Ta Hir

Ta Hir Freedom is the right of every human let us free by thinking.

05/09/2021

سب بہتر ہو جائیگا

31/05/2021

کل اسد طور سے اظہار یکجہتی کے لیے 10 سے 12 صحافی اکٹھے ہوے ان کو لیڈ کر رہے تھے حامد میر اور عاصمہ شیرازی
ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیے اسد طور کے پورے بازو پر پٹیاں لپیٹ کر بازو گلے میں لٹکا دیا گیا
حالانکہ دو دن پہلے صرف کہنی پہ ڈریسنگ تھی اور محترم ٹی وی انٹرویو دے رہے تھے
منہ سے جھاگ اڑاتے ہاتھ میں مائک پکڑے یہ چھوٹا سا ٹولا اپنی تمام حدود پار کر گیا اداروں کو دھمکاتے دھمکاتے اخلاقیات کے تمام بھاشن پس پشت ڈال گئے جس کا روز رات پرائم ٹائم میں عوام کے سامنے رونا رویا کرتے تھے

حامد میر نے کہا اب ہم آپ کے گھروں کی بات کریں گے فلاں کی بیوی کی بات کریں گے
جناب حامد میر صاحب بالکل آپ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ بےغیرت شخص ہمیشہ جب دلائل سے ہارتا ہے سامنے والے کی بیوی بیٹی کا نام لیکر گالی دینا شروع کرتا ہے اور عورت کےنام پر جھکانے کی کوشش کرتا ہے یہ حربے پرانے ہو چکے اب حقائق پہ بات ہو گی آپ کی بیوی بیٹی پہ بات نہیں ہو گی بلکہ آپ کے کردار پہ بات ہو گی
اب صحافیوں کے امریکن ایمبیسی میں جا کر شراب کباب،اور شباب سے لطف اندوز ہونے کی بات ہو گی
سب سے پہلے آتے ہیں قاتلانہ حملوں پہ جن صحافیوں نے خود پر قاتلانہ حملوں کا پراپگنڈہ کیا ان کے مقاصد کیا تھے
طحہ صدیقی جس نے خود پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ کیا وہ اب " فرانس" میں ہے یعنی مقصد صرف ایک تھا شہریت اور شہرت
اس طرح ۔گل بخاری نے ایجنسیز کے ہاتھوں اغواء کا ڈرامہ کیا وہ اب برطانیہ ہے
مبشرزیدی (امریکہ)
سلمان حیدر(امریکہ)
تقی (امریکہ)
۔گورایا (ہالینڈ)
۔ریحام (برطانیہ)
۔عاطف توقیر(جرمنی)
سرل المیڈہ (امریکہ)
حسین حقانی (امریکہ)
مسز اصفحانی (امریکہ
انیس فاروقی (کینیڈا
یہ ہیں قاتلانہ حملوں کے ڈرامے کی وجوہات ہے آپ چند دن میں اسد طور کے اسائلم کی درخواست دینے کے بارے میں بھی ضرور سنیں گے
اب آتے ہیں حامد میر پہ
سائکل سے لینڈ کروزر تک کا سفر
این این آئی نیوز ایجنسی سے ماہانہ 4 ہزار سے شروع ہونے والا سفر محض چند سال میں ایک رپورٹر کو لاکھوں روپے ماہانہ تک لے گیا
اتنی شارپ ترقی آپ نے صرف فلموں میں دیکھی ہو گی


جنگ گروپ نے میڈیا کمیشن میں بیرونی آمدن کے حوالے سے وزارت اطلاعات کو جو دستاویزات جمع کروائی ان کے مطابق گزشتہ دس سال سے یہ گروپ امریکی دفترِ خارجہ اور وائس آف امریکا سے 60 سے 90 لاکھ ڈالر سالانہ وصول کرتا رہا ہے۔
کیوں کرتا رہا ہے؟؟؟؟ ؟
اس پہ بعد میں بات کرتے ہیں

فرینڈز ودآؤٹ بارڈرز‘‘ ایک ہندو تنظیم ہے جو’’ امن کی آشا‘‘ پروگرام کو سپانسر کر رہی تھی۔ اور امن کی آشا پروگرام کو جیو پاکستان میں پرموٹ کر رہا تھا اس تنظیم کو فنڈز کٹر ہندو مذہبی تنظیموں کی طرف سے ملتے تھے جن میں مانو وسادھنا، بلیک میجک موشن پکچرز،مام موویز
،یووستا، ٹائمز آف انڈیا، . ایکٹی میڈیا. ، پر سیٹ ٹیلنٹ، منیجمنٹ الائنس میڈیا، آئی والنٹیئر،. الائنس میڈیا اینڈ اینٹرٹینمنٹ، کرما یوگا. ،یوتھ پارلیمنٹ اور دیگر شامل ہیں۔
جیو کو سپانسر کرنے کا ذکر اس تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر بھی کیا ہے ۔
حامد میر کو فنڈنگ جیو کے تھرو ملتی تھی اس کا ثبوت جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں وہ ہیرنگ ہے جب جسٹس ثاقب نثار نے صحافیوں کو تنخواہیں ناں ملنے پہ ایک کیس کی سماعت کی
تو عدالت میں بھید کھلا کے جیو میں کیمرہ مین اور رپورٹرز کی تنخواہ تب 12 ہزار تھی بقیہ اینکر پرسن 50 ہزار سے دو لاکھ جبکہ حامد میر 52 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا تھا
اس 52 لاکھ کے بدلے میں حامد میر سی آئی اے اور را کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے
ممبئی اٹیک کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لیے اجمل قصاب پہ حامد میر کا پروگرام ہو یا جنگ اور جیو کی آئی ایس آئی اور جنرل ظہیر السلام کے خلاف چلنے والی مہم
چہرہ صرف حامد میر اور فنڈنگ کا بے نقاب ہوا
جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف لگائے الزامات ثابت نہیں کر سکے تو جیو نے معافی مانگ لی ۔
بعد ازاں حامد میر نے پی ٹی ایم سے لیکر ہر اس صحافی کی پشت پناہی کی جو اسائلم کے لیے خود پہ ریاستی جبر کا ڈرامہ کرنا چاہتا تھا
دلچسپ امر یہ ہے لاطینی امریکہ میں پچھلے سال 19 رپورٹر مارے گئے
کچھ نہیں ہوا
بھارت میں 40 صحافی مارے گئے
انسانی حقوق کے ادارے عالمی صحافتی ادارے خاموش رہے
لیکن جیسے ہی حامد میر گروپ نے پٹیاں باندھ کے اسد طور کو آگے کیا امریکہ اور انسانی حقوق، عالمی صحافتی ادارے تڑپ اٹھے
ایسا کیوں؟؟؟
حامد میر کو آپ یہاں ٹرائیکولا ایجنسیز کا لوکل آپریٹر کہہ سکتے ہو
پاک آرمی جو پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے اور را، موساد، اور سی آئی اے کو کھٹکتی ہے وہ حامد میر کے نشانے پہ کیوں ہے اس کا جواب آپ کو مل گیا ہو گا
اگر حکومت وقت نے صحافیوں کے اثاثہ جات اور آمدن سے متعلق تحقیقات ناں کی اور اس کے لیے موثر قوانین ناں بنائے تو یقیناً یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں
جو کام آج حامد میر کر رہا ہے حامد میر کے والد وارث کو بعد از مرگ اس کام کا ایوارڈ دیا جا چکا ہے
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو اس پاداش میں پھانسیاں دی گئی کہ انہوں نے 1971 میں متحدہ پاکستان کی حمایت اور بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت کی تھی
جبکہ اکتوبر2011 میں بنگلہ دیش میں تقریب منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے لگ بھگ 57 ممالک جن میں امریکی‘ روسی‘ بھارتی‘ اسرائیلی اور یورپی ممالک کے وہ شہری شامل تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرانے میں کردار ادا کیا شامل تھے انھیں ایوارڈ سے نوازا گیا اور پاکستان میں وارث میر کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا اور یہ ایوارڈ وارث میر کے صاحبزادے حامد میر نے وصول کیا ۔
یعنی کے یہ محترم غدار ابن غدار ہیں
اب آتے ہیں سرکاری حاجن عاصمہ شیرازی پہ جس نے ہر حکومت سے فوائد اٹھائے اور ہر سال سرکاری خرچ پر حج کیا
وہ فرما رہی ہیں ‏اس ہائبرڈ رجیم نے بہت سے چہروں پر سے نقاب کھینچ کر پھینک دئیے ہیں وہ جو صحافیوں کے روپ میں ان کے لیے لکھنے والے تھے وہ اب سامنے آ چکے ہیں ۔ یہ جو نامعلوم ہیں، وہ ہمیں معلوم ہیں
اس سرکاری حاجن نے درست فرمایا ان کے پشت پناہ جو پہلے نامعلوم تھے اب واضع ہو چکے جن کے لیے یہ صحافی گروپ کام کرتا ہے وہ بھی اب عوام کے سامنے ہے
ایک ایمبیسی میں محترمہ کے انجوائے کرنے کی تصاویر سب نے دیکھ رکھی ہیں

02/10/2020
"HANIA COLLECTION"STUFF LINENNECK PRINTEDDAMAN EMBROIDEDPRINTED TROUSERWOOL PRINTED DUPATTA            (3 PC DRESS)PRICE...
02/10/2020

"HANIA COLLECTION"

STUFF LINEN
NECK PRINTED
DAMAN EMBROIDED
PRINTED TROUSER
WOOL PRINTED DUPATTA
(3 PC DRESS)

PRICE 2450/

7Day return and replacement policy

For ordering and deatil please

Whatsapp # 03302888869

09/09/2020
14/06/2020

امریکہ میں خانہ جنگی شروع
پورے ملک میں فوج تعینات

13/06/2020

ایران کا دفاعی بجٹ 12.6 ارب ڈالر
اسرائیل کا دفاعی بجٹ 20.5 ارب ڈالر
سعودی عرب کا دفاعی بجٹ 61.9 ارب ڈالر
پاکستان کا دفاعی بجٹ 7.7 ارب ڈالر

خطے کے ممالک کے رجحانات کا اندازہ آپ ان کے دفاعی بجٹ سے لگا سکتے ہیں اور پاکستان کہاں کھڑا ہے یہ بھی واضح ہے

اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو لوگ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر اعتراضات لگاتے ہیں ان کے ارادے کیا ہیں اور وہ اس ملک سے کتنے مخلص ہیں

12/06/2020

‏‎
نکیال سیکٹر اسوقت شدید گولہ باری کی زد میں ہے دھماکوں کی آوازیں
دور دور تک سنائی دے رہی ہیں ۔

12/06/2020

بہت اہم اپڈیٹ:
(اک دھمکی)
جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کے افغانستان دورے کا ذکر تو سن ہی لیا ہوگا لیکن اس سے پہلے افغانستان سے زلمے خلیل زاد نے پاکستان جی ایچ کیو راولپنڈی آۓ جہاں ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور افغانستان آنے اور وہاں کی گورنمنٹ سے اہم ایشوز پر بات چیت کے ساتھ امریکہ کے لیے اک اہم پیغام بھی بھیجا گیا۔

اس سلسلے کی مزید بات چیت کیلئے افغان حکومت اور امریکہ کی افغانستان میں موجود اہم فوجی قیادت کو پیغام بھیجا گیا کہ امریکہ سے ویڈیو کانفرنس کال پر رابطہ کیا جائے ہم سے یا پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ افغانستان میں ہم سے آکر بات چیت کریں۔

لہذا میڈیا پر صرف اتنا ہی میسج دیا گیا کہ اہم دورہ کیا گیا جس میں غنی اور عبداللہ سے ملاقات ہوئی جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی۔ لیکن یہ صرف ملاقات نہیں تھی بلکہ مذاکرات تھے جس میں امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ساتھ جو 5000 طالبان کی رہائی کو جو تاخیر کا سامنا ہے اسکو جلد از جلد پورا کیا جائے۔

یہ تو تھا تصویر کا اک رخ اب اتنی سی بات کیلئے صرف جنرل باجوہ ہی کافی تھے اور یہ یاد رکھیں جب بھی کسی بھی ملک میں ڈی جی آئی ایس آئی دورہ پر جائیں تو سمجھ لیں یہ کوئی معمولی سا دورہ نہیں۔

اصل میں وہاں امریکی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ویڈیو کانفرنس کے ساتھ موقع پر موجود افسر سے تفصیلی بات چیت ہوئی بھارت کے قونصل خانوں کی جو افغانستان میں موجود ہیں جہاں پر بی ایل اے وغیرہ ٹریننگ لے کر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

اس بات چیت میں پورے ثبوت کے ساتھ شواہد پیش کیے گئے امریکہ کو ان بھارتی قونصل خانوں میں ہونے والی ایکٹیویٹیز کے تمام ثبوت امریکا کے حوالے کیے گئے اور یاد دہانی کروائی گئی کہ امریکی فوج کے انخلا کے مذاکرات کامیاب تبھی ہوں گے جب ان قونصل خانوں کو مکمل طور پر بند نہ کیا گیا۔ اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا نہ گیا۔

آپ اس خفیہ طور پر ہونے والی میٹنگ میں جو بات چیت امریکہ کے ساتھ ہوئی اسکو عام زبان میں دھمکی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ انکا میڈیا پر کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا اس لیے عام انسان اور میڈیا اس بارے تفصیلی کچھ بھی بیان نہیں کر پاتا لیکن آنے والا وقت وہ سب حالات سمجھا جاتا ہے کہ گمنام ہیروز نے اپنا کام کر دکھایا۔

اس پوسٹ کے بعد امریکہ کا بھارت کے ساتھ برتاؤ آج یا کل میں سوشل یا الیکٹرانک میڈیا سے پتا چل جائے گا۔تب آپ کو میری یہ پوسٹ یاد آئے گی۔ اس لیے سستے دانشوروں سے گزارش ہے بیک ڈور چلتے معاملات جاننے کی کوشش کیا کریں تاکہ خوامخواہ بے عزتی سے بچ سکیں۔

کیونکہ کچھ لوگو کو چھوڑ کر پوری قوم آئی ایس آئی کی ممبر ہے۔ لہذٰا وہ وقت دور نہیں جب غزوہِ ہند میں عوام کو شمولیت کے لیے پکارا جائے گا۔ سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی ہے۔

پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں لائیک کریں اور نئے آنے والے لوگ میرے پیج کو لائیک اور فالو اور شئیر کرنا مت بھولیں تاکہ آپ کو بروقت میری اپڈیٹس مل سکیں

شکریہ

09/06/2020

مودی کا منصوبہ ہے کہ اپنی عوام کی توجہ چین سے ہٹا کر پاکستان پر لگا دی جائے اس کے لئے وہ سرجیکل سٹر ائیک جیسی دھمکیاں دے رہا ہے ایک ہی سال میں مودی بھول گیا جو چائے پلائی تھی لگتا ہے مودی کو جلدی ہے انڈیا کے ٹکڑے ہونے کی اور وہ چاہتا ہے کہ انڈیا کے ٹکڑے ہونے کا ا عزاز وہ خود حاصل کرے بعد میں آنے والے یہ اعزاز نا لیں پاکستان پہلے سے زیادہ تیار بیٹھا ہے اور انڈیا کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے انڈیا کی تباہی اب لازمی ہونی ہے اس کے لئے اب انڈیا جتنی جلدی کرے گا اتنا ہی جلد تباہ ہوگا انڈیا پہلے ہی ایشیا میں تنہا ہو چکا ہے اور جنگ چھیڑنے کی صورت میں چین سمیت ایشیائی ممالک انڈیا کو توڑنے میں پاکستان کے ساتھ ہیں اور اس کے بعد ہی ایشیا میں امن قائم ہو سکتا ہے

Address

Karachi
74500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ta Hir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ta Hir:

Share