31/05/2021
کل اسد طور سے اظہار یکجہتی کے لیے 10 سے 12 صحافی اکٹھے ہوے ان کو لیڈ کر رہے تھے حامد میر اور عاصمہ شیرازی
ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیے اسد طور کے پورے بازو پر پٹیاں لپیٹ کر بازو گلے میں لٹکا دیا گیا
حالانکہ دو دن پہلے صرف کہنی پہ ڈریسنگ تھی اور محترم ٹی وی انٹرویو دے رہے تھے
منہ سے جھاگ اڑاتے ہاتھ میں مائک پکڑے یہ چھوٹا سا ٹولا اپنی تمام حدود پار کر گیا اداروں کو دھمکاتے دھمکاتے اخلاقیات کے تمام بھاشن پس پشت ڈال گئے جس کا روز رات پرائم ٹائم میں عوام کے سامنے رونا رویا کرتے تھے
حامد میر نے کہا اب ہم آپ کے گھروں کی بات کریں گے فلاں کی بیوی کی بات کریں گے
جناب حامد میر صاحب بالکل آپ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ بےغیرت شخص ہمیشہ جب دلائل سے ہارتا ہے سامنے والے کی بیوی بیٹی کا نام لیکر گالی دینا شروع کرتا ہے اور عورت کےنام پر جھکانے کی کوشش کرتا ہے یہ حربے پرانے ہو چکے اب حقائق پہ بات ہو گی آپ کی بیوی بیٹی پہ بات نہیں ہو گی بلکہ آپ کے کردار پہ بات ہو گی
اب صحافیوں کے امریکن ایمبیسی میں جا کر شراب کباب،اور شباب سے لطف اندوز ہونے کی بات ہو گی
سب سے پہلے آتے ہیں قاتلانہ حملوں پہ جن صحافیوں نے خود پر قاتلانہ حملوں کا پراپگنڈہ کیا ان کے مقاصد کیا تھے
طحہ صدیقی جس نے خود پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ کیا وہ اب " فرانس" میں ہے یعنی مقصد صرف ایک تھا شہریت اور شہرت
اس طرح ۔گل بخاری نے ایجنسیز کے ہاتھوں اغواء کا ڈرامہ کیا وہ اب برطانیہ ہے
مبشرزیدی (امریکہ)
سلمان حیدر(امریکہ)
تقی (امریکہ)
۔گورایا (ہالینڈ)
۔ریحام (برطانیہ)
۔عاطف توقیر(جرمنی)
سرل المیڈہ (امریکہ)
حسین حقانی (امریکہ)
مسز اصفحانی (امریکہ
انیس فاروقی (کینیڈا
یہ ہیں قاتلانہ حملوں کے ڈرامے کی وجوہات ہے آپ چند دن میں اسد طور کے اسائلم کی درخواست دینے کے بارے میں بھی ضرور سنیں گے
اب آتے ہیں حامد میر پہ
سائکل سے لینڈ کروزر تک کا سفر
این این آئی نیوز ایجنسی سے ماہانہ 4 ہزار سے شروع ہونے والا سفر محض چند سال میں ایک رپورٹر کو لاکھوں روپے ماہانہ تک لے گیا
اتنی شارپ ترقی آپ نے صرف فلموں میں دیکھی ہو گی
جنگ گروپ نے میڈیا کمیشن میں بیرونی آمدن کے حوالے سے وزارت اطلاعات کو جو دستاویزات جمع کروائی ان کے مطابق گزشتہ دس سال سے یہ گروپ امریکی دفترِ خارجہ اور وائس آف امریکا سے 60 سے 90 لاکھ ڈالر سالانہ وصول کرتا رہا ہے۔
کیوں کرتا رہا ہے؟؟؟؟ ؟
اس پہ بعد میں بات کرتے ہیں
فرینڈز ودآؤٹ بارڈرز‘‘ ایک ہندو تنظیم ہے جو’’ امن کی آشا‘‘ پروگرام کو سپانسر کر رہی تھی۔ اور امن کی آشا پروگرام کو جیو پاکستان میں پرموٹ کر رہا تھا اس تنظیم کو فنڈز کٹر ہندو مذہبی تنظیموں کی طرف سے ملتے تھے جن میں مانو وسادھنا، بلیک میجک موشن پکچرز،مام موویز
،یووستا، ٹائمز آف انڈیا، . ایکٹی میڈیا. ، پر سیٹ ٹیلنٹ، منیجمنٹ الائنس میڈیا، آئی والنٹیئر،. الائنس میڈیا اینڈ اینٹرٹینمنٹ، کرما یوگا. ،یوتھ پارلیمنٹ اور دیگر شامل ہیں۔
جیو کو سپانسر کرنے کا ذکر اس تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر بھی کیا ہے ۔
حامد میر کو فنڈنگ جیو کے تھرو ملتی تھی اس کا ثبوت جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں وہ ہیرنگ ہے جب جسٹس ثاقب نثار نے صحافیوں کو تنخواہیں ناں ملنے پہ ایک کیس کی سماعت کی
تو عدالت میں بھید کھلا کے جیو میں کیمرہ مین اور رپورٹرز کی تنخواہ تب 12 ہزار تھی بقیہ اینکر پرسن 50 ہزار سے دو لاکھ جبکہ حامد میر 52 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا تھا
اس 52 لاکھ کے بدلے میں حامد میر سی آئی اے اور را کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے
ممبئی اٹیک کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لیے اجمل قصاب پہ حامد میر کا پروگرام ہو یا جنگ اور جیو کی آئی ایس آئی اور جنرل ظہیر السلام کے خلاف چلنے والی مہم
چہرہ صرف حامد میر اور فنڈنگ کا بے نقاب ہوا
جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف لگائے الزامات ثابت نہیں کر سکے تو جیو نے معافی مانگ لی ۔
بعد ازاں حامد میر نے پی ٹی ایم سے لیکر ہر اس صحافی کی پشت پناہی کی جو اسائلم کے لیے خود پہ ریاستی جبر کا ڈرامہ کرنا چاہتا تھا
دلچسپ امر یہ ہے لاطینی امریکہ میں پچھلے سال 19 رپورٹر مارے گئے
کچھ نہیں ہوا
بھارت میں 40 صحافی مارے گئے
انسانی حقوق کے ادارے عالمی صحافتی ادارے خاموش رہے
لیکن جیسے ہی حامد میر گروپ نے پٹیاں باندھ کے اسد طور کو آگے کیا امریکہ اور انسانی حقوق، عالمی صحافتی ادارے تڑپ اٹھے
ایسا کیوں؟؟؟
حامد میر کو آپ یہاں ٹرائیکولا ایجنسیز کا لوکل آپریٹر کہہ سکتے ہو
پاک آرمی جو پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے اور را، موساد، اور سی آئی اے کو کھٹکتی ہے وہ حامد میر کے نشانے پہ کیوں ہے اس کا جواب آپ کو مل گیا ہو گا
اگر حکومت وقت نے صحافیوں کے اثاثہ جات اور آمدن سے متعلق تحقیقات ناں کی اور اس کے لیے موثر قوانین ناں بنائے تو یقیناً یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں
جو کام آج حامد میر کر رہا ہے حامد میر کے والد وارث کو بعد از مرگ اس کام کا ایوارڈ دیا جا چکا ہے
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو اس پاداش میں پھانسیاں دی گئی کہ انہوں نے 1971 میں متحدہ پاکستان کی حمایت اور بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت کی تھی
جبکہ اکتوبر2011 میں بنگلہ دیش میں تقریب منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے لگ بھگ 57 ممالک جن میں امریکی‘ روسی‘ بھارتی‘ اسرائیلی اور یورپی ممالک کے وہ شہری شامل تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرانے میں کردار ادا کیا شامل تھے انھیں ایوارڈ سے نوازا گیا اور پاکستان میں وارث میر کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا اور یہ ایوارڈ وارث میر کے صاحبزادے حامد میر نے وصول کیا ۔
یعنی کے یہ محترم غدار ابن غدار ہیں
اب آتے ہیں سرکاری حاجن عاصمہ شیرازی پہ جس نے ہر حکومت سے فوائد اٹھائے اور ہر سال سرکاری خرچ پر حج کیا
وہ فرما رہی ہیں اس ہائبرڈ رجیم نے بہت سے چہروں پر سے نقاب کھینچ کر پھینک دئیے ہیں وہ جو صحافیوں کے روپ میں ان کے لیے لکھنے والے تھے وہ اب سامنے آ چکے ہیں ۔ یہ جو نامعلوم ہیں، وہ ہمیں معلوم ہیں
اس سرکاری حاجن نے درست فرمایا ان کے پشت پناہ جو پہلے نامعلوم تھے اب واضع ہو چکے جن کے لیے یہ صحافی گروپ کام کرتا ہے وہ بھی اب عوام کے سامنے ہے
ایک ایمبیسی میں محترمہ کے انجوائے کرنے کی تصاویر سب نے دیکھ رکھی ہیں