Jalwa Afroz

Jalwa Afroz 🕋 قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاح کی ایک کوشش
📖 توحید و سنت کی دعوت
🤝 فرقہ واریت کا خاتمہ، اتحادِ امت کا فروغ
✍️ عبداللہ طالب العلم

📝 پوسٹ نمبر 18بسم اللہ الرحمٰن الرحیم امت کی کمزوری کی اصل وجہ کیا ہے؟آج مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں مشکلات کا شکار ہی...
21/08/2026

📝 پوسٹ نمبر 18

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

امت کی کمزوری کی اصل وجہ کیا ہے؟

آج مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں مشکلات کا شکار ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کمزور کیوں ہوئے؟

کیا ہماری کمی تعداد میں ہے؟ نہیں! مسلمان دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اصل مسئلہ ہماری دینی حالت اور باہمی کمزوری ہے۔

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ}
"آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی۔"
(سورۃ الأنفال: 46)

🔹 ہماری کمزوری کی چند بڑی وجوہات:

1️⃣ قرآن و سنت سے دوری
جب مسلمان اپنی زندگی کے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کی اصل طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ}
"اور جو شخص رحمان کے ذکر سے منہ موڑے، ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔"
(سورۃ الزخرف: 36)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت۔"
(موطأ امام مالک، کتاب القدر)

اس لیے امت کی حقیقی طاقت قرآن و سنت سے مضبوط تعلق میں ہے۔ جب ہم ان سے دور ہوں گے تو ہماری کمزوری بڑھتی جائے گی۔

2️⃣ آپس کا اختلاف اور تفرقہ

ہم معمولی اختلافات کو دشمنی بنا لیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے مضبوطی سے مل کر رہنے کا حکم دیا ہے:

{وَلَا تَفَرَّقُوا}
"اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
(آل عمران: 103)

3️⃣ دنیا کی محبت

جب دنیا کی محبت آخرت پر غالب آ جائے تو انسان حق کے لیے قربانی دینے سے گھبرانے لگتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے امت کو اس کمزوری سے خبردار فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب دنیا کی محبت اور موت کا خوف مسلمانوں پر غالب ہو جائے گا۔
(سنن ابی داود: 4297)

4️⃣ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت

برائی دیکھ کر خاموش رہنا اور نیکی کی دعوت چھوڑ دینا بھی امت کی کمزوری کا سبب بنتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم: 49)

جب معاشرے میں برائی عام ہو جائے اور لوگ اسے دیکھ کر خاموش رہیں، تو یہ امت کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
البتہ برائی کو روکنے کا طریقہ حکمت، علم اور اپنی استطاعت کے مطابق ہونا چاہیے۔

⚠️ یاد رکھیں!

امت کی عزت صرف نعروں سے واپس نہیں آئے گی۔
اصلاح کا آغاز ہر شخص کو اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

اپنا عقیدہ درست کریں، قرآن و سنت کو سمجھیں، نماز کی پابندی کریں، گناہوں سے بچیں، علم حاصل کریں اور مسلمانوں کے درمیان جائز دینی بھائی چارے کو مضبوط کریں۔

ہماری حالت اس وقت بدلے گی جب ہم خود بدلنے کی کوشش کریں گے۔

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ}
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔"
(سورۃ الرعد: 11)

🤲 اے اللہ! امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت پر جمع فرما، ہمارے دلوں سے نفرت اور تفرقہ دور فرما، ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

✍️ عبداللہ طالب العلم

 # 🕌 پوسٹ نمبر 17 # # **نظامِ خلافت بمقابلہ نظامِ جمہوریت** # # # *خلافتِ علیٰ منہاجِ النبوۃ — ایک اسلامی تصور*اسلام صرف...
21/08/2026

# 🕌 پوسٹ نمبر 17

# # **نظامِ خلافت بمقابلہ نظامِ جمہوریت**

# # # *خلافتِ علیٰ منہاجِ النبوۃ — ایک اسلامی تصور*

اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ زندگی کے اجتماعی معاملات کے لیے بھی رہنمائی دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں **خلافت** ایک اہم اجتماعی نظام کے طور پر قائم رہی، جس میں حکمران کو اقتدار کا مالک نہیں بلکہ **اللہ کے سامنے جواب دہ اور رعایا کا ذمہ دار** سمجھا جاتا تھا۔

# # # 📖 حاکمیتِ الٰہی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ**

**"حکم کا اختیار صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔"**

📖 سورۃ یوسف: 40

اسلامی تصورِ حکومت میں قرآن و سنت بنیادی رہنمائی اور شرعی احکام کا معیار ہیں۔

---

# # # 🕋 خلافتِ نبوت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> **خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ**

**"خلافتِ نبوت تیس سال رہے گی، پھر اللہ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا۔"**

📚 سنن ابی داؤد: 4646

اسی روایت میں سفینہؓ نے خلفائے راشدینؓ کی خلافتوں کا حساب بیان کیا، جو مجموعی طور پر تیس سال بنتی ہیں۔

---

# # # 🌙 خلافت کا دوبارہ ذکر

ایک دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> **الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ**

**"میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی، پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔"**

📚 جامع ترمذی: 2226

---

# # # ⚖️ حکمران کی ذمہ داری

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> **أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ**

**"خبردار! تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"**

📚 صحیح البخاری: 7138

اسی لیے اسلامی نظام میں حکمرانی **اعزاز سے زیادہ ایک بھاری امانت** ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ**

**"اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔"**

📖 سورۃ النساء: 58

---

# # 🗳️ خلافت بمقابلہ جمہوریت

جمہوریت میں اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تصورِ خلافت میں **اللہ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی پابندی** بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ **حکمران کون منتخب کرے گا؟**

بلکہ اصل سوال یہ ہے:

# # # **حتمی اختیار کس کا ہوگا اور قانون کا معیار کیا ہوگا؟**

اسلامی تصور میں حلال و حرام کا قطعی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اور کوئی انسانی اکثریت اللہ کے قطعی حکم کو اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔

---

# # 🌿 خلافت کا اصل مقصد

خلافت صرف ایک نام یا تخت کا نام نہیں۔

**یہ عدل کا نظام ہے،
یہ امانت کی ذمہ داری ہے،
یہ شوریٰ کا اصول ہے،
یہ رعایا کے حقوق کی حفاظت ہے،
اور سب سے بڑھ کر اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے۔**

اس لیے خلافت کی بات صرف جذباتی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ **قرآن و سنت، علم، عدل اور اصلاح** کے ساتھ ہونی چاہیے۔

# # # **سوال یہ ہے:**

**ہم صرف حکمران بدلنے کی فکر کریں گے،
یا اپنے معاشرے کو بھی قرآن و سنت کے مطابق بدلنے کی کوشش کریں گے؟**

**اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو عدل، اتحاد اور قرآن و سنت کی صحیح پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲**

**✍️ عبداللہ طالب العلم**

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پوسٹ 16: فتنۂ تکفیر — ذرا رک کر سوچیں!ہر اختلاف پر "کافر" کہنا بند کریں!بھائی! ایک بات دل میں...
16/08/2026

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

پوسٹ 16: فتنۂ تکفیر — ذرا رک کر سوچیں!

ہر اختلاف پر "کافر" کہنا بند کریں!

بھائی! ایک بات دل میں بٹھا لیں:

کسی کی بات پسند نہیں آئی؟
کسی مسئلے میں اختلاف ہوگیا؟
کسی عالم کی رائے آپ سے مختلف ہے؟
کسی نے ایسی بات کہہ دی جو آپ کو غلط لگی؟

تو فوراً "کافر!" کا لیبل لگا دینا کون سا دین ہے؟

ارے بھائی! 😐
کفر کا فتویٰ کوئی واٹس ایپ فارورڈ نہیں کہ جسے چاہا، پڑھا اور آگے بھیج دیا!

آج کل سوشل میڈیا پر عجیب صورتحال ہے۔
دو پوسٹیں پڑھیں، تین ویڈیوز دیکھیں، کسی ایک مسئلے کی تھوڑی سی معلومات حاصل کیں اور پھر بندہ سمجھتا ہے:

بس! اب میں لوگوں کے ایمان کے فیصلے کر سکتا ہوں!

ذرا رک جاؤ بھائی!
یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔

کسی مسلمان کو کافر قرار دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

"جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے: اے کافر! تو یہ بات دونوں میں سے ایک کی طرف لوٹتی ہے۔"

**(صحیح البخاری: 6104، صحیح مسلم: 60)**

اب ذرا سوچیں!

ہم میں سے کتنے لوگ کسی مسئلے کی مکمل تحقیق کرتے ہیں؟

کتنے لوگ قرآن و سنت کے ساتھ علماء کی وضاحت اور شرعی اصول بھی دیکھتے ہیں؟

اور کتنے لوگ صرف ایک کلپ دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں:

یہ تو کافر ہوگیا!

بھائی جان!
اختلاف اور کفر میں فرق ہوتا ہے۔

کسی سے غلطی ہوسکتی ہے۔
کسی سے لاعلمی میں غلط بات نکل سکتی ہے۔
کسی مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہوسکتا ہے۔

ہر غلطی کو کفر کہنا اور ہر اختلاف کرنے والے کو کافر بنا دینا درست طریقہ نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا﴾

اور جو تمہیں سلام پیش کرے، اسے یہ نہ کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو۔

(النساء: 94)

• تو پھر کیا کریں؟

غلط بات ہے؟
دلیل سے رد کرو۔

غلط عقیدہ ہے؟
علم کے ساتھ سمجھاؤ۔

غلطی ہے؟
اصلاح کرو۔

اختلاف ہے؟
ادب اور انصاف کے ساتھ بات کرو۔

لیکن ہر اختلاف پر:

~کافر!
~مشرک!
~دین سے خارج!

یہ کھیل مت بناؤ۔

کیونکہ زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ صرف سامنے والے کو نہیں، بولنے والے کو بھی مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔

• اور ایک بات خاص طور پر یاد رکھیں:

[تکفیر کھیل نہیں ہے]

کسی معین شخص پر کفر کا حکم لگانے کے لیے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں کہ اس نے کیا کہا؛ بلکہ اس معاملے میں شرعی اصول، حجت، حالات اور موانع وغیرہ جیسے امور کا اعتبار ہوتا ہے۔

• آخری بات ❤️

دین ہمیں حق بات کہنے سے نہیں روکتا،
لیکن دین ہمیں بےعلمی سے فیصلے سنانے سے ضرور روکتا ہے۔

حق کے لیے مضبوط بنو،
مگر انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔

اختلاف کرو، دلیل کے ساتھ۔
رد کرو، علم کے ساتھ۔
نصیحت کرو، حکمت کے ساتھ۔
اور تکفیر کے معاملے میں…
اللہ سے ڈرو!

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنۂ تکفیر، تعصب، جہالت اور زبان کی بےاحتیاطی سے محفوظ فرمائے، حق کو حق سمجھنے اور حق بات کو حکمت و عدل کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

✍️ عبداللہ طالب العلم

 # 🇵🇰 14 اگست — جشنِ آزادی یا ایک لمحۂ فکر؟**14 اگست آتا ہے تو ہر طرف سبز ہلالی پرچم، چراغاں، باجے، موٹر سائیکلوں کے سائ...
14/08/2026

# 🇵🇰 14 اگست — جشنِ آزادی یا ایک لمحۂ فکر؟

**14 اگست آتا ہے تو ہر طرف سبز ہلالی پرچم، چراغاں، باجے، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر شور، آتش بازی اور مختلف انداز میں جشن منانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔**

لیکن ذرا رک کر سوچیے…

# # # آخر ہم جشن کس بات کا منا رہے ہیں؟

اگر آزادی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک ملک کا نام پاکستان ہے اور اس کی اپنی سرحدیں ہیں، تو شاید ہم واقعی آزاد ہیں۔

لیکن اگر آزادی کا مطلب **اپنی سوچ، اپنے فیصلوں، اپنی تہذیب اور اپنے اجتماعی نظام میں بھی آزادی** ہے، تو پھر ہمیں اپنے آپ سے بہت سے سوال کرنے ہوں گے۔

# # # ❶ کیا شور شرابہ ہی جشنِ آزادی ہے؟

باجے بجانا، سائلنسر نکال کر سڑکوں پر شور کرنا، دوسروں کے آرام میں خلل ڈالنا، خطرناک انداز میں موٹر سائیکل چلانا اور فضول خرچی کرنا—کیا یہ آزادی کی خوشی منانے کا درست طریقہ ہے؟

**کیا کسی دوسرے انسان کو تکلیف دے کر اپنی خوشی منانا آزادی ہے؟**

نبی ﷺ نے تو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔
**(صحیح مسلم: 1009)**

تو پھر ہمیں ایسا جشن منانا چاہیے جو کسی کے لیے تکلیف، خوف یا پریشانی کا سبب نہ بنے۔

# # # ❷ فتحِ مکہ سے بھی سبق لیجیے

نبی ﷺ اور صحابہ نے **فتحِ مکہ جیسی عظیم کامیابی** دیکھی۔ وہ مکہ جس سے مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسی شہر کو ان کے لیے فتح فرما دیا۔

لیکن اس موقع پر آج کے انداز کا **شور شرابہ، باجے، آتش بازی اور ہنگامہ خیزی والا جشن** نہیں منایا گیا۔

بلکہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے **عاجزی، عبادت اور شکر** کا مظاہرہ کیا اور اہلِ مکہ کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔

تو ہمیں سوچنا چاہیے:

**اگر کسی عظیم فتح پر بھی شکر، عاجزی اور اطاعت کا راستہ اختیار کیا گیا، تو ہمارے جشنِ آزادی کا بہترین طریقہ کیا ہونا چاہیے؟**

# # # ❸ جس کلمے کے نام پر پاکستان حاصل کیا گیا، اس کا تقاضا کیا ہے؟

پاکستان کے قیام کی تحریک میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ ان کے مذہبی، تہذیبی اور سیاسی تشخص سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ اسی لیے **"پاکستان کا مطلب کیا؟ لا إله إلا الله"** ایک معروف عوامی نعرہ بنا۔

لیکن آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا:

**کیا ہماری اجتماعی زندگی کلمۂ توحید کے تقاضوں کے مطابق ہے؟**

کیا ہمارے معاشرے میں عدل، امانت، دیانت اور اسلامی اخلاق غالب ہیں؟

یا سود، ظلم، ناانصافی، کرپشن، بے حیائی اور دوسری معاشرتی برائیاں ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

**﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾**

*"کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟"*
**(المائدہ: 50)**

یہی وجہ ہے کہ آزادی کا دن ہمیں صرف خوشی نہیں بلکہ **محاسبے** کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ملک اور معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

# # # ❹ کیا صرف ملک آزاد ہوا ہے؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔

**پاکستان آزاد ہوا، لیکن کیا پاکستانی قوم بھی فکری طور پر آزاد ہوئی؟**

اگر ہماری سوچ دوسروں کی محتاج ہو، ہماری ترجیحات بیرونی طاقتوں کے اثر سے بدلتی رہیں، اور ہم اپنے فیصلوں میں اپنے مفادات، اپنی اقدار اور اپنے اصولوں کے بجائے طاقتور ممالک کی خوشنودی کو ترجیح دیں، تو ہمیں اپنی **فکری اور عملی خودمختاری** پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

یہ بات کسی ایک حکمران یا ایک حکومت تک محدود نہیں؛ **قوموں کی آزادی صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام کی سوچ، کردار اور اجتماعی شعور سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔**

ہمیں کسی بھی بیرونی طاقت کی اندھی تقلید کے بجائے اپنے ملک کے مفاد، اصول، عدل اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔

# # # 🇵🇰 تو پھر 14 اگست ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

آئیے اس دن صرف پرچم نہ لہرائیں، بلکہ اپنے دل میں بھی ایک پرچم بلند کریں:

**جھوٹ کے خلاف سچ کا،
ظلم کے خلاف عدل کا،
نفرت کے خلاف اخوت کا،
غلامانہ سوچ کے خلاف خودداری کا،
اور برائی کے خلاف اصلاح کا۔**

آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سڑکوں پر شور مچائیں؛

**آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کی غلامی سے نکلیں، باطل کی اندھی پیروی چھوڑیں، اپنے وطن سے وفاداری کریں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔**

# # # 🇵🇰 آج جشن سے پہلے ایک سوال:

**پاکستان آزاد ہوئے 79 سال ہو گئے،
مگر کیا ہم بحیثیت قوم واقعی آزاد ہوئے ہیں؟**

آئیے اس 14 اگست کو صرف جشن نہ منائیں…

**اپنا محاسبہ بھی کریں۔**

🤲 **اے اللہ! پاکستان کو امن، استحکام، عدل اور خوشحالی عطا فرما، اس ملک کے لوگوں کو صحیح معنوں میں فکری و عملی خودمختاری عطا فرما، ہمیں اپنی اصلاح اور اپنے دین پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے وطن کو ہر فتنے اور ہر بیرونی و اندرونی نقصان سے محفوظ فرما۔ آمین۔**

 # 📖 پوسٹ نمبر 14 # # **عقیدۂ آخرت — ہمیشہ کی زندگی پر ایمان****بسم الله الرحمن الرحيم**اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ای...
12/08/2026

# 📖 پوسٹ نمبر 14

# # **عقیدۂ آخرت — ہمیشہ کی زندگی پر ایمان**

**بسم الله الرحمن الرحيم**

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عظیم عقیدہ **آخرت پر ایمان** ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، قیامت قائم ہوگی، تمام انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جمع ہوں گے، اعمال کا حساب ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **﴿وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ﴾**
>
> **"اور بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور بے شک اللہ قبروں والوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔"**
>
> **(سورۃ الحج: 7)**

# # # ⚖️ آخرت پر ایمان میں کیا شامل ہے؟

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ:

* موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
* قیامت ضرور قائم ہوگی۔
* تمام انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جمع ہوں گے۔
* اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
* اعمال نامے دیے جائیں گے۔
* نیکی اور بدی کا پورا بدلہ ملے گا۔
* جنت اور جہنم حق ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾**
>
> **"پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔"**
>
> **(سورۃ الزلزال: 7-8)**

# # ⚠️ قیامت کا دن انتہائی ہولناک ہوگا

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت کے دن کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

> **﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾**
>
> **"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔"**
>
> **(سورۃ الحج: 1)**

پھر فرمایا:

> **﴿يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾**
>
> **"جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو نشے میں دیکھو گے، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔"**
>
> **(سورۃ الحج: 2)**

# # # اس دن ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ۝ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ۝ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ۝ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾**
>
> **"اس دن انسان اپنے بھائی سے، اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ اس دن ہر شخص کو اپنی ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کر دے گی۔"**
>
> **(سورۃ عبس: 34-37)**

# # # 🌡️ قیامت کی شدت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ اپنے پسینے میں اس قدر ہوں گے کہ ان کا پسینہ زمین میں بہت گہرائی تک جائے گا اور پھر ان کے منہ تک پہنچ جائے گا۔
**(صحیح البخاری: 6532)** ([Sunnah][1])

یہ دن معمولی دن نہیں ہوگا؛ یہ وہ دن ہوگا جب انسان کو اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہوگا۔

# # # 🌿 لیکن اہلِ ایمان کے لیے کامیابی بھی ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> **﴿فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾**
>
> **"پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہوا۔"**
>
> **(سورۃ آل عمران: 185)**

لہٰذا آخرت کا عقیدہ ہمیں صرف خوف نہیں دیتا بلکہ **نیکی، توبہ، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔**

# # # 💭 یاد رکھیں!

**دنیا عارضی ہے، آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔**

آج ہمارے پاس عمل کا موقع ہے، لیکن ایک دن یہ موقع ختم ہو جائے گا۔ اس لیے عقلمند وہ ہے جو موت سے پہلے اپنی آخرت کی تیاری کر لے۔

**اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت پر کامل ایمان، نیک اعمال، سچی توبہ اور قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔**

**آمین یا رب العالمین 🤲**

 # **پوسٹ 13** # # **عقیدۂ ختمِ نبوت****بسم اللہ الرحمن الرحیم**اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک نہایت اہم عقیدہ **ختمِ...
10/08/2026

# **پوسٹ 13**

# # **عقیدۂ ختمِ نبوت**

**بسم اللہ الرحمن الرحیم**

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک نہایت اہم عقیدہ **ختمِ نبوت** ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ **محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔** اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل فرما دیا، اب آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی گنجائش نہیں۔

# # # 📖 قرآن کی واضح دلیل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

**﴿وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾**

*"لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"*

**(سورۃ الأحزاب: 40)**

**خاتم النبیین** کا مطلب ہے: **نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے، یعنی آخری نبی۔**

# # # رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

**«لَا نَبِيَّ بَعْدِي»**

*"میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"*

**(صحیح البخاری: 3455، صحیح مسلم: 1842)**

یہ فرمان اس عقیدے کو بالکل واضح کر دیتا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد **کوئی نبی نہیں آئے گا۔**

# # # ✦ ختمِ نبوت پر ایمان کیوں ضروری ہے؟

محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان کا مطلب صرف یہ ماننا نہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، بلکہ یہ بھی ماننا ہے کہ **آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے، اور قیامت تک ہدایت کا راستہ قرآن و سنت ہی ہے۔**

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

**﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ﴾**

*"اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا، وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔"*

**(سورۃ آل عمران: 85)**

# # # 🤲 دعا

**اے اللہ! ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر مضبوطی سے قائم رکھ، محمد ﷺ کی سچی محبت اور اطاعت نصیب فرما، قرآن و سنت پر ثابت قدم رکھ، اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما۔ آمین یا رب العالمین۔**

**✍️ عبداللہ طالب العلم**

 # **پوسٹ 12** # **عقیدۂ رسالت****﴿لَّقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُس...
05/08/2026

# **پوسٹ 12**

# **عقیدۂ رسالت**

**﴿لَّقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ﴾**
*"یقیناً اللہ نے اہلِ ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔"*
**(آل عمران: 164)**

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، مگر اسے اپنی مرضی پر نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے ہر دور میں رسول بھیجے۔ انبیاء کا مقصد لوگوں کو اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، شرک سے بچانا اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سکھانا تھا۔

**﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾**
*"ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔"*
**(النحل: 36)**

# # # **عقیدۂ رسالت کیا ہے؟**

عقیدۂ رسالت سے مراد یہ ایمان ہے کہ:

* اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے رسول بھیجے۔
* تمام رسول سچے تھے اور اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار تھے۔
* ہم تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں تفریق نہیں کرتے۔
* محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور قیامت تک آپ ہی کی شریعت واجب الاتباع ہے۔

**﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾**
*"محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔"*
**(الأحزاب: 40)**

اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا:

**﴿مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾**
*"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔"*
**(النساء: 80)**

# # # **یاد رکھیں**

رسول ﷺ سے محبت صرف دعوے کا نام نہیں، بلکہ آپ کی سنت کی پیروی، آپ کے احکام کی اطاعت اور دین میں ہر معاملے میں آپ کو نمونہ بنانا ہی سچی محبت اور کامل ایمان کی علامت ہے۔

**✍️ عبداللہ طالب العلم**

 # پوسٹ 11: عقیدۂ توحید — دینِ اسلام کی بنیاد**﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾***"اور میں نے ...
02/08/2026

# پوسٹ 11: عقیدۂ توحید — دینِ اسلام کی بنیاد

**﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾**
*"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"*
**(سورۃ الذاریات: 56)**

توحید اسلام کی سب سے پہلی، سب سے عظیم اور بنیادی دعوت ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ربوبیت، الوہیت اور اسماء و صفات میں ایک مانا جائے، اور عبادت کی ہر قسم صرف اسی کے لیے خالص کی جائے۔

تمام انبیاء نے سب سے پہلے اپنی اپنی قوموں کو یہی دعوت دی:

**﴿اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾**
*"اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔"*
**(سورۃ الأعراف: 59، 65، 73، 85)**

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

**﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾**
*"اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔"*
**(سورۃ النحل: 36)**

نبی ﷺ نے فرمایا:

**«حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا»**
*"اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔"*
**(صحیح بخاری: 2856، صحیح مسلم: 30)**

**پیغام:**
اگر عقیدۂ توحید درست ہو تو تمام اعمال کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے، لیکن اگر توحید میں شرک شامل ہو جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

**﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ﴾**
*"بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے۔"*
**(سورۃ النساء: 48)**

**عبدالله طالب العلم**

**پوسٹ نمبر 10** # **حج: اسلام کا عظیم رکن اور بندگی کا کامل مظہر****﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْت...
30/07/2026

**پوسٹ نمبر 10**

# **حج: اسلام کا عظیم رکن اور بندگی کا کامل مظہر**

**﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾**
*"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔"*
**(سورۃ آل عمران: 97)**

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ یہ صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کامل اطاعت، عاجزی، اخلاص اور تقویٰ کا عملی اظہار ہے۔ جو مسلمان جسمانی اور مالی استطاعت رکھتا ہو، اس پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

**«بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ... وَحَجِّ الْبَيْتِ»**
*"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے... اور بیت اللہ کا حج۔"*
**(صحیح بخاری: 8، صحیح مسلم: 16)**

حج کا مقصد صرف سفر کرنا یا مناسک ادا کرنا نہیں، بلکہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرکے ایک نئی اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

**«مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»**
*"جس نے اللہ کے لیے حج کیا، نہ بے حیائی کی اور نہ گناہ، وہ اس دن کی طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔"*
**(صحیح بخاری: 1521، صحیح مسلم: 1350)**

**حج کے اہم اسباق:**

* اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت۔
* امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مساوات کا عملی مظاہرہ۔
* تقویٰ، صبر اور ایثار کی تربیت۔
* حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرنا۔
* گناہوں سے سچی توبہ اور نئی زندگی کا عزم۔

**پیغام:**
حج ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض عبادت ہے۔ ہمیں اس کی عظمت کو سمجھنا، اس کی تیاری کرنا اور اخلاص کے ساتھ اس فریضے کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔

> **"جو اللہ کے گھر کا مہمان بنتا ہے، وہ ایمان، تقویٰ اور مغفرت کا عظیم سرمایہ لے کر لوٹتا ہے۔"**

**✍️ عبداللہ طالب العلم**

 # **جلوہ افروز** # # **پیج کے قیام کا مقصد****بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ**الحمد لله رب العالمين، والصلاة وا...
26/07/2026

# **جلوہ افروز**

# # **پیج کے قیام کا مقصد**

**بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ**

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد ﷺ، وعلى آله وصحبه أجمعين.

**"جلوہ افروز"** ایک دعوتی اور اصلاحی کاوش ہے، جس کا مقصد **قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ** کی روشنی میں دینِ اسلام کی صحیح اور مستند تعلیمات کو عام کرنا، امتِ مسلمہ کی اصلاح کی کوشش کرنا، اور ہر مسلمان تک علمِ نافع کو آسان انداز میں پہنچانا ہے۔

ہمارا یقین ہے کہ امت کی عزت، سربلندی اور نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہم خالصتاً **قرآن و سنت** کو اپنا رہنما بنائیں، اللہ تعالیٰ کی توحید کو مضبوطی سے تھامیں، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں، اور باہمی محبت و اخوت کو فروغ دیں۔

# # **ہمارا مقصد**

✦ قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو عام کرنا۔
✦ توحید، سنت اور صحیح اسلامی عقیدے کی دعوت دینا۔
✦ امتِ مسلمہ کی اصلاح اور دینی بیداری پیدا کرنا۔
✦ عبادات، اخلاق اور معاملات کی اصلاح کی ترغیب دینا۔
✦ **فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحادِ امت کے لیے مثبت اور علمی کوشش کرنا۔**
✦ مستند علمی مواد کو قرآن و صحیح احادیث کے حوالوں کے ساتھ پیش کرنا۔
✦ محبت، اخوت، خیرخواہی اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معمولی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے خالص اپنی رضا کے لیے بنا دے، اور اس کے ذریعے ہمیں اور پوری امتِ مسلمہ کو علمِ نافع، عملِ صالح اور اتحاد کی نعمت عطا فرمائے۔

> **﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾**
> **"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔"**
> **(سورۃ آل عمران: 103)**

🤲 **آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ بھی قرآن و سنت کی دعوت، امت کی اصلاح، فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحادِ امت کی اس کوشش میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے پیج کو فالو کریں، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور خیر کی بات کو دوسروں تک پہنچائیں۔**

**✍️ عبداللہ طالبُ العلم**

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jalwa Afroz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jalwa Afroz:

Shortcuts

Share