06/06/2023
\ mera junoon hai
\ haseena
\ writeš
\ 't copy paste without my permission ❌❌❌
\ Episode
❤️ #رابطے بھلے نہ ہوں ، #چاہتیں\_تو\_رہتی\_ہیں🥀
❤️ #درد کے توسط سے ، #نسبتیں تو رہتی ہیں🥀
❤️چھوڑ جانے والوں کو #روک تو نہیں سکتے🥹
❤️مگر #مدتوں انکی \_\_\_ #\_\_عادتیں تو رہتی ہیں🥀
بھائی اگے بہت سے آدمی ہیں ۔.تھوڑا سنبھال کے۔۔۔ کسی گفا کے باہر وہ کھڑے تھے تبھی عالم نے اندر جھٹکتے بازان سے کہا وہ سب اپنے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اندر جانے کے لئے تیار تھے
عالم اگر تم نے نہیں جانا مت جاؤ ۔۔۔ لیکن مجھے اپنی بیری سہی سلامت چاہیے اور میں جارہا ہوں۔۔۔۔ بیر ہاتھ میں موجود ہنٹر کو زمین پر مارتے غصے سے دھیمی آواز میں غررایا وہ کہیں سے بھی نرم دل بیر نہیں لگ رہا تھا عالم کو اس میں بچپن کا دراک نظر آیا جو اپنی بیری کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھا
💞 وہ میری #خواہش نہیں ہے 💞
💗 خواہش تو #ادھوری رہ جاتی ہے 💗
❣️وہ میری #ضرورت بھی نہیں ہے❣️
💟ضرورت ایک دن #ختم ہو جاتی ہے
💖 وہ تو میری #جان ہے💖
💝جب تک #وہ ہے تب تک #میں ہوں♥
* دانی نے وہاں دو بم پھینکے جس سے وہ آدمی ڈر گئے کہ بم ہے لیکن اس سے نکلتے دھوئیں پہ سب نے اپنی گنز نکالی اور گولیوں کی برسات کردی وہی وہ سب ہی اندر کی طرف بڑھے ایک کے ایک فائر کرتے وہ اآگے بڑھ رہے تھے بیر نے ہاتھ گھوماتے ہنٹر سے ان لوگوں کے جسموں کو زخمی کرنے لگا جہاں کچھ دیر پہلے موت سی خاموشی تھی وہاں اب چیخ و پکار گونج اٹھی تھی
سعد اپنے ہاتھوں میں چاقو پکڑے آپنی طرف آنے والے آدمیوں کے سینے پہ پاؤں مارتے نیچے گرایا اور دوسرے کے سینے میں چاقو کھونپتے وہ تیسرے کے سینے پہ دونوں پاؤں رکھتے دباؤ دیا وہ تینوں ہی بے جان ہوتے گرے
دانی اور نومی تو ان آدمیوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر نیچے پھینکتے اور اس پر چڑھ کر اسکے بال کھینچتے اسکے چہرے کا نقشہ بگاڑنے میں لگے تھے
ابرار اور شان دونوں ہی اپنے ہاتھوں سے انکی گردنیں توڑنے میں مصروف تھے ابرار کی طرف چاقو لے کر آتے آدمی دیکھ بازان نے گولی اسکے سر میں ماری اور پھر سے انکو مارنے میں مگن ہوا
داحی اور عینا ہم انکو سنبھالتے ہیں تم اندر جاؤ مگر دھیان سے دروازے سے ہرگز مت جانا دیوار توڑنی پڑے تو توڑ دینا ۔۔۔۔۔ بیر نے سنجیدگی سے انکو دیکھتے کہا کیونکہ وہ لوگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے بسس بڑھتے ہی جارہے تھے وہ دونوں سر ہلاتے گفا کی اگلی طرف سے نکلے سامنے ایک بہت ہی بڑا کمرہ تھا
یقیناً کوئی جھول ہے داحی اتنی آسانی سے وہ بیرہ کو نہیں دےگا۔۔۔ عینا نے پرسوچ آنداز میں نظریں گھماتے کہا اسکی نظر ایک ٹریکٹر پر پڑی جو دیوار توڑنے کے کام آسکتا تھا وہ داحی کو دیکھتی مسکرائی
🔥🔥🔥
سر میں اٹھتی درد کی لہروں نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا مندی مندی سی آنکھیں وا کرکے دیکھی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا اسے گپ اندھیرا اور گہری موت سی خاموشی اسے یاد آیا کہ کیسے علی نے اسکے ساتھ دھوکا کیا اس نے ہاتھ چھڑانے چاہے جو رسی کی قید میں تھے اور اوپر کو بندھے ہوئے تھے اس نے پاؤں آگے کرتے کچھ محسوس کرنا چاہا لیکن کسی سخت چیز اور کتوں کی غررانے کی آواز سن اس نے جھٹ سے پاؤں واپس کھینچا
اسے محسوس ہوا اس کی گردن پر کچھ رینگ رہا ہے گردن تھوڑا سا ہلائی تو محسوس ہوا کہ سانپ ہے اسکے منہ پر پٹی نما کچھ نہیں تھا شاید وہ اسکی خوفناک چیخیں سننا چاہتا تھا لیکن اس بات سے انجان تھا کہ اسے ان سب کی عادت تھی اسے جانوروں کو اپنے قید میں کرنا بہت پسند تھا وہ اپنی سحر زدہ آنکھوں سے جانوروں کو ہپناٹائس کرلیتی تھی خدا نے ہر فن سے نوازا تھا اسے ۔۔۔۔
بہت کرلیا جانوروں کا شکار اب تم جیسے گیڈروں کو اپنا غلام بنانا ہے ایک بار مہلت کیا دے دی تم نے تو خود کو جنگل کا بادشاہ ہی سمجھ لیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دل میں اس سے مخاطب ہوئی اچانک ایک جگہ روشنی ہوئی روشنی آنکھوں میں چببھی تو اس نے آنکھیں بند کی کچھ سکینڈ بعد آنکھیں کھولی جہاں پانی سے بھرے شیشے کے ٹینک موجود تھے اسکے اندر شارک موجود تھی
کمال ہے ویسے۔۔۔. تمھاری ہمت کی داد دینی پڑے گی.۔۔. ایک چیخ تک نہ نکلی واہ بہت پکی کھلاڑی ہو ۔۔۔۔۔ اچانک لائٹس اون ہوئی تو علی نے اسکے چہرے پہ پھونک مار کر بال پیچھے کرتے کہا بیرہ نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا
شیرنی ان معمولی جانوروں سے نہیں ڈرا کرتی ۔۔۔۔۔
ہمممم مجھے یہ خوبصورت شیرنی اپنی زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چاہئے ۔۔۔۔ وہ اسکے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لے جاتے بولا بیرہ نے گھما کے ٹانگ اسکے پیٹ ماری اور گھٹنے کو اسکی نازک جگہ پہ دے مارا علی درد برداشت کرتے نیچھے بیٹھا
شیرنی کے قریب آئے تو چیر پھاڑ ڈالے گی ۔۔۔۔تم جیسے کتوں کی اوقات یہی میرے قدموں میں ہے۔۔۔ سمجھا ۔۔۔۔ایا بڑا تھا میرے بیر کی جگہ لینے ۔۔۔۔اس نے منہ بناتے کہا علی نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا اور ایک دم اٹھتے شدت سے اسکے جبڑے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا
مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمھیں اپنا وہ روپ دیکھاؤ جو دوسروں کے لئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سرخ آنکھیں لئے اسکے منہ پہ دھاڑا تو بیرہ نے زور دار قہقہہ لگایا
ہاہا ہاہاہاہاہا سیریسلی نہیں علی سیریسلی مطلب کہ تم انڈرورلڈ کا بادشاہ کہتے ہو خود کو رائٹ ؟؟؟؟ لیکن انڈرورلڈ جیسا دماغ کیوں نہیں تمھارے پاس ہاں۔
کہا مطلب ؟؟؟؟؟
ارے میری جان یہی کہ کسی بھی وقت میرا شوہر اور میرے بھائی یہاں اتے ہونگے تم نے ایسے ہی اتنا تکلف کیا مجھے کڈنیپ کرنے کا ۔۔۔۔ اس نے رسی کو اپنے نوکیلے بریسلیٹ سے کاٹتے اس سے ہنس کر کہا اور یہاں وہاں دیکھا اسکے پیچھے کتوں کی غرراہٹ تھی وہ سخت چیز ایک مگرمچھ کا بچہ تھا
انہی کا ہی انتظار ہے بندوبست کر رکھا ہے میں نے سب کا ۔۔۔پچھلی بار تو میں ان لوگوں کو نقصان نہیں پہچانا چاہ رہا تھا کیونکہ تمھیں درد میں نہیں دیکھ سکتا لیکن اس بار جو تمارے اور میرے بیچ آئیگا وہ بہت پچھائے گا۔۔۔۔. علی نے زہریلی مسکراہٹ سے کہا تو بیرہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
اوہہ سویٹ ڈش تم پریشان نہ ہو تمھیں تو بتاؤ گا نہ کہ کیا بندوبست کیا ہے ۔۔۔۔ باہر میرے ہتھیاروں سے لیس آدمی موجود ہیں۔۔۔۔ اگر وہاں سے بچ کر وہ اندر آئیں گے تو وہ دیکھو وہاں جو زمین ہے غور سے دیکھو نہ جند میری ۔۔.اچھا تمھیں ڈیمو دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔ علی نے کہ بیرہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جب علی نے وہاں ایک بال پھینکی تو وہاں سے آگ کا لاوا نکلنے لگا
بہت آرام دہ موت دونگا انکو قسم سے اگر وہاں سے بچ گئے تو ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں بچے گے۔۔۔۔ وہ غصے سے بولا خود کو سنجیدہ رکھتے وہ علی کو دیکھنے لگی جو اسکو ہی دیکھ رہا تھا
بہت خوب اپنی موت کا انتظام بہت عمدہ کیا ہے تم نے ۔۔۔. وہ مسکائی۔۔. علی نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا
تم کیا سوچ رہی ہوگی کہ وہ لوگ ونڈوز سے آجائیں گے لیکن ایک مزے کی بات بتاؤں یہاں اندر انے کا صرف ایک ہی راستہ ہے ۔۔۔۔ وہ قہقہ لگاتے بولا بیرہ نے کوفت سے اسے دیکھا
قہقہ لگاتے کسی شیطان سے کم نہیں لگ رہے ۔۔۔ بیرہ نے پاوں سے سانپ جھٹکتے کہا علی سنجیدہ ہوا اور اسکی گردن سے بچھو ہٹانے کے بہانے اسکی خوشبو خود میں بسانے لگا۔۔۔۔۔۔ دیوار ہلنے لگی اور ایک دم ساری کی ساری دیوار زمین بوس ہوئی۔۔۔ بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس ٹریکٹر پر بیٹھی عینا اور اسکے ساتھ ہی داحی نظر آیا
سالے میری جانی کو چھوئے گا ۔۔۔۔ علی پہ چمپ کرتے وہ غررائی علی نے پیچھے ہوا اور ایک کرارا تھپڑ عینا کے منہ پہ مارا تھپڑ اتنی شدت کا تھا کہ وہ زمین بوس ہوئی اسکو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا داحی نے ہوا میں اچھلتے ایک پاؤن اسکے منہ اور دوسرا اسکے سینے پہ مارا غلی پیچھے ہوا بیرہ نے سیٹی بجائی عینا منہ پہ ہاتھ رکھتے کھڑی ہوئ
ٹھیک ہو۔۔۔..اسکے گال پہ کس کرنے لگی لیکن انگلیوں کے نشانات دیکھ اسکا میٹر گھوم گیا
علی نے آگے بڑھتے ایک زور دار پنچ داحی کی ناک پہ مارا وہاں سے خون بہنے لگا اور داحی کے ہاتھ کو جھٹکے سے موڑا کہ کرچ کہ آواز سے داحی کا بازو ٹوٹ چکا تھا داحی نے بمشکل اپنی چیخ روکی
بیرہ نے بند آنکھوں سے ہاتھوں کی رسی کولنے کی کوشش جاری رکھی داحی کی سسکی اسکا دل چیر گئی عینا نے آگے بڑھ کر علی مکہ مارنا چاہا لیکن علی نے اسکے ہاتھ کو موڑ کر اگ کی طرف دکھا دیا
اس سے پہلے وہ گرتی دانی اور نومی نے اسے پکڑا علی نے داحی کے سر کو پلر میں مارتے سرخ گرے آنکھوں لیے پیچھے مڑا داحی ہواس کھوتے زمین پہ گرا
داحی...... عینا کی دردناک چیخ گونجی وہ بھاگ کر داحی کے پاس آئی جو بے سدھ پڑا تھا سر سے پانی کی طرح بہتا خون ۔۔۔۔ وہ علی کو مارنے کے لئے تیش سے بھاگی ۔۔۔ علی نے نیچے جھک کر اسکے پاؤں پکڑ کر گھماتے دور پھینکا وہ دیوار میں نصب کیلوں میں جا بجی کیل اسکے جسم میں پپوست ہوئے اس نے تکلیف سے داحی کو آخری نظر دیکھا اور اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا
وہ سب اندر آچکے تھے سوائے بیر اور بازان کے وہ باہر کے آدمیوں سے نپٹ رہے تھے
بیرہ کی بند آنکھوں سے آنسو نکلا اسکے لئے یہ منظر یہ چیخ کسی قیامت سے کم نہ تھا اس دانی اور نومی کو اپنے مکوں سے سجا دیا عالم اور سارب نے آسکے ہاتھ پکڑتے پیچھے کھینچا لیکن دانی اور نومی دونوں ہی بے ہوش ہوچکے تھے کیونکہ علی نے مسلسل انکے سر پر وار کہے تھے
کمینے تو ۔۔۔۔. سارب نے ایک مکہ علی کی گال پہ مارا آسکا ہونٹ پھٹا اور خون رسنے لگا اس نے غصے سائیڈ پہ پڑی شراب کی بوتل اٹھائی اور شان کے سر پر دے ماری سب کا حال وہ بہت برا کر چکا تھا شاید اس بار قسمت آفندیز کا ساتھ نہیں دے پارہی تھی سب پہ فتح پانے والے آفندیز یوں بے جان پڑے تھے
تمہارے آخری بھائی اور اس کمینے کو جنت پہنچا کر آتا ہو سویٹ ڈش تم میرا ویٹ کرنا اوکے ۔۔۔ اسکی کلائیوں پہ لب رکھتے کہا جہاں سے خون بہہ رہا تھا بیرہ نے ہاتھ جھٹکے
بھائی۔۔۔۔ علی باہر کو گیا تو بیرہ کی درد بھری سرگوشی نکلی ان سب کے اس حال کی وہ زمیدار تھی کاش وہ ٹریسر نہ لگاتی تو اب اسکے بھائی اس حال میں نہ ہوتے
اس نے زور سے رسی کھینچی اور رسی کچھ چاقو سے کاٹنے اور زور سے کھینچے جانے پہ ٹوٹ گئی
آج یا تم نہیں یا بیرہ آفندی نہیں ۔۔۔ وہ زخمی شیرنی بنی باہر کی طرف بھاگی جہاں گولیوں کی آوازیں آرہی تھی
دل کی ضد نے ہی سکھایا ہے قلندر ہونا
ورنہ دشوار تھا قطرے کا سمندر ہونا
رونا چاہا بھی کسی غم پہ تو آنسو نہ گرے
تھا تعجب کا سبب آنکھ کا بنجر ہونا
اس نے تدبیر مٹانے کی بہت کی #زخمی
میری تقدیر میں لکھا تھا سکندر ہونا
🔥🔥🔥🔥
۔۔۔۔ تم سے تو میں نپٹو گا ۔۔۔علی نے باہر آیا بازان نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا
سسس۔۔۔ بیر جو علی کو دیکھ رہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اسکے کندھے پہ چاقو سے وار کیا وہ درد کچھ پل تو ہل ہی نہ سکا
پیٹ پہ وار کرنے والے نہیں پسند مجھے ۔۔۔وہ ادمی دوبارہ اس پر وار کرتا کہ بیر نے پیچھے مڑ کر اسکا وہی ہاتھ پکڑا جس میں چاقو تھا اور اسی کی شہ رگ کاٹ دی وہ نیچے گر کر تڑپنے لگا
علی نے بازان کو پنچ مارنا چاہا بازان نے اسکا وہی ہاتھ پکڑا اور نیچے سے گھٹنہ اٹھا کر اسکے بازو میں دے مارا علی نے ضبط سے سرخ ہوتے چہرے سے ٹانگ گھما بازان کے سینے پہ ماری وہ دونوں گھتم گھتتا ہوئے ایک شیر تھا تو دوسرا سوا سیر
وہ جو آدمیوں کی فوج سے لڑ رہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اسکو انجیکشن انجیکٹ کرنا چاہا لیکن اسکا ہاتھ ہوا میں متعلق ہوا منہ پہ مکا اور سینے پہ زور دار ہیل لگنے سے وہ پیچھے جا گرا ۔۔۔۔ بازان جو علی کے اوپر ہوتے اسکے چہرے کو مکوں سے سجا رہا تھا بیرہ کو دیکھنے لگا موقع کا فائدہ اٹھاتے علی نے اسے پیچھے پھینکا اور اس پر گن تانی
سویٹ ڈش اگر ایک قدم بھی اور اس کمینے کی طرف بڑھایا تو تمہارے اس جان سے پیارے بھائی کو اوپر پہنچانے میں زرا سی دیری نہیں کرونگا۔۔۔۔۔بیرہ کو بیر کے گلے لگتے دیکھ وہ بازان کے دل کا نشانہ باندھتے چیخا بیری رکی
ہمھیں مارنے کے لئے تجھے ہمارے جیسا ہونا پڑے گا ۔۔۔۔۔ بازان نے جھٹکے سے اسکے گن والے ہاتھ پہ پاؤں مارتے کہا اور بیر علی پہ بھوکے شیر کی طرح جھپٹا اور اپنی اپنی نفرت میں جھلستے ایک دوسرے کو بری طرح پیٹ رہے تھے علی نے بیر کو دکھا دیتے اسکے گولی لگے کندھے پہ ٹانگ ماری بیر درد ضبط کرتے گھوما اور اسے موقع دئے بنا ایک کے بعد ایک پنچ اسکے منہ پہ مارنے لگا اتنا کہ اسکے منہ سے خون رسنے لگا۔۔۔۔۔ اسکا منہ کا نقشہ بگاڑتے وہ پیچھے ہوا
بھائی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا گڑیا۔۔۔۔۔ بیرہ کی نم آواز پہ بازان نے اسے خود میں بھینچا اسکے سر پہ لب رکھتے وہ پیار سے بولا
اور آدمی آرہیں ہیں ۔۔۔۔پری نے وہاں آتے کہا بیر نے سنجیدگی سے بازان کو دیکھا وہ آدمی گفا کے اندر آئے لیکن رکے کیونکہ انکا باس بیرہ کے رحم و کرم پر تھا اور وہی اشارہ کر رہا تھا انہیں رکنے کا وہ مغرور بادشاہ آج اپنے ہی عشق کے ہاتھوں مرنے چلا تھا بیرہ نے ایک نظر بیر کو دیکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اس نے چاقو علی کے پیٹ میں گھسایا
علی کے منہ سے خون نکلا درد سے چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہوا لیکن اسکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی گہری مسکراہٹ اسکی نظریں بیرہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی جیسے آخری بار وہ اس چہرے کو اپنے دل و دماغ میں حفظ کر لینا چاہ رہا تھا تاکہ مرنے کے بعد بھی وہ کبھی اسے نہ بھول سکے
ہم آفندیز جس سے محبت کرتے ہیں اسے سر آنکھوں پہ بیٹھایا کرتے ہیں اور دشمنی میں سب کو انکے اصل مقام یعنی قبرستان میں پہنچا دیتے ہیں یوں ہی نہیں ڈرتا زمانہ آفندیز کے نام سے۔۔۔۔بازان نے اسکو تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے کہا لیکن وہ تو بسس بیرہ کے تاثرات دیکھ ریا تھا اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے وہ گولی نہیں چلا پارہی تھی
تم میری نہیں ہوسکتی اور میں تمھیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا میں زندہ رہا تو روز تمھیں تکلیف دونگا ۔۔۔۔تم م۔۔میری زندگی ہو۔۔ تمھاری بنا میں جی نہیں سکتا تو کیوں نہ اپنی ہی زندگی کے ہاتھوں میں اس ظالم دنیا سے کوچ کرجاؤ۔۔۔۔۔ اس نے مسکرا کر اسے دیکھا اسکے نازک ہاتھوں میں گن کو دیکھ وہ اسکے ہاتھ تھام گیا اور ٹریگر پہ اسکی انگلی پہ اپنی انگلی رکھی بیر نے غصہ سے اسے دیکھا اور اسکی طرف بڑھا
میں بہت خوش قسمت ہوں جو میں تم سے ملا ۔۔۔اور تمہارے ہی ہاتھوں میں آج اس فانی دنیا سے بہت دور چلا جاؤں گا۔۔۔ میں نے سنا تھا جنون جب حد سے بڑھ جائے تو موت واقع ہونا لازم و ملزوم ہوجاتا ہے ۔۔۔آج وہ وقت مجھ پر آن پہنچا ہے ۔۔۔۔. وہ کرب بھرے لہجے میں بولا اسکی گرے آنکھیں خون اترا ہوا تھا
❖ ❤️── ❤️✦ ──『✙』── ✦❤️ ── ❤️❖
💕سنوں_____!!!!! #جان💕💕
💕کھونا اور پانا #محبت نہیں ہوتا__!!!!💕💕
💕محبت تو #آدب ہے______!!!!!💕💕
💕لحاظ ہوتا ہے______!!!!💕💕
💕ایک دوسرے کی #پکار پہ لبیک ہوتا ہے__!!!💕💕
💕محبت تو #احساس ہوتا ہے____!!!!💕💕
💕جس سے ہوجائے بس وہی سب سے خاص ہوتا ہے💕
❖❤️ ── ❤️✦ ──『✙』── ✦❤️ ── ❤️❖
بیر نے اسکے ہاتھ ہٹانا چاہے لیکن علی نے الٹے ہاتھ سے اسکا گلا پکڑا اور غضب ناک تیوروں سے گھورنے لگا
اگر میری سویٹ ڈش کو کبھی کچھ ہوا نہ تو تم زندہ نہیں رہو گے شکل سے تو کمینے لگتے ہو لیکن اگر اپنی کمینگی بیرہ کو دیکھائی تو ۔۔۔۔. اس نے اتنا کہتے اسے پرے دکھیلا اور بیرہ کی انگلی پہ دباؤ بڑھاتے ٹریگر دبا دیا
🔖
*جہاں باتیں #دلوں کو #زخمی کرنے لگ جائیں....*
*وہاں باتیں #ختم کر دینی چاہئے....*
علی۔۔۔۔. گولی کی آواز کے ساتھ بیرہ کی چیخ نکلی نجانے کیوں ۔۔۔؟؟؟شاید وہ دل سے اسے اپنا دوست مان چکی تھی وہ رونے لگی اتنا کہ روتے روتے اسکی سسکی بندھ گئی بیر نے اسکے گرد حصار بنایا
پری ایک جانب کھڑی رو رہی تھی جیسا بھی تھا وہ اسکا باس تھا جس نے اسے اتنا بڑا کیا تھا اسکی یوں اس طرح موت ۔۔. وہ اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتی روتی چلی گئی
بازان نے دیکھا وہ سب آدمی گھٹنوں پہ بیٹھے تھے سب کے سر جھکے ہوئے تھے اور آنکھیں نم تھی کیونکہ علی خانزادہ کو انکو بہت عزیز تھا لیکن اب بیرہ ہی اب انڈرورلڈ کی پرنسسز تھی وہ اسکے احترام میں جھکے تھے
علی نے پہلے ہی ایک میٹنگ میں سب واضح کردیا تھا اپنی ساری پراپرٹی ساری کمپنیز ،سارا بینک بیلنس وہ بیرہ کے نام کرچکا تھا شاید اسے معلوم تھا اپنا انجام ۔۔۔.
بیرہ ہوش کھوتے اسکی بانہوں میں جھول گئی۔۔۔ بیر نے اسکو اپنی گود میں اٹھائے باہر کی طرف قدم بڑھائے بازان نے پری کو انکے پیچھے جانے کا اشارہ کیا لیکن وہ رکا
عالم عینا وغیرہ کہان ہیں ؟؟؟
وہ سب ہوسپیٹل میں ہیں ۔۔۔۔ پری نے بتایا بازان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو پری نے بتایا کہ کیسے علی نے انکی حالت کردی اور کیسے وہ بیرہ کے جانے کے بعد انکو وہاں سے ہوسپیٹل لے گئی
اوکے بچے بہت بہادر ہو تم۔۔ وہ نرم لہجے میں بولا اور علی کو ان آدمیوں کی مدد سے اٹھاتے تدفین کے لئے لے جایا گیا
#محبت چیز ایسی ہے . ❣️
#کبھی ہوتی ہے اپنوں سے . ❣️
#کبھی ہوتی ہے سپنوں سے . ❣️
#کبھی انجان راہوں سے . ❣️
#کبھی گمنام ناموں سے . ❣️
♥️♥️♥️
#محبت چیز ایسی ہے . ❣️
#کبھی ہوتی ہے پھولوں سے . ❣️
#کبھی بچپن کے جھولوں سے . ❣️
#کبھی بے اِخْتِیاری میں . ❣️
#کبھی پکے اصولوں سے . ❣️
♥️♥️♥️
#محبت اک محبت ہے . ❣️
#محبت اک صداقت ہے . ❣️
#محبت اک عبادت ہے . ❣️
#محبت چیز ایسی ہے ., ❣️
♥️♥️♥️
#دکھوں میں رول دیتی ہے ، ❣️
#درد انمول دیتی ہے ، ❣️
#زہر بھی گھول دیتی ہے . ❣️
#محبت چیز ایسی ہے . . . ! ❣️
😍😊😊🦋
🔥🔥🔥🔥🔥
آج تین ہفتے بعد ان سبکو ہوش أیا تھا ان سب نے اٹھتے ہی بیرہ کا پوچھا تھا تو بازان نے انہیں سب بتایا کہ علی مرچکا ہے اور بیرہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔۔عاشی وغیرہ کو بسس اتنا بتایا گیا تھا کہ ان سب کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے
نہیں ایک بات بتاؤ تم سب نے ہمھیں اکیلا چھوڑ کر اوپر جانے کی تیاری تو نہیں کرلی تھی جو تین ہفتے بعد ہوش میں آئے ہو ۔۔؟؟؟ وہ سب اس وقت آفندیز مینشن میں موجود تھے جیا نے ان سب کو دیکھتے پوچھا اب بھلا کہاں اس سے خاموش رہا جاتا تھا
ہمھیں پتہ نہیں تھا کہ بھابی ہمھیں مسس کر رہی ہیں ورنہ بھوت بن کر آپکے سامنے آجاتے لیکن پھر بھی آپ نے ہی بھوت بھوت چلا کہ بھاگنا تھا۔۔۔۔ دانی نے ٹکا سا جواب دیا بدلے میں اس نے صرف دانت دیکھانے پہ اکتفا کیا حقیقت ہی تو تھا وہ جن بھوتوں سے بہت ڈرتی تھی
ویسے کمال نہیں کر دیا آپ لوگوں نے لوگ نکاح کے بعد گفٹ دیتے ہیں اور ہمارے شوہروں نے ہمھیں تحفے میں اپنی خاموشی اور درد دیا ہے ۔۔۔.۔ سارہ نے شان کے زخموں سے چور وجود کو دیکھتے شکوہ کیا
آئے ہائے بھابی تو رومینس کے موڈ میں لگ رہی ہیں ۔۔. عینا نے کہاں باز آنا تھا ہوگئی شروع پری کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے وہ ہنسی سارہ نے اسے گھورا باقی سب نے مسکراہٹ دبائی
ویسے اپس کی بات بتاؤ تمھاری کھینچی جیسی چلتی زبان کو میں نے بہت مسس کیا ہے ۔۔۔۔.جینی نے عزت بےعزت دونوں مکس کرتے کہا تو سبکا قہقہ گونجا سارب نے منہ کھول کر اسے دیکھا
سنو تم اس بلی کے ساتھ کم رہا کرو تمھیں بھی اپنے جیسا بنا دیگی ۔۔۔سارب نے عینا کے بال کھینچتے کہا عینا نے اسکے ہاتھ پہ تھپڑ مارا اور خفگی سے داحی کو دیکھا جو محبت پاش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
لعنت ہے کمینے انسان ۔۔۔ اسکی گالی پہ سب لڑکیوں کا منہ کھلا بازان وغیرہ نے مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھا ۔۔ بجائے اپنے بھائی کو روکنے کے ۔۔ کہ میری بیوی کو تنگ مت کرو تم مجھے یوں محبت بھری نظروں سے گھورے جارہے ہو۔۔۔۔ وہ غصے سے نتھے پھلائے بولی داحی بھوکھلایا
یار کیوں میری عزت کا جنازہ نکالتے ہو۔۔نہ کرو اپنی ماں کو تنگ ۔۔۔۔ داحی نے ہاتھ جوڑتے مظلومیت سے کہا
ماں کسکو بولا بے یہ تو بلی ہے ۔۔۔. سعد نے اسکے کندھے پہ مکا جڑتے کہا
مجھے بھی کوئی شوک نہیں تم جیسے نالائقوں کی ماں بننے کا۔۔۔ عینا نے منہ بناتے کہا۔
ہاں جیسے تمہارے بچے تو بڑے زیین و فتین ہونگے نہ ۔۔۔ نومی نے جل کر کہا
میرے بچے سب سے ہوشیار اور ہونہار ہونگے ۔۔۔دانی نے سینہ چوڑا کرتے کہا
ہاں پہلے اپنی شادی تو کروا بچے کیا اوپر سے گرتے ہیں ؟؟؟ شادی ہوئی نہیں آیا بڑا میلے بچے بلے ہونہال ہونگے ۔ہنہہہہ. ۔۔۔۔ اسکی نکل اتارتے عینا نے اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ جیا کلہاڑی ہی مار دی دانی کا چوڑا سینہ شرم سے اندر کو دھنسا
ویسے اپنی سٹوری کا اینڈ ہونے لگا اور رائٹر کو دانی اور نومی کا خیال ہی نہیں آیا ۔۔۔. جیا نے کہا
ہاں دیکھو رائٹر ظالم بنی بیٹھی ہے اسکو بولو اللہ کا واسطہ اب تو سنگل سے منگل کردے .۔۔۔. اس نے مظلوم بنتے دہائی دی
نہیں وہ سوچ رہیں ہونگی کہ دانی جتنا ٹھرک باز ہے اسکی بیوی کوئی ہٹلر ٹائپ کی ہونی چاہیے نہ ۔.۔۔ جینی نے کہا دانی کا منہ کھلا
ہٹلر ہی سہی دے تو سہی ورنہ ایسے تو یہ ظالم دنیا مجھے تل کے مچھلی کی طرح کھا جائے گی ۔۔۔۔
دانی ہر مچھلی کھانے کی نہیں ہوتی۔۔۔عاشی نے شریر لہجے میں کہا دانی نے صدمے سے منہ کھولتے اسے دیکھا مطلب اتنا گیا گزرا ہے وہ
پھر کیا ہوگئے نئی بہس شروع وہ سب ہی ایک دوسرے میں لگے تھے بیرہ ان سب کے درمیان خاموش بیٹھی ان سبکو ہنستے لڑتے دیکھ رہی تھی
نجانے کیوں لیکن وہ خود کو خود ہی یہاں مس فٹ محسوس کر رہی تھی وہ پانی کا بہانہ کرتے وہاں سے اٹھی اور باہر گارڈن میں آئی جہاں بیر نے اسکے لیے ہر طرح کے پھول موجود تھے۔ بیر نے اسکی پسندیدہ ایک چھوٹی سی جھیل بھی بنوائی تھی ۔۔۔ وہ گارڈن سارا درختوں سے چھپا تھا صرف گیٹ سے اندر آنے والا شخص دیکھ سکتا تھا کہ گارڈن میں کون ہے
وہ جھیل میں پاؤں لٹکائے بیٹھی کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی جسے سوچ کبھی وہ اذیت سے مسکراتی تو کبھی رونے لگتی
بیری ۔۔۔۔۔ بیر اسکو وہاں دیکھ اسکی طرف ایا لیکن اسکو روتے دیکھ وہ پریشان ہوا اسکے پاس بیٹھتے اسے پکارا تو بیرہ اسکے گلے لگی وہ سب ََ بھی اسکو ڈھونڈتے وہاں پہنچے لیکن اسکے روتے دیکھ رکے
اگر اس بیر نے کچھ کیا ہے تو گیا یہ آج۔۔۔عالم نے بڑنڑاتے آگے بڑھنا چاہا لیکن بازان نے اسے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا وجہ کچھ اور ہے وہ کافی دن سے ان لوگوں سے کھینچی کھینچی سی رہنے لگی تھی وہ جاننا چاہتا تھا آخر وجہ کیا ہے ۔۔۔.
بیری میری جان رو مت بتاؤ اپنے دراک کو کیا ہوا میرے بچے کو یوں اس طرح کیوں رو رہا ہے ؟؟؟؟ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے وہ بےبسی سے پوچھنے لگا بیرہ نے سرخ نیلی آنکھوں کھول کر اسے دیکھا اسکی آنکھیں سرخ دیکھ بیر کا دل چھلنی ہوا
کیا ہوا ہے بیری ۔۔؟؟؟ اسکی آنکھوں پہ لب رکھتے وہ نرم سے لہجے میں گویا ہوا
بیر مجھے نہیں رہنا یہاں ہم تمہارے گھر شفٹ ہوجاتے ہیں ۔۔۔رونے سے بھاری ہوتی آواز سے وہ اسکے ساتھ لگی بولی ان سبکا وجود تو سکتے میں آیا ایسا کیا ہوا کہ انکی گڑیا اب سے دور جانا چاہتی تھی بیر شاک ہوا
کسی نے کچھ کہا ہے میری بیری کو؟؟؟؟
نہیں ۔۔۔
تو کیوں جانا ہے یہاں سے میری جان تمھارے بھائی وہ تمھارے بغیر نہیں رہ سکتے تمھاری بھابیاں بھی تمھاری دیوانی ہیں جانے نہیں دینگی۔۔۔۔۔ وہ اسکے بال سہلاتے بولا بیرہ کے رکے آنسو پھر سے بہہ نکلے
جان ہوا کیا ہے سہی سہی بتاؤ. ۔؟؟؟
ان سب کی اپنی لائف ہے مجھے لگتا ہے میں ان سب کے بیچ آرہی ہوں انکی لائف میں میری اپمورٹینس ختم ہوگئی ہے میں بات کرو تو کرتے ہیں ورنہ نہیں ۔۔۔ ان سبکے دل کو کچھ ہوا
بیری انکی اپنی لائف ہے اب وہ ہر وقت تمھارے ساتھ تو نہیں رہ سکتے نہ۔۔۔۔۔
وہی تو بیر وہ اپنی زندگیوں میں خوش ہیں اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے لیکن اب انکو میری نہیں ضرورت ۔۔۔
ایسا نہیں ہے بیری تمہارے بھائیوں جیسے بھائی تو نصیب والوں کو ملتے ہیں بچپن سے انہوں نے تمھیں اپنے بچے کی طرح سنبھالا ہے اگر ابھی وہ تھوڑا سا بزی ہیں تو اسکا یہ مطلب تو ہرگز نہیں نہ کہ انکو تمھاری ضرورت نہیں وغیرہ وغیرہ یہ اپنے دماغ کا فتور ہے اور کچھ نہیں ۔۔. چلو اب موڈ سہی کرو ۔۔۔ وہ اسکو سمجھانے لگا اور اسکی پیشانی پہ لب رکھتے مسکرا کر کہا
بیر پلیز میں کباب میں ہڈی بننا نہیں چاہتی ۔۔۔ وہ روہاسنی ہوئی
گڑیا ۔۔۔۔. نومی نے اسے پکارا وہ آنسو صاف کرتے بیر سے الگ ہوئی اور مصنوعی مسکراہٹٹ ہونٹوں پہ سجاتے مڑی وہ سب ہی اسکی طرح آئے بازان نے اسے اپنے حصار میں لیا اتنا ہی تھا کہ وہ روتی اسکے سینے سے لگی بیر نے افسوس کے اسے دیکھا اوپر سے بہادر دکھنے والی بیرہ اپنے بھائیوں کے زرا سی لاپروائی پہ مرنے جیسی ہوجاتی تھی
گڑیا تم ہماری زندگیوں کا وہ حصہ ہو جسے ہم کبھی نہیں بھول سکتے ۔۔۔۔۔
ہم تمھیں مر کر بھی نظر انداز نہیں کرسکتے تم تو جان ہو اپنے بھائیوں کی ۔۔۔
سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم تمھیں خود سے دور جانے دینگے۔۔۔۔۔ وہ سب ہی شکوہ کرگئے
ہاں اور بھئی مجھے تو جوان جہان بیاہی بیٹی ملی ہے بھلا کیسے تم سے دور ہوسکتی ہوں؟؟؟ عینا نے اسکے گال چومتے کہا
ہاں اتنی پیاری نند جیسی بیٹی میں تو شان کو چھوڑ دوں لیکن تمھیں نہیں چھوڑو گی ۔۔۔۔سارہ نے عینا کو پیچھے کرتے کہا عینا نے اسے دکھا مارا جو سیدھا شان کے سینے میں جا بجی
پہلے قریب تو کرلو پھر چاہے دور ہوجانا ۔۔۔ وہ انکھ مارت معنی خیز لہجے میں بولی اور واپس بیرہ کے قریب جانے لگی کہ جیا نے پاوں آگے کیا اور عینا سیدھا جھیل کے اندر اس نے سر باہر نکالا تو اسکے سر پر ایک مینڈک بیٹھا تھا اسکو دیکھتے پتوں پہ اچلا سب نے قہقہ لگایا
بیچارہ مینڈک بھی اسکو دیکھ ڈر گیا ۔۔۔۔ عاشی نے ہنستے ہوئے کہا بیرہ ہنس ہنس کر دہری ہورہی تھی عینا نے ان سب کو گھورا پھر سارہ اور جینی کا ٹانگوں سے پکڑ کر جھیل میں پھینکا پری اور عانیہ دور ہونے لگی لیکن عینا سے بچنا ناممکن وہ اسے بھی کھینچ چکی تھی
آئے جنگلی بلیاں ملی ہیں ہمھیں تو۔۔.. عالم عانیہ کو دیکھتے بولا
اووو بھائی میرے والی معصوم تھی تمھاری والیوں نے بگاڑ دیا۔۔۔.سارب نے دکھ سے جینی کو دیکھتے کہا
میری والی تو معصوم ہونے کے ساتھ شرمیلی بھی تھی۔۔۔ سعد کا دکھ تو انوکھا تھا اور پری کو دیکھا جو عینا کو انکھ مار رہی تھی
ابھی یہ ایک دوسرے کی سنگت میں نجانے کیا کیا سیکھیں گی۔۔۔. ابرار نے جیا کو ہنستے دیکھ بیچارگی سے کہا
اللہ ہم معصوموں پہ رحم کرنا ابھی تو گڑیا کی سنگت میں رہیں گی ۔۔۔۔۔ شان نے سارہ کو دیکھتے کہا اور وہ سب ہی بیرہ کو دیکھنے لگے جو دانت دیکھا رہی تھی
اللہ دا واسطے گڑیا مار پیٹ نہ سیکھانا وہ تم نومی اور دانی کی بیویوں کے ساتھ کر لینا پلیززز پلیزززز. ۔۔۔۔. وہ سب ہی ہاتھ جوڑتے بولے بیرہ نے قہقہ لگایا
اووو بھئی مجھے کیوں پھنسا رہی ہو خود جھیلو اپنی بلیوں مطلب بھابیوں کو ۔۔۔۔ عاشی کے گھورنے پر نومی نے اپنا جملہ درست کیا
ہاں ابھی گھر بسا نہیں آگ لگانے والے پہلے ہی آگئے ۔۔.دانی نے جلے دل سے کہا تو وہ ہنسے
آپا میری شادی کا کیا؟؟؟ بیر نے سبکو اپنے میں لگے دیکھ عاشی سے پوچھا سب نے ہنسی روکتے اسے دیکھا
بیر اپ اپنی رخصتی کی تیاریاں شروع کریں ہم تو تیار ہیں برات لانے کو ۔۔۔. عینا نے دانت دیکھاتے کہا
میری رخصتی؟؟؟؟ بیر کا صدمے سے منہ کھلا اسکے تاثرات دیکھ ان سبکے قہقے فضا میں گونجے
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥❤
(تین سال بعد)
اوو ہیلو مس کب سے دیکھ رہا ہو تم دونوں ہمارے پیچھے آرہی ہو کیا مسئلہ ہے ؟؟؟ دانی اور نومی جب بھی کہیں جاتے وہ دونوں جڑوا بہنیں آنکھ پیچھے پائی جاتی تھی آج تنگ آکر نومی نے ان کے سامنے آتے پوچھا
آپکو برا لگا کوئی بات نہیں آیندہ سے اپ لوگ ہمارے پیچھے آجانا ۔۔۔۔ حرا نے آنکھیں مٹکا کر کہا نومی نے منہ کھولے اس لومڑی جیسی آنکھوں والی کو دیکھا تین سالہ شہر جو اسکی گود میں تھا اس نے نومی کا منہ بند کیا
اور ہم اپکے پیچھے کیوں ائے گے؟؟؟؟دانی نے سنجیدگی سے پوچھا
اس لئے کہ میری پسند ہیں اپ ۔۔۔۔ انہوں نے کہتے ساتھ گھٹنوں پہ بیٹھی اور گلاب کا پھول انکے سامنے کیا دانی نے حیرانی سے انہیں پھر نومی کو دیکھا اور مسکرا کہ پھول انکے ہاتھوں سے لئے وہ لڑکیاں انہیں کس کرتی ہنستی ہوئی وہاں سے بھاگی
اندھے تو تیا چاہیے.۔۔۔ ارمان نے توتلی زبان میں شہیر سے پوچھا
ڈو آنکھیں ۔۔۔ شہیر نے ہنستے ہوئے کہا دانہ اور نومی تو وہی دل پر ہاتھ رکھتے گرے خوشی ہی اتنی تھی ارمان نے دانی کا موبائل نکالتے بازان کو کال لگائی
ہیلو بابا دانہ ٹومی بےہوش ہودیا ہے توشی تے مالے (ہیلو بابا دانی نومی بےہوش ہوگیا ہے خوشی کے مارے).... ارمان نے کہا تو شہیر نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا
کونسی خوشی ؟؟؟ بازان نے حیرانی سے پوچھا
بابا ان تو للکیاں مل دئی ہیں (بابا انکو لڑکیاں مل گئی ہیں) شہیر نے کہا تو بازان نے قہقہ لگایا
پھر تو انکا بے ہوش ہونا بنتا ہے تم لوگ پریشان مت ہو میں گارڈز کو کال کرتا ہوں تمھیں اور دانہ اور ٹومی کو بھی اٹھا لائیں۔۔.۔. وہ مسکراہٹٹ روکتے بولا اور کال کٹ کی
انکو گھر لے آؤ ۔۔۔۔ گارڈ کو کہتے اس نے موبائل آف کرتے رکھا اور پھر سے ہنسنے لگا
کیا ہوا ہے کیوں ہنس رہے ہیں بھائی ؟؟؟ بیرہ نے اسکو ہنستے دیکھ اسکے پاس بیٹھتے پوچھا
گڑیا تمھاری چھوٹی بھابیاں مل چکی ہیں اور خوشی کے زیر اثر نومی اور دانی کو شدید جھٹکا لگنے سے وہ دونوں قومہ میں جاچکے ہیں ۔۔۔۔۔بازان نے ہنستے ہوئے کہا بات سمجھ میں آتے بیر بھی ہنسی اور ہنستی چلی گئی
🔥🔥🔥🔥🔥
وہ سب اپنی زندگیوں میں خوش تھے کیونکہ وہ سب ایک جٹ تھے کوئی بھی انکو توڑ نہیں سکتا تھا ان سبکی جان ایک دوسرے میں قید تھی ایک کو کچھ ہوتا تو دوسرا اسکی تکلیف پہ تڑپ اٹھتا تھا بہن بھائی کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے بھائی تو بہنوں کا مان ہوتے ہیں ہر بات کو بنا بتائے ہی سمجھ جاتے ہیں ہماری ہر خواہش کو سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں۔۔. وہ ایک دوسرے کی خوشی کے لئے جان تک دینے کو تیار تھے ۔۔۔۔
خدا سب کے بھائیوں کو سلامت رکھے آمین ثم آمین ❤❤
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
Asslaam o alikum to Aj mera dusra novel Apny ikhtatam k pohch Chuka ha is api pr sb mny long comment krny hein
Or inshaallah Jald new novel ky sath wapis Ao gii sneak pr response no Hai 😒😒😒