯾﺎﺩ
ﮨﺎﮞ ﮨﺎﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﻣﺮﯼ ﺷﺪﺕ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﮨﺎﮞ ﮨﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﯽ ﮨﻮﺍ ﯾﺎﺩ
ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﺭﮦ ﻭ ﺭﺳﻢ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺮ ﮨﯽ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﻟﻐﺰﺵ ﭘﺎ ﯾﺎﺩ
ﮐﯿﺎ ﻟﻄﻒ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺘﮧ ﺁﭖ ﺑﺘﺎﺅﮞ
ﮐﯿﺠﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﻮﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺩﺍ ﯾﺎﺩ
Fit N Fix Fitness karachi
Treadmill Repairing, Sales & Purchase
Call or whatsapp
03346916681۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ خالد محمود

21/06/2022

پروپیگنڈہ اپنے خیالات نظریات سوچ کو عوام کے سامنے لانے کا ایک آسان طریقہ ہے جیسے سیاسی و مذہبی تنظیمیں اور ریاستی ادارے عوام کے رائے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پروپیگنڈہ دور قدیم سے دور جدید تک عوامی معاشرے کا ایک اہم حصہ رہا ہے جس کو ہر دور میں اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔پروپیگنڈہ کو تفصیل سے بیان کرنے سے پہلے اسکی تعریف، ذرائع اور طریقے اصول بیان کروں تاکہ پروپیگنڈہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔پروپیگنڈہ ایک ایسے طریقے کار کا نام ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو ایک مخصوص نظریہ قبول کرنے میں ذہنی و نفسیاتی حوالے سے تیار کیا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ کی اشاعت کے لئے اخبارات، رسائل، ٹی وی، سوشل میڈ،جلسے جلوس، مظاہرے، پمفلٹ اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔پروپیگنڈہ کو عوام میں لانے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ریاست تنظیم ایک بہتر طریقے سے عوام میں اسکی اشاعت کرسکتاہے۔ تیسری دنیا کے ممالک جو سامراجی تسلط میں تھے اور اب بھی ہے ایسے ملکوں کے عوام تعلیم سے دور ہوتے ہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے پروپیگنڈہ آسان زبان میں ہو تاکہ جن کے لئے پروپگنڈہ کیا جارہا ہے وہ اس کو سمجھ کر اس تحریک کا حصہ بن سکے۔دنیا کی تحریکات کی کامیابی میں پروپیگنڈہ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اسی پروپیگنڈہ کے ذریعے دشمن کے حوصلوں کو پست کرکے اپنے عوام کے حوصلوں کو بڑھاکر انہیں قومی تحریکوں کا حصہ بنایاگیا۔پروپیگنڈہ کو سب سے پہلے مذہبی حلقوں نے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے استعمال کیا قدیم دور میں جب دنیا جاگیرداری اور ملوکیت کی لپیٹ میں تھا اشرف المخلوقات جاگیردار بادشاہ اور ملاوں کی غلامی میں بری طرح پھنس چکے تھے اس غلامی کو مزید طول دینے کے لئے بادشاہوں، ملاؤں اور جاگیرداروں نے پروپیگنڈہ کے زور پر استحصال کو مزید بڑھاوا دیا تاکہ بغاوت کی نوبت نہ آئے اور انسان اسے خدا کی مرضی سمجھ کر چپ سادھ لے ۔اس ظلمت کی رات کو ختم کرانے میں بھی پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار اداکیا ہے۔ جب سائنس ترقی کرنے لگی چھاپہ خانہ ایجاد ہونے لگے تو روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں نے اپنے خیالات عوام میں وضح کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کیا کہ پادری حضرات سادہ لوح عوام سے رقم لیکر جنت کے پروانے جاری کرتے ہیں اور گنڈے تعویذ بانٹ کر توہم پرستی کی جال میں پھنساتے ہیں۔پروٹسٹنٹ فرقے کا وجود انہی پروپیگنڈہ کی مدد سے آیا اور ہر جگہ پوپ کی مخالفت شروع ہوئی انہیپروپیگنڈہ نے پورپ میں انقلابی حالات کو جنم دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا معاشرے میں طاقت کا توازن بدلا اور تاجروں اور صنعت کاروں نے بھی حکومتی معاملات میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کے تاجروں نے بادشاہ کے خلاف انقلاب برپا کرکے پارلیمنٹ کو آئینی بنایا۔ انقلاب فرانس اور امریکہ کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے اہم کردار ادا کیا۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں پروپیگنڈہ کو اتنی ترقی دی گئی کہ پروپیگنڈہ ایک خطرناک ہتھیار بن گیا اور ہر ریاست تنظیم اور ہر ادارے نے اس کا استعمال ایک اہم آلے کے طور پر کرکے اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سفر ترقی خوشحالی کی طرف بڑھنے لگا اور اسی ترقی نے پروپیگنڈہ کے فن کو بھی ترقی دی اور دنیا کے دو بڑے طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کو بطور ایک آلے کے استعمال کیا کیونکہ ان کو علم تھا کہ پروپیگنڈہ کا فن ہی انہیں کامیابی سے ہمکنار کرواسکتاہے۔ بقول ایک زانت کار کے کہ اگر آپ نے پروپیگنڈہ میں مہارت حاصل کرلی تو آپ خدا کو اسکے تخت سے نیچے اتار سکتے ہو ۔جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا حریف سویت یونین تھا جسے وہ مذہبی ممالک کے سامنے لادین کے لقب سے پکارتاتھا اور سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے مذہب کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

Fit N Fix Fitness Karachi
Treadmills Repairing & Services
03346916681

اسکے علاوہ امریکہ نے فرانس ،یونان اور اٹلی میں کمیونسٹوں کو شکست دینے کے لئے بھاری مالی امداد دی 20ویں صدی کے اختتام پر جب سویت یونین زوال کا شکار ہوئی تو ایک نیا طوفان امریکہ اور دنیا کے سامنے کھڑا تھا تو اس طوفان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک میں پروپیگنڈہ کیا کہ اسلامی شدت پسندی سے نہ صرف امریکہ کو خطرات لاحق ہے بلکہ پوری دنیا کو اس طالبانائزیشن سے خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک امریکہ کا ساتھ دیں۔امریکہ نے ویتنام میں بھی پروپیگنڈہ کے ذریعے قبضے کو طول دینے کی کوشش کی لیکن ویت نامی پارٹی نے ان کی ہرپروپیگنڈہ کا موثر جواب دیکر انہیں ناکامی سے دوچار کیا۔دنیا میں مظلوموں پر جب قبضہ کیا جاتا ہے مظلوموں کی قومی شناخت کو مٹانے کے لئے سامراج مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اپنے تاریخ دانوں سے پروپیگنڈہ کرواکے اسکی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے اپنے ماہرین نفسیات سے پروپیگنڈہ کرواکے مظلوموں کو جاہل وحشی کند ذہن ثابت کرتا ہے تاکہ مظلوم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوکر جدوجہد کی صلاحیتوں سے محروم ہوسکے۔دنیا کے ہر ظالم و جابر ملک نے جب کسی دوسرے ملک پر قبضہ جمایا تو اسے یا تو تعلیم سے دور رکھا یا اس قوم کو ایسی تعلیم دینے کی کوشش کی کہ وہ’’ یس سر‘‘ کہنے والا روبورٹ بن جائے ۔غلامی کے تاریک دنوں میں ویتنام کا بھی یہی حال تھازرین فاطمہ ”ویتنام کی انقلابی جدوجہد ” میں لکھتی ہے کہ ویتنام کا پڑھا لکھا طبقہ فرانسی تسلط کے خلاف لکھتا رہا اور حالات کا تجزیہ کرتا رہا ان کی کوشش تھی کہ ملک میں تعلیم عام ہو یہ وہ وقت تھا کہ ویتنام میں صرف دس فیصد لوگ اخبار پمفلٹ پڑھ سکتے تھے۔جہالت کے خلاف انہوں نے عوام کو بیدار کرنے کے لیے ایک نعرہ لگایا ”ہمیں پڑھنا ہے تاکہ ہم جنگ جیت سکیں ” اس نعرہ نے عوام کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں مدد دی ۔کسان ہر شام ننگے پاوں لالٹین اٹھائے ہوئے کلاسوں میں جانے لگے یہ ویتنامی انقلابی پارٹی کی حکمت عملی تھی کہ عوام بیداری کی طرف راغب ہونے لگی ۔ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی نے پروپیگنڈہ ٹولز کو اپنے حق میں استعمال کرکے دنیا کی طاقتور ریاستوں کو شکست سے دوچار کیا۔فرانس نے الجزائر میں انہی سامراجی پروپیگنڈہ کو استعمال کرکے الجزائری عوام کو نفسیاتی مریض بنادیا تھا لیکن ان پروپگنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے نیشنل لبریشن فرنٹ کے جہد کاروں نے عوام کو شعوری تربیت دیکر جدوجہد کے لئے تیار کیاپروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو جہد کا حصہ بنایا۔الجزائر کی جنگ آزادی سے قبل الجزائری عوام فرانس کے قبضے میں غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے ان کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ جب آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا تو لبریشن فرنٹ نے ریڈیو کو اپنا ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کرکے سامراج کی نیندیں حرام کردیے تھے۔.1954ء سے قبل ریڈیو پر فرانس کا قبضہ تھا اور وہ فرانسی زبان میں اسکے نشریات چلاتے اور مقامی ثقافت کو تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ فرانس نے الجزائری عوام میں ریڈیو تقسیم کئے کیونکہ یہ قابض فرانس کو دو فائدے دیتا تھا ایک یہ کہ وہ اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھاتا اور دوسرا مقامی لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے جدوجہد کی صلاحیت سے محروم کردیتا تھا یہ ریڈیو فرانس کی قوت مزاحمت کی
علامت تھا۔ اس ریڈیو کے پروگرام میں فرانس کے قومی ترانے بجائے جاتے تھے اسکے علاوہ ریڈیو میں جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام میں مایوسی پھیلائی گئی ۔اگر قابض فوج کسی معصوم الجزائری کو قتل کردیتی تو ریڈیو میں جبر نشر ہوتی کہ فرانس کے فوج نے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ریڈیو فرانسیسی فوج کے لئے مزاحمت کی علامت جبکہ الجزائری عوام کے لئے ایک عذاب تھا ۔لیکن جب الجزائری انقلابیوں نے محسوس کرلیا کہ سامراج کے پروپیگنڈوں کا جواب نہیں دیا تو وہ ہماری مقامی کلچر کو تباہ کرنے کے علاوہ عوام کو بھی اپنی طرف کھینچ کر جہد آزادی کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس لئے انقلابی قیادت نے تیونس کی تقلید میں الجزائر میں ریڈیو نشریات چلانے کا اعلان کیاالجزائری انقلابیوں نے عوام کو احساس دلایا کہ ریڈیو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔جب استعمار اسے استعمال کرسکتا ہے تو ہم بھی اپنے آزادی کے لئے بطور پروپیگنڈہ ٹولز اس آلے کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی ریڈیو نے الجزائری عوام کو خواب غفلت سے جگاکر شعور اجاگر کیا تھا ۔وہ ظالم کے حربوں کو سمجھنے لگے. 1954ء سے قبل ریڈیو الجزائر میں برائی کی علامت تھا لیکن جب یہ انقلابیوں کے ہاتھ آیا تو یہ دوستی اور محبت کی علامت بن گیا۔وہ عوام اور انقلابیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہی تھی ریڈیو انہیں مجاہدین اور فوجیوں کے درمیان لڑائی کی پل پل خبر پہنچاتا۔ جس سے انکے احساس کمتری ختم ہونے لگی اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگے ۔اب ریڈیو میں فرانس کے فوجی ترانے نہیں بلکہ الجزائری عوام کو بیدار کرنے کے لئے ایک نغمہ ”میرے بیٹے یہ ماں تجھ پہ واری رہے جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے ” اس نغمے نے الجزائری عوام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ الجزائری عوام آزادی کے جذبے سے سرشار ہوکر بازاروں میں آزادی زندہ باد کے نعرے لگاتے جس سے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا لیکن وہ موت سے باخبر ہوکر آزادی کے جذبے سے سرشار تھے۔ یہ انقلابی قیادت کی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے پروپیگنڈہ کرکے عوام کو بیدار کرکے الجزائر کی آزادی حاصل کی ۔

Fit N Fix Fitness Karachi
Treadmills Repairing & Services
03346916681

پروپیگنڈہ ایک ایسا آلہ ہے جسے وقت کے سامراجوں نے اپنے برے مقصد کے لئے اسے استعمال کیا۔ جبکہ آنقلابیوں اور مظلوم قوموں نے قومی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا۔چین کے ماہر جنگی امور پروپیگنڈے کو جنگ جیتنے کے لیے ایک موثر آلہ قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ ” دشمن کو تباہ کرنے سے بہتر ہے کہ اسکی ہمت کو توڑ دو نفسیاتی شکست کھانے کے بعد وہ جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔دنیا کے تمام ظالموں نے جب مظلوم پر قبضہ کیا تو نفسیاتی طور پر ان کا مورال گرانے کے لئے پروپیگنڈہ کیا۔ پاکستانی قبضے کے بعد بلوچستان اور بلوچ قومی تحریک انہی پروپگنڈوں کا شکار ہے پاکستان اپنے اداروں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے خلاف ہر طرح کی پالیسیوں پر گامزن ہے اور دنیا کے دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان کا بھی اہم ہتھیار پروپیگنڈہ ہے۔پاکستان نے جب برطانوی ایما پر بلوچستان پر قبضہ کیا تو ان کا پہلا پروپیگنڈہ ریاست قلات کی آئینی حیثیت پر تھی اس وقت جب خان برسر اقتدار تھے تو خان ایک آئینی حکمران تھے جو جرگے کے ذریعے منتخب ہونے والے سرداروں کے منتخب کردہ آئینی حکمران تھے لیکن انہوں نے انگریزوں کا غلط حوالہ دیکر خان قلات کو کبھی وفاق کا سربراہ کبھی نیم وفاق کا ہیڈ اور کبھی جاگیردار کہا اور اپنے اس غیر آئینی اقدام کا جواز بنایا۔پاکستان بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے اپنے پروپیگنڈہ ٹولز کو تیزی سے استعمال کررہا ہے تاکہ بلوچ عوام کو نفسیاتی دباو کا شکار کرکے تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں۔پاکستان اپنے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سی پیک کو خوشحالی اور ترقی کا سنگ میل قرار دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سی پیک بلوچ قوم کے لئے ترقی نہیں بلکہ اسکی موت کا پروانہ ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے بلوچ قوم اقلیت میں تبدیل ہوکر اپنے موت آپ مرجائیگی لیکن پاکستان بلوچ عوام اور عالمی دنیا کے سامنے اسپروپیگنڈہ میں مصروف ہے کہ سی پیک قوم کی ترقی ہے۔پاکستان بلوچ تحریک کو کاونٹر کرنے میں کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب تربت میں اور پشکان میں FWO کے کارندوں کو بلوچ آزادی پسند قتل کرتے ہیں تو پاکستانی اداروں میں بھونچال آجاتا ہے وہ بلوچ تنظیموں کو دہشت گرد ظاہر کرنے کے لئے میڈیا میں پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ سندھی مزدوروں کو مارا جارہاہے۔ ان ریاستی اہلکاروں کے لئے اپنے حمایتی لوگوں سے ریلیاں اور مظاہرے کرواتا ہے تاکہ بلوچ تحریک کو دنیا بھر میں دہشتگرد ظاہر کریں اور دنیا کو دکھادیں کہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ ہیں یہ آزادی پسند چند انڈین ایجنٹ ہے جن سے پاکستان کی ترقی نہیں دیکھی جاتی ۔اس لیے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔پاکستانی اداروں نے بلوچ تحریک کے خلاف حالیہ دور میں اپنے پروپگنڈہ مہم کو اور تیز کردیا ہے جب کوئی کمزور لوگوں نے ہتھیار پھینکنے کا عمل شروع کیا تو میڈیا نے اسکی خوب تشیہر کی کہ باغی ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔ یہ تمام پروپیگنڈ ے ریاستی مقاصد کے حصول کے لئے کئے جارہے ہیں تاکہ بلوچ تحریک سے عوام بدظن ہو.۔ پروپیگنڈہ کو جس طرح مظلوم نے اپنے مقاصد کو استعمال کرکے سامراجی پالیسیوں کو ناکام بنایا آج بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کے لئے یہ نفسیاتی حربہ اہمیت کا حامل ہے اسکا مثبت استعمال بلوچ تحریک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔ جس طرح الجزائر، ویتنام اور دیگر انقلابیوں نے بہتر حکمت عملی اورپروپیگنڈے کا مثبت استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے آج بلوچ بھی اس کا صیح استعمال کرکے عوام اور دنیا تک اپنی آواز پہنچاسکتے ہیں۔بلوچ آزادی پسند تنظیمیں عوام کو شعور یافتہ اور خواندہ بنانے کے لئے موثر حکمت عملی بنائیں تاکہ وہ بھی ریاست پاکستان کے نفسیاتی حربوں کو سمجھ کر انہیں ناکام بنائیں۔ جس طرح ویتنامی انقلابیوں نے اپنے عوام کو پڑھایا اور شعوری طور پر تیار کیا۔آج بلوچ قومی تحریک کی ضرورت ہے کہ بلوچ عوام ریاستی دلال پارٹیوں کے چنگل سے نکل کر بلوچ قومی تحریک میں شامل ہوکر اپنی آوز عالمی اداروں تک پہنچاہیں۔بلوچ سیاسی پارٹیاں عوام کو پروپیگنڈے کے اہمیت سے آگاہ کریں کہ یہ تحریکوں کے لئے ایک اہم ہتھیار ہے اور اس کا صیح اور مثبت استعمال ہمیں کامیابی سے ہمکنار کراسکتاہے ۔

Treadmills Repairing & Services
03346916681

 Treadmills Repairing & Services03346916681
19/06/2022


Treadmills Repairing & Services
03346916681

16/06/2022

ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

دیپ جس کا محلات میں ہی جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وە جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ ٔدار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو ،جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رِندوں کو ملنے لگے ، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو،ذہن کی لوُٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فُسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح کہوں
تم نہیں چارە گر، کوئی مانے،مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

Address

Karachi

Telephone

+923156916681

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VR Technicians posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share