16/10/2023
ہم فلسطین کی مدد کیسے کریں ۔۔۔۔؟
اکبر آلہ آبادی نے لکھا تھا :
نہ لائسنس ہتھیار کا ہے، نہ زور کہ ترکی کے دشمن سے جا کر لڑیں
تہِہ دل سے ہم کوستے ہیں مگر
کہ اٹلی کی توپوں میں کیڑے پڑیں
۔۔۔۔
یعنی ہر جنگ ہر بحران ، قہر و غضب کی گھڑی میں ہمارا کردار دعاؤں اور بددعاؤں، مذمتوں ، پوسٹس اور کمنٹس اور بےثمر و بے مصرف ریلیاں نکالنے اور جھنڈے لہرانے تک ہی محدود ہوتا ہے ۔۔۔ جس سے :
✓ نہ تو دشمن کا ایک بال تک بیگا ہو پاتا ہے ۔
✓ اور نہ مظلومین کو 1 لمحے کا بھی کوئی فائدہ ہو پاتا ہے۔
۔۔۔
چنانچہ بغیر مزید تمہید باندھے میں ان طریقوں پر آتی ہوں کہ جس سے ہم قیامتِ صغریٰ کی اس اندوہ ناک گھڑی میں مظلوم و مقہور و مجبور اہلِ غزہ کی عملی مدد کر سکتے ہیں اور دشمن کو عملی طور پر سبق سکھا سکتے ہیں ۔
یہ پوسٹ ختم کرتے ہی آپ 10 دس سیکنڈ کے اندر اندر اہل غزہ کی مدد کر پانے کی کنڈیشن میں ہوں گے ۔۔۔ تاہم یہ خصوصی درخواست ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ شیئر اور ری-پوسٹ کریں ۔
۔۔۔
1- مالی امداد :
قابض ریاست نے سنہ 2000 سے ہی غزہ کا جزوی اور 2005 سے مکمل بری و بحری محاصرہ کر رکھا ہے ۔
لیکن اب 5 روز سے جابرین نے غزہ کو پانی ، خوراک ، بجلی ، دوائی ، انٹرنیٹ سروسز اور تمام قسم کے سامان کی سپلائی کے تمام راستے مکمل منقطع کر دیے ہیں چنانچہ اس وقت 20 لاکھ اہل غزہ ایک لمحہ نہ رکنے والی خوفناک بمباری کے دوران بجلی ، پانی ، میڈیکل سپلائیز سمیت تمام بنیادی ضروریات سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں ۔۔۔ اس وقت رفح بارڈر پر صرف ایک آدھ کراسنگ ہی کھلی ہے جہاں سے تھوڑا بہت امدادی سامان غزہ پہنچ پا رہا ہے ۔۔۔ اس وقت ۔۔۔۔۔ پانی کا ایک قطرہ ، بسکٹ کا ایک پیکٹ ، مرہم کی ایک ٹیوب ، خون کا ایک بیگ ، ایک عدد سولر پینل ، ایک عدد چادر خیمہ یا کپڑا بھی اہل غزہ کے لیے زندگی موت کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے ۔
اگر آپ کے پاس بنک اکاؤنٹ اور کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ موجود ہے تو آپ ۔۔۔ حلال احمر فلسطین:
https://www.palestinercs.org/en/Donation
مسلم ہینڈز یوکے :
https://muslimhands.org.uk/appeals/palestine-appeal
اسلامک ریلیف امریکہ :
https://irusa.org/middle-east/palestine/
یونائٹڈ فلسطین اپیل ، امریکہ :
https://upaconnect.org/
فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ :
https://www.pcrf.net/
انٹرپال فلسطین:
https://www.interpal.org/
التعاون فلسطین :
https://www.taawon.org/ar/content/%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D8%AA%D8%AD%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B5%D9%81-%D8%A3%D8%BA%D9%8A%D8%AB%D9%88%D9%87%D8%A7-2023
اور دیگر مستند اداروں کو آنلائن امداد بھجوا سکتے ہیں بھلے وہ 5 ڈالر ہی کیوں نہ ہو ۔۔یاد رہے !! آپ کے اکاؤنٹ میں ڈالرز ہونا ضروری نہیں آپ کے اکاؤنٹ سے آپ کی کرنسی میں ہی امداد جائے گی جو کہ آگے جا کر ڈالرز میں کنورٹ ہو جائے گی ۔
اگر آپ کے پاس بنک اکاؤنٹ اور ڈیبٹ کارڈ موجود نہیں تو آپ اپنے موبائل والٹ سے بھی بھجوا سکتے ہیں مثلاً پاکستانی احباب الخدمت فاؤنڈیشن
https://www.taawon.org/ar/content/%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D8%AA%D8%AD%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B5%D9%81-%D8%A3%D8%BA%D9%8A%D8%AB%D9%88%D9%87%D8%A7-2023
کے زریعے ۔۔۔ آپ کے 10 روپیہ بھی بہت اہم ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2- دشمن کی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم :
" کیا آپ اپنے فلسطینی بھائیوں کا گوشت کھانا اور خون پینا پسند کریں گے ؟؟ اگر آپ میکڈونلڈز کھا رہے ہیں تو آپ یہی کام کررہے ہیں ۔۔۔ گو کہ میکڈونلڈز اسرایئلی کمپنی نہیں تاہم اس جنگ کے آغاز سے ہی انہوں نے روزانہ قابض فوج کو 4000 میکڈونلڈز فوڈ پیکس عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے "
اس طرح کی مختصر مگر پر اثر تحاریر بمع تصاویر میکڈونلڈز کی سیل پر ایک کاری ضرب لگا سکتی ہیں اور ان گنت لوگوں کو میکڈونلڈز کا رخ کرنے سے روک سکتی ہیں ۔
ان کو آپ پینا فلیکس کی شکل دے کر میکڈونلڈز فرنچائز کے آس پاس لگا بھی سکتے ہیں ۔۔۔
لیکن یہ بات میکڈونلڈز تک محدود نہیں ،
گوگل سے آپ کو باآسانی اسرائیلی پروڈکٹس کی فہرست و تصاویر مل سکتی ہیں۔۔۔ چاہے آپ کے ملک میں یہ پراڈکٹس دستاب یا نہ ہوں آپ روزانہ ایک پراڈکٹ کی تصویر لگا کر ایک منظم عالمی بائیکاٹ مہم کے زریعے آپ دشمن کی معیشت کو نقصان پہنچانے میں ایک عملی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
3- سیاحت :
سیاحت کا اسرائیل کی معیشت میں ایک نمایاں کردار ہے ۔
آپ اسرائیل کی سیاحت کو 2 طرح سے ضرب پہنچا سکتے ہیں :
اول -
اس بات کی بھرپور سوشل میڈیا مہم چلائیں کہ
" اسرائیل سیاحت کے لیے قطعاً محفوظ نہیں "
اور یہ حقیقت ہے ، موجودگی جنگ میں 100 سے زائد غیر ملکی سیاح اور ورکرز بھی اسرائیل اور غزاہ فورسز کے درمیان کراس فائرنگ کا شکار ہو چکے ہیں اور متعدد کو غزاہ فورسز نے گرفتار بھی کر لیا ہے ۔
چنانچہ کئی زبانوں میں اس بات کی بھرپور مہم چلائیں کہ اب اسرائیل سیر و سیاحت اور وزٹ کے لیے قطعاً محفوظ نہیں ۔
دوم -
گوگل پر اسرائیل کے تمام سیاحتی مقامات اور معروف ہوٹلز و ریزارٹس، شاپنگ مالز کی لسٹ نکالیں اور سب پر جا کر 1 سٹار اور برے ریویوز دے ڈالیں ۔
لاکھوں نیگیٹو ریویوز سے ان کی ریپوٹیشن پر سخت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3- انٹرنیٹ بطور ہتھیار اور امداد :
اگر آپ آئی-ٹی، گرافکس ، ویب ڈیویلپمنٹ سمیت کسی بھی متعلقہ شعبے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ :
✓ 24 گھنٹے میں ایک گھنٹہ نکال کر فلسطین کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔۔۔ مثلاً آپ فلسطین کاز کے لیے کام کررہے سوشل میڈیا پیجز و گروپس سے رابطہ کر کے انہیں والنٹیئر کر سکتے ہیں کہ "میں گرافکس کا کام کرتا ہوں آپ کو اپنی پوسٹس اور مہم کے لیے گرافکس ورک کی ضرورت ہے تو میں بنا کر دے سکتا ہوں ۔"
اور اسی طرح دیگر شعبہ جات ۔
✓ یا پھر اگر آپ ہیکنگ اور اس سے متعلقہ کام جانتے ہیں تو دشمن کے پیجز ، ویب سائٹس اور ڈیٹا بیسز کو سائبر حملوں کا نشانہ بھی بنا سکتے ہیں ۔۔۔ مثلاً اگر آپ کسی ایک اسرائیلی بنک کی ایک برانچ کی ویب سائٹ کو محض چند گھنٹے کے لیے بھی غیر فعال کر دیں تو انہیں اچھا خاصا مالی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
بینکس کے علاؤہ شاپنگ مارٹس ، تعلیمی اداروں ، سول انتظامیہ اور دیگر ویب سائٹس کو نشانہ بنانہ بھی دشمن کو شدید بوکھلاہٹ ، خلل اور نقصان کا نشانہ بنا سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4- تعلیم :
فلسطین کو اس وقت ڈاکٹرز ، انجینئرز ، کنسٹرکٹرز ، آئی- ٹی اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین اور باقی تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور ماہر افراد کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔ اب دنیا بھر میں بیسیوں لاکھ فلسطینی نوجوان ، لڑکے و لڑکیاں مہاجر کیمپوں اور کسمپرسی کے عالم میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں ۔۔۔ نہ ان کے پاس تعلیم کے حصول کے وسائل ہیں اور نہ مواقع ۔
اگر آپ صاحبِ حیثیت ہیں تو ایک فلسطینی نوجوان یا بچے کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں چاہے پھر آپ اسے اپنے ملک کے کسی اچھے تعلیمی ادارے میں ایڈمیشن دلوا سکیں یا پھر جس ملک میں وہ پناہ گزین ہیں وہاں کے تعلیمی اداروں میں ۔
یہ کام ایک سے زیادہ لوگ مل کر بھی کر سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
5- خود کو آگاہ اور تیار رکھیں :
یاد رہے کہ 1940 کی دہائی میں فلسطینیوں کو کوئی علم نہ تھا کہ آئیندہ چند برسوں میں ان کے ملک و قوم کو کس جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔
وہ نہ تو اس کے لیے نظریاتی طور پر تیار تھے ۔
اور نہ جسمانی طور پر ۔
چنانچہ ۔۔۔۔ برا وقت بتا کر نہیں آتا ۔۔۔ خود کو اور اپنے بچوں کو مسلئہ فلسطین اور اس کی تاریخ سے آگاہ رکھیں ، اپنے بچوں ، فیملی اور دوستوں کو اس کی معلومات بہم پہنچائیں ۔۔۔
اور جسمانی طور پر خود کو کسی بھی مشکل حالات کے لیے ہمیشہ تیار رکھیں اپنی فٹنس، سٹیمنا پر توجہ دیں اپنے جسم و دماغ کو مشکل حالات کا عادی بنائیں ، موبائل پر زیادہ وقت گزارنے کے بجائے گھڑ سواری ، تیراکی ، ہائیکنگ اور نشانہ بازی جیسے کھیل و مشقوں کا خود بھی انتخاب کریں اور اپنے دوستوں اور آنے والی نسل کے لیے بھی ۔
خود کو اور اپنی آئیندہ نسل کو اتنا مضبوط بنائیں کہ دشمن آپ کی جانب نگاہ ڈالنے سے قبل بھی سو مرتبہ سوچے۔
شیئر کرنا مت بھولیں ۔۔۔
PRCS