21/08/2026
📝 پوسٹ نمبر 18
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امت کی کمزوری کی اصل وجہ کیا ہے؟
آج مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں مشکلات کا شکار ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کمزور کیوں ہوئے؟
کیا ہماری کمی تعداد میں ہے؟ نہیں! مسلمان دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اصل مسئلہ ہماری دینی حالت اور باہمی کمزوری ہے۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ}
"آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی۔"
(سورۃ الأنفال: 46)
🔹 ہماری کمزوری کی چند بڑی وجوہات:
1️⃣ قرآن و سنت سے دوری
جب مسلمان اپنی زندگی کے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کی اصل طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ}
"اور جو شخص رحمان کے ذکر سے منہ موڑے، ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔"
(سورۃ الزخرف: 36)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت۔"
(موطأ امام مالک، کتاب القدر)
اس لیے امت کی حقیقی طاقت قرآن و سنت سے مضبوط تعلق میں ہے۔ جب ہم ان سے دور ہوں گے تو ہماری کمزوری بڑھتی جائے گی۔
2️⃣ آپس کا اختلاف اور تفرقہ
ہم معمولی اختلافات کو دشمنی بنا لیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے مضبوطی سے مل کر رہنے کا حکم دیا ہے:
{وَلَا تَفَرَّقُوا}
"اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
(آل عمران: 103)
3️⃣ دنیا کی محبت
جب دنیا کی محبت آخرت پر غالب آ جائے تو انسان حق کے لیے قربانی دینے سے گھبرانے لگتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کو اس کمزوری سے خبردار فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب دنیا کی محبت اور موت کا خوف مسلمانوں پر غالب ہو جائے گا۔
(سنن ابی داود: 4297)
4️⃣ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت
برائی دیکھ کر خاموش رہنا اور نیکی کی دعوت چھوڑ دینا بھی امت کی کمزوری کا سبب بنتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم: 49)
جب معاشرے میں برائی عام ہو جائے اور لوگ اسے دیکھ کر خاموش رہیں، تو یہ امت کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
البتہ برائی کو روکنے کا طریقہ حکمت، علم اور اپنی استطاعت کے مطابق ہونا چاہیے۔
⚠️ یاد رکھیں!
امت کی عزت صرف نعروں سے واپس نہیں آئے گی۔
اصلاح کا آغاز ہر شخص کو اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔
اپنا عقیدہ درست کریں، قرآن و سنت کو سمجھیں، نماز کی پابندی کریں، گناہوں سے بچیں، علم حاصل کریں اور مسلمانوں کے درمیان جائز دینی بھائی چارے کو مضبوط کریں۔
ہماری حالت اس وقت بدلے گی جب ہم خود بدلنے کی کوشش کریں گے۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ}
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔"
(سورۃ الرعد: 11)
🤲 اے اللہ! امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت پر جمع فرما، ہمارے دلوں سے نفرت اور تفرقہ دور فرما، ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
✍️ عبداللہ طالب العلم