Hamid ullah

Hamid ullah ہمیشہ مسکراتے ہوئے ملنے کی عادت اپنایں

25/04/2025
29/12/2024

اے مور درنہ خفہ او تہ جنت غواڑی
او حج خو دکعبی نہ بغیر نہ کیگی

13/08/2024

شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ۔استاد محترم حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب انتقال فرما گئے 😥😭 انا للہ وانا الیہ راجعون

 👇👇یہ بالز جو آج کل بازاروں میں بکے جاتے ھیں اور چھوٹے بڑے شوق سے خریدتے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ مسلمان...
05/08/2024

👇👇
یہ بالز جو آج کل بازاروں میں بکے جاتے ھیں اور چھوٹے بڑے شوق سے خریدتے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ مسلمان بچوں کے ھاتھوں میں تسبیح کی بجائے یہ چیز تما دی جاتی ھے لھذا اپنے بچوں کو اس سازش سے دور رکھیں ..

01/06/2024

جب اللہ آپ کو تیار کرتا ہے

اگر آپ کسی جگہ کام کرتے ہیں یعنی کسی فیکٹری کے ملازم ہیں، سکول کے ٹیچر ہیں، مدرسہ کے مُدَرِّس ہیں، کسی آفس میں ورکر ہیں یا زندگی کی کسی بھی فیلڈ میں کسی کی ماتحتی میں کام کر رہے ہیں اور کام کرنے میں آپ مجبور ہیں۔ نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے لیکن آپ وہاں سے کسی اور اچھی جگہ کوچ کرنا چاہتے ہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں میری صلاحیتیں خراب ہو رہی ہیں، میں موجودہ کام سے اچھا کام کر سکتا ہوں۔ میں کچھ نیا کرنے یا مزید بہتر کرنے کےلیے پیدا ہوا ہوں تو ایسے میں پتا ہے آپ کیا کریں؟

قرآن کریم کے اس جملے کو بار بار پڑھیں، یہ جملہ آپ کی کمر کا بوجھ اتار دے گا۔ آپ کے دل میں چھپے غم اور اُداسی کو ختم کر دے گا، آپ کی روح کو تازگی اور بالیدگی عطا کرے گا۔
اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ اے موسی!

وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى
میں نے تجھے خاص اپنے لیے تیار کیا ہے۔(سورت طہ:41)

یہاں اِصطَنَعَ کا لفظ ذکر کیا گیا ہےجو صنع سے بنا ہے۔ صنع کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو پراسس(Process) سے گزار کر بنانا۔ جیسے اردو میں پروڈکٹس کو مصنوعات کہا جاتا ہے کیونکہ انہیں پراسس سے گزار کر بنایا گیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت موسی کےلیے یہاں اختیار ،ا جتباء یا اصطفاء کا لفظ ذکر نہیں کیا جو قرآن میں دیگر مقامات پر موجود ہیں اور ان کا معنی ہوتا ہے کسی کو چن لینا۔

یہاں خاص اصطنع کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا سے لے کر انتہا تک ہم نے آپ کو تیار کیا کسی بڑے مقصد کےلیے ۔ جہاں جہاں جس چیز کی ضرورت پڑی، ہم نے وہ چیز مہیا کی۔ مستقبل میں لیڈر شپ دینے کےلیے ہم نے آپ کو مصائب کی چکی میں بھی ڈالا ہے۔ دریا کی موجوں کے حوالے بھی کیا ہے۔ ظالم بادشاہ کی گود میں بھی پالا ہے۔ صحرا میں تنہا بھی چھوڑا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ آپ کو بنانے کےلیے ہی تو کیا تھا نا موسی! بنانا بھی کسی اور کےلیے تو نہیں، اپنے لیے۔صرف اپنے لیے کہ تم میرے ہو۔

آپ بھی اپنی دعاؤں میں یہ بات شامل کر لیں کہ اے(حضرت) موسی کو بڑے مقصد کےلیے تیار کرنے والے اللہ!

جیسے آپ نے حضرت موسی کو اپنے لیے تیار کیا کہ جب تک چاہا فرعون کے محل میں رکھا اور جب چاہا کہ اب ان کو یہاں سے مدین کی طرف نکالنا چاہیے تاکہ یہ نبی کے داماد بنیں اور واپسی پر انہیں نبوت عطا ہو اور پھر اِسی فرعونی مملکت میں لیڈر بن کر داخل ہوں جس میں کچھ عرصہ پہلے صرف ایک لڑکے کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے تو آپ نے انہیں مصر سے مدین کی طرف نکالا۔

اے اللہ! میں بھی آپ کا ایک بندہ ہوں۔ جس جگہ میں کام کر رہا ہوں ، یہاں میری صلاحیتیں ماند پڑ رہی ہیں۔ لیکن میرے لیے نکلنے کی کوئی راہ بھی تو نہیں ہے۔ میں اِس سے اچھا کرنا چاہتا ہوں لیکن کیسے کروں؟؟ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔

دیکھو اللہ جی ! میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر رہا ہوں کہ آپ مجھے بنائیں۔ بس وعدہ کریں کہ آپ مجھے بنائیں گے ، مستقبل کےلیے تیار کریں گے۔ مجھے جہاں جہاں معاشی یا معاشرتی یا کسی اور مدد کی ضرورت ہوگی، آپ دیں گے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرے لیے اِسی جگہ پر کام کرنا بہتر ہے اور یہیں سے مستقبل میں بہترین مواقع پیدا ہوسکتے ہیں تو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نہیں! یہاں میرا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ ظاہری طور پر چند سال مزدوری کر کے کچھ پیسے کما لوں گا اور اپنا دنیاوی یا اخروی مستقبل برباد کر دوں گا تو پھر مجھے یہاں سے باہر نکالنا آپ کا کام ہے۔ بس مجھے نکالیے۔ میری صلاحیت، استعداد اور اسباب کو دیکھتے ہوئے تیار کیجیے۔

اگر بعد میں اس دعا کے بدولت حالات ایسے بن گئے کہ آپ کو مجبوراً اِدارہ چھوڑنا ہی پڑا تو اب گھبرانا نہیں ہے کہ میں نے دوسرے ماحول کےلیے تیاری ہی نہیں کی ہوئی ،کسی اور جگہ جا کر کیا کروں گا؟

لَا تَخافَا اِنَّنی مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَ اَریٰ
پریشان نہ ہوں ، یقین جانو میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں دیکھ بھی رہا ہوں۔( سورت طہ: 46)

یاد رکھنا! جب کوئی انسان اپنے بنانے کی ذمہ داری اللہ تعالی کو سونپ دیتا ہے ، تو پھر وہ ایسا بناتا ہے کہ دنیا رشک کرتی ہے کیونکہ

صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ
اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز بڑی مستحکم ہوتی ہے۔(سورت نمل:88)

محمد اکبر

12/04/2024

یہودی آئس کریم برانڈز iGLOO, Walls, Omoro کا بائیکاٹ کریں۔

پاکستانی آئس کریم برانڈ Hico خریدیں۔

05/04/2024

السلام علیکم محترم دوستوں اپنے استعمال کے لئے ایک سیوینٹی بائیک چاہئے دیر یا مردان میں کسی کے پاس ہو تو رابطہ کریں شکریہ۔ 03441233908

03/04/2024

آج کے دور کا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ "وقت نہیں ملتا"۔ ہر ہر کام مشینیں کر رہی ہیں لیکن پھر بھی ہم فراغت ہی نہیں پاتے۔ کہاں جا رہا ہے سارا وقت؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ صحت اور فراغت وہ دو نعمتیں ہیں جنہیں سب سے بڑھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔" کیسی مکمل نصیحت ہے۔ انہی سب چیزوں کی ہم ناقدری کرتے ہیں۔

سورة العصر میں وقت کی قسم کھا کر اللہ نے بتا دیا کہ انسان نقصان میں ہے ماسوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق اور ژبر کی تلقین کرنے والے۔ یعنی وقت ضائع کرنا محض خسارہ ہے۔ دنیا کا بھی، آخرت کا بھی۔۔ رات بھر جاگ کر موویز دیکھ کر، دن بھر سو کر، پارٹیز میں،شاپنگ۔۔۔ اللہ ہمیں بچا لیں ہر اس چیز سے جو ہمارا وقت کھا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کیسے بے تحاشا اپنے ساتھ جوڑ رکھتا ہے۔ ہمارا فوکس ان لایعنی چیزوں سے ہٹا کر اپنی طرف کر دیجیے مالک۔ ابراہیم علیہ السلام کو قرآن میں حنیف کہہ کر پکارا۔ حنیف یعنی جو مکمل یکسو ہے۔ اللہ ہمیں بھی یکسو کر دیں، اس طرف جو اس کی خوشنودی کا باعث بنے۔

روز قیامت پانچ سوالوں کے جواب دئے بغیر ابن آدم کے قدم ہلیں گے نہیں۔ ان میں پہلا سوال ٹائم مینیجمنٹ پر ہی ہے: اپنی عمر کو کس کام میں لگایا۔

اس سوال کے جواب کے لئے خود کو تیار تو کرنا ہو گا۔ خسارہ پانے والوں سے بچنے کے لئے، اچھا عمل کرنے والا بننے کے لئے، اپنا دن پروڈکٹو بنانے کے لئے کچھ تو کرنا ہو گا۔

۔ اپنے ہر ہر گھنٹے پر کڑی نظر رکھنی ہو گی کہ کہاں جا رہا ہے۔ آیا کچھ پروڈکٹو کیا یا بس ضائع ہو رہا ہے۔ خود کو بہت شدید مصروف کر لینا مقصود نہیں ہے، لیکن procrastination، سستی، وقت ضائع کرتے رہنا بھی مناسب نہیں۔

۔ دن کے آغاز میں ٹو ڈو لسٹ بنائی جائے اور ناپسندیدہ کام پہلے کر لئے جائیں۔ غیر ضروری کاموں کو لسٹ سے باہر نکال دیا جائے۔ تمام کام نماز کے اوقات کے مطابق پلان کیا جائے۔ ایک دم سے سبھی کچھ شروع کر دینا اور پھر تھک کے چھوڑ دینا مناسب نہیں۔ تھوڑا ہو، مستقل ہو۔

۔ زندگی کو سادہ کیا جائے۔ منی ملزم بہترین چیز ہے۔۔ گھر کی اشیا میں، کوکنگ کے لئے ڈشز کی تعداد میں، سوشلائز کرنے کے لیے دوستوں کی تعداد میں۔۔۔

۔ پرفیکشن دنیا کی چیز نہیں۔ اس حقیقت کو قبول کر لیں تو بھی کافی وقت بچنے کا امکان ہے۔

۔ گھر کے کاموں میں سب گھر والے بساط بھر شامل ہوں تو بھی سب کا وقت اور توانائی بچے گی اور بہتر جگہ استعمال ہو گی۔

اور ان کوششوں کے ساتھ مسنون دعا!
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ
اے الله! بے شک میں فکر اور غم، عاجزی اور سستی سے تیری پناہ چاہتا/چاہتی ہوں۔

یا اللہ! وقت بہت تیز بھاگ رہا ہے۔ ہاتھ سے ریت کی طرح نکلتا جاتا ہے۔ دن، مہینے، سال جانے کہاں جا رہے ہیں۔ ہمارے وقت میں برکت ڈال دیں۔ اپنے گنے چنے وقت کو اچھے کاموں میں لگانے والا بنا دیں۔ پروردگار، ہمیں کسی ایسی چیز کی تمنا میں نہ ڈالنا جو مقدر میں نہیں۔ ہم جہاں اپنا اختیار کھو بیٹھیں، آپ اپنے اخیتار اور رضا سے ہمارے لئے آسانی پیدا فرما دیں۔ ہمارا وقت، ہماری توجہ، ہماری کوشش کسی لاحاصل چیز یا شخص کی تمنا میں صرف نہ ہو۔ اللہ ہمیں اپنی پسند کے کاموں میں یکسو کر دیں۔ ہمیں ویسا بنا دیں جیسے آپ کو پسند ہیں۔ ہمیں وقت کی قدر کرنے والا بنائیں اس سے پہلے کہ موت آن لے۔

نیر تاباں

صرف 2 منٹ نکال کر اس حدیث مبارکہ کو پڑھ کر اور موجودہ حالات کا جائزہ خود لے لو ۔۔۔۔۔۔۔
03/04/2024

صرف 2 منٹ نکال کر اس حدیث مبارکہ کو پڑھ کر اور موجودہ حالات کا جائزہ خود لے لو ۔۔۔۔۔۔۔

21/03/2024

‏قریباً 5 ماہ پہلے میرے چچا پیٹ میں ایک معمولی زخم کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر کو کچھ شک ہوا اور کوئ خاص ٹسٹ تجویز کیا کچھ دن بعد ٹسٹ کا نتیجہ آیا تو گھر میں سب کے اوسان خطا ہو گئے۔ جی ہاں چچا جان کو کینسر جیسے موذی مرض لاحق ہو گیا تھا وہ بھی تیسرے درجے کا۔ بہرحال علاج کیلئے ہم شوکت خانم پشاور گئے، ٹسٹ کا رزلٹ دیکھ کر وہاں کے ڈاکٹروں نے علاج سے معذرت کر لی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ہماری پالیسی ہے کہ کینسر کے اس سٹیج میں ہم 40 سال سے کم عمر مریض کو داخلہ دیتے ہیں وگرنہ نہیں۔ ہم بھی کچھ کہے بنا وہاں سے نکل آئے کیونکہ چچا جان کی عمر ساٹھ کی دہائی کراس کر چکی تھی اور خیر سے لائف ٹائم شناختی کارڈ بھی بنا چکے ہیں۔ خیر گھر پر تو نہیں بیٹھ سکتے تھے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔پشاور میں کینسر کے سرکاری ہسپتال ارنم سے علاج شروع ہوا۔ اس دن یہ عقدہ بھی کھلا کہ گورنمنٹ واقعی ماں کے مانند ہوتی ہے بچہ کتنا ہی بگڑ جائے ماں قبول ہی کرتی ہے یہاں بھی مریض اور مرض کتنا ہی بگڑ جائے نہ نہیں ہوتی ۔ سو ہمیں بھی داخلہ مل گیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

اب سنیں کام کی بات جب علاج کا کچھ اثر نہ ہوا تو کچھ مہربان دوستوں نے دور پہاڑوں میں مقیم ایک حکیم کا بتایا جو کینسر کے مرض میں بے حد مشہور ہے پر جگہ تھی کافی دور۔ مہینہ رمضان کا چل رہا تھا ایک دن سحری کے فورا بعد اللہ کا نام لیکر ایک دوست کو ساتھ بٹھایا اور موٹر سائیکل پر کک ماری اور جب 11 بج رہے تھے تو ہم مردان سے چل کر شانگلہ مارتونگ میں واقع حکیم صاحب کے مطب میں پہنچ گئے۔ وہاں یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ہم کہ کتنے دور دور سے لوگ یہاں آئے ہیں علاج کیلئے اور اکثر نے تو رات بھی یہاں گذاری تھی کیونکہ مریضوں کے لئے دو بہترین قسم کے ہوٹل بھی اہل علاقہ نے بنائے ہیں جن میں انتہائ مناسب ریٹ پر مریضوں کو کمرے دستیاب ہوتے ہیں بہرحال ہم اپنی باری پر حکیم صاحب کے پاس گئے اور انکو مریض کے بارے میں بتایا انہوں نے ایک چھوٹی سی پڑی (الکہ پہ اردو کے ہم ورتہ پوڑے وئ کنہ ھاھا) پکڑائ اور کہا یہ سات دن کی دوائ ہے پرہیز کے ساتھ مریض کو دوائ دینی ہے اور سات دن کے بعد اگر آپ نے یا مریض نے کچھ بہتری محسوس کی تو دوبارہ آکر مزید چالیس دن کی دوا لیتے جائیے بصورت دیگر دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں ہم نے دریافت کیا کہ بہتری سے مطلب؟ فرمانے لگے یا تو ٹسٹ سے فرق آیا ہو گا اور یا مریض کی تکلیف وغیرہ میں کمی آئی ہو گی۔ ٹھیک ہے جی کہ کر ہم نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا ہمارا اصول ہے پہلی بار پیسے نہیں لیتے اگر آپ کے مریض کو فائدہ ہو تو آکر پوری دوائی قیمت کے ساتھ لے جاؤ نہیں تو یہ ہماری طرف سے ہدیہ۔۔ قصہ مختصر رات وہاں مقامی ساتھیوں کے ساتھ گذار کر صبح ہم واپس آئے اور چچا جان کو دوا شروع کرائی چوتھے دن ہی چچا جان نے واضح فرق محسوس کیا جسکا مطلب تھا کہ اب ہمیں پھر حکیم صاحب کے پاس پہنچنا پڑے گا یعنی وہ شاعر والی بات ہمیں بھی پیش آئی جس میں وہ بے چارہ ایک دریا عبور کرنے کے بعد دوسرے دریا میں پھر گر جاتا ہے بہرحال ایک بار پھر ہم مارتونگ پہنچ گئے (یہ ہے تو شانگلہ میں لیکن آپ اگر مردان والی سائد سے آرہے ہیں تو پھر بونیر کا راستہ آسان رہے گا ) اور بقایا چالیس دنوں کی دوا لیکر صرف چار ہزار فیس حکیم صاحب کو پکڑائی اور چلتے بنے اب صورتحال یہ ہے کہ تین دن پہلے چچا جان کا ڈاکٹر نے دوبارہ ٹسٹ کرایا اور نتیجہ بالکل صاف۔ جی ہاں کینسر کا نام و نشان نہیں۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے موت کا وقت اٹل ہے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا لیکن میری آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے جاننے والوں میں سے خدا ناخواستہ کوئی اس موذی مرض میں مبتلا ہو تو اسے ضرور اس حکیم کا مشورہ دے دیں۔ کیا پتہ آپ کی وجہ سے کسی کے چند دن آرام سے گذر جائیں۔ --
-------Address ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ
حکیم صاحب
03025525100
03453306552
03469835968
۔ ایڈریس تو انتہائی آسان ہے ضلع شانگلہ میں مارتونگ نام کا علاقہ ہے بس آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ مارتونگ والے حکیم کے پاس جانا ہے بس آپ پہنچ جائیں گے وہ انتھائ مشہور ہیں۔

دو راستے جاتے ہیں مارتونگ کی طرف ایک سوات کی طرف سے اور دوسرا مردان کی طرف سے آسان راستہ مردان والا ہے۔ آپ مردان سے بونیر براستہ رستم چلے جائیں اور بونیر پہنچ کر کسی سے بھی مارتونگ کے راستے کا پوچھ لینا پہنچ ہی جائیں گے بغیر کسی دشواری کے۔ مردان سے پانچ یا ساڑھے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں اور ہاں مریض کو ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
صدقہ جاریہ سمجھ کر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
شکریہ.

*[email protected]*
۔

19/03/2024

زمانہ طالب علمی کا بلکل آخری رات ہے اللہ تعالیٰ آگے زندگی میں دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

11/03/2024

ملکی پوزیشن میں صرف 198نمبر کم ہے ورنہ پوزیشن پکّا ہی میرا حق تھا

Address

Karachi

Telephone

+923441233908

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamid ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share