BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN.

  • Home
  • Pakistan
  • Karachi
  • BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN.

BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN., Office supplies, BOOK OCEAN, Shop #3, , Plot #79-E, , 9th Commercial Street, Phase IV, D. H. A. , Contact: 92 322 2549902(whatsapp only), Karachi.

A BOOK SHOP WITH ALL RANGE OF BOOKS(ISLAMIC,QURAN,HADITH,QUOTATIONS,NOVELS AND EDUCATIONAL STATIONERY/TOYS FOR THE KIDS TO START THEIR LEARNING AND DO THEIR ACTIVITIES...ALL UNDER ONE ROOF WITH ESPECIALISED AND FOCUSED TEAM TO TAKE CARE OF CUSTOMERS..

01/07/2024
24/11/2023

7 Valuable lessons I learned from Difficult times:

1. Failure is necessary to grow:
Failure and success aren't opposites; they are parts of the process.

2. Difficult times are necessary:
Life isn't a linear line; it's a wave of good and evil. Embrace the tough times because they help you grow, thrive, and teach you to be grateful.

4. Problems aren't always negative:
Some storms come to clear your path. When you can't decide where to go, a problem will arise to clear the path and guide you to your destination.

5. Change is constant, not variable:
You are always in a state of constant change. Wherever you try to settle in any situation, an event may arise that forces you to change. And that's how the world works. You are in a mode of discovering and learning your new versions.

6. Energy is finite; invest it wisely:
Pick your battles wisely. That's the way to survive in this world. Every action doesn't require your reaction. Your reactions to specific actions set the tone in your life. So, choose where you want to invest your energy.

7. Be grateful for everything:
You should thrive on living a peaceful life alongside your hustle to live a great life. When you're grateful for the small things around you, happiness will cost less. And that's what every individual should aim for finding happiness in small things.

30/08/2023

تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے۔
دستر خوان پر پڑے انڈے ،جیم اور مکھن نہیں!

یہ 1973ء کی بات ہے۔
عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی
کہ امریکی سنیٹر اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔
گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔
ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک سنیٹر کے سامنے رکھی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔

چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ وہ اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔

اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سادگی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اسکاموقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

گولڈہ مائیر نے کہا :
”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دے گی اور وہ بھول جائے گی کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“

گولڈہ مائیر کی دلیل پر اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا:
”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟

“چونکا دینے والا جواب تھا”۔
وہ بولی
”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا۔”
مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔

یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔
لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“

گولڈہ مائیرنےانٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔
وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبیﷺ کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی۔
چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔

جب گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی صحافت سے الگ ہو گیا۔
تب ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ
”میں نے جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا،
کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔
وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے”!

یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ۔۔
تاریخ فتوحات گنتی ہے،
دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔

یہ انٹرویو کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی۔
یہ واقعہ مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے،سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے۔
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔۔۔۔۔

🍃🌸🍁 🍃🌸🍁

26/08/2023

*This post is priceless*.

Once the famous sufi saint Shamas Tabrezi was traveling with a few of his followers.
While they were passing a lake, Tabrezi told one of his disciples, “I am thirsty”
Do get me some water from the lake."
The disciple walked up to the lake.
At that moment,
a bullock cart started crossing through the lake.
As a result,
The water became very muddy and turbid.
The disciple thought,
"How can I give this muddy water to Tabrezi to drink?"
So he came back and told Tabrezi, “The water in there is very muddy”,
I don't think it is fit to drink."
After about half an hour, again Tabrezi asked the same disciple to go back
to the lake.
The disciple went back,
and found that the water was still muddy.
He returned and informed Tabrezi about the same.
After sometime,
again Tabrezi asked the same disciple to go back.
This time, the disciple found the mud had settled down, and the water was clean and clear.
So he collected some water in a pot and brought it to Tabrezi
Tabrezi looked at the water, and then he looked up at the disciple and said,
"See what you did to make the water clean.
You let it be,
and the mud settled down on its own, and you have clear water."
Your mind is like that too ! When it is disturbed,
just let it be.
Give it a little time.
It will settle down on its own.
You don't have to put in any effort to calm it down.
It will happen.
It is effortless."
Having 'Peace of Mind' is not a strenuous job,
it is an effortless process👌so keep ur mind cool and have a great life ahead...
Never leave Your close ones. If you find few faults in them just close Your eyes and Remembr the best time You spent together...
Because
Affection is More Important than Perfection..!
Neither you can hug yourself....nor you can cry on your own shoulder....
Life is all about living for one another, so live with those who love you the most...
Relations cannot be Understood by the Language of Money...
Bcoz,
Some Investments Never Give Profit
But They Make us rich...!
"Family n Friends are such investments, priceless, treasure them and keep them close to you”

09/08/2023

ایک فلم ہے In Time نام کی، یہ فلم مستقبل کے سال 2169 کا زمانہ دکھاتی ہے جب لوگوں کی مجموعی عمر فقط 25 سال ہوجاتی ہے۔عمر کا حساب رکھنے کے لیے ہر شخص کے بازو پر ایک گھڑی ہمہ وقت بندھی رہتی ہے جو، بتاتی ہے کہ آپ عمر کا کتنا حصہ گزار چکے ہیں اور باقی کتنے، مہینے، دن، گھنٹے اور سیکنڈ باقی ہیں.

جو بھی شخص 25 ویں سالگرہ تک پہنچتا ہے اسے زندہ رہنے کے لیے مزید ایک سال ملتا ہے اور اگر اس دوران وہ اپنی عمر کو ری چارج کرتا ہے یعنی اگر وہ اپنی عمر کے بقیہ وقت میں مزید عمر کا کریڈٹ شامل کرتا ہے تو زندہ رہتا ہے ورنہ مرجاتا ہے ۔ مزید عمر کے لیے کوئی بھی شخص زیادہ عمر والے سے سودا کرکے عمر خرید سکتا ہے، یا پھر کوئی جرم کر کے کسی سے عمر چھینی جاسکتی ہے. خرید و فروخت کے لیے انسانی عمر ہی کرنسی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے، اس کے بعد زندگی گزارنے کے لیے درکار تمام حاجتیں پوری کرنے کے لیے عمر کی نقدی خرچ کرنا ہوتی ہے ۔
مثال کے طور پر، جسے کوئی بھی چیز خریدنے کی ضرورت ہو اسے اس چیز کو حاصل کرنے کے بدلے میں تیس منٹ، ایک گھنٹہ، یا ایک دن ادا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے اس کے بازو پر لگی گھڑی سے کٹوتی کر لی جاتی ہے.

اس فلم کی کہانی عجیب ہے اور اس میں تقریباً چند ہی واقعات ہیں، لیکن اس میں ایک خوفناک اور حقیقت پسندانہ "پیغام" موجود ہے!

خوفناک مگر حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ لوگ اپنی عمر کی نقدی کو مادی اشیاء کے لین دین میں خرچ کرنے لگتے ہیں اور ایک دن چیزیں وہیں رہ جاتی ہیں مگر ان کی عمر ختم ہوجاتی ہے.

ایک سین میں دکھایا گیا ہے کہ ہیرو اسٹیشن پر اپنی ماں کا انتظار کر رہا ہے، اس کی ماں کے پاس عمر کا فقط ڈیڑھ گھنٹہ بچتا ہے، اور ہیرو چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس تک جلد پہنچے تاکہ وہ وہ اپنی ماں کی عمر ختم ہونے سے پہلے اسے مزید کچھ گھنٹے اور دن دے.

ماں بیٹے کے پاس جانے کے لیے بس میں سوار ہوتی ہے تو ڈرائیور کہتا ہے، میڈم، کرایہ آپ کی زندگی کے دو گھنٹے گزارنے کے برابر ہے۔
آپ کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے، اس لیے آپ کے پاس مطلوبہ کرایہ کم ہونے کی وجہ سے آپ یہ سفر نہیں کرسکتی. اس عورت نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو حیرت اور امید سے دیکھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس کی ختم ہوتی زندگی کی پرواہ نہیں کی، اور نہ ہی کسی نے اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دیے۔

عورت نیچے اتر کر اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتی ہے.
دور سے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک دوسرے کی طرف بھاگے اس دوران زندگی کی گھڑی چل رہی ہے منٹ اور سیکنڈ خرچ ہو رہے ہیں اور جیسے ہی وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے اور اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا تو وہ اس کے بعد گر پڑی۔
وہ اپنی زندگی کے آخری سیکنڈ کو استعمال کرتے ہوئے مر جاتی ہے.

پوری فلم کا سب سے دردناک سین یہی ہے کہ
بس میں موجود لوگ اس خاتون کی حیرانی اور بے بسی کو بے حسی سے نظر انداز کر دیتے ہیں ، حالانکہ کوئی بھی اسے اپنی زندگی کے چند منٹ دے سکتا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے سے بروقت مل کر مزید دس سال کے لیے عمر کی بیٹری ریچارج کرسکتی ۔

لیکن حقیقت میں آپ کو کوئی بھی اپنی زندگی کا ایک پل بھی نہیں دے سکتا. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں انسانوں کے لیے کیا اچھا یا برا کرتے ہیں..
جب آپ گر جاتے ہیں اور ناکام ہوتے ہیں یا کسی بحران سے گزرتے ہیں تو آپ کو وہاں اپنے سوا کوئی نہیں ملے گا، آپ کو کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو آپ کو اپنی زندگی کا ایک لمحہ دے جس میں آپ کامیاب ہونے کی کوشش میں خود کو اور اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ حاصل کریں۔ کسی ایسے شخص کی تلاش میں اپنی زندگی کی پونجی خرچ نہ کریں جو آپ کے بحران پر قابو پانے اور صحت یاب ہونے کے لیے قربانی دے اور آپ کو اپنی زندگی کے چند لمحات دے، ایسا کوئی بھی نہیں ہے ۔

ایک دن آئے گا آپ گر جائیں گے اور آپ کی بیٹری ختم ہو جائے گی اس وقت آپ کی جستجو، آپ کی محنت اور آپ کا خواب بچانے کے لیے
صرف دو لوگ آپ کے لیے اپنی زندگی کی بیٹری کو خالی کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں گے تاکہ آپ کو جینے اور اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے مزید عمر کی نقدی مل سکے، "آپ کی ماں اور آپ کا والد"۔
صرف وہی جو آپ کو اپنے منٹ اور گھنٹے دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ آپ کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کا سب سے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں... یہ جبلت اور محبت ہے جو جینیاتی طور پر خون میں منتقل ہوتی ہے۔

آپ اس کائنات کا مرکز ہیں، آپ کی زندگی نہایت قیمتی ہے، لہٰذا اپنی زندگی کا ایک سیکنڈ بھی فضول آہیں بھرنے ، دل ٹوٹنے، اداسی، انتقام، وقت برباد کرنے، فضول دل جلی شاعری میں پناہ ڈھونڈنے اور کسی بھی کھوئی ہوئی چیز پر پچھتاوا کرنے میں ضائع نہ کریں۔
*Live Like There's No Tomorrow*

09/06/2023

Worth reading;❤️

If you were to cook 3 cups of rice, would you add 3 cups of salt to it? Certainly not!

So, in every preparation of Rice, the grains of Rice always outnumber the Salt,
yet a little Salt makes a huge difference / impact in the overall outcome.

In the room in which you currently are, look up at the ceiling...
What is the size of the bulb compared to the size of the room? It is probably a ratio of 1:5000.
Yet, darkness flees the entire space once the small bulb is flipped on.

If I am the Salt of the earth, and the light of the world, then "little me" has the ability to make big things happen..

Sometimes, because we feel outnumbered or overwhelmed at the sheer magnitude of evil or wrong-doers, we then
choose powerlessness, and decide to go with the flow, not standing up for what we believe is right.

LITTLE doesn't mean insignificant.
You are significant. Your presence should make a BIG difference. Stop waiting to be on the side of the majority.
They may be the majority, but they are the trivial majority, and you are the impactful minority.

They are the RICE of the world, and you are the SALT of the world..
They are the ROOM and you are the LIGHT.
Make your influence felt!

Remember:
You are the world's seasoning, to make it beautiful...
So if we can just do the right seasoning to make even one life beautiful our life is worth living.
Onwards and Upwards! Be the SALT in someone's life today .🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

01/06/2023

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں
جو اچھا سوچ سکتے ہیں

ترنم گھول سکتے ہیں
محبت بول سکتے ہیں

تبسم اوڑھ سکتے ہیں
دلوں کو جوڑ سکتے ہیں

تمہارے ساتھ چلنے کو
زمانہ چھوڑ سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں
جو اچھا سوچ سکتے ہیں

تصنع سے مبرا ہیں
متانت سے مرصع ہیں

وضع داری کا پیکر ہیں
رواداری کا مظہر ہیں

نئے رستے بناتے ہیں
نئے رشتے سجاتے ہیں

شہر سے جب نکلتے ہیں
تو صحراؤں میں رکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں
جو اچھا سوچ سکتے ہیں

زمیں زادے ہیں دیوانے
یہ علم و فن کے پروانے

کسی کو مان دیتے ہیں
کسی کی مان لیتے ہیں

کسی کو کم نہیں کہتے
سفر میں دم نہیں لیتے

زمیں آباد کرتے ہیں
فلک کو کھوج سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں
جو اچھا سوچ سکتے ہیں

کوئی جو ڈھونڈنا چاہے
انہیں گر کھوجنا چاہے

تو خود میں جھانک کر دیکھے
وہ خود کو جھانک کر دیکھے

بڑی سچائی سے سوچے
بہت اچھائی سے سوچے

تو ان لوگوں میں آئے گا
جو طوفاں موڑ سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں
جو اچھا سوچ سکتے ہیں

21/02/2022

Address

BOOK OCEAN, Shop#3, , Plot#79-E, , 9th Commercial Street, Phase IV, D. H. A. , Contact: 92 322 2549902(whatsapp Only)
Karachi
75500

Opening Hours

Monday 11:00 - 22:00
Tuesday 11:00 - 22:00
Wednesday 11:00 - 22:00
Thursday 11:00 - 22:00
Friday 11:00 - 13:00
15:00 - 22:00
Saturday 11:00 - 22:00
Sunday 12:00 - 17:00

Telephone

+922135383664

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BOOK OCEAN,79-E,9TH COMMERCIAL STREET,PHASE IV,D.H.A.,KARACHI,PAKISTAN.:

Share