Inam here

Inam here coming soon

02/07/2023

شلوار نامہ
آج سے تیس چالیس سال پہلے دیہات میں
شلوار (جسے عرف عام میں ستھنڑ کہا
جاتا تھا) کا رواج کم ہی ہوتا تھا۔ دھوتی
چادر پہننا عام تھا اور کسی کو ملازمت
کی مجبوری سے یہ پہننا بھی پڑتی تھی تو
گھر آتے ہی سب سے پہلے شلوار سے جان
چھڑائی جاتی
بس یوں سمجھیے کہ شلوار کی وہی
حیثیت تھی جو یوسفی کے بقول ٹائی کی
ہے
مرشد کے بقول ٹائی کا ایک ہی فائدہ
سمجھ میں آتا ہے کہ جب اتارو تو بہت
سکون ملتا ہے۔
سب سے زیادہ اس موئی شلوار سے تنگ
پرائمری سکول ماسٹر ہوا کرتے تھے کہ
سرکار کی طرف سے سخت ہدایات تھیں کہ
دوران ڈیوٹی شلوار پہنی جائے اب سرکاری
احکامات کی مجبوریاں وہی سمجھ سکتے
ہیں جنہیں سرکار سے پالا پڑا ہے
لیکن جہاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے
وہاں راستہ نکالنا بھی آنا چاہیئے تو بہت
سے اساتذہ نے اسکا یہ حل نکالا تھا کہ
سکول میں ایک عدد شلوار ناڑا ڈال کر لٹکا
دیتے تھے اور دور سے ہی کسی افسر کو
آتا دیکھتے تو فورا کمرے میں جا کر شلوار
کو دھوتی سے بدل دیتے افسر بھی خوش
ھو جاتے
ہمارے ایک محترم استاد نے بھی ایک عدد
سفید شلوار کمرے میں رجسٹروں کی
الماری کے ساتھ کیل پہ لٹکائی ہوئی تھی
اب شومئی قسمت کہ کئی ماہ تک کسی
افسر کو معائنہ کی ضرورت محسوس نہ
ہوئی اور اس تمام عرصہ میں شلوار بھی
ہر قسم کی زحمت سے بچی رہی گرمیوں
کی چھٹیوں سے دو تین دن پہلے ایک نابکار
قسم کے افسر کو معائنہ کی سوجھی تو
ٹپک پڑا اور ماسٹر صاحب کو بھی تب پتہ
چلا جب افسر صاحب سکول میں قدم
رنجہ فرما چکے تھے چھڑی پھینک فورا
کمرے کو بھاگے کہ شلوار زیب تن کر کے
فرائض منصبی ادا کریں جیسے ہی شلوار
میں دونوں ٹانگیں ڈال کر ناڑا باندھنا
چاہا تو شلوار کے اندر طوفان برپا ہو گیا
کیونکہ عرصہ زیادہ ہونے کی وجہ سے
بھڑوں ( ہمارے ہاں پیلےڈیموں ، بھونڈوں )
نے شلوار کے اندرونی علاقوں کو سرکاری
زمین سمجھ کر اپنا گھروندا بنا لیا تھا

اس کے بعد کیا ہوا اسے آپکے تخیل کی
پرواز پر چھوڑتے ہیں کہ قلم میں اظہار کی
تاب نہیں

(منقول)

18/11/2022

لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ملا کی باری آئی (قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام ملا ہی پڑ جاتا ہے) اور عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔
اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔“سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔” ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔“ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔” پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔ ملا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔ “دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکرنے مارنے میں مصروف ہے۔” پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔ کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر ‘نمبر’ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے

اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر ملا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو ‘نمبروں’ کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔ “سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟” میں نے معصومیت سے پوچھا۔ “کیا مطلب؟”پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔ “مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی ملا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟” میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو

ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ “شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند
پر جانا نہیں ہے!!!” پروفیسر چلائے۔ “اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ ملا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!” چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔ “اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ ملے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔” پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نا مکمل سا جواب دیا۔
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔ “سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور ‘مقدس روح’ کے ساتھ باتیں کر کے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نا اہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ملا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔
جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہینگے’ ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔” میں نے لیکچر ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ “سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔” میں نے ‘بہانہ’ بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔بات پرانی ہو ئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ ملا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔اور کیوں نہ اڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا
۔۔۔۔۔۔منقول۔۔۔۔۔

02/11/2022

اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو

ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
قد يكون الرزق خلقا أو جمالا

رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن و جمال دے دیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق عقلا راجحا
زاده الحلم جمالا وكمالاً

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل و دانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی
اور تحمل و حلیمی عطا دے

○ قد يكون الرزق زوجا صالحا
أو قرابات كراما وعيالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر یا بہترین خصائل و اخلاق والی بیوی مل جاے
مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک و صحت مند اولاد مل جائے

○ قد يكون الرزق علما نافعا
قد يكون الرزق أعمارا طوالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو

○ قد يكون الرزق قلبا صافيا
يمنح الناس ودادا ونَوالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو

○ قد يكون الرزق بالا هادئا
إنما المرزوق من يهدأ بالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق طبعا خيّرا
يبذل الخير يمينا وشمالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک و سلیم طبع عطاکی گئی ہو۔ وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا پھرے

○ قد يكون الرزق ثوبا من تقى
فهو يكسو المرء عزا وجلالا

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو

○ قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً
ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جائے جو اس کے لئے حلال کمائ اور امن والی جائے پناہ بن جائے

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
كن قنوعاً احمد الله تعالى

○ پس رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
جو کچھ عطا ہوا
اس پر مطمئن رہو
اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہو ❤️

25/09/2022

🥀 _*احساس*_ 🥀

سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرز حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا
استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبدالکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا کیونکہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا
جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبدالکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا *وفا عبدالکریم* ان معصوم بچوں کو وفا عبدالکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے
میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات صدقات اور زکوٰت اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے

▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰▱▰
_*📖بکھــــــــرے موتی📖*_

07/09/2022

‏کہانی ... بات بہت ترش مگر حقیقت سے قریب

ایک گاؤں میں چیتا آتا کمزوروں کی جھونپڑیوں سے ان کے کسی نہ کسی معصوم بچے کو اٹھا کر لے جاتا
گاؤں کے سارے طاقتور ملکر کمزوروں کی مالی مدد بھی کرتے، اور دوسروں میں بھی مدد کا جذبہ پیدا کرنے کا بہانہ بنا بنا کر اپنی مدد کی تشہیر دور دور تک کرتے بھی رہتے
عبادت گاہوں میں‏اجتماعی توبہ کا انتظام بھی کروایا جاتا
کسی طاقتور سے پوچھا جاتا کہ چیتے کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے تو وہ کہتا کوشش تو بہت کرتے ہیں، مگر شاید یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ گناہ بہت بڑھ گئیے ہیں، دعا کریں کہ مالک کائنات ہم پر رحم فرمائے
سب دعائیں کرتے رہے مگر کوئی دعا قبول‏ہوئی
پھر ایک دن اس کمزور انسان کا بچہ چیتا اٹھا کر لے گیا، جسے مالک کائنات نے دعا کرنے کا سلیقہ سکھا دیا تھا
اس نے ہاتھ اٹھائے، آسمان کی طرف روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور کہا
" اے وہ ذات کہ جس نے سب کچھ تخلیق کیا اور جسکا کوئی شریک نہیں، تو نے چیتے کو پیدا کیا ہے، اسے درندہ‏بنایا ہے، اسکا کوئی قصور نہیں وہ تو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئیے شکار کرے گا، اور جہاں اسے شکار آسانی سے مل جائے وہ اسے شکار کرنے کہیں اور کیوں جائے گا ؟
اے مالک کائنات اگر تو چاہے تو وہ چیتا دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گا، مگر میں جانتا ہوں کہ تو نے یہ دنیا امتحان کی جگہ‏بنائی ہے اور تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تیرے طاقتور بندے تیرے کمزور بندوں کی تکلیف میں کتنا درد محسوس کرتے ہیں
اے مالک کائنات میں تجھ سے چیتے کے مرنے کی دعا نہیں کرتا، کیونکہ اگر تو چاہتا تو ایسے کسی چیتے کو پیدا ہی نہ کرتا
میں تجھ سے صرف اتنا مانگتا ہوں کہ تو نے جس جس کو یہ‏طاقت اور دولت دے رکھی ہے کہ وہ اس چیتے کو پکڑ کر مار دیں، تو اسی چیتے کے ہاتھوں ویسے ہی ان میں سے کسی کا بچہ بھی شکار کروا دے جیسے تو نے میرا بچہ شکار کروایا ہے "
اگلی صبح گاؤں میں ہنگامہ بپا تھا کہ گاؤں کے سب سے طاقتور کے گھر کے صحن سے چیتا اسکا بچہ اٹھا کر لے گیا ہے ‏آس پاس کے 7 گاؤں کے طاقتور، اپنی گاڑیوں، شکاری کتوں اور اسلحہ سے لیس لوگوں کے ساتھ چیتے کی تلاش میں نکل پڑے، سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اب اس چیتے کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے، یہ اونچی حویلیوں کی دیواریں پھلانگنے لگا ہے
درجنوں شکاری کتوں نے کچھ ہی دیر میں چیتا ڈھونڈھ نکالا ‏اسے مار دیا گیا۔ اسکی لاش کو گاؤں کے بیچوں بیچ لٹکا کر گولیاں برسائی گئیں
کہتے ہیں کہ اس گاؤں سے دوبارہ پھر کبھی کسی کمزور کا بچہ کسی چیتے کا شکار نہیں بنا
آج اس گاؤں کے داخلی راستے پر اس طاقتور شخص کے شکار ہونے والے بچے کے نام کی ایک بہت بڑی پتھر کی یادگار بنائی گئی ہے‏جس پر لکھا گیا ہے کہ اس بچے کے خون کی برکت سے رب العالمین نے گاؤں والوں کو ایک خونی درندے سے نجات دی
دور دور کے گاؤں سے لوگ اس طاقتور کے بچے کی ماں سے اپنی مشکلوں کے لئیے دعائیں کروانے آتے ہیں کیونکہ سب کا ماننا یہ ہے کہ آخر کار دعا ایک نیک دل ممتا کی ہی قبول ہوئی اور سب‏کو اس عذاب سے نجات مل گئی

آئیے اس کمزور نیک دل انسان سے دعا کرنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کاش ایسے ہی نیک دلوں اور طاقتوروں کا سب کچھ بھی یہ پانی برباد کر دے کہ جو اس ملک میں ڈیم بنانے یا بنوانے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی ان طاقتوروں کی طرح اس دن تک صرف‏" گنہگار " غریبوں میں صرف دیگیں، راشن اور کپڑے بانٹتے رہیں گے جب تک کہ انکا اپنا بچہ اس سیلاب میں نہیں بہہ جاتا۔

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جن کو حرف دعا یاد نہیں
*منقول*

06/08/2022

منقول
*جاوید چودھری کی*
*زیرو پوائنٹ سے*

میاں نواز شریف 1999ء میں سنگاپور کے دورے پر گئے اور بابائے سنگاپور لی کو آن یو کے ساتھ ملاقات کی

گفتگو کے آغاز میں لی کو آن یو نے انکشاف کیا وہ مختلف حیثیتوں سے 8 مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لہٰذا وہ پاکستان کے جغرافیے، رسم و رواج اور لوگوں سے پوری طرح واقف ہیں.

نواز شریف نے بڑے ادب سے ان سے پوچھا ”کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کبھی سنگا پور بن جائے گا“
لی کو آن نے ذرا دیر سوچا اور انکار میں سر ہلادیا‘ ان کا رد عمل‘ سفاک، کھرا اور غیر سفارتی تھا‘ حاضرین پریشان ہوگئے‘ لی کو آن یو ذرا دیرخاموش رہے اور پھر بولے
”اس کی تین وجوہات ہیں“
وہ رکے اور پھر بولے

”پہلی وجہ آئیڈیالوجی ہے،

آپ لوگوں اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے‘ آپ اس دنیا کو عارضی سمجھتے ہیں، آپ کا خیال ہے آپ کی اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوگی چنانچہ آپ لوگ اس عارضی دنیا پر توجہ نہیں دیتے، آپ سڑک، عمارت، سیوریج سسٹم، ٹریفک اور قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے
جبکہ ہم لوگ اس دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں لہٰذا ہم اس دنیا کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنا رہے ہیں“
وہ رکے اور ذرا دیر بعد بولے ”آپ خود خودفیصلہ کیجئے جو لوگ اس دنیا پر یقین نہ رکھتے ہوں‘ وہ اسے خوبصورت کیوں بنائیں گے؟

دوسری وجہ‘ آپ لوگوں کی زندگی کے بارے میں اپروچ درست نہیں،

میں پیشے کے لحاظ سے وکیل ہوں، ہندوستان کی تقسیم سے پہلے میں اس علاقے میں پریکٹس کرتا تھا‘ میرے موکل کلکتہ سے کراچی تک ہوتے تھے‘
میں نے ان دنوں ہندو اور مسلمان کی نفسیات کو بڑے قریب سے دیکھا‘
میرے پاس جب کوئی ہندو کلائنٹ آتا تھا اور میں کیس کے جائزے کے بعد اسے بتاتا تھا تمہارے کیس میں جان نہیں‘ تم اگر عدالت میں گئے تو کیس ہار جاﺅ گے
تو وہ میرا شکریہ ادا کرتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا‘ آپ مہربانی فرما کر میری دوسری پارٹی سے صلح کرادیں‘ میں اس کی صلح کرا دیتا تھا اور یوں مسئلہ ختم ہو جاتا تھا
جبکہ اس کے مقابلے میں جب کوئی مسلمان کلائنٹ میرے پاس آتا تھا اور میں اسے صلح کا مشورہ دیتا تھا تو اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا تھا‘
وہ کہتا تھا وکیل صاحب آپ کیس دائر کریں میں پوری زندگی مقدمہ لڑوں گا‘ میرے بعد میرے بچے لڑیں گے اور اس کے بعد ان کے بچے لڑیں گے“
لی کو آن یو رکے اور مسکرا کر بولے ”میرا تجربہ ہے جوقومیں اپنی نسلوں کو ورثے میں مقدمے اور مسئلے دیتی ہوں وہ قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں

اور تیسری اور آخری وجہ " فوج" ہے

آپ کے ملک میں فوج مضبوط اور سیاست دان کمزور ہیں اور مجھے پوری دنیا میں آج تک کوئی ایسا ملک نہیں ملا جس نے فوجی اثر میں رہ کر ترقی کی ہو“
وہ رکے اور دوبارہ بولے ”فوجی اور سیاستدان کی سوچ میں بڑا فرق ہوتا ہے‘ فوجی مسئلہ پیدا کرتا ہے جبکہ سیاستدان مسئلے حل کرتے ہیں ،
فوجی کی زندگی کا صرف ایک اصول ہوتا ہے‘ زندگی یا موت
جبکہ سیاستدان جیو اور جینے دو کے فلسفے پر کاربند ہوتے ہیں،
فوجی کو زندگی میں مر جاﺅ یا مار دو کی ٹریننگ دی جاتی ہے
جبکہ سیاستدان کو صلح، مذاکرات اور نرمی کی تربیت ملتی ہے
چنانچہ میرا تجربہ ہے جس ملک میں حکومت اور سیاست فوج کے پاس ہو
وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا.

(میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارے مُلک کو کرپشن۔ پولیس اور عدلیہ کی کرپشن ، ناانصافی اور باقی اداروں کی نالاہلی اور کرپشن لے ڈوبی ہے۔ نیاز احمد )

06/07/2022

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اور اسکا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام کو
‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"-
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی, وہ جس تانبہ ساز کو دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
‏بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 30 ریال میں خریدوں گا!!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 30 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور
‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 30 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبےدوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپکو کاروبار نہیں آتا؟!! بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 30 ریال میں اسے خریدا ھے...
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:

(*** میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں, میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے

عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اسکو دیکھتا رہ گیا...
اتنے میں غیبی آواز آئی
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا, گرنے والے کوتھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو میں خود تمہارے پاس چل کر آئونگا "۔

حکایت شیخ سعدی سے ماخوذ.

20/05/2022
A good step by Sindh Govt.
16/05/2022

A good step by Sindh Govt.

23/02/2022

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا ..

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inam here posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share