01/06/2024
جب اللہ آپ کو تیار کرتا ہے
اگر آپ کسی جگہ کام کرتے ہیں یعنی کسی فیکٹری کے ملازم ہیں، سکول کے ٹیچر ہیں، مدرسہ کے مُدَرِّس ہیں، کسی آفس میں ورکر ہیں یا زندگی کی کسی بھی فیلڈ میں کسی کی ماتحتی میں کام کر رہے ہیں اور کام کرنے میں آپ مجبور ہیں۔ نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے لیکن آپ وہاں سے کسی اور اچھی جگہ کوچ کرنا چاہتے ہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں میری صلاحیتیں خراب ہو رہی ہیں، میں موجودہ کام سے اچھا کام کر سکتا ہوں۔ میں کچھ نیا کرنے یا مزید بہتر کرنے کےلیے پیدا ہوا ہوں تو ایسے میں پتا ہے آپ کیا کریں؟
قرآن کریم کے اس جملے کو بار بار پڑھیں، یہ جملہ آپ کی کمر کا بوجھ اتار دے گا۔ آپ کے دل میں چھپے غم اور اُداسی کو ختم کر دے گا، آپ کی روح کو تازگی اور بالیدگی عطا کرے گا۔
اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ اے موسی!
وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى
میں نے تجھے خاص اپنے لیے تیار کیا ہے۔(سورت طہ:41)
یہاں اِصطَنَعَ کا لفظ ذکر کیا گیا ہےجو صنع سے بنا ہے۔ صنع کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو پراسس(Process) سے گزار کر بنانا۔ جیسے اردو میں پروڈکٹس کو مصنوعات کہا جاتا ہے کیونکہ انہیں پراسس سے گزار کر بنایا گیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت موسی کےلیے یہاں اختیار ،ا جتباء یا اصطفاء کا لفظ ذکر نہیں کیا جو قرآن میں دیگر مقامات پر موجود ہیں اور ان کا معنی ہوتا ہے کسی کو چن لینا۔
یہاں خاص اصطنع کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا سے لے کر انتہا تک ہم نے آپ کو تیار کیا کسی بڑے مقصد کےلیے ۔ جہاں جہاں جس چیز کی ضرورت پڑی، ہم نے وہ چیز مہیا کی۔ مستقبل میں لیڈر شپ دینے کےلیے ہم نے آپ کو مصائب کی چکی میں بھی ڈالا ہے۔ دریا کی موجوں کے حوالے بھی کیا ہے۔ ظالم بادشاہ کی گود میں بھی پالا ہے۔ صحرا میں تنہا بھی چھوڑا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ آپ کو بنانے کےلیے ہی تو کیا تھا نا موسی! بنانا بھی کسی اور کےلیے تو نہیں، اپنے لیے۔صرف اپنے لیے کہ تم میرے ہو۔
آپ بھی اپنی دعاؤں میں یہ بات شامل کر لیں کہ اے(حضرت) موسی کو بڑے مقصد کےلیے تیار کرنے والے اللہ!
جیسے آپ نے حضرت موسی کو اپنے لیے تیار کیا کہ جب تک چاہا فرعون کے محل میں رکھا اور جب چاہا کہ اب ان کو یہاں سے مدین کی طرف نکالنا چاہیے تاکہ یہ نبی کے داماد بنیں اور واپسی پر انہیں نبوت عطا ہو اور پھر اِسی فرعونی مملکت میں لیڈر بن کر داخل ہوں جس میں کچھ عرصہ پہلے صرف ایک لڑکے کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے تو آپ نے انہیں مصر سے مدین کی طرف نکالا۔
اے اللہ! میں بھی آپ کا ایک بندہ ہوں۔ جس جگہ میں کام کر رہا ہوں ، یہاں میری صلاحیتیں ماند پڑ رہی ہیں۔ لیکن میرے لیے نکلنے کی کوئی راہ بھی تو نہیں ہے۔ میں اِس سے اچھا کرنا چاہتا ہوں لیکن کیسے کروں؟؟ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔
دیکھو اللہ جی ! میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر رہا ہوں کہ آپ مجھے بنائیں۔ بس وعدہ کریں کہ آپ مجھے بنائیں گے ، مستقبل کےلیے تیار کریں گے۔ مجھے جہاں جہاں معاشی یا معاشرتی یا کسی اور مدد کی ضرورت ہوگی، آپ دیں گے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرے لیے اِسی جگہ پر کام کرنا بہتر ہے اور یہیں سے مستقبل میں بہترین مواقع پیدا ہوسکتے ہیں تو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نہیں! یہاں میرا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ ظاہری طور پر چند سال مزدوری کر کے کچھ پیسے کما لوں گا اور اپنا دنیاوی یا اخروی مستقبل برباد کر دوں گا تو پھر مجھے یہاں سے باہر نکالنا آپ کا کام ہے۔ بس مجھے نکالیے۔ میری صلاحیت، استعداد اور اسباب کو دیکھتے ہوئے تیار کیجیے۔
اگر بعد میں اس دعا کے بدولت حالات ایسے بن گئے کہ آپ کو مجبوراً اِدارہ چھوڑنا ہی پڑا تو اب گھبرانا نہیں ہے کہ میں نے دوسرے ماحول کےلیے تیاری ہی نہیں کی ہوئی ،کسی اور جگہ جا کر کیا کروں گا؟
لَا تَخافَا اِنَّنی مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَ اَریٰ
پریشان نہ ہوں ، یقین جانو میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں دیکھ بھی رہا ہوں۔( سورت طہ: 46)
یاد رکھنا! جب کوئی انسان اپنے بنانے کی ذمہ داری اللہ تعالی کو سونپ دیتا ہے ، تو پھر وہ ایسا بناتا ہے کہ دنیا رشک کرتی ہے کیونکہ
صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ
اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز بڑی مستحکم ہوتی ہے۔(سورت نمل:88)
محمد اکبر