25/05/2026
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزمائشوں سے کیوں گزارتے ہیں؟
کیا وہ ہمیں توڑنا چاہتے ہیں؟ نہیں۔
وہ ہمیں بنانا چاہتے ہیں، ہمیں تیار کرتے ہیں، تاکہ ہم دوسروں کے لیے رہنما بن سکیں۔ امامت کبھی آسانی سے نہیں ملتی، یہ ہمیشہ کٹھن راستوں سے گزرنے کے بعد عطا ہوتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دیکھ لیجیے۔ جب وہ آزمائشوں میں پورا اترے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ
(البقرہ: 124)
یہی سنت تمام انبیاء کے ساتھ رہی۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھیں: مکہ کی سختیاں، طائف کا زخم، ہجرت، غزوات کی آزمائشیں۔ یہ سب اس لیے کہ وہ ہمارے لیے رول ماڈل بن سکیں۔
تحویلِ قبلہ کے بعد یہ مضمون رکھا گیا:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
(البقرہ: 155)
یعنی آزمائش یقینی ہے۔ لیکن آزمائش میں صبر کیسے کریں؟ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر، آزمائش کی حکمت کو سمجھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ اس مشکل سے مجھے کیا سکھایا جا رہا ہے۔ ہر انسان کی آزمائش مختلف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے مختلف نوعیت کا کام لینا چاہتے ہیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام نے سخت مشکلات اور کڑی آزمائشیں برداشت کیں تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے راستہ ہموار اور آسان ہو جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی ایسی آزمائش میں ڈالیں جس سے کوئی اور نہ گزرا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کوئی بڑا کام لینا چاہتے ہیں۔
اَللّٰهُمَّ أَرِنَا حِكْمَتَكَ فِي كُلِّ بَلَاءٍ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الصَّابِرِينَ، وَمِنَ الْمُهْتَدِينَ، آمین۔