26/09/2025
غزہ کی ایک معصوم ابابیل کی صدا
غزہ کی خاک پر جب صبح ہوتی ہے تو رنگوں کے بجائے خوف کی سرگوشیاں کھلتی ہیں۔ اس سرزمین کی ہر سانس میں ایک قصہ چھپا ہے — قصہ گزرے دنوں کا، چھوٹے بچوں کے کھیل کا، ماؤں کی دعاؤں کا، اور وہ خاموش آنسو کا جو زخموں کے نیچے دب جاتا ہے۔ میں نے آج اسے ایک ابابیل کی آواز دے کر تصور کیا: معصوم، پتلا سا پرندہ جو اپنی چھوٹی سی چونچ میں امن کی کنکر لیے رکھتا ہے اور ظلم کی بستیوں پر اپنی صدائیں برسانا چاہتا ہے۔
یہ ابابیل کوئی جنگجو نہیں؛ وہ ایک گواہ ہے۔ اس کی آواز میں سوال ہے — "تم نے ہمیں کیوں روک رکھا ہے؟" — اور دعا بھی ہے — "اللہ، جو بچ جائے، اسے سلامت رکھ"۔ بچے جو کبھی ریت پر قلعے بناتے تھے، آج انہی ریت کے ڈھیر کے نیچے محفوظ جگہ تلاش کرتے ہیں۔ اس ابابیل کی پرواز ہلکی ہے مگر اس کا عزم گہرا: صرف ایک قطرہ رحمت بھی مل جائے تو یہی اس کی پیروی کے لیے کافی ہے۔ وہ کنکر نہیں پھینکتی تاخت و تاراج کے لیے؛ وہ کنکر نافرمانیِ ظلم کی نمائندگی ہیں — ایک یاد دہانی کہ ہر جبر کے خلاف ایک چھوٹی مگر مستقل آواز اٹھ سکتی ہے۔
غزہ کی معصوم ابابیل کی صدا میں انسانی کیفیت کے تین دروازے کھلتے ہیں: درد، امید اور پکار۔ درد، کیونکہ آنکھوں کے سامنے عزیزوں کا کھو جانا ایک ایسی حقیقت ہے جو لفظوں میں مکمل بیان نہیں ہو سکتی۔ امید، کیونکہ انسان کا دل اپنی نوعیت میں سرکش ہے — چاہے حالات کتنے ہی تلخ ہوں، ایک ماں اپنے بچے کو بری طرح سے کھانے کے لیے روٹی دلانے کا ارادہ نہیں چھوڑتی۔ پکار، کیونکہ یہ صدا دنیا سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ خاموشی توڑو، ہاتھ بڑھاؤ، اور انصاف کی آواز کو سنو۔
ایک معصوم ابابیل جب گاتی ہے تو اُس کی آواز ہمیں وہی سبق دیتی ہے جو پرانے قصّے دیتے ہیں: چھوٹا سا عمل بھی بڑے اثر کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک کپ پانی، ایک پیکیٹ خوراک، ایک محفوظ پناہ گاہ — یہ وہ کنکر ہیں جو زندگی بچا سکتے ہیں۔ اس آواز کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں انسانی طور پر بیدار کرتی ہے: ہمیں اپنی ہمدردی کو حرکت میں بدلنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔ غزہ کی سرزمین پر بچیوں اور لڑکوں کی مسکراہٹیں محض یادوں میں نہیں رہنی چاہئیں؛ وہ واپسی کی توقع رکھتی ہیں جو عمل سے ممکن ہے۔
میں اس ابابیل کو تصویر کرتی ہوں — پروں میں دھول، آنکھوں میں تھکن، مگر آواز میں وہی بچپن کی سچائی۔ وہ کہتی ہے: "ہمیں انسان نام دے دیا گیا